Fankaarian

معیشت کی دنیا میں اسے پیڈلنگ کا نام دیا جاتا ہے اور قانونی اعتبار سے یہ ایک ضابطگی تصور کی جاتی ہے۔ قصہ کچھ یوں ہوا کہ سنہ 2011 اور 2014 کے درمیان برزایلین حکومت نے دو قومی بینکوں ، کائیشا اکنامکا فیدرال اور بینکو دا برزایل سے غیراعلانیہ قرض حاصل کیا اور اسے سماجی ترقی کے مختلف منصوبوں کے لیے خرچ کرڈالا۔ بظاہر اس عمل کا مقصد یہ تھا کہ اس وقت کی حکمران جماعت یعنی ورکرز پارٹی کے آئندہ انتخابات میں فتح کے امکانات کو روشن کیا جاسکے۔ ہونا یہ تھا کہ دونوں قومی بینک ، سماجی ترقی کے مختلف منصوبوں کے لیے 6.9 ارب ڈالر کی مجموعی رقم کو ہر مہینے قسط وار جاری کرتے اور بعد میں حکومت ان بینکوں کو یہ رقم قومی خزانے سےادا کر دیتی۔ لیکن ہوا یوں کہ یہ دونوں قومی بینک تو مبینہ اقساط مہینہ وار جاری کرتے رہے لیکن قومی خزانے سے ان اقساط کے بدلے میں جاری ہونے والی رقوم دونوں بینکوں کو منتقل کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی جاتی رہی۔ مزید یہ کہ نا تو اس عمل کی ، قواعد و ضوابط کے مطابق ، کانگریس سے منظوری لی گئی اور نا ہی حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر اس قرض کو ظاہر کیا گیا ۔ اس وقت برازیل میں صدارت کے عہدے پر دلماروسیف فائز تھیں۔ لوئس لُولا ڈی سلوا کے دو مسلسل صدارتی ادوار کے بعد دلما روسیف برازیل کی صدر منتخب ہوئی تھیں۔ انھوں نے اپنا پہلا صدارتی دور مکمل کیا اور اکتوبر 2014 میں صدارتی انتخابات جیت کر چار برس کے لیے دوبارہ منتخب ہوئیں۔ لیکن اپنی دوسری صدارتی مدت کے آغاز میں ہی انھیں جہاں ، اپنے گذشتہ دور حکومت کے دوران ہوئی ، اکنامک پیڈلنگ جیسی مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا تو وہیں ان پر اپنے پیشرو لوئس لُولا ڈی سلوا کے زمانے میں جنم لینے والے کارواش نامی مالیاتی تنازعے کی تحقیقات میں اس تنازعے کے ذمہ داران کو تحفظ دینے جیسے الزامات کا بھی سامنا تھا۔ جلتی پر تیل کا کام اس معاشی بحران نے کیا جس نے چند برس قبل پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور برازیل ابھی تک اس سے جان چھڑانے میں ناکام تھا۔ اسی پس منظر کے ساتھ برازیل کے کئی شہروں میں بڑے بڑے احتجاجی اجتماعات پھوٹ پڑے جہاں دلماروسیف کے استعفے یا مواخذے کا مطالبہ بڑے زور و شور سے دہرایا جاتا اور یُوں برازیل کی صدر دلما روسیف کے خلاف مواخذے کی داغ بیل پڑ گئی۔

دلماروسیف کو دوسری دفعہ صدارت سنبھالنے کے فقط ایک برس بعد ہی یعنی ستمبر 2015 میں صدارتی مواخذے کے مطالبے کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ چند ماہ کی سیاسی گرما گرمی کے بعد جب 11 اپریل 2016 کے روز سینیٹ کی چیمبر آف ڈیپیوٹیز کمیٹی نے صدارتی مواخذے کی قرارداد منظور کی تو دلما روسیف پر دو مختلف الزامات عائد کیے گئے۔ پہلے الزام کے مطابق وہ اکنامک پیڈلنگ کے ذریعے برازیل کے قومی خزانے کو خسارے سے دوچار کرنے کی ارادی کوششوں کی مرتکب ٹھہرائی جارہی تھیں تو دوسرے الزام کے تحت وہ اس پیدا شدہ خسارے کو چھپانے کے لیے غیر قانونی طور پر سپلیمنٹری گرانٹس جاری کرنے کی مرتکب قرار دی جارہی تھیں۔ مواخذے کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی کہ دلما روسیف ان دونوں معاملات میں براہ راست ملوث تھیں۔ چنانچہ 17 اپریل 2016 کے روز برازیلین سینیٹ نے دلما روسیف کے صدارتی اختیارات معطل کردینے کی منظوری دی تو ساتھ ہی مواخذے کی کاروائی کے باقاعدہ آغاز کا فیصلہ بھی کرڈالا۔ اُن کی صدارتی معطلی کے اس عرصے کے دوران ان کے نائب صدر ، ورکرز پارٹی کی اتحادی جماعت برازیلین ڈیموکریٹک موومنٹ سے تعلق رکھنے والے، مائیکل تیمر نے قائمقام صدر کا عہدہ سنبھالا۔ مواخذے کی کاروائی تقریباََ چار ماہ تک جاری رہی اور بالآخر 31 اگست 2016 کے روز سینیٹ نے یہ کاروائی سمیٹنے ہوئے دلماروسیف کو صدارتی عہدے سے ہٹانے کی منظور دے دی۔ اس فیصلے کے بعد ، برازیل کے آئین کے مطابق ، مائیکل تیمر نے باقی ماندہ مدت کے لیے باضابطہ طور پر صدارت کا عہدہ سنبھال لیا۔

بادی النظر میں تو دلما روسیف کا مواخذہ ایک آئینی و قانونی عمل تھا لیکن ظاہری سطح کے نیچے اس پورے عمل کی قانونی حیثیت انتہائی مشکوک تھی۔ اس پورے عمل کا جب بھی قواعد و ضوابط اور سیاق و سباق کے ساتھ جائزہ لیا جاتا ہے تو ایسے بیشمار معاملات سامنے آتے ہیں جو یہ واضح کردیتے ہیں کہ مواخذے کے اس عمل کا ظاہری ڈھانچہ تو آئین و قانون کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھا لیکن اس عمل کے لیے درکار بیشمار لوازمات کو مخصوص مقاصد کے تحت یکسر نظرانداز کردیا گیا تھا۔ مثال کے طور پر برازیلین آئین کے مطابق صدر کا مواخذہ صرف اسی صورت کیا جاسکتا ہے جب اس کا براہ راست کسی جرم میں ملوث ہونا ثابت ہوجائے۔ لیکن دلما روسیف کے معاملے میں یہ شرط پوری نہ کی گئی۔ مواخذے کی کاروائی کو عملی جامہ پہنانے کے مجاز ادارے یعنی کہ سینیٹ کی جانب سے معاشی ماہرین پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی جسے اکنامک پیڈلنگ کے الزامات بارے تحقیقات کرنے کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ لیکن جب اس کمیٹی نے اپنا کام مکمل کرنے کے بعد رپورٹ داخل کروائی تو معلوم ہوا کہ اکنامک پیڈلنگ کے ضمن میں کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آسکا تھا جو کہ یہ ثابت کرتا کہ دلما روسیف براہ راست اس عمل میں ملوث تھیں۔ یہ انکشاف اس عمومی تاثر کے بالکل برعکس تھا جس کے تحت برازیلین میڈیا مسلسل دلما روسیف کو براہ راست اس بے ضابطگی کا ذمہ ٹھہراتا رہا تھا ۔ مزید یہ بات بھی سامنے آئی کہ کہ اکنامک پیڈلنگ کی یہ مخصوص تکنیک ماضی میں بھی مختلف حکومتیں استعمال کرچُکی تھیں مگر دلما روسیف کے علاوہ کبھی کسی دوسری حکومت پر اس وجہ سے آسمان نہیں گِرا تھا ۔ مواخذے کے لیے پیش کی گئی چارج شیٹ میں دوسرے الزام کی حالت مزید پتلی تھی کیونکہ دونوں قومی اداروں کو خسارے سے دوچار کرنے کا جو الزام لگایا گیا تھا وہ خسارہ کبھی وقوع پذیر ہوا ہی نہ تھا کیونکہ واجب الادا اقساط ، تاخیر سے ہی لیکن اسی مالی سال میں ادا ہوتی رہیں۔ مزید یہ کہ تمام تر رقوم کی ادائیگی کے لیے جاری ہونے والی سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری باقاعدہ طور پر سینیٹ خود دیتی رہی تھی۔ چنانچہ جب دلما روسیف پر عائد کردہ الزامات محض لفاظی ہی بن کر رہ گئے تو مواخذے کے حامیوں کی جانب سے تمام تر بحث کا رُخ دلما روسیف کی بحیثیت صدر ، بُری کارکردگی کی طرف موڑ دیا گیا۔ لیکن یہ دلیل بھی انتہائی بودی تھی۔ برازیلین صدر کا انتخاب براہ راست عوامی رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور پارلیمانی نظام کے برعکس ، وہاں رائج صدارتی نظام کے تحت ، سینیٹ کا ایوان کارکردگی کو بنیاد بنا کر مواخذہ کرنے کا اختیار ہی نہیں رکھتا۔ سینیٹ کے پاس موجود مواخذے کا اختیار فقط اسی صورت میں فعال ہوتا ہے جب صدر براہ راست کسی جرم کا مرتکب ٹھہرا ہو۔ یوں دلما روسیف کا مواخذہ آئین و قانون کی چادر میں لپٹی ایک بغاوت کا منظر پیش کرنا شروع کردیتا ہے۔ لیکن اس بغاوت کے دوران دلما روسیف کے لیے فیصلہ کُن جھٹکا ایک مختلف سمت سے آیا۔

برازیلین ڈیموکریٹک موومنٹ اور ورکرز پارٹی ایک دوسرے کی اتحادی جماعتیں تھیں۔ ورکرز پارٹی کی جانب سے دلما روسیف صدر منتخب ہوئی تھیں تو برازیلین ڈیموکریٹک موومنٹ سےتعلق رکھتے مائیکل تیمر ، دلماروسیف کے ساتھ ہی نائب صدارت کے عہدے پر فائز تھے۔ مائیکل تیمر کی جماعت سے ہی تعلق رکھتے ایک رُکن ایڈوارڈو کونہیا سینیٹ میں چیمبر آف ڈیپیوٹیز کی صدارت کا عہدہ سنبھالے ہوئے تھے۔ بطور صدر چیمبر آف ڈیپیوٹیز ، ایڈوارڈو کونہیا کے پاس یہ اختیار موجود تھا کہ وہ مواخذے کی درخواست مسترد کردیتے۔ ابتدائی طور پر انھوں نے اس بات کا عندیہ بھی دیا۔ لیکن مواخذے کے مطالبے کا آغاز ہوتے ہی برازیلین ڈیموکریٹک موومنٹ نے ورکرز پارٹی سے اپنی راہیں جدا کرلیں تو ایڈوارڈو کونہیا نے بھی دلما روسیف کے مواخذے کی درخواست منظور کرلی۔ ایک طرف جہاں برازیلین ڈیموکریٹک موومنٹ کی حمایت سے مواخذے کے حامیوں کو سینیٹ میں فیصلہ کُن عددی برتری حاصل ہوئی وہیں ایڈوارڈو کونہیا نے ، دلماروسیف پر لگے الزامات کے غلط ثابت ہوجانے کے باوجود بھی مواخذے کی کاروائی کو تب تک جاری رکھا جب تک صدر کو ان کے عہدے سے ہٹا نہ دیا گیا۔ برازیلین ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے دلما روسیف کے خلاف ہوئی اس سازش کا حصہ بن جانے کا مزید واضح ثبوت اس وقت سامنے آ گیا جب نائب صدر مائیکل تیمر نے واٹس ایپ پر غلطی سے، اپنے حامیوں کے لیے ایک پیغام جاری کردیا جس میں وہ اپنی پہلی صدارتی تقریر کی تیاری کرتے ہوئے سنے جاسکتے تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ واٹس ایپ میسیج اس وقت لیک ہوا جب دلما روسیف کے مواخذے کے عمل میں ابھی حتمی رائے شماری بھی نہ ہو پائی تھی۔ مواخذے کے دوران جہاں دلما روسیف کو اپنے اتحادیوں کی فیصلہ کُن حمایت سے محروم ہونا پڑا تھا وہیں برازیل کی عدلیہ نے بھی انھیں سیاسی طور پر ناکارہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ابتدائی طور پر سینیٹ نے چیمبر آف ڈیپیوٹیز کی پینسٹھ رکنی کمیٹی کا خفیہ رائے شماری کے ذریعے انتخاب کیا لیکن سپریم کورٹ نے فوری طور پر دخل اندازی کرتے ہوئے نہ صرف اس کمیٹی کو تحلیل کردیا بلکہ قواعد کے برخلاف اس کمیٹی کی تشکیل کو سرعام رائے شماری سے مشروط کرڈالا۔ نہ صرف یہی بلکہ قواعد کے برخلاف یہ شرط بھی عائد کر دی گئی کہ اس کمیٹی میں ہر جماعت کو حصہ دیا جانا لازمی ہوگا۔ یوں عملی طور پر دلما روسیف کے حامیوں کو مواخذے کی کاروائی کے ابتدائی مراحل میں ہی اکثریت سے اقلیت بنا ڈالا گیا۔ دلما روسیف نے لُولا ڈی سلوا کو اپنی کابینہ میں شامل کرنا چاہا تو انھیں اس تقرری سے بھی عدلیہ نے ہی روکا۔ اور مواخذے کے دوران جب دلما روسیف نے سینیٹ کے اختیارات کو چیلنج کرتے ہوئے اسے اس عمل سے روکنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو عدلیہ نے نہ صرف ان کی اس جائز درخواست کو مسترد کیا بلکہ سینیٹ کو یہ حکم بھی جاری کردیا کہ وہ مواخذے کا عمل جاری رکھے۔ چنانچہ دلما روسیف کا غیر آئینی مواخذہ آئین کی سب سے بڑی محافظ عدالت یعنی کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔

دلما روسیف کے ہانکے کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ مائیکل تیمر کے اقتدار سنبھالنےکے کچھ ہی عرصے کے بعد ایک آڈیو ریکارڈنگ سامنے آئی تو اس کہانی کی تمام تر خفیہ پرتیں بھی منظرعام پر آ گئیں۔ یہ آڈیو ریکارڈنگ دومختلف افراد کی باہمی گفتگو پر مبنی تھی جو کہ دلما روسیف کے مواخذے کی داغ بیل پڑنے سے چند ہفتے قبل ، یعنی کہ مارچ 2016 میں , وقوع پذیر ہوئی۔ گفتگو کے ایک کردار ، سینیٹر رومیرو یُوکا کا تعلق تو مائیکل تیمر کی جماعت سے ہی تھا جو کہ بعد میں وزیر برائے منصوبہ بندی کے عہدے پر بھی فائز ہوئے جبکہ دوسرے کردار کو تیل کے کاروبار سے منسلک معرف کاروباری شخصیت سرجیو مشادو کے طور پر شناخت کیا گیا۔ دلچسپ امر یہ تھا کہ یہ دونوں احباب بھی کار واش نامی تنازعے کی وجہ سے الزامات اور تفتیش کی زد میں تھے۔ ان دونوں احباب کی گفتگو کئی اہم رازوں سے پردہ اٹھا گئی۔ مثال کے طور پر جہاں دونوں احباب دلما روسیف کی اقتدار سے بے دخلی پر متفق دکھائی دیتے ہیں وہیں ان کی گفتگو سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس ساری اکھاڑ پچھاڑ کو برازیل کے طاقتور قومی اداروں بالخصوص فوج اور عدلیہ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اس گفتگو سے یہ منصوبہ بھی سامنے آیا کہ کارواش نامی مالیاتی تنازعے کی تحقیقات رکوانے کا بہترین حل یہی ہوسکتا ہے کہ دلماروسیف کو اقتدار سے چلتا کیاجائے کیونکہ میڈیاکی اس معاملے سے توجہ ہٹانے کا سب سے موثر طریقہ یہی ہوگا۔ سینیٹر رومیرو یُوکا اور سرجیو مشادو کی باہمی گفتگو کے دوران برازیلین افواج کی اس مواخذے کی حمایت میں اٹھائے گئے چند اقدامات کا ذکر بھی ملتا ہے جن کے مطابق اس سارے عمل کو عوامی مطالبے کا رنگ دینے کے لیے فوج کی جانب سے بے گھر مزدوروں اور دیہی مزدوروں کی نمائندگی کرتی تنظیموں کے توسط سے بڑے بڑے عوامی اجتماعات بھی منعقد کروائے جارہے تھے۔ ایک اور اہم ترین راز جس سے اس آڈیو ریکارڈنگ نے پردہ اٹھایا وہ یہ تھا کہ مائیکل تیمر اور رومیرو ہُوکا، سپریم کورٹ کے اکثیریتی ججوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔ یہ بات اہم یوں بھی تھی کہ دلماروسیف اور ان کے حامی جب بھی اس مواخذے کو بغاوت یا سازش کا عنوان دیتے تو جواب میں عدلیہ کی نگرانی بطور دلیل پیش کرکے اسے ایک آئینی و قانونی عمل قرار دیا جاتا۔ گو سینیٹر رومیرو یُوکا اور سرجیو مشادو نے اس آڈیو ریکارڈنگ میں اپنی آوازوں کو حقیقی قرار دیا لیکن ساتھ ہی یہ موقف بھی اختیار کہ ان کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیاجارہا ہے۔

