Aks-e-Arzoo

ہاں یہ مل گئی ۔۔ یہ لو۔ امی نے مجھے فیملی البم سے ایک بلیک اینڈ وہائٹ تصویر نکال کر پکڑاتے ہوئے کہا، جسکی میں کئی دنوں سے فرمائش کر رہا تھا۔

میں نے ذرا غور سے دیکھا تو ایک دبلی پتلی سی، مغربی نقوش کی حامل، شلوار قمیص میں ملبوس ایک نفیس سی خاتون کی تصویر نظر آئی جس نے شاید سنہرے تار کے فریم والی عینک لگا رکھی تھی۔ پہلی ہی نظر میں پرکشش اور جاذبِ نظر شخصیت کی مالک لگیں۔

یہ فِلِس تھیں جن کا تعلق ہالینڈ سے تھا۔ والدہ کے تایا یعنی میرے نانا کے بڑے بھائی کی شریکِ حیات تھیں۔

ہوا کچھ یوں کہ دوسری جنگِ عظیم کا خاتمہ ہوا تو نانا کے بڑے بھائی جن کو ہم بڑے نانا کہا کرتے تھے، اس وقت وہ اتحادی افواج کا حصہ تھے جنگ ختم ہوئی تو انہوں نے ہالینڈ میں ہی مستقل قیام کا فیصلہ کیا۔ ایک چھوٹی سی تعمیراتی کمپنی بنا کر کاروبار کا آغاز کیا اور جنگ سے تباہ حال ہالینڈ میں تعمیراتی ٹھیکے لینے شروع کئیے۔ محنت اور دیانتداری سے کام کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند ہی سالوں میں کاروبار چل نکلا اور جلد ہی حکومتی ٹھیکے لینے لگے.. کاروبار وسیع ہوتا گیا اور ساکھ مضبوط تر ہوتی گئی۔ اس دوران چھوٹے نانا جان وطن میں ہی مقیم رہے اور کھیتی باڑی سنبھالے رکھی۔  دونوں بھائیوں میں اتفاق اور ادب و احترام قائم تھا۔ بڑے بھائی نے چھوٹے کی مالی مدد جاری رکھی اور چھوٹے بھائی نے رقوم اللوں تللوں میں اڑانے کی بجائے نہایت سمجھداری سے علاقے میں ہی زرعی زمین خریدنا شروع کر دی۔ انہوں نے نہ صرف زمین خریدی بلکہ زرخیز زمین کیلئیے سرکاری نہری پانی منظور کروا کر باغات کی کاشت بھی شروع کر دی۔ بڑے نانا جان نے جب یہ معاملہ دیکھا تو انہوں نے چھوٹے بھائی کی مزید حوصلہ افزائی جاری رکھی۔ پاکستان کے قیام کے چند ہی سالوں میں یہ خاندان علاقے کے بڑے زمیندار اور صاحب حیثیت خاندانوں میں شمار ہونے لگا۔ بڑے نانا جان اس دوران دو چار سال کے بعد پاکستان کا چکر لگاتے۔ جنگ پر روانہ ہونے سے پہلے بڑے نانا جان کی خاندان میں ہی شادی ہوئی تھی جن سے انکے دو بیٹے بھی تھے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد انہوں نے بیوی بچوں کو باہر لے جانے کی کوشش کی تو خاندان کی مخالفت کے علاوہ بیوی نے بھی صاف انکار کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں اکیلے ہی واپس جانا پڑا۔

بتانے والے بتاتے ہیں، کہ زوجہ کے انکار کے بعد ہی کسی وقت ان کی ہالینڈ میں فِلِس سے ملاقات ہوئی، جوان، اور خوبرو تھے فوجی ڈسپلن اور کامیاب کاروباری شخصیت۔ ۔ بڑے نانا جان پہلی نظر میں ہی فِلِس کے دل کو بھا گئے۔ فِلِس خود بھی نہایت خوبصورت اور نفیس خاتون تھیں بڑے نانا جان بھی شاید دل پر قابو نہ رکھ سکے اور یوں انکی شادی ہوگئی۔ فِلِس وہاں سکول ٹیچر تھیں اور انکا پہلے ایک ناکام شادی سے تین چار سالہ بیٹا بھی تھا جسکا نام نارمن تھا۔ فِلِس نے باقاعدہ مذہب تبدیل کیا اور دونوں ایک محبت بھری زندگی رہنے لگے۔ اس دوران بڑے نانا نے پہلی بیوی اور بچوں سے غفلت نہیں برتی بلکہ ان کا بھرپور خیال رکھتے رہے۔ بڑے نانا کو ہالینڈ میں رہتے ہوئے بیس سال ہو گئے تو وطن میں انکے اہل و عیال اور چھوٹے بھائی نے تقاضا کیا کہ اب وطن واپس آ جائیں کہ زمینوں اور خاندان کی دیکھ بھال ایک آدمی کا کام نہیں رہا تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب بڑے نانا نے فِلِس کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ فِلِس ان سے محبت کرتی تھی اور اسکے لئیے علیحدگی کا تصور بھی محال تھا لہٰذا فِلِس نے بڑے نانا کے ساتھ پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیا۔ فِلِس اس بات سے آگاہ تھیں کہ انکی پاکستان میں بھی بیوی موجود ہے۔

