Saffai Wallay

پہلے تو سوال سن کر حیران ہوا اور پھر پریشان، نوجوان کا سوال تھا ” صفائی کا کام تو عیسائی نہیں کرتے؟” اس سوال کی وجہ یہ تھی کی اس نے پہلی بار ایک مسلمان خاکروب کو دیکھا تھا۔

بچپن سے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ صفائی کا کام مسیحوں سے جوڑ رکھا ہے۔ میونسپل کمیٹیوں اور سرکاری اداروں میں یہ ملازمت مسیحی لوگوں کو ملتی رہی ہے۔ لوگ ان سے گھن کھاتے رہے ہیں ۔ اس کی بڑی وجہ ان کا خاکروب ہونا تھا یا مسیحی ہونا، یہ واضح نہیں۔

نیم سرکاری اسکول میں پڑھتا تھا، پہلی جماعت میں ساتھی طلباء نے پوچھا، “تمہارا ملک کونسا ہے؟” کہا ” پاکستان” تو جواب ملا ” یہ تو مسلمانوں کا ملک ہے، سچی بتاؤ نہ تمہارا ملک کونسا ہے؟”

گھر آ کر بتایا تو ابا نے کہا کہ ایسی باتوں کو دل پر لو گے تو پڑھ نہیں پاؤ گے۔ ان کے ماننے نہ ماننے سے کیا ہے تمہیں ہمیشہ اس ملک کو اپنا ملک ماننا ہے کیونکہ یہ زمین تمہاری ہے اور تمہارے آباء کی ہے۔ تب سے ڈٹ گئے کہ بھیا ملک تو ہمارا ہے آپ کو جو سوچنا ہے سوچیے۔

جیسے جیسے بڑے ہوئے تو دیکھا کہ مسیحی لوگ معاشی طور پر پسماندہ ہیں اور زیادہ تر با امر مجبوری اسی صفائی والے کی نوکری پر اکتفا کرتے ہیں۔ ابا اماں کو مسیحی بچوں کو پڑھاتے دیکھا کہ چلو اگلی نسل ہی اپنے معیارِ زندگی کو بہتربنا سکے۔

مسلم اساتذہ اور ہم جماعت بہت اچھے اور ملنسار ملے، ہمیشہ اپنائیت دی۔ کبھی کبھی کوئی نفرت کرنے والا بھی ملا مگر زیادہ تر اچھے رہے۔

کبھی مسیحی دوست گلہ کرتے تو میں سمجھاتا کہ نہیں یاراچھے لوگ ہیں تم ہی غلط سوچ رہے ہو، جواب ملتا کہ تم میں اور ہم میں فرق ہے۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیسے بھائی، جیسے تم مسیحی ہو ویسا میں ہوں۔

برسوں بعد سمجھ آئی کہ واقعی مسیحی مسیحی میں فرق ہے۔ جو مسیحی دیہات سے ہیں، زمیندارہ کرتے ہیں ان کو شہر کے ان مسیحوں سے الگ ٹریٹ کیا جاتا ہے جن کے ماں باپ یا وہ خود صفائی کرتے ہیں۔ چاہے بچوں کو پڑھا بھی لیں یہ ٹیگ بچوں کا پیچھا نہیں چھوڑتا کہ ” ہے تے چوہڑیاں دی اولاد ای نہ” اور اس میں دیہات کے مسیحوں نے بھی ان کو حقارت سے دیکھا ہے اور وہ بھی قصوروار ہیں۔

جیسے جیسے ملک پر آبادی کا دباؤ بڑھا سرکاری نوکری ، چاہے جیسی بھی ہو، اس کی خواہش لوگوں میں بڑھ گئی ۔ تنخواہ، گریجوئیٹی اور ماہانہ پنشن کے لیے مسلمان لوگ بھی خاکروب کی نوکری کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ قانونی قدغن تو پہلے بھی نہیں تھی مگر سماج میں کمتر سمجھے جانے کے باعث لوگ یہ کرتے نہیں تھے ۔ اب جب وہ بھی ان نوکریوں پر آنے لگے مگر دل میں تو کراہیت ہی محسوس کرتے تھے ۔ تو انہوں نے حل یہ نکالا کہ نوکری تو وہ مسلمان شخص لے جاتا مگر آدھی تنخواہ پر کسی بے روزگار مسیحی کو کام کے لیے بھیجتا، حاضری اس مسلمان شخص کی ہی بولی جاتی اور وہ مسیحی اس کے نام پر حاضر جناب بھی کہتا اس کی جگہ ڈیوٹی پر بھی جاتا پر جب سالہا سال گزر جاتے تو گریجوئیٹی اور پنشن پر حق اس مسلمان کا ہوتا جس کے نام سے اس نے یہ نوکری کی تھی ۔ سارے کوڑےدان ، سارے گٹر اور ساری آلائشیں اس مسیحی کی جبکہ سرکاری بینیفٹ اس مسلمان شخص کے۔