لاوایاٹو یا کارواش نامی مالیاتی تنازعے نے برازیل کی قومی تیل کمپنی پیتروبراس کے دفاتر سے جنم لیا۔ یہاں بیٹھےاعلیٰ افسران نے مختلف تعمیراتی کمپنیوں کو انتہائی مہنگے داموں کے عوض سرکاری ٹھیکوں سے نوازا جبکہ اس عنایت کے بدلے میں ان کا حصہ منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک پہنچایا جانا تھا۔ دلچپسپ بات یہ تھی کہ بدعنوانی کا یہ واقعہ دلما روسیف کے دور حکومت کی بجائے ان کے پیشرو لُولا ڈی سلوا کے دور میں میں وقوع پذیر ہوا تھا۔ دلما روسیف مگر کسی بھی طرح اس تنازعے میں ملوث میں نہ تھیں۔ تاہم اس تنازعے کے سامنے آنے کے بعد انھوں نے نہ صرف نے اس تنازعے کی تقیتیش کا اعلان کیا بلکہ اس عمل کو آگے بھی بڑھایا اور یہیں سے ان کے لیے مسائل کا آغاز ہوا۔ رومیریو یُوکا اور سرجیو مشادو کی باہمی گفتگو بھی یہی ثابت کرتی ہے کہ کارواش نامی تنازعے کی تحقیقات رکوانے کے لیے سیاسی حل یعنی کہ حکومتی تبدیلی کو ہی بہترین رستہ تصور گیا اور مائیکل تیمر کو بطور متبادل بھی اسی لیے سامنے لایا گیا کیونکہ وہ ان تحقیات کو روکنے کے لیے تیار تھے۔ پھر ہوا بھی ایسا ہی کہ مائیکل تیمر نے صدارت سنبھالنے کے تین ہی ہفتوں کے اندر اندر تفتیشی عمل روک کر اپنا وعدہ بھی پورا کرڈالا۔ دلما روسیف کے خلاف بدعنوانی تو ثابت نہ ہوسکی لیکن معاشی بحران کو سنبھالنے میں ناکامی کی وجہ سے وہ اپنی مقبولبیت کھو بیٹھی تھیں اور ایک آسان شکار ثابت ہوئیں۔ تاہم یہ فقط ایک خیال ہی ہے ، بالخصوص ایسی صورت میں جب ان کا ہانکا کرنے والے نہ صرف ان سے زیادہ غیر مقبول تھے بلکہ شدید بدعنوانیوں کے الزامات کا بھی شکار تھے۔ جتنا وسیع، طاقتور اور فیصلہ کُن گٹھ جوڑ ان کے خلاف میدان عمل میں اُتر چکا تھا اس کے سامنے مضبوطی سے دفاع کر پانا اگر نامکمن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور تھا ۔مائیکل تیمر، ایڈوارڈو کونہیا اور برازیلین ڈیمو کریٹک موومنٹ کے بہت سے لوگوں کو جہاں اپنی گلوخلاصی ہوتی دکھائی دے رہی تھی وہیں انھیں بطور اتحادی اقتدار میں ملے حصے کی بجائےحکمرانی مکمل طور پر اپنی دسترس میں دکھائی دے رہی تھی۔ چنانچہ انھوں نے اپنے اتحادی بدلتے ہوئے بغاوت کا حصہ بننے میں دیر نہ لگائی۔ لیکن اس بغاوت کی کامیابی محض سیاست کے بل بوتے پر ممکن نہ تھی۔