نارمن اور فِلِس بڑے نانا کے ساتھ پاکستان میں وسطی پنجاب کے ایک زرخیز زمینوں والے گاؤں میں آئے تو جہاں گاؤں بھر کیلئیے گوری خاتون کو دیکھنا حیرت کا باعث بنا وہیں بڑے نانا کی دیسی بیوی جنہیں گاؤں بھر میں چوہدرانی جی کہا جاتا تھا نے سوکن کو نہ صرف قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا بلکہ اسے گھر میں بھی ایک قدم رکھنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔ مجبوراً فلِس اور نارمن کو چھوٹے نانا کے گھر قیام کرنا پڑا جہاں میری والدہ بھی ابھی کمسنی میں ہی تھیں۔

بڑے بھائی کی واپسی کو چھوٹے بھائی نے صدقِ دل سے خوش آمدید کہا اور حالیہ دور کے رجحان کے برعکس تمام جائیداد جو آج تک بنائی تھی کاغذات لا کر بھائی کے قدموں میں رکھ دئیے۔ بڑے بھائی نے چھوٹے کو گلے لگایا اور دونوں بھائیوں نے مثالی اتفاق اور یگانگت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جائیداد کو دو حصوں میں برابر تقسیم کر کے اپنے اپنے حصے کا نصف بخوشی قبول کر لیا، یوں ایک بہت بڑا مرحلہ بغیر تصادم کے طے ہوگیا۔ بھائیوں کے اتفاق کا اثر یہ ہوا کہ نہ صرف گاؤں بلکہ آس پاس کے علاقوں پر بھی اثر رسوخ قائم ہو گیا اور لوگ فیصلوں کیلئیے آنے لگے۔ میں نے بڑے نانا کو اپنی ہوش میں دیکھا ہوا ہے اور انکی نہایت بزرگی اور طوالتِ عمری میں بھی کسی کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ انکے فیصلے سے روگردانی کر سکے۔

اس دوران چوہدرانی نے بہرحال فِلِس کا نہ صرف بائیکاٹ جاری رکھا بلکہ زرائع ابلاغ کے بہتر استعمال اور گاوں کے ریاستی عناصر پر عمدہ کنٹرول کے باعث گاوں بھر میں فِلِس کے خلاف فضا تیار کر دی۔ بڑے نانا کو حالات کا اس وقت  علم ہوا جب گاوں کے چیدہ چیدہ افراد کی ایک جماعت گاوں کے امام مسجد کی قیادت میں چوہدری صاحب یعنی بڑے نانا کے پاس آئی اور آ کر کافروں کی نمائیندہ فرنگی عورت کو چھوٹے چوہدری کے گھر سے بیدخل ہونے کا کہا۔ امام صاحب نے اس موقع پر ایک نہایت رقت آمیز خطبہ بھی دیا جس میں تجدیدِ ایمان کی اہمیت، فرنگیوں اور غیر مسلم افراد کے ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت، فرنگیوں کے ہاں مروجہ بےحیائی کو اپنے گاؤں میں بہو بیٹیوں تک پہنچنے کا تدارک کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ چوہدری صاحب نے جب امام صاحب پر واضح کیا کہ فِلِس باقاعدہ دائرہ اسلام میں داخل ہو چکی ہیں تو امام صاحب نے اس دعوے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ایمان کے معاملے میں فرنگیوں کا اعتبار کیا ہی نہیں جا سکتا۔ ماحول میں گرمی بڑھی تو چھوٹے نانا نے دخل اندازی کرتے ہوئے امام صاحب کو اپنے کام سے کام رکھنے کا مشورہ دیا تو امام صاحب نے چھوٹے چوہدری کے ایمان پر شک اور فرنگیوں کی محبت میں دائرہء اسلام سے خارج ہونے کے خطرے سے آگاہ کیا تو گاؤں کے دیگر افراد بھی امام صاحب کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔ ماحول ایسا ہوگیا کہ بڑے چوہدری صاحب نے بغاوت اور کفر کے فتوے کا ماحول دیکھا تو حکمت سے کام لیتے ہوئے چھوٹے بھائی کو فِلِس اور نارمن کیلئیے گاوں سے باہر ایک ڈیرے پر رہائش کا بندوبست کرنے کا حکم دے دیا۔

امی بتاتی ہیں کہ چوہدرانی نے فِلِس کے زیادہ تر ذاتی سامان پر نہ صرف قبضہ کر لیا بلکہ مزید اقتصادی پابندیاں لگاتے ہوئے تمام نوکروں اور نوکرانی کو حکم جاری کر دیا کہ انہیں سامانِ راشن اور کھانے پینے کی دیگر اشیا کی فراہمی بھی بند کر دی جائیں۔ امی بتاتی ہیں کہ اس دور میں گاوں میں بجلی نہیں ہوا کرتی تھی اس ماحول میں فِلِس گاؤں سے باہر ایک ڈیرے پر تنہا رہتیں، ہماری نانی محترمہ چوبیس گھنٹوں میں بمشکل ایک بار چوری چھپے کھانا تیار کر کے امی کے ہاتھ بھجواتیں جو نارمن اور فِلِس تھوڑا تھوڑا کر کے باقی کے چوبیس گھنٹوں میں کھاتے۔ کبھی کبھار گاؤں کا کوئی گھرانہ جمعرات کو بکری کا دودھ بھجوا دیتا۔ نارمن نے بہرحال یہ کیا کہ ایک غلیل تیار کر لی اور دن بھر کوشش کر کے ایک دو پرندے شکار کر لیتا یوں ماں بیٹے کا گزارہ ہو جاتا۔ بڑی چوہدرانی نے جب امام مسجد صاحب کو بھینس تحفے میں دی تو انہوں نے اگلے ہی جمعے کے خطبے میں خشک سالی کی وجہ گاؤں پر نحوست کے اثرات اور کفار کے ساتھ ملنے جلنے، کھانے پکانے، اور میل جول کو قرار دے دیا۔ اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ گاؤں کے مکین ایک دوسرے پر نظر رکھنے لگے کہ کہیں کوئی فرنگی عورت سے میل جول یا کھانا وغیرہ تو نہیں دے رہا؟ مجھے اس معاملے میں بڑے نانا کی مجرمانہ غفلت کبھی سمجھ نہ آ سکی۔ چھوٹے چوہدری بہرحال نوکروں کو ڈیرے والی بھابی کا خیال رکھنے کی تاکید ضرور کرتے مگر مشترکہ خاندانی نظام پر چوہدرانی کے موثر کنٹرول کے باعث کسی نوکر کی مجال نہ تھی کہ چوہدرانی کی اجازت کے بغیر کوئی کام کرتا۔

رفتہ رفتہ فِلِس کی صحت نہایت خراب رہنے لگی اور وہ نہایت دبلی، کمزور اور ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گئی۔ انہی دنوں ایوب خان نے گاؤں گاؤں میں چیچک کے خاتمے کی ویکسینیشن مہم شروع کروائی تھی۔ ایک دن ایک ٹیم اس گاؤں میں بھی آ گئی اور چیچک کے ٹیکے لگاتے اور قطرے پلاتے کسی سے پوچھ بیٹھے کہ کوئی اور گھرانہ رہ تو نہیں گیا؟ تو کسی بچے نے ڈیرے کا ذکر کر دیا۔ محکمہ صحت کے نمائندوں نے اپنے سائیکل اٹھائے اور ڈیرے کا رخ کر لیا۔ سنا ہے وہیں فِلِس نے انہیں درخواست کی کہ میرا یہ ایک خط پوسٹ کر دیں۔ خط فِلِس نے اپنی ہالینڈ میں مقیم بہن کے نام لکھا تھا۔ بہن صاحب ِ حیثیت تھی، دو ماہ بعد خط ملا توچھوٹی  بہن کی روئیداد جان کر تڑپ کر رہ گئی ۔ ۔ فوراً ٹکٹ خریدے اور پاکستان پہنچ گئی یہاں آ کر ایمبیسی کے تعاون سے پولیس کو ساتھ لیا اور جس وقت گاؤں سے باہر ڈیرے پر پہنچی تو نارمن غلیل سے چڑیوں کا شکار کرنے گیا ہوا تھا اور فِلِس کی حالت ایسی تھی کہ اپنی مدد آپ کے تحت بستر سے اٹھ کر کھڑی نہ ہو سکتی تھی۔ غلاظت میں لتھڑی فِلِس کو ایمبولینس منگوا کر لے جانا پڑا۔

