Tarbeet-e-Shohraan

 ہمارے دوست مرزا کی اہلیہ فلسفۂِ عدم تشدد کی قائل ہیں اور اس فلسفے پر سختی سے کاربند ہیں۔ وہ کسی بھی صورت شوہر کے بیوی پر تشدد کو جائز نہیں سمجھتیں۔ البتہ اُن کے خیال میں اگر بیوی وقتاً فوقتاً شوہر کی مرمت کرتی رہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ اس طرح کی کوئی بھی ایکسرسائز خالصتاً شوہر کی بھلائی کے لئے ہو اور مقصد شوہر کو راہِ راست پر رکھنے کے علاوہ کچھ اور نہ ہو, تاکہ شوہر کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو اور معاشرے میں سُبکی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ایمانداری کی بات ہے کہ ہم نے بقلم خود مرزا کی کھنچائی ہوتے تو دیکھی ہے مگر پٹائی ہوتے نہیں دیکھی نہ مرزا نے ہمیں کبھی ایسی پٹائی کی روداد سنانا مناسب سمجھا۔ البتہ مرزا کے منجھلے صاحبزادے کہ جھوٹ سے بہت نفرت کرتے ہیں ہمیں وقتاً فوقتاً ایسے واقعات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے محتاط اندازے کے مطابق اگر مرزا کی اہلیہ کا مرزا کی مرمت کرنے کا مقصد مرزا کی تربیت کرنا ہے تو ہمیں افسوس ہے کہ وہ اپنا وقت ضائع کر رہی ہیں۔ وہ خود یہ بات کئی بار کہہ چکی ہیں کہ مرزا تم ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو اساتذہ اپنے شاگردوں کے بارے میں کہتے ہیں۔ مرزا اگرچہ خود تو اس محاز آرائی پر کھل کر بات نہیں کرتے مگر اپنے دوستوں کو بشمول ہمیں یہ تلقین تسلسل کے ساتھ کرتے رہتے ہیں کہ آزادی ایک نعمت ہے اور بندے کو بالعموم اور شوہر کو بالخصوص اپنی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے چاہے اس کے لئے آپ کو عملی جد و جہد کرنا پڑے۔ سب دوستوں کا خیال ہے کہ عملی جدو جہد سے مراد مرزا کی یہی ہے کہ اگر بیگم چار جڑ بھی جاۓ تو آپ نے اپنی ضد سے باز نہیں آنا۔

مرزا جیسے لوگ جنہوں نے فطرتاً آزاد طبیعت پائی ہو اُن کے لئے اپنی آزاد حیثیت کو ترک کرنا کارِ دیگر ہے۔ ہمارے ایک اور دوست آزاد منش بھی ایسے ہی نابغۂِ روزگار لوگوں میں سے ایک ہیں۔ وہ اپنی آزاد حیثیت سے کبھی بھی اور کسی بھی صورت دستبردار نہیں ہوتے حتیٰ کہ مقابل اُن کی اپنی اہلیہ ہی کیوں نہ ہو۔ میں نے انہیں اپنی اہلیہ کہ جن کا ہاتھ کافی بھاری معلوم ہوتا ہے سے متشدد ہوتے دیکھا ہے کہ بیچاری بہ امرِ مجبوری اپنے عزیز از جان اور مرنجاں مرنج شوہر پر ہاتھ اُٹھانے کی مکلف ہوئیں۔ مگر ہمارے دوست کے پاۓ استقامت میں لغزش نہ آئی اور اپنی آزادی اور مردانگی پر حرف نہ آنے دیا۔ اُن کی اہلیہ اس رویے کو ہٹ دھرمی سے تعبیر کرتی ہیں جبکہ وہ خود اِس کو اصول پسندی کہتے ہیں۔ اور بات بھی یہی سچ ہے۔

ایک دفعہ اُن کے دفتر والوں نے اُن کو پیشکش کی کہ وہ چند دن اُن کے خرچے پر ایک صحت افزا مقام پر گُزاریں۔ وہ بخوشی راضی ہو گئے۔ مگر جب بتایا گیا کہ اہلیہ بھی اس پیکیج میں لازماً شامل ہوں گی تو انہوں نے اپنی رضامندی واپس لے لی۔ کہنے لگے کہ جس سے بھاگ کر جا رہے ہیں اگر اُس نے بھی ساتھ ہی جانا ہے تو سفر کی مشقت کیوں کی جاۓ۔ مزید فرمایا کہ کوئی صحت افزاء مقام اُس وقت تک ہی صحت افزاء ہے کہ جب تک راحت افزاء کی دست بُرد سے محفوظ ہے۔ راحت افزاء وہ اپنی اہلیہ کو اس وقت سے کہتے ہیں جب وہ جانو کے مرتبے سے اہلیہ کے مرتبے تک نہیں پہنچی تھیں۔ چند سال قبل انہوں نے راحت افزاء کا نِک نیم راحت قضا سے بدلنے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں اُن کے سامنے والے دو دانت جاتے رہے اور جسم کے پچھلے حصے میں شدید چوٹیں آئیں۔ البتہ اُن کی عزت محفوظ رہی۔ وہ بیوی کے ہاتھوں پِٹنے کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ عزت پر حرف نہ آۓ کیونکہ انسان عزت کے لئے ہی تو اتنی تگ و دو کرتا ہے۔ اس ضمن میں انسان کا اشاریہ شوہر کے لئے ہی استعمال کیا گیا ہے کیونکہ جانداروں کی دوسری اقسام میں تعلیم کے فقدان کے سبب شوہروں کو دوران تربیت پٹائی کی سہولیات میسّر نہیں ہیں۔

اُصول پسند ایسے کہ بے اُصولی کے بھی کچھ اُصول وضع کئے ہوۓ ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ اپنی آزادی کا سمجھوتہ کرنے کے لئے مشروط طور پر تیار ہیں مگر ایک نظام کے تحت اور صرف اور صرف کسی عظیم مقصد کے لئے۔ لہٰذا انتہائی نامساعد یا انتہائی موافق حالات میں اپنی آزادی عارضی طور پر گروی رکھنے کے لئے کچھ اصول پہلے سے طے کر رکھے ہیں۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے انہوں نے چند عظیم مقاصد شارٹ لسٹ کر رکھے ہیں اور ایک تسلیم شدہ بےاصولی کے تحت اِس لسٹ میں ترمیم بھی کرتے رہتے ہیں۔ چند دن پہلے ایک سیاسی پارٹی جو کہ آزاد بندوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہے نے انہیں دھر لیا اور چند دن کی خاطر مدارات کے بعد اُن کی مرضی کے خلاف انہیں پھر سے آزاد بھی کر دیا۔ وہ اپنے تئیں اس کو اغوا ہونا ہی کہتے ہیں اور اس اغوا کاری پر وہ قطعی طور پر رضامند تھے اور خاطر مدارات کے مدِنظر وہ برضا و رغبت اغوا کاروں کے ساتھ مزید کئی ہفتے گزارنے پر آمادہ بلکہ مُصِر تھے مگر اس اثناء میں کہیں سے کوئی آواز بلند ہوئی کہ ‘بندے پورے ہوگئے اب کوئی سواری نہ بٹھانا اور جو بچ گئے ہیں انہیں چھوڑ دو’ اور وہ اس آواز کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ایک عرصے کے بعد انہیں کسی عظیم مقصد کے لئے اپنی آزادی کی قربانی دینے کا موقع ملا تھا جو ایسے ہی ضائع ہو گیا جیسا کہ حالیہ الیکشن میں ڈالے گئے بے شمار ووٹ ضائع ہوۓ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.