کچھ جگہوں پر سرکاری اداروں میں دو تین یا چار خاکروب ہوتے ہیں۔ تین مسیحی اور ایک مسلمان ، وہاں اگر مالی یا چوکیدار ایک ہے تو صاحب ادارہ افرادی قوت کو مینیج کرنے کے نام پر اس مسلمان خاکروب کو مالیوں یا چوکیداروں میں لگا دیتے کہ بندہ کم ہے۔ یہ کرتے ہوئے کبھی سوچ میں لاتے ہی نہیں کہ درجہ چہارم کا ایک ملازم ہے وہ نام کے ساتھ مسیح لکھتا ہے تو وہ بھی مالیوں میں بھیجا جا سکتا ہے۔ نہیں، صفائی والے کا ذہن میں آتے ہی جارج مسیح ، ڈیوڈ مسیح ، پیٹر مسیح کا خاکہ ذہن میں بنتا ہے ، کسی مجید، لطیف یا خالد کا نہیں۔

کچھ جگہ تو معاملات اور ہی ہو جاتے ہیں ، ایک مسلمان شخص جو اپنی مرضی سے خاکروب کی سیٹ پر بھرتی ہوا ہوتا ہے اسے اچانک پتہ چلتا ہے کہ وہ تو سید برادری سے ہے، چنانچہ وہ دوسروں کی عقیدت مندی کا فائدہ اٹھا کر کہتا ہے کہ میں تو جھاڑو ہاتھ میں نہیں پکڑوں گا۔ اور گھر بیٹھا رہتا ہے یا کام کی جگہ آ کر کبھی اس کمرے اور کبھی اس کمرے میں بیٹھا رہتا ہے۔ کیونکہ جھاڑو لگانا اس کے لیے مناسب نہیں، ہاں ہر مہینے جھاڑو والے کی تنخواہ لینا مناسب ہے ۔

کبھی کوئی ایک مہا دیالو مل جاتا ہے وہ کہتا ہے کہ میں ڈسٹنگ وغیرہ کر دوں گا مگر بیت الخلاء یہ عیسائی ہی صاف کرے گا۔ ۔ غنیمت ہے۔

یہ سب کب مذہب سے جڑ گیا؟ معلوم نہیں مگر یہ سب انتہائی تکلیف دہ ہے۔ محنت کرنا جرم نہیں ہے۔ مگر بنا دیا گیا ہے۔ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو کیا جا رہا ہے۔

اور بعض مسیحی نمائندے سمجھتے ہیں کہ مسیحی پہلے ہی ستائے ہیں نوکریاں ملتی نہیں اگر خاکروب کی نوکری کے اشتہار پر صرف غیر مسلم لکھا ہے تو اچھا ہے نہ تاکہ یہ نوکریاں بھی مسلمان نہ لے جائیں کیونکہ نوکری وہ لے جاتے ہیں اور کام تو پھر بھی ہم سے کرواتے ہیں وہ بھی آدھی تنخواہ پر اور بغیر بینیفٹ کے۔

اس سب میں کون درست ہے کون نہیں اس کا فیصلہ تو ہم نہیں کر سکتے مگر اپنے آپ کو یہ تو سکھا سکتے ہیں نہ کہ پیشے مذہب کی بنیاد پر نہیں ہوتے۔

