Androoniyan

“میاں صاب آئی لو یُو ، باوُ جی آئی لو یُو” کے نعروں سے سروسز ہسپتال لاہور کا صحن گونج رہا تھا۔ اپنے جذبات کو تاثرات سے مخفی رکھنے پر قادر نوازشریف اپنی تکلیف چھپانے میں ناکام دکھائی دے رہے تھے۔ چال میں نقاہت تھی تو چہرے پر سُوجن۔ انھوں نے اپنا دایاں ہاتھ بلند کرتے ہوئے نعروں کا جواب دینے کی کوشش کی، ان کا ہاتھ مگر سر سے بلند ہوتے ہوئے اوپر اٹھنے کی بجائے سر کے برابر میں ہی رُک گیا۔ یقیناََ یہ اُن کا روایتی انداز نہیں تھا، کارکنان مگر پھر بھی دیوانہ وار “ میاں صاب آئی لو یُو ، باوُ جی آئی لو یُو” کے نعرے لگانے میں مشغول تھے۔

صرف ستائیس برس کی عمر میں ہی وہ سیاسی میدان میں کُود پڑے تھے تو اُن کا یہ عمل، ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں اپنے خاندانی کارخانوں کے قومیائے جانے کا ردِعمل تھا۔ اس کے بعد کی تاریخ تو ثابت کر دیتی ہے کہ سیاست میں کامیابیاں جیسے ان کے گھر کی باندی رہی ہوں۔ پنجاب کی وزارت خزانہ ، وزارتِ اعلیٰ، ایک دفعہ پھر سے وزارتِ اعلیٰ اور پھر وزارتِ عظمیٰ جیسے عہدے ان کی گود میں آن گرتے رہے۔ وزارت عظمیٰ بھی ایک نہیں، دو نہیں بلکہ تین دفعہ۔ ایک دفعہ تو یہ کمال مارشل لا بھگتنے کے بعد بھی ہوا۔ کتنے ایسے حکمران ہوں گے جنھیں مسلح بغاوت کے ذریعے اقتدار بدر ہی نہیں بلکہ مُلک بدر کردیا گیا ہو، لیکن وہ کسی فاتح کے سے انداز میں صرف اور صرف عوامی حمایت کے بل بوتے پر ایک دفعہ پھر واپس مسندِ اقتدار پر براجمان ہوجائے؟۔ ایسا کہانیوں میں تو ہوسکتا ہے لیکن حقیقت میں نہیں۔ نوازشریف کے معاملے میں لیکن ہم اس الف لیلوی داستان کو بھی حقیقت بنتا دیکھ چکے ہیں۔ تینتالیس برسوں پر محیط اُن کے اس سیاسی سفر کا صرف طائرانہ سا جائزہ ہی یہ ثابت کردے گا کہ نوازشریف پاکستانی تاریخ کے کامیاب ترین سیاستدان ہیں۔ پاکستانی اقتدار کی غلام گردشوں سے واقف مگر دلبرداشتہ اہلِ وطن اکثر نوازشریف کو ہتھیار پھینکنے کا الزام بھی دے جاتے ہیں۔ حقیقت بہرحال کبھی بھی سیاہ سفید کے تناظر میں نہیں دیکھی جاتی۔ پاکستانی تاریخ کی ایک حقیقت یہ ہے کہ جس طرح ہماری اسٹیبلشمنٹ یہاں کے اقتداری ڈھانچے کی طاقتور ترین اکائی ہے، اُسی طرح اسٹیبلشمنٹ کا سربراہ یہاں کا طاقتور ترین شخص۔ کبھی یہاں کا وزیراعظم سرِعام انھیں اپنا باس قرار دے دیتا ہے تو کبھی حزب مخالف کے “اہم ترین رہنما” ان کی آمد پر تالیاں بجانے والوں کی تعداد گنتے پائے جاتے ہیں۔ لیکن یہ بھی اسی ملک کی تاریخی حقیقت ہے کہ یہاں اگر کسی مخصوص مُدت کے دوران اسٹیبشلمنٹ کی سربراہی میں تسلسل کے ساتھ تبدیلی ہوئی ہے تو اس مُدت میں فیصلے کا اختیار نوازشریف کے پاس ہی رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ یعنی کہ پانچ دفعہ۔ ہماری بہتر سالہ تاریخ میں اسٹیبلشمنٹ کی سربراہی کا اعزاز اگر سولہ مخلتف برطانوی یا مقامی شخصیات کو نصیب ہوا تو گیارہ مختلف متمنی و حاوی شخصیات کو گھر بھیجنے والے بھی نوازشریف ہی تھے۔ ایسے ہی مواقع پر ان کے فیصلوں نے انھیں ضدی اور ڈٹ جانے کی شہرت دلائی۔ “ اوور مائی ڈیڈ باڈی” جواب تھا ان کا جب 12 اکتوبر 1999 کی رات اُن سے بندوق کی نوک پر استعفیٰ طلب کیا جارہا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور ان کے معتقدین میں نوازشریف اب شدید غیر مقبول ہوچکے ہیں کیونکہ کوئی دوسرا پاکستانی سیاستدان اُن کی فیصلہ سازی پر گرفت کے لیے اس حد تک چلینج نہیں بن پایا۔ نوازشریف کے سیاسی مخالفین و ناقدین اُن کی مزاحمت کی تاریخ سے انکاری شاید اس لیے بھی ہیں کہ ایسی مزاحمت کا مظاہرہ وہ خود یا ان کے پسندیدہ قائدین نہیں کرسکے۔