برازیل کے ریاستی اداروں کی حمایت اور نگرانی میں دلما روسیف کے مواخذے کا پایہ تکمیل تک پہنچنا اس پوری کہانی کا اہم ترین رُخ ہے۔ تیسری دنیا کے کئی ممالک کی طرح یہاں بھی فوجی آمریتوں کی تاریخ انتہائی طویل ہے۔ دلما روسیف اور ان کے پیشرو لُولا ڈی سلوا ان لوگوں میں شامل تھے جو فوجی آمریت کے خلاف نہ صرف مسلح مزاحمت کرچکے تھے بلکہ اس کی پاداش میں انھیں قید اور تشدد کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑی تھیں۔ دونوں ایک ہی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے تھے جبکہ لُولا ڈی سلوا کی سیاسی کامیابیوں کے نتیجے میں ہی دلما روسیف صدارت کے عہدے پر پہنچی تھیں ۔ لیکن لُولا ڈی سلوا کے برعکس ، برازیلین ریاست ، دلما روسیف کے ساتھ اپنے نظریاتی اختلافات کو نظرانداز نہ کرسکی۔ لُولا ڈی سلوا کی خوش قسمتی یہ رہی کہ ان کے دور میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے سبب برازیل کی معیشت خاصی پھلتی پھولتی رہی۔ اسی سہولت کی بدولت وہ برازیل کی عوام کو مہنگائی سے محفوظ رکھنے کے لیے بھاری سبسڈی ادا کرنے کے قابل تھے اور بدلے میں انھوں نے عوامی مقبولیت کی اعلیٰ منزلوں کو پایا۔ لیکن جب صدارت دلماروسیف کو منتقل ہوئی تو اس وقت تک برازیل کی معیشت ، باقی ماندہ دنیا کی مانند ، شدید بحران میں جکڑی جاچکی تھی اور عوام کے لیے وہ تمام تر آسانیاں مہیا رکھنا ممکن نہ تھا جو انھیں لُولا ڈی سلوا کے دور میں دستیاب تھیں۔ چنانچہ خراب معیشت نے دلما روسیف کی مقبولیت کو ٹھکانے لگانے کا عمل بھی جاری رکھا۔ وہ انتہائی کم فرق کے ساتھ دوبارہ صدر منتخب ہونے میں کامیاب تو ہوگئیں لیکن ان کی مقبولیت مسلسل گراوٹ کا شکار رہی۔ تاہم یہ تو معاملے کا ایک رُخ تھا کیونکہ ایک دوسرا رُخ دلما روسیف اور لُولا ڈی سلوا کی شخصیتوں میں فرق بھی تھا۔ دلما روسیف کی طرح لُولا ڈی سلوا کا ماضی بھی مزاحمت سے بھرپور تھا لیکن دلما رو سیف کے برعکس وہ اپنے ماضی کے اس حصے کو فراموش کربیٹھے تھے۔ دلماروسیف مگر اس ماضی کو فراموش کرنے کے لیے تیار نہ تھیں اور اسی لیے انھوں نے مستقبل میں فوجی آمریتوں کی روک تھام کے لیے ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن بنا ڈالا۔ لُولا ڈی سلوا کا انداز حکمرانی بھی انتہائی ڈھیلا ڈھالا سا تھا اور وہ اپنے آئینی اختیارات کو منوانے میں بھی زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ اس کے برعکس دلما روسیف جہاں انتہائی محنت کے ساتھ کام کرنے کی شہرت رکھتی تھیں وہیں اپنے آئینی اختیارات اور عہدے کے تقدس پر کمپرومائز کرنے کو بھی تیار نہ تھیں۔ چنانچہ ان کی شخصیت، ماضی اور نظریات سے خائف ریاستی اداروں نے مناسب موقع ملتے ہی ان کا شکار کرڈالا اور یہ سب جن الزامات کے سہارے کیا گیا وہ تو ثابت بھی نہ کیا جاسکےتھے۔ برازیل جیسی ریاست جہاں آرمی چیف براہ راست حکومت کو “ اپنا گند صاف کرو یا پھر مارشل لا کے لیے تیار ہوجاو” جیسی دھمکیاں دینے کا عادی ہو ، جہاں دلما روسیف جیسے مزاحمتی سیاستدانوں پر تشدد کرنے والے افسران کے گُن سرعام گائے جاتے ہوں اور جہاں عدالتوں کو بزور طاقت قابو کرلینا بائیں ہاتھ کا کھیل ہو۔۔۔۔۔۔۔ ایسی ریاستوں میں بدعنوانی تو برداشت کرلی جاتی ہے لیکن فیصلہ سازی پر طاقتور سرکاری ملازمین کی حتمی گرفت کو چیلنج کرنے کی سوچ رکھنے والے دلما روسیف جیسے رہنما قبول نہیں کیے جاتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.