Qurbaani

قربانی

بہت دنوں کی بات ہے
ایک صاحب کسی دوست کو کچھ رقم ادھار دے بیٹھے
پھر اس کے بعد وہی ہوا جو ایسے معاملات میں ہوتا ہے یعنی کہ رقم بھی گئی اور دوست بھی ملنے سے گئے
ایک دن اچانک ان قرض خواہ صاحب کو مقروض دوست کا پیغام ملا کہ ملنے کیلئے آئیں
وہ صاحب دل میں بے شمار امیدیں لئے فوراً ہی نکل پڑے
جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ان کا دوست گھر کے باہر ہی سڑک کنارے زمین پر بیٹھا ہوا کھدائی کر رہا تھا
سلام دعا کے بعد انہوں نے پوچھا کہ خیریت ہے تم یہاں بیٹھے ہو اور کھدائی کر رہے ہو؟
دوست بولا بس یار تمہارے پیسوں کا بندوبست کر رہا تھا
وہ کسطرح؟
یہ کھدائی میں بیر کے پودے لگانے کیلئے کر رہا ہوں، یہاں پر میں بیریاں اگاؤں گا
اچھا پھر؟
پھر یہ بیریاں بڑی ہو جائیں گی
پھر؟
تمہیں پتہ تو ہے کہ یہاں ساتھ ہی کپاس سے کپڑا بنانے کا کارخانہ ہے
ہاں وہ تو ہے مگر اس کا میرے پیسوں سے کیا تعلق؟
اس کارخانے کیلئے کپاس لے کر جانے والی ساری ٹرالیاں اسی سڑک سے گزرتی ہیں
تو؟
جب یہ بیریاں بڑی ہوں گی تو سڑک تک پھیل جائیں گی
تو کیا ہوگا؟
تمہیں پتہ ہے کہ وہ ٹرالیاں پوری طرح بھری ہوتی ہیں اور اطراف سے بھی کپاس باہر نکل رہی ہوتی ہے
پھر کیا ہوگا؟
بیری میں کانٹے ہوتے ہیں
ہاں مگر میرے پیسے کہاں گئے؟
اسی کیلئے ہی تو اتنی مشقت کر رہا ہوں
مگر میرے پیسے کیسے ملیں گے؟
ان کانٹوں میں کپاس کے پھول پھنسیں گے
پھر؟
وہ پھول میں جمع کرتا جاؤنگا
پھر؟
جب وہ کافی تعداد میں جمع ہو جائیں گے تو انہیں کارخانے والوں کو بیچ دوں گا وہاں سے ملنے والے پیسوں سے تمہارا ادھار چکتا کروں گا
غصے کے باوجود ان صاحب کی ہنسی چھوٹ گئی
دانت تو نکلنے ہی ہیں تمہاری رقمیں جو ہری ہورہی ہیں” انکا دوست بولا”

کل پاکستان کے نو تنصیب شدہ وزیراعظم کی ہاؤسنگ سکیم کے منصوبے کا سنتے ہی یہ قصہ یاد آگیا

زمین حکومت کی ہوگی، گھر کنٹریکٹر بنائیں گے، گھر کے لئے عوام قرضہ لیں گے، قرضے بنک دیں گے، کمپنیوں میں عوام کو نوکریاں ملیں گی، سیمنٹ اور سٹیل کے کارخانے چلیں گے، گھروں کیلئے پردے چاہیے ہوں گے اسلیے ٹیکسٹائل ملیں بھی چلیں گی، ان گھروں میں لوگ رہیں گے، انکے بچے بھی ہونگے اسلیے پیمپر کے کارخانے بھی چلیں گے
غرضیکہ سب کچھ چلے گا
بدلے میں بس عوام بس پانچ سال کی “قربانی” کیلئے تیار ہو جائے

عوام کے بھی دانت کل سے اسی لئے نکل رہے ہیں کہ انکی خوشحالی کا دور جو آ رہا ہے

5 thoughts on “Qurbaani

  • October 11, 2018 at 7:22 pm
    Permalink

    A nice piece of writing according to situation. The current situation is repeat of what nationalization of industry in Z. A. Bhutto’s era did to our industry. Inexperienced people running commercial industries. Ended up no where.
    Same is situation now. Establishment has installed an inexperienced at PM house. He will now do the same fate with entire country, its resources, people, institutions and system.
    I am sure we will not be able to get back on our feet any time soon.
    God bless Pakistan 🇵🇰.
    Pakistan painda bad.

    Reply
  • October 11, 2018 at 8:05 pm
    Permalink

    اچھی تحریر ہئ

    Reply
  • October 12, 2018 at 7:14 am
    Permalink

    ہاہاہاہاہا
    😜😜😜😜😜😜

    Reply
  • November 30, 2018 at 1:47 am
    Permalink

    حسب معمول ۔۔۔بہت اعلی ۔۔۔

    Reply
  • November 30, 2018 at 1:58 am
    Permalink

    A swine in a sugar cane field , catch it or —- either way field will be destroyed. Poor Pakistan

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.