نوازشریف کی سیاست میں آئے اتار چڑھاو کا رنگ ان کے سیاسی نظریات میں ہی نہیں بلکہ ان کے حامیوں کی سیاسی سوچ میں بھی رچا بسا دکھائی دیتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی چھتر چھایا میں شروع ہوئے ان کے سفر کے ابتدائی دنوں کے ساتھی اور حامی نہ صرف آج بھی موجود ہیں بلکہ ان میں سے کئی انتہائی قریبی حلقہ احباب میں شامل ہیں ۔ “ میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا” کے پیغام نے مگر نوازشریف کو راتوں رات عوامی لیڈر بنا ڈالا تھا ، گو کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اُن کا آنکھ مچول کا کھیل 12 اکتوبر 1999 کے مارشل لا کی آمد تک جاری رہا۔ مارشل لا کے بعد جہاں نوازشریف کے لیے جلاوطنی کا دور آیا وہیں اُن کے ابتدائی سیاسی دور کے چند ساتھی قائم دائم رہے تو اکثریت ساتھ چھوڑ گئی۔ اُن کی وطن واپسی کے بعد مگر ساتھ چھوڑ جانے والی اکثریت دوبارہ سے “شیر آیا شیر آیا” کے نعروں کے ساتھ نوازشریف کی قیادت میں جمع ہوگئی۔ یوں حکومت دوبارہ سے مل تو گئی لیکن وقت کہاں تھمتا ہے۔ لندن پلان ، دھرنوں کے بعد دھرنوں اور بالآخر پانامہ لیکس کے ظہور سے ایک دفعہ پھر کہانی کا انجام وہی ہوا جو کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ اس دفعہ مگر حالات کا ایک رُخ مخفی رہا جو کہ اب آہستہ اہستہ ظاہری شکل میں سامنے آرہا ہے۔ نوازشریف کے حامی اب ایک نہیں بلکہ دو مختلف نسلوں پر مشتمل ہیں۔ ایک نسل وہ جس نے مسلسل آمریت کے دور میں آنکھ کھولی یا سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی تو دوسری نسل وہ جس نے گذشتہ تیس سے زائد برسوں میں صرف نو برس براہ راست آمریت دیکھی۔ دوسری نسل میں شامل اکثریت نوجوانوں اور پکی عمر کے جوانوں پر مشتمل ہے جو یا تو خاندانی طور مسلم لیگی رہے ہیں، یا 2008 سے 2018 کے درمیانی عرصے میں مسلم لیگ ن کی حکومتی کارکردگی سے ن لیگ کے گرویدہ ہوئے۔ دلچسپ بات مگر یہ ہے کہ دیہی ، گنجان آباد اور نسبتاََ کم گنجان علاقوں کے رہائشی ان نوجوانوں کو مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم پر یکجا کرنے اور ان کی آواز کو ممتاز بنانے والی شخصیت کوئی اور بلکہ نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز رہی ہیں۔ ان دونوں نسلوں میں صرف عمر کا ہی فرق نہیں بلکہ سیاسی سوچ کی حد تک بھی زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔ ایک نسل اسٹیبلشمنٹ کی روایتی طاقت کو تسلیم کرنے کی حامی ہے تو دوسری نسل ماضی کی روایات سے جان چھڑانے کی۔ اپنے والد کے نظرثانی شدہ نظریات کے ساتھ ہم آہنگی کی وجہ سے مریم نواز کو سب سے زیادہ اور پُرجوش حمایت اسی دوسری نسل کے ن لیگیوں کی جانب سے ملی۔ پانامہ لیکس کے تناظر میں رچائے گئے پُتلی تماشے نے ن لیگ کے اندر مختلف نسلوں کی سوچ میں فرق کو آج کی سب سے بڑی حقیقت بنا ڈالا ہے۔ “ نوازشریف کی بیٹی اس کی کمزوری نہیں ، نوازشریف کی بیٹی نوازشریف کی طاقت بنے گی” کہنا تھا مریم نواز کا جب انھیں پانامہ لیکس کے سلسلے میں تشکیل دی گئی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی بھگتنا پڑی۔ چنانچہ مفروضوں ، خیالی تنخواہ اور بلیک لا ڈکشنری کی مدد سے جہاں نوازشریف کو عدالتی نااہلی کا سامنا کرنا پڑا تو وہیں ان کے پہلی نسل کی روایتی سوچ کے حامل رہنما انھیں مسلم لیگ ن پر بوجھ تصور کرنا شروع ہوگئے۔ اس پس منظر کے بعد جب نوازشریف نے جی ٹی روڈ مارچ، بڑے بڑے جلسوں اور سوشل میڈیا کنونشز منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تو یہاں رونق لگانے والی یہی نوجوان نسل تھی جو خود کو نوازشریف کی حالیہ غیر روایتی سوچ کے ساتھ ہم آہنگ تصور کرتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی تاریخ کی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمیشہ اسے سب سے زیادہ نقصان روایتی سوچ والے حامیوں نے ہی پہنچایا۔ حالیہ انتخابی معرکے کے دوران جب مسلم لیگ ن کو بدعنوانی ، توہین رسالت اور غداری کے فتووں کے درمیان جوتوں، سیاہی ، پتھروں اور گولیوں کی برسات کا سامنا تھا تو روایتی سوچ کے حامل امیدواروں اور ووٹروں کی اکثریت نے عین انتخابی عمل کے دوران مسلم لیگ ن کا ساتھ چھوڑنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ پھر جولائی کی تپتی دوپہر میں بیشمار رکاوٹوں کے باوجود ووٹ ڈالے گئے، گنتی کے وقت ن لیگی پولنگ ایجنٹس کو زبردستی بیدخل کردیا گیا ، ووٹوں کو دہری مہریں لگا کر مسترد کیا گیا ، ووٹ جلا دیے گئے، نہروں میں بہا دیے یا کہیں چھپا دیے گئے۔ دوبارہ گنتی کے حق کو کبھی چیف جسٹس آف پاکستان نے براہ راست مداخلت کے ذریعے دبایا تو کبھی ن لیگی وکیلوں کو عدالتوں میں داخلے سے روک کر۔ لیکن ان تمام رکاوٹوں اور ہتھکنڈوں کے باوجود بھی ن لیگ کے حق میں تقریباََ ایک کروڑ تیس لاکھ ووٹوں کو ریکارڈ پر آنے سے نا روکا جاسکا۔ یہ حقائق یہی بات ثابت کرتے ہیں کہ تمام تر سیاسی نقصانات برداشت کرنے کے باوجود بھی مسلم لیگ ن کا جماعتی ووٹ بنک نا صرف قائم و دائم رہا بلکہ اس میں نئےاور نوجوان حامیوں کا اضافہ بھی ہوا۔ اگر نوازشریف کو تنہا چھوڑ دینے والے معاملے میں جماعتی رہنماوں پر ہوئی تنقید کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات بھی بڑی آسانی سے واضح ہوجاتی ہےکہ ن لیگ کے حق میں آنے والا نیا ووٹر بھی صرف اور صرف نوازشریف کا حامی ہے نا کہ کسی روایتی سوچ کے حامل رہنما کا۔

ذوالفقار علی بھٹو سے زیادہ تیز اور اونچی اڑان پاکستانی سیاست میں شاید ہی کسی دوسرے سیاستدان نے بھری ہو۔ وہ آئے ، آتے ہی چھا گئے اور مغربی پاکستان کے اکثریتی دِلوں کو اپنے ساتھ بہا لے گئے۔ لیکن جتنی برق رفتار اُن کی اڑان تھی ، اسی برق رفتاری سے وہ ایک دلخراش انجام کا شکار بھی ہوئے ۔ بھٹو کی میراث بھی ان کی صاحبزادی بینظیر بھٹو کو منتقل ہوئی جو بذات خود زندگی بھر اپنے والد اور بھائیوں کے دردناک انجام کے اثرات سے باہر نا نکل سکیں۔ یہی وجہ تھی کہ اپنی سیاسی زندگی کے بیشتر عرصے میں انھوں نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کے رستے تلاش کرنے کو ہی فوقیت دی۔ ، یہ الگ بات کہ ان کی سیاسی زندگی ہمیشہ ہی دائروں میں سفر کرتی رہی۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کرنے کے بعد حکومت حاصل کرنے میں تو کامیاب ہوتی رہیں لیکن ڈیڑھ دو برسوں کے بعد ہی انھیں اقتدار سے چلتا کیا جاتا۔ آخری دفعہ بھی وہ این آر او نامی مفاہمت کا رستہ ہی تلاش کرکے وطن واپسی میں کامیاب ہوئیں لیکن اس دفعہ تو اقتدار تک پہنچنے سے قبل ہی اپنے والد اور بھائیوں کے جیسے انجام سے دوچار کردی گئیں۔ دائروں کے اس سفر میں مگر بھٹو کا سیاسی ورثہ ہر جھٹکے کے ساتھ سُکڑتا گیا اور انجام کے طور پر آج پاکستان پیپلزپارٹی صرف سندھ کی حد تک محدود ہوچکی ہے۔ حالیہ عرصے میں بھی خواجہ سعد رفیق اور شہبازشریف جیسے لوگ اسی قسم کی خوش فہمانہ سیاست کا شکار ہو چُکے ہیں۔ دونوں سیاستدانوں کی جیل یاترہ نوشتہ دیوار تھی لیکن دونوں نے ہی بہادری کے ساتھ حالات کا سامنا کرنے کی بجائے معافی تلافی کو ترجیح دینے کی کوشش کی۔ جیل یاترہ اور مقدمات کو ٹالنےمیں مگر کامیابی پھر بھی نصیب نا ہوسکی۔ قصہ مختصر یہ کہ جب ہمارے سیاستدان اسٹیبلشمنٹ کے موڈ کو سمجھنے میں ناکامی کا شکار ہوتے ہوئے فقط معافی تلافی کے لیے اپنی سیاسی میراث اور نظریے کا سودا کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں تو نا صرف سیاسی نقصان اٹھاتے ہیں بلکہ “عزتِ سادات” بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ نوازشریف کی سیاسی طاقت ایک دفعہ پہلے بھی جھٹکا کھا چکی ہے جب اُن کی دو تہائی اکثریت آمریت، جلاوطنی اور جاوید ہاشمی کی سربراہی کی نظر ہوتے ہوئے صرف سترہ نشستوں تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ یہ الگ بات کہ وہ دور براہ راست آمریت کا دور تھا۔ پانامہ لیکس کےتناظر میں سیاسی “تبدیلی” کو جس انداز میں یقینی بنایا گیا ہے وہ بھی آمریت سے کسی طور کم نہیں۔ حالیہ انتخابات سے قبل جس بحران میں مسلم لیگ ن آن پھنسی تھی اس کے نتیجے میں عارضی طور پر سیاسی نقصان نوشتہ دیوار تھا لیکن اس صورتحال سے بہرحال جماعتی سوچ اور نظریے پر قائم رہتے ہوئے بھی نمٹا جاسکتا تھا۔ یوں کم از کم مسلم لیگ ن کی بحیثیت جماعت اصولی اور اخلاقی برتری تو قائم رہ پاتی۔ ممکن ہے سیاسی برتری بھی قائم رہتی۔ یہ ساری صورتحال مزید خرابی کی طرف یوں بھی چلی گئی کہ اپنی اہلیہ کی بیماری اور وفات ، اپنے خلاف جاری مقدمات کی سماعت اور جیلیں کاٹنے کے درمیان نوازشریف کے لیے ممکن ہی نا تھا کہ وہ کُل وقتی طور پر سیاست کو جاری رکھ سکتے اور مسلم لیگ کو بلاتعطل سیاسی رہنمائی فراہم کرتے رہتے۔ کائنات کی چال مگر کسی کا انتظار تو نہیں کرتی۔ اس صورتحال میں کسی نا کسی کو تو مسلم لیگ ن کو لے کر آگے بڑھنا ہی تھا۔ ان حالات میں مسلم لیگ ن کو ضرورت تھی ایک ایسی قیادت کی جو نا صرف اس جماعت کی تاریخ اور ارتقا کے عمل کو پوری طرح سمجھتا ہو بلکہ اس کے حامیوں کی نوازشریف کے ساتھ وابستگی سے بھی پوری طرح واقف ہو۔ ایک ایسا سربراہ جو ن لیگ کو درپیش مشکلات کا ادراک رکھتا ہو اور کم از کم بغیر کسی قسم کا کمپرومائز کیے ان مشکلات کے تدارک کے لیے کوشش کرنے کی طرف مائل ہو۔ وہ رہنما جو متوقع ریاستی دباو اور ہتھکنڈوں کے مقابلے میں سیاسی دباو اور عوامی حمایت کے بہترین استعمال کی حکمت عملی ترتیب دینے کا اہل ہو۔

لیکن سامنے کون آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ میاں محمد شہبازشریف ۔

“آج ہی چین کے ایک سفیر کا ، جو چین میں اس وقت بہت بڑا افسر ہے، اس نے مجھے آج ہی خط بھجوایا ہے۔۔۔۔ اور کہا کہ شہبازشریف تم نے چین کے ساتھ مل کر پاکستان کی دوستی کو بڑھایا ہے۔ ہم تمہاری عزت کرتے ہیں اور ہماری دعا ہے کہ تم آگے بھی خدمت کرنا” کہنا تھا شہبازشریف کا جو کہ ڈیرہ غازی خان میں اپنی انتخابای مہم کے آخری جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ شہبازشریف حقیقت میں تو نوازشریف کے بھائی ہیں لیکن دونوں کی سیاسی سوچ میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ یہ فرق آج کا نہیں بلکہ اس کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ہر اس موقع پر جب نوازشریف اسٹیبلشمنٹ کی قیادت میں تبدیلی لانا چاہتے تھے ، شہبازشریف اس وقت کی موجودہ قیادت کو کسی نا کسی انداز میں قائم رکھنے کی بھرپور وکالت کرتے پائے گئے۔ دونوں کی سیاست کسی زمانے میں بھلے ایک ہی شاخ کی دو ٹہنیوں کی مانند رہی ہو لیکن حالات، واقعات اور تجربات کے تحت دونوں کی سوچ مخالف سمتوں میں پروان چڑھتی رہی۔ “ میں نظریاتی آدمی نہیں تھا لیکن اب ہوگیا ہوں” کہنا تھا نوازشریف کا جب وہ پنجاب ہاوس اسلام آباد میں اپنے کارکنان اور صحافیوں سے بات کررہے تھے۔ لیکن دوسری طرف شہباز شریف ابھی تک اُسی اَسی اور نوے کی دہائی کی تابعدارانہ سیاست کے قائل ہیں۔ حالیہ انتخابات سے قبل جب ایک نجی ٹی وی چینل نے ان سے اس بابت استفسار کیا تو ان کا کہنا تھا “ یہ میری آج کی نہیں بلکہ ہمیشہ سے یہی سوچ رہی ہے۔ اداروں کے احترام اور مفاہمت کی سوچ”۔ ممکن ہے آپ کے لیے یہ بات حیران کُن ہو مگر حالیہ عرصے میں شہبازشریف کے لیے اوپننگ بیٹسمین کی خدمات سرانجام دینے والے چوہدری نثار علی خان ، تاریخی اعتبار سے ، سویلین سپرامیسی کے معاملے میں کہیں بہتر کوائف کے حامل رہے ہیں۔ شہبازشریف انتہائی محنت اور ایمانداری کے ساتھ کام کرنے کی شہرت رکھتے ہیں لیکن جب سیاسی سوچ اور نظریے کی بات آتی ہے تو وہ ریاستی تابعداری میں اپنے بھائی کے موقف ، جنھیں وہ اپنا قائد بھی قرار دیتے ہیں ، کو اسی طرح سربازار نیلام کرنے میں ذرا بھی تامل سے کام نہیں لیتے جس طرح برادران یوسف نے اپنے بھائی کو بازارِ مصر میں نیلام کیا تھا۔ وہ سرعام بغاوت تو نہیں کرتے لیکن ان کی سیاسی حرکیات کی تاریخ کسی بھی صورت سازش سے کم نہیں رہی۔ چاہے وہ طیارہ سازش کیس میں “ مجھے کچھ معلوم نہیں کیونکہ میں تو سو رہا تھا” جیسا موقف ہو یا پھر نوازشریف کے مشوروں کے برخلاف جلاوطنی سے واپسی کی کوشش والا فیصلہ ہو۔ ماضی میں یہ اختلافات پردے کے پیچھے چلتی سیاست تک ہی محدود رہے لیکن پانامہ لیکس کے تناظر میں کھیلا گیا پُتلی تماشہ اس ساری صورتحال کو زبان زدِ عام کرگیا۔ مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت کی ایک تاریخی روایت یہ بھی رہی ہے کہ بجٹ پیش کیا گیا ہو، نوازشریف نے قوم سے خطاب کیا ہو یا پھر کوئی اہم ترین فیصلہ کیا گیاہو ۔۔۔۔۔ اس کے حق میں اولین بیان وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی طرف سے سامنے آتا رہا ہے۔ اس دفعہ مگر وہ قومی کرکٹ کی جیت پر توصیفی رواں تبصرے تو کرتے رہے لیکن نوازشریف کے حق میں بات کرنے کی بجائے مسلسل خاموشی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ پنجاب اسمبلی میں ن لیگ کی دوتہائی اکثریت ، نوازشریف کے اس سارے ہانکے کے دوران ، اُن پر اعتماد کی ایک عدد قرارداد بھی منظور کرنے میں ناکام رہی۔ جے آئی ٹی کی تحقیاتی رپورٹ نے طارق شفیع کے بیان کی تردید میں اگر کسی کے بیان کو وجہ بنایا تو وہ بھی شہبازشریف ہی تھے۔ دلچسپ بات یہ کہ انھوں نے اپنے اس عمل کی تردید کے لیے بھی گول مول سی وضاحت کا ہی سہارہ لیا۔ نوازشریف نے “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگایا تو شہبازشریف نے اس کے مقابلے میں “ خدمت کو عزت دو” کا نعرہ ایجاد کرلیا۔ دونوں نعرے سنتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان دونوں نعروں کا مخاطب ایک ہی تھا۔ شہبازشریف نے تو نوازشریف کے عدالتی ٹرائل سے بھی خود کو حتیٰ الامکان دور رکھا جس کے بدلےمیں انھیں ن لیگ کے اندر ہی سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔ “ نوازشریف کو بکتر بند گاڑی میں عدالت لا کر ان کی توہین کی جاتی ہےلیکن ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہمیں شرم کیوں نہیں آتی؟” پوچھ رہی تھیں ایک ن لیگی خاتون پارلیمانی ممبر جنھوں نے دوسری خواتین ممبران کے ساتھ مل کر جماعت کے پارلیمانی اجلاس میں شہبازشریف کا گھیراو کیا ۔ اسی پارلیمانی اجلاس میں دوسرے ن لیگی ممبران کی جانب سےبھی شہبازشریف کو جماعتی جذبات سے خبردار کیا گیا تو انھوں نے مجبوری کے عالم میں نگران وزیراعظم جسٹس ناصرالملک کو ناصرف احتجاجی خط لکھنے کا تکلف کیا بلکہ اگلی پیشی پر اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچنےکا “احسان عظیم” بھی کر ڈالا۔ نتیجتاََ نوازشریف کو اگلی پیشی پر بکتربندگاڑی کی بجائے لینڈ کروزر میں عدالت پہنچایا گیا۔ لیکن شہبازشریف کی مشکوک سیاسی حرکیات اور تابعدارانہ سیاسی سوچ ن لیگی حامیوں کی اکثریت کے لیے بالکل بھی حیران کُن نہیں کیونکہ اس بارے میں ن لیگ بحیثت جماعت طویل عرصے سے باخبر ہے۔ پاکستان مسلم ن لیگ کو شہبازشریف کی جانب سے سب سے بڑا جھٹکا، ان کی شخصیت کے یکسر ایک دوسرے رُخ سے مِلا۔