فِلِس کچھ دن ہسپتال رہیں، بڑے نانا انکو ملنے نہیں گئے،  کچھ حالت بہتر ہوئی تو چند دن بعد فِلِس اور نارمن ہمیشہ کیلئیے ہالینڈ واپس چلے گئے۔ فِلِس پھر کبھی پاکستان نہیں آئیں نہ ہی کبھی رابطہ رکھا۔

چوہدرانی جی کا آخری عمر میں ذہنی توازن خراب ہو گیا تھا انکو ایک چارپائی کے ساتھ زنجیروں سے باندھ کر رکھتے جہاں وہ دن بھر اپنی ہی غلاظت میں پڑی رہتی۔ ایسی ہی حالت میں ایک سرد رات اسکا انتقال ہو گیا۔

مجھے ذاتی طور پر ہمیشہ فِلِس کے ساتھ ہونے والے سلوک کا شدید رنج، دکھ اور شرمساری رہی۔ کئی بار پہروں بیٹھ کر سوچتا کہ کاش فِلِس کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کا مداوا کر سکتا۔

چند سال پہلے میرا بچپن کا دوست کاشف جو مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئیے امریکہ چلا گیا تھا کے واپس آنے کی اطلاع ملی ۔ ۔ کاشف نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد  شادی امریکہ میں ہی کی تھی۔ سنیتا کے والدین مسٹر اور مسز ملہوترا ستر کی دہائی کے آخر میں انڈیا سے امریکہ شفٹ ہو گئے تھے انکے تمام بچوں کی پیدائش امریکہ میں ہی ہوئی تھی۔ سنیتا کاشف کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتی رہی تھی پھر دونوں کو جاب بھی ایک ہی جگہ ملی تو دونوں نے زندگی بھی ایک ساتھ نبھانے کے پیمان باندھ لئیے۔ ۔

سنیتا نے باقاعدہ ہیوسٹن کے اسلامک سینٹر میں جا کر اسلام قبول کیا تھا۔ اور دونوں امریکہ میں نہایت خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے اب پتہ چلا تھا کہ سنیتا پہلی بار کاشف کے ساتھ پاکستان آئی ہے تو مجھے بہت خوشی ہوئی ۔ ۔ یوں لگا جیسے ماضی کی کوتاہیوں کا مداوا کرنے کا وقت آیا چاہتا یے۔

کاشف کا مجھے فون آیا، بہت خوش تھا ۔ ۔ ایک دن پہلے ہی آیا تھا، کہنے لگا یار یوں کر ۔ ۔ صبح آ جا اکٹھے ناشتہ کرتے ہیں۔ میں نے بھی منظور کر لیا۔ اگلے دن میں صبح صبح کاشف کے ہاں پہنچا تو دیکھا کی کاشف کا بڑا بھائی واصف شلوار کے ساتھ بنیان پہنے چارپائی پرآلتی پالتی مارے بیٹھا جھوم جھوم کر اشلوک پڑھ رہا ہے۔ ۔

اوم جگتریسہ جاتری کے پدم ندے ہر سواہا ۔۔سواہا سواہا

سنیتا بھابی سر جھکائے بیٹھی تھیں انکی گالوں پر آنسو تیر رہے تھے اور کاشف سر پکڑے بیٹھا تھا۔

2 thoughts on “Aks-e-Arzoo

  • September 5, 2018 at 7:07 pm
    Permalink

    آپ کا لکھنے کا انداز بہت َسادہ اور بے ساختہ اور حافظہ و تخیل کافی طاقتور ہے، داستان گوئی میں یہ چیزیں بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں
    لکھتے رہیں

    Reply
  • September 5, 2018 at 11:19 pm
    Permalink

    ستم ظریفی سی ستم ظریفی ہے۔ اگر یہ دونوں واقعات سچے ہیں تو من حیث القوم ہمیں توبہ کی ضرورت ہے۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.