Kahaniaan – Intikhabiat

تھا تو وہ ایک یونین کونسل وارڈ کا انتخاب مگر اسے انتخابی رمزوں کو سمجھا جانے والی دیگ کا ایک دانہ بھی تصور کیا جاسکتا ہے۔

یہ1991 میں منعقد ہوئے بلدیاتی انتخابات کا واقعہ ہے۔ اس وقت یونین کونسل ٹھیکریاں کی وہ وارڈ گنتی کی آٹھ گلیوں پر مشتمل تھی۔ جماعتی بنیادوں پر دیکھا جائے تو اس وارڈ میں مسلم لیگ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان دیکھا مقابلہ تھا جبکہ دھڑوں کی بنیاد پر دیکھا جائے تو یہ لالہ موسیٰ کے گاوں کائرہ کی گُجر برادری اور کلیوال کی سادات برادری کے حامی دھڑوں کے درمیان مقابلہ تھا۔ دلچسپ بات مگر یہ تھی کہ اس وارڈ کی سطح پر دونوں مخالف دھڑے ہی مرزا برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ یعنی ایک طرف اگر کلیوال گروپ کے حمایت یافتہ مرزا محمد حسین تھے تو دوسری طرف کائرہ دھڑے کے حمایت یافتہ مرزا احمد خان۔ گوکہ دونوں ہی مخالف دھڑوں کی حمایت کے لیے ان کے حمایتی اور رشتے دار موجود تھے مگر تاریخی اعتبار سے اس وارڈ میں پیپلزپارٹی کا دھڑا بھاری ثابت ہوتا رہا تھا۔ اس برتری کی وجہ وارڈ سے ملحقہ محلے میں مضبوط سیاسی گُجر خاندان کی موجودگی تھی جو کہ خود بھی کائرہ دھڑے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی زمینوں اور کوٹھیوں میں کام کرنے والی مسلم شیخ برادری لگ بھگ چالیس ووٹوں کی مالک تھی اور اسی وارڈ میں مقیم تھی جہاں یہ انتخابی عمل وقوع پذیر ہونے جارہا تھا۔ وارڈ کی سطح پر سیاست کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہاں امیدواروں کو پولنگ شروع ہونے سے قبل ہی علم ہوتا ہے کہ کس گھر میں کتنے افراد ہیں، ان میں سے کس کس کے ووٹ رجسٹر ہوچکے ہیں اور وہ پولنگ کے دوران کس امیدوار کے نشان پر مہر لگائیں گے۔ یہی وہ مقامی سیاستدان ہوتے ہیں جو کہ اپنے حامی گھرانوں میں سے کسی بھی نوجوان کے حق رائے دہندگی کی عمر تک پہنچتے ہی اس کا شناختی کارڈ بنوانے اور اس کا ووٹ رجسٹر کروانے کا قومی فریضہ بھی سرانجام دیتے ہیں۔ پولنگ کے دن پر اپنے حامی ووٹروں کو پولنگ سٹیشن پر لے جا کر ان سے اپنے حق میں ووٹ دلوانے کے لیے بھی سب سے زیادہ زور یہی احباب لگاتے ہیں۔ چنانچہ ان احباب کو پولنگ سے قبل ہی علم ہوتا ہے اگلی صبح انھیں کم از کم کتنے ووٹ ملنے والے ہیں۔ عرف عام میں انھیں کسی بھی جماعت کی الیکٹرول مشینری کہا جاتا ہے۔ خیر اس یونین کونسل وارڈ کا عالم یہ تھا کہ ماضی میں ہوئے انتخابات کے دوران جب یہاں کے پولنگ سٹیشن سے لیگی دھڑے کے حق میں 215-220 کے لگ بھگ جبکہ پیپلزپارٹی کے دھڑے کے حق میں 220-225 کے لگ بھگ ووٹ نکلتے تو یہ کسی کے لیے بھی حیرانگی کی بات نا ہوتی۔

ان بلدیاتی انتخابات کی کہانی مگر شروع سے ہی الٹا موڑ مُڑ گئی۔ اس دفعہ کائرہ برادری کا مقامی دھڑہ اپنے ملازمین میں سے ہی ایک شخصیت، شمشاد علی کو امیدوار بنانا چاہتا تھا تانکہ اس وارڈ کے معاملات بھی ان کے کنٹرول میں چلے جائیں۔ مگر کائرہ کے برادری کے ساتھ اپنی طویل رفاقت کے