3 thoughts on “Saffai Wallay

  • October 13, 2018 at 10:24 am
    Permalink

    خوبصورت تحریر۔

    Reply
  • October 13, 2018 at 3:47 pm
    Permalink

    حقیقت کم ،افسانہ زیادہ۔
    پنجاب میں ھمیشہ سے خوشحالی رھی ھے یہاں ھمیشہ دوسری قومیں افغانی، ایرانی، ازبیک تاجک یا تو لوٹ مار کے لیے آتی رھیں یا پھر انڈیا کی دوسری ریاستوں سے لوگ نوکری کی تلاش میں آتے رھے ھیں۔ سب کو معلوم ھے کہ صفائی کا کام انڈیا میں شودر کرتے رھے ھیں اسی وجہ سے پنجاب میں بھی شودر ھی صفائی کرتے رھے ھیں جو بعد میں انگریز کے زمانے میں سرکاری نوکریاں حاصل کرنے کے لیے عیسائی بن جایا کرتے تھے۔ کیونکہ ان کی رسائی تقریبا ھر گھر اندر نہی تو آس پاس ضرور ھو سکتی تھی اس لیے جب تک انگریز رھا انکے خاص جاسوسوں کا کام بھی انجام دیتے رھے، ھندو کا کام مسلمانوں کو پیچھے دھکیلنا ھوتا تھا اور عیسائی کا کام اس کے ریایکشن کو انگریز بہادر تک پہنچانا ھوتا تھا
    ان عیسائیوں کا تعلق کسی خاص قوم سے نہی تھا لیکن پاکستان میں یہ رہ کر دوسری قوموں میں ضم ھوچکے ھیں اور معاشی طور پر وہ جو انگریز بہادر کی آرمی میں کام کر چکے ھیں انکو انگریز بہادر سے زمینیں ملیں وہ زمینداری کرنا شروع ھوگئے اور وہ لوگ آج بھی نسبت بہتر ھیں۔
    اب سوال یہ پیدا ھوتا ھے کیا یہ ایک خاص قوم تھی جس کو پیچھے رکھا گیا؟ نہی۔ یہ سب لوگ کسی زمانے میں مختلف قوموں کے شودر تھے جو عیسایت قبول کرتے ھی نوکری مل جانے سے بہتر زندگی گزارتے۔
    دوسرا کیا پاکستان کے عیسائی انڈیین عیسائی سے بھی برا رھتے ھیں؟ نہی۔ اس ملک میں عیسائیوں کو کبھی بھی صرف عیسائی ھونے کی وجہ سے نشانہ نہی بنایا گیا۔ جب کہ انڈیا میں انکو زبردستی “گھر واپسی” پروگرام کے مطابق سب کو زبردستی واپس ھندو بنایا جا رھا ھے۔
    کیا پاکستانی عیسائیوں کو نشانہ انکے مذھب کی وجہ سے بنایا جاتا ھے؟ نہی۔ اس کی وجہ بہت پرانی اور گہری ھے۔ جب شودروں نے عیسائیت قبول کرنا شروع کی تو انکو انگریز بہادر نے مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کے لیے اسلام کے خلاف بہت سا میٹیریل دیا جب میں بہت سی اسلامی مقدس ھستیوں کے بارے من گھڑت باتیں لکھی ھوتی تھیں۔ انگریز کے زمانے میں عیسائی ان تمام باتوں کو مسلمانوں کےسامنے کہنے سے ڈرتے نہی تھے۔ بلکہ انکے منہ پر انکا مذاق اڑایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے ھماری ملکہ کی حکومت ھے تم ھمارا کچھ نہی بگاڑ سکتے۔ ان کی انہیں حرکتوں کی وجہ سے انکو لوگ “چوھڑا” کہہ کر پکارا جانا شروع ھو گئے
    انکی وھی پرانی عادتیں ابھی تک گئی نہی ھیں اس لیے یہ اب بھی اسی طرح مسلمان مقدس ھستیوں پر حملہ کرتے رھتے ھیں اور کبھی کبھی ختم نبوت کے قانون کے ھتھے بھی چڑھ جاتے ھیں جس قانون کا شکار عام طور پر مسلمان بھی ھو جاتے ھیں۔
