Kab tak Hut Dharmi?

یہ بات ہے 2016 کی جب ملک کی اعلی سول اور ملٹری قیادت ایک میٹنگ میں بیٹھے تھے جس میں وزیراعظم اور اسکی کابینہ کے لوگوں نے کالعدم جماعتوں پہ پابندیاں لگانے کا کہا، اور کہا کہ ان جماعتوں کی وجہ سے ہم دنیا میں تنہا ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بات کو لے کے سول ملٹری قیادت میں تلخ الفاظ کا تبادلہ ہوا۔ یہ بات سرل المائیڈہ نے ڈان میں لکھ دی اور یہاں سے ڈان لیکس کے ختم نہ ہونے والے ایپیسوڈ کا آغاز ہوا۔ وزیراعظم کو اپنے وزیراطلاعات، مشیر خارجہ اور فواد حسن فواد کی قربانی دینی پڑی مگر پھر بھی نوازشریف کا ووٹ توڑنے خاطر ملی مسلم لیگ اور لبیک جیسے بلوائی بنانے پڑے۔ خیر لبیک نے تو سال بعد ہی سود سمیت قرضہ واپس کیا۔ یاد رہے کہ تب انصافی حضرات ڈان لیکس کو لے کے بوٹ پالشیے بن کے نوازشریف پہ غداری کا لیبل لگانے میں مصروف تھے اور اسکے بعد عمران خان سمیت انصافی بھی مذہب کارڈ بھی کھیلتے رہے۔

تو وزیراعظم کا نام تھا نوازشریف۔ یہ نوازشریف کی دور اندیشی تھی کہ اس نے 2016 میں بھانپ لیا تھا کہ ان مذہبی جماعتوں کی وجہ سے ہم تنہا ہوتے جا رہے ہیں مگر ایسی کسی تجویز کو مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ۔ بعد میں ہم نے دیکھا کے چائنہ نے برکس کے اعلامیہ میں نوازشریف کی کہی بات دہرائی۔ ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ میں چائینہ، سعودیہ اور ترکی نے بھی ہمارے حق میں آواز نہ اٹھائی اور پاکستان گرے لسٹ میں جا پہنچا۔ اب پلوامہ اٹیک کے بعد جو بھی صورتحال ہوئی، دونوں ملکوں نے ایگریشن کا مظاہرہ کیا۔ ہمارا میڈیا مصروف رہا کہ دنیا ہمارے پائلٹ چھوڑنے والے قدم کی تعریف کر رہی ہے مگر کسی نے اس دوران جرمنی،فرانس اور امریکہ کے کالعدم تنظیموں کو ختم کرنے کے مطالبات کو کوریج نہ دی۔ اور تو اور، ہماری احسن خارجہ پالیسی کی بدولت اب ڈو مور کا مطالبہ انڈیا سے آنا شروع ہو گیا ہے۔ انڈیا نے کالعدم تنظیموں کے راہنماؤں کی ایک لسٹ دی اور یوں 2 دن پہلے پاکستان نے ان جماعتوں پر پابندی عائد کر دی اور 50 کے قریب راہنما پکڑ لیے۔

سوال یہ ہے کہ یہی بات تین سال پہلے نوازشریف نے کہی تھی تو ملک کے کرتا دھرتاؤں نے کیوں نہیں مانی؟ اگر نوازشریف کی بات غلط تھی تو آج اس پہ عمل کیوں کیا جا رہا؟ مطلب انہیں جماعتوں کی لسٹ ہمارا دشمن نمبر ایک انڈیا دے تو پابندی لگ سکتی، لیکن اگر وزیراعظم کہے تو ڈان لیکس؟؟ نوازشریف کی کہی ایک ایک بات سچ ثابت ہورہی۔ ہم دنیا میں تنہا ہورہے، دنیا ہماری قربانیوں کا اعتراف کرنے کیساتھ ہی کالعدم تنظیموں پہ پابندی کا مطالبہ کرتی ہے۔ نوازشریف کی بات مانی ہوتی تو آج انڈیا کی دی ہوئی لسٹ پہ عمل نہ کرنا پڑتا۔ دنیا دیکھ رہی ے کہ نوازشریف کی بات رد کرنے والے آج کیسے کیسے اور کہاں کہاں صفائیاں دے رہے ہیں۔

وتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *