Dhandhli ilzamaat main Farq

دو ہزار تیرہ کے انتخابات کے بعد تقریبا سبھی جماعتوں بشمول تحریک انصاف نے الیکشن کے نتائج کو قبول کر لیا تھا اور اسد عمر صاحب نے مسلم لیگ نون کو مبارک باد بھی دی۔ بعد ازاں آپ سب لوگ بہتر جانتے ہیں کہ انتخابات کے کافی عرصے بعد کس کی ایما پر نجم سیٹھی کی پینتیس پنکچر کی کال ریکارڈنگ کو بنیاد بنا کر احتجاج کا آغاز کیا گیا۔ تحریک انصاف کی جانب سے چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا گیا، جسے حکومت کی جانب سے احتجاج کے بعد مان لیا گیا۔ ان چار حلقوں میں جہانگیر ترین، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق اور ایاز صادق / عمران خان والا حلقہ شامل تھے۔

ان چار حلقوں کا مکمل معائینہ کیا گیا اور ہر طرح سے جانچ پڑتال کی گئی، اس کے بعد جہانگیر ترین اور سردار ایاز صادق کے حلقوں میں واضح دھاندلی کے ثبوت تو نا ملے مگر کئی معاملات میں مس مینجمینٹ پائی گئی جس کی وجہ سے ان دو حلقوں میں دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیا گیا۔
سردار ایاز صادق دوبارہ کامیاب ہو گئے، دوسری جانب جہانگیر ترین صاحب کامیاب ہوئے اور جہانگیر ترین کی نا اہلی کے بعد دوبارہ اسی سیٹ پر مسلم لیگ کامیاب ہوئی۔
خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق کے حلقے میں دھاندلی کے سارے الزامات دو تین فورمز پر مسترد کر دیئے گئے، خواجہ سعد رفیق کے حلقہ کا فیصلہ کچھ دن قبل ہی سپریم کورٹ نے خواجہ صاحب کے حق میں کیا ہے۔ بعد میں خود عمران خان نے پینتیس پنکچر کے الزام کو سیاسی بیان قرار دے دیا۔

اب آ جائیں دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کی جانب

ان انتخابات کو سوائے تحریک انصاف کے کسی بھی چھوٹی بڑی سیاسی جماعت نے قبول نہیں کیا، کچھ جماعتوں نے تو حلف اٹھانے سے انکار کر دیا ہے اور تحریک چلانے پر سبھی جماعتیں متفق ہیں۔ صرف ری کاؤنٹنگ سے دوسری جماعتوں اور آزاد امید واروں کو چھوڑ کر صرف مسلم لیگ کے آٹھ امید وار جنھیں الیکشن والے دن ہروا دیا گیا تھا، انہیں فتح حاصل ہوئی ہے، کل امید وار پندرہ ہیں ( تفصیل مہیا کر سکتا ہوں )۔ پینتسیس ایسے حلقے ہیں جہاں مارجن آف وکٹری مسترد شدہ ووٹوں سے زیادہ ہے، جب کہ انٹرنیشنل میڈیا میں سینکڑوں کالمز ، کارٹونز اور ایسی خبریں شائع ہو چکی ہیں کہ اسٹیبلشمینٹ براہ راست تحریک انصاف کی حمایت میں اتر آئی ہے اور اس کی فتح میں کردار ادا گیا ہے۔
اس کے علاوہ دو ہزار تیرہ میں جو الیکٹرانک میڈیا پچاس پچاس لوگوں کے احتجاج کو گھنٹوں براہ راست دکھاتا تھا، دو ہزار اٹھارہ میں ہزاروں لوگوں کے احتجاج کا مکمل بلیک آوٹ دھاندلی کے دعوؤں پر مہر ثبت کرتا ہے۔
آپ سب لوگوں کا بہت بہت شکریہ

2 thoughts on “Dhandhli ilzamaat main Farq

  • August 6, 2018 at 3:50 pm
    Permalink

    I think as IK paralysed whole tnure of NSharif’s Government similarly present opposition alliance will do the same to paralyze IK Government.
    “As you sow so you will bow”

    Reply
  • August 6, 2018 at 8:17 pm
    Permalink

    اچھا لکھا ھے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.