Baqi Aap Samjhdar Hain..

کچھ حیرت انگیز مماثلتیں خاصی پریشان کن ہیں جیسے جب کبھی وطن عزیز میں اقتدار کے حوالے سے بازو مروڑ کر تبدیلی لائی گئی تو اسکے کچھ عرصے بعد ہی ہمسایہ ممالک میں مسلح تنازعات رونما ہوئے جو دہائیوں تک چلے، جیسے تبدیل شدہ پاکستانی حکومت نے ہمیشہ ایسے مسلح تنازعات میں تابع حکم ہوکر بھر پور طریقے سے حسب منشا کردار ادا کیا، جیسے جب کبھی بازو مروڑ تبدیلی کو نافذ کیا جانا تھا تو تمام اداروں کو ایک صفحے پر پایا گیا اور جیسے ہردفعہ کرپشن اور غداری کے الزامات کے تحت جیلیں نکالے جانے والوں کا مقدر بنیں۔

چونکہ اس مرتبہ بھی مماثلتیں وہی پوری ہوئیں تو شدت سے انتظار تھا کہ ایسا کیا ہونے جارہا ہے جسکے لئے ایسا اسکرپٹ لکھنا پڑا، سٹیج سجایا گیا اور مطلوبہ ہدف حاصل کئے گئے۔ ابھی زیادہ انتظار بھی نہیں کرنا پڑا تھا کہ اچانک ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے ایران پر الزام عائد کردیا گیا کہ امریکہ کو اطلاعات ملی ہیں کہ ایران علاقے میں امریکی مفادات پر حملہ کرنے کی پلاننگ کررہا ہے اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں نامعلوم کشتی سواروں نے سعودی آئل ٹینکرز پر حملے بھی کرڈالے جسکی بنا پر امریکہ اور اسکا روایتی حلیف برطانیہ اپنے جنگی بحری جہاز لیکر فورا وہاں پہنچ گئے۔ ادھر ایران کی نصف درجن پراکسی وارز سے تنگ عرب ممالک نے بھی امریکی فوجی دستوں کو خوش آمدید کہا اور اپنے فضائی اڈے حوالے کئے اور سب سے اہم امریکی ڈیفنس شیلڈ تھاڈ کو بھی خلیجی ممالک میں ہنگامی بنیادوں پر نصب کردیا گیا۔ سمندری سرحد کی بات کریں تو اومان کی دکن بندرگاہ میں امریکی بحریہ نے ڈیرے ڈال لئے اور آج 20 جولائی کو سعودی عرب نے بھی امریکی افواج کی میزبانی کرنے کا اعلامیہ جاری کردیا۔

موجودہ صورتحال میں اس وقت ایران کے گرد مغرب اور جنوب کی اطراف سے گھیرا تقریباً مکمل ہے جبکہ شمال میں وسطی ایشیائی ریاستیں روس کے زیراثر ہونے کی وجہ سے امریکہ سے تعاون کرنے سے انکاری ہیں اور شمال مغرب میں رجب طیب اردگان کا ترکی فتح اللہ گولن کو امریکہ میں سیاسی پناہ ملنے کی وجہ سے ایران امریکی تنازعے سے لاتعلق ہے جس وجہ سے اب امریکہ کیلئے ایران کی مشرقی سرحد انتہائی اہمیت کی حامل ہوگئی ہے۔

ایران کے مشرق میں دو ممالک پاکستان اور افغانستان پائے جاتے ہیں۔ جن میں سے افغانستان پر امریکی قبضہ کابل اور گردونواح تک محدود ہے جبکہ ایران افغانستان سرحدی علاقے کی اکثریت طالبان کے کنٹرول میں ہے۔

اب لے دے کر ہر قسم کی مشکلات سے مبرا ایران کے مشرق میں 950 کلومیٹر طویل پاکستان ایران بارڈر بچا ہے ۔۔۔
باقی آپ سمجھدار ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.