نوازشریف کا بھائی ہونے ، طویل ترین مدت کے لیے وزیرِاعلیٰ پنجاب رہنے اور پاکستان مسلم لیگ ن کی سیاسی طاقت جیسے عوامل شہبازشریف کو پاکستانی سیاست میں ایک بھاری بھرکم حیثیت عطا کرتے ہیں۔ لیکن ان کے طرزعمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنی اس بھاری بھر کم حیثیت سے نا صرف یکسر لاعلم ہیں بلکہ اس کے بھرپور اور مؤثر استعمال کے بھی اہل نہیں۔ ایک طویل عرصے سے مسلم لیگ ن کی سربراہی نوازشریف کے پاس رہی ہے۔ حالیہ انتخابی عمل کے دوران جب وہ اپنی اہلیہ کی بیماری اور وفات کے علاوہ اپنے عدالتی مقدمات نمٹانے اور مفروضوں کی بنیاد پر تھمائی گئی سزا کاٹنے میں الجھے رہے تو مسلم لیگ ن کی سربراہی عملی طور شہبازشریف کے ہاتھوں میں رہی۔ اور یہی وہ عرصہ تھا جب شہباز شریف کی قائدانہ صلاحیتیں بھرپور انداز میں آزمائی گئیں۔ نوازشریف کی نااہلی اور اپنے خلاف چل رہی مسلسل سازشوں کے درمیان، مسلم لیگ ن اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سینگ پھنسائے بیٹھی تھی اور دونوں فریقین میں سے کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نا تھا۔ “ الیکشن 2018 کی کوریج کے لیے پورے پنجاب کا سفر کررہا ہوں۔ نوازشریف اور مریم نواز کے برطانیہ میں پھنس جانے کی وجہ سے مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم مشکلات کا شکار ہے۔ حیران کُن امر یہ ہے کہ شہبازشریف وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار تو بنے بیٹھے ہیں لیکن انتہائی کمزور قیادت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی انتخابی مہم اچھی جارہی ہے” تجزیہ تھا سینئیر تجزیہ کار سید طلعت حسین کا جو کہ انھوں نے ٹویٹر پر 26 جون 2018 کے روز جاری کیا۔ یہ تاثر بلاوجہ نہیں تھا کیونکہ تقریباََ ایک ماہ طویل انتخابی مہم کے دوران شہبازشریف نے عوامی اجتماعات میں بمشکل دس روز شرکت کی ہوگی۔ اس سے تین گناہ زیادہ طویل انتخابی مہم تو خود نوازشریف ان حالات میں چلاتے رہے ہیں جب مسلم لیگ ن کو اس حد تک مزاحمت اور دباو کا سامنا بھی نہیں رہا تھا۔ شہبازشریف عام طور صبح سویرے فجر کی نماز کے فوری بعد کام شروع کردینے کی شہرت رکھتے ہیں لیکن حیران کُن طور پر اس انتخابی معرکے دوران جہاں مسلم لیگ ن کے سیکریٹریٹ میں ان کی آمد بھی گیارہ بجے سے قبل نہیں ہو پاتی تھی ، وہیں دن کے بیشتر اوقات میں اُن تک کسی کی رسائی بھی ممکن نا ہو پاتی تھی۔ میدان عمل میں مگر مسلم لیگ ن تختہ مشق بنی ہوئی تھی۔ جماعتی امیدواروں پر ہر زاویے سے دباو ڈالا جارہا تھا کہ وہ مسلم لیگ ن کی بجائے آزاد حیثیت میں انتخابات لڑیں یا کسی دوسری جماعت میں شامل ہوجائیں۔ ایک طرف مسلم لیگ ن کے امیدواروں پر مقدمات قائم ہورہے تھے ، ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہورہے تھے ، وہ نااہل قرار دیے جارہے تھے، انھیں رات گئے تک کی سماعتوں کے بعد گُوگل کی مدد سے سزائیں سنائی جارہی تھیں ، گمشدگیوں اور بازیابیوں کی آنکھ مچولی چل رہی تھی، ن لیگ کے حامی دھڑے دباو کے تحت نئے اتحادوں میں شامل ہورہے تھے یا پھر ن لیگی امیدوار دباو کے تحت پارٹی ٹکٹ واپس کر رہے تھے۔ لیکن دوسری طرف شہبازشریف مائیک پکڑے “اکیلے نا جانا” گنگنانے میں مصروف تھے۔ حتیٰ کہ جب نوازشریف اور مریم نواز کو سزائیں سنائی گئیں تو شہبازشریف نے قوم کو بتایا کہ وہ صبح سویرے اٹھ کر تیراکی کرنا پسند کرتے ہیں اور جب نوازشریف اور مریم نواز لندن سے واپس آئے تو شہبازشریف نے نے لاکھوں کے مجمع کو ائیرپورٹ لے جانے کی بجائے انھیں مال روڈ لاہور کی سیر کروانے کو ترجیح دی۔ اُس رات لاہور میں کئی مقامات تو ایسے تھے جہاں ہزاروں کارکنان کےسامنے رکاوٹیں اور سیکیورٹی برائے نام ہی تھی مگر کارکنان کو آگے نا بڑھنے کی خصوصی ہدایات جاری کردی گئی تھیں۔ حتیٰ کہ انتخابات کے دن بھی ووٹ ڈالنے کی رفتار ارادتاََ سُست رکھی جارہی تھی لیکن جماعت کے پاس اس متوقع صورتحال سے نمٹنے کی کوئی حکمت عملی نا تھی۔ اور پھر جب انتخابی معرکے کا اہم ترین ، یعنی کہ ووٹوں کی گنتی کا مرحلہ ، آیا تو ن لیگی پولنگ ایجنٹس کو پولنگ سٹیشنز سے زبردستی بے دخل کردیا گیا۔ لیکن اس موقع پر بھی محترم شہبازشریف نے کارکنان کو متحرک کرنے کی بجائے ایک ہومیوپیتھک سی پریس کانفرنس کرنے کے بعد منظرنامے سے غائب ہوجانے کو ترجیح دی۔ ذرا سی تحقیق سے بھی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ منڈی بہاوالدین ، سرگودھا ، کوٹلہ ارب علی خان ، گوجرانوالہ ، سیالکوٹ اور اوکاڑہ جیسے علاقوں میں تجربہ کار اور خرانٹ ن لیگی امیدواروں نے کس طرح کارکنان کو متحرک کرکے اپنے اپنے حلقے چوری ہونے سے بچائے۔ جماعتی قیادت اگر اس رات اپنے فرائض سے غافل نا ہوتی تو آج صورتحال خاصی مختلف ہوسکتی تھی۔ گنتی کے بعد چھتیس گھنٹوں تک اگر انتخابی نتائج غائب تھے تو اس کاروائی سے متاثرہ جماعت یعنی مسلم لیگ ن کے عملی طور پر سربراہ محترم شہباشریف صاحب بھی مسلسل غائب ہی رہے۔ ان کی کمزور ترین قیادت کا سلسلہ بعداز انتخابات بھی یوں جاری رہا کہ جہاں پاکستانی تاریخ کے ان متنازعہ ترین انتخابات کے خلاف احتجاج میں شرکت سے انھیں خراب موسم روک لیتا تو وہیں ان انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی پارلیمان کا حصہ بن کر وہ ان نتائج کی توثیق کرتے دکھائی دیے۔ اور مسلم لیگ ن کی صدارت کے عہدے کی سب سے زیادہ توہین انھوں نے تب کروائی جب وزارت عظمیٰ کے انتخاب کے موقع پر ، یقینی شکست کو سامنے دیکھنے کے باوجود بھی وہ مسلم لیگ ن کی جانب سے خود امیدوار بن بیٹھے۔ غرض کہ اس سارے عرصے میں جہاں شہبازشریف نے اپنی بے عملی سے مسلم لیگ ن کو بنا کپتان کے جہاز بنائے رکھا تو وہیں حرکت میں آنے پر ہر وہ قدم اٹھاتے جس کے نتیجےمیں موجودہ نصب شدہ حکومت کی تنصیب کے عمل کو نا صرف یقینی بنایا جاسکے بلکہ اسے ہر ممکن حد تک اخلاقی حمایت بھی فراہم کی جاسکے۔

پاکستان مسلم لیگ ن اس مُلک کی سب سے سیاسی بڑی جماعت ہے۔ اس جماعت کی مضبوطی اور مقبولیت کا اندازہ یہیں سے لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ انتخابی عمل کے دوران اس جماعت کو شدید سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ریاستی دباو اور ہتھکنڈوں کے زیرِاثر بیشمار امیدواروں اور ووٹروں نے ن لیگ کا ساتھ تو چھوڑا لیکن اس کے باوجود بھی تقریباََ دو سو امیدوار ایسے تھے جنھیں یہ جماعت اپنے بلدیاتی نظام کی سطح سے ترقی دے کر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدوار بنا کر سامنے لائی۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ریاست کی جانب سے ہوئی پولیٹیکل انجنئرنگ کے نتیجے میں تقریباََ ساٹھ لاکھ ووٹوں سے ہاتھ دھونے کے باوجود بھی ن لیگ سوا کروڑ سے زائد ووٹ لینے میں کامیاب رہی۔ ایسی سیاسی طاقت اور گہرائی اس وقت پاکستان کی کسی دوسری سیاسی جماعت کے بس میں نہیں۔ لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ آج کی تاریخ میں مسلم لیگ ن کو درپیش سب سے بڑا چلینج اندرونی ہی ہے کیونکہ بیرونی چیلنجز کم از کم ن لیگ کے لیے بالکل معنی نہیں رکھتے۔ ن لیگ کی حکومتی کارکردگی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس بارے میں زیادہ گہرائی میں جانے کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ صرف پاکستان پیپلزپارٹی کی ماضی میں اور پاکستان تحریک انصاف کی حالیہ نصب شدہ حکومت کی کارکردگی کا مسلم لیگ ن کی گذشتہ حکومت کی کارکردگی کے ساتھ سرسری سا موازنہ ہی کافی ہوگا۔ جماعتی توڑ پھوڑ بھی ن لیگ کے لیے کوئی نئی بات نہیں اور اس دفعہ تو ن لیگ کے اندر توڑ پھوڑ بھی ان حدوں کو نہیں چھو سکی جیسی ہم ماضی میں دیکھ چکے ہیں۔ جہاں تک ریاستی دباو کا معاملہ ہے تو ریاستی ترجیحات وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں اور حالیہ بدترین تجربے نے تو بڑوں بڑوں کے ہوش اُڑا کر رکھ دیے ہیں۔ چنانچہ مسلم لیگ ن کے حامیوں کی دو نسلوں میں پایا جانے والا سوچ کا فرق ہی اسے درپیش سب سے بڑا چلینج ہے۔ جماعت کے اندر بیانئیے کا تضاد بھی یہیں سے جنم لیتا ہے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ اس وقت حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ کا شکار ہونے کی بجائے تمام تر توجہ اندرونی چیلنجز سے نمٹنے پر دی جائے ، جماعت کی تنظیم سازی تیزی کے ساتھ مکمل کی جائے ، جماعتی ڈھانچے کو مزید کارگر بنایا جائے، مستقبل کے بیانئے کا تعین کیا جائے اور جماعت کے اندر اس بابت اتفاق رائے بھی پیدا کیا جائے تانکہ مستقبل قریب میں مسلم لیگ ن اس حد تک دو مختلف بیانئیوں کا شکار نا ہوپائے ۔ اس صورتحال کے تناظر میں سب سے اہم معاملہ جو درپیش ہے وہ مستقبل کی جماعتی قیادت سے متعلق ہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی مسلم لیگ ن اور پنجاب کی عوام کے لیے گرانقدر خدمات ہیں لیکن جہاں تک مسلم لیگ ن کی قیادت کا معاملہ ہے تو اس حیثیت میں وہ ابھی تک وہ کوئی معجزہ دکھانا تو دور کی بات بلکہ اپنی افادیت تک ثابت کرنے میں بھی شدید ناکامی سے دوچار دکھائی دیتے ہیں۔ شہباز شریف ، علمیت پسندی کے نام پر ، جس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں اسے عنقریب متروک ہو ہی جانا ہے۔ آج وہ اور ان کے حامی بھلے ہی مسلم لیگ ن کی ہئیت میں آئی جوہری تبدیلی کو بچگانہ سوچ قرار دیتے ہوں لیکن یہ بات نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ اپنے تجربات کی بھٹی سے گزرنے کے بعد نوازشریف بھی اسی نئی نسل کی سوچ سے ہم آہنگ ہیں۔ حالیہ انتخابات جہاں بہت سے دوسرے سبق ہمیں سکھا گئے وہیں یہ بات بھی عملی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ اپنی تاریخ کے اس اہم ترین دوراہے پر کھڑی مسلم لیگ ن کو جس قیادت کی ضرورت ہے ، اس کے اہل شہبازشریف تو ہرگز نہیں۔ ایسی قیادت نوازشریف ہی فراہم کرسکتے ہیں یا پھر ان کی سوچ سے ہم آہنگ کوئی اہل شخصیت۔ مسلم لیگ ن کی تاریخ بار بار یہ بات ثابت کرچکی ہے کہ اس جماعت کے اتحاد کی ضامن فقط نوازشریف کی ذات ہے نا کہ کوئی دوسرا۔ اس اہم ترین موقع پر یہ فیصلے کرنے اور انھیں منوانے کی اہلیت اور حیثیت بھی نوازشریف کے پاس ہی ہے۔ آج کل تو وہ کچھ عرصے کے لیے ضمانت پر جیل سے آزاد بھی ہیں ۔ وہ اپنی ضمانت کی خلاف ورزی نا کرتے ہوئے، پس منظر میں رہ کر بھی ن لیگ کو اس سمت گامزن کرسکتے ہیں جس راستے پر چلتے ہوئے جماعت کے اندر سے وہ قیادت سامنے آسکے جو مستقبل میں نظریےاور طرزسیاست میں ان کا حقیقی متبادل بن کر دکھا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.