    آخری سوال کیا پاکستانی عیسائی سب سے زیادہ پسماندہ لوگ ھیں؟ نہی۔ پاکستان میں حکومت کبھی بھی اس قابل نہی رھی کہ وہ کبھی بھی پلان بنا کر کسی کے حالات کو بہتر کر سکے یا کسی خاص قوم کے حالات کو برا کر سکے۔ اس ملک کی سب قومیں سب قسم کی زیادتی کا شکار رھتی ھیں۔ بھٹوں پر زیادتی کا شکار صرف عیسائی لڑکیاں ھی نہی بلکہ مسلمانوں کی اسی بربریت سے گزرتی رھی ھیں۔اس ملک میں سب ایک ھی کشتی میں سوار رھے ھیں ھاں البتہ عیسائی کچھ زیادہ ڈسپلنڈ ھو کر اپنی ساتھ کی گئی زیادتیوں کے خلاف بولتے رھیں ھیں لیکن دوسری قومیں میں کبھی کسی میں اتنی طاقت بھی نہی رھی کہ بول بھی سکیں۔ اور آج کا عیسائی تو اتنا مضبوط ھو گیا ھے کہ پچھلے سال عیسائیوں نے کچھ ملاؤوں کو بھی زندہ جلا دیا۔ اور کسی نے انکو ھاتھ تک نہی لگایا گیا۔
    ایک وقت تھا جب ھر نوکری کے لیےپراپاگینڈا کیا جاتا تھا، عیسائیوں نے اور انگریزوں نے مل یہ فیصلہ کیا ھوا تھا چونکہ شودروں کو چونکہ معاشی ترقی میں ھمیشہ نظر انداز کیا گیا ھے اور فی الحال صفائی کرنے کے علاوہ یہ کچھ نہی جانتے تو صفائی کرنے کا کام انہوں نے خود زبردستی اپنے لیے مختصص کروایا۔ وہ مسلمان جن کے پاس یہ نوکری نہی مل سکتی تھی وہ اسکو چوھڑوں کا کام کہہ کر خود کو تسلی دیتے تھے۔ لیکن آج کا عیسائی اتنا خوش حال ھو چکا ھے کہ اپنے ھی کیے ھوئے پراپاگینڈا کو وہ بھول چکے ھیں اور ڈیمانڈ کرتے ھیں کہ صفائی کے کاموں میں انکے کے ساتھ انکا ھی بھائی کام کریں۔
    پھر سوال مذھب کہاں سے آیا؟ کسی ایک آدمی کی ذات کی وجہ سے پورے کے پورے سسٹم کو نشانہ بنانا کوئی آپ سے سیکھے۔کتنے سید
    حضرات صفائی کا کام کرتے ھیں؟ آپ نے خود ھی مذھب کو نشانہ بنانا تھا اس لیے کسی ایک واقعہ کا بہانہ بنا کر پورا مصنوعی کیس ھی بنا کر پیش کر دیا۔
    عیسائی پاکستان میں انڈیا سے کہیں بہتر ھیں اور خاص طور پر پنجاب جو صوفیوں کی زمیں جہاں بابا فرید بلھے شاہ اور گرو نانک جیسے ھستیاں رھی ھیں وھاں کسی کے ساتھ اس کی رنگ و نسل یا مذھب کی بنیاد پر زیادتی کبھی نہی ھو سکتی۔ ایک خاص سوچ اور پریشر گروپس کو اگر نشانہ آپ نہی بنا سکتے کیونکہ ان کے ری ایکشن کی وجہ بھی آپ لوگوں میں موجود ھے۔ اس لیے آپ پورے معاشرے کو نشانہ بناتے ھیں۔ اورمسلمان پنجابی وہ ھمیشہ بات کی گہرائی میں جانے کی بجائے ھمیشہ رونے والے کا ھی ساتھ دیتا ھے۔ آپ اس طرح کچھ لوگوں کی ھمدری تو حاصل کر لیں گے لیکن اس طرح مظلوم بن کر آپ کہیں دور نہی جا سکیں گے۔
    “یاد رکھیں انگریز کہتے ھیں “مظلومانہ سوچ ایک مجرمانہ سوچ ھوتی ھے۔
    Victim’s mentality is a criminal mentality.

    Peace, Salam, Shalom.

    Reply
  • October 13, 2018 at 7:28 pm
    Permalink

    Pakistan min ankh khol k jo bat sub se zyada note ki hye wo ye bradre, mazhab or pesha ka choran hye jo kbe alag tu kbe mix kr k kam min laya jata hye inhe 3 batu ko le kr faisle hote hin.
    Herange ki bat ye hye jin ko hum nech smjhte hin un k bgyr hmara kam b nh chalta in 3 ki bunyad pr ezat de jate hye ab kuch tabdele aye hye k paisa b 4 ansar ban gya hye pr is k bad b 3 min se 1 ko badlna prta hye.
    Hmare qoum ko trbyat ki zrurat hye ezat hr kise ka haq hye apna chorn bechna bnd krna ho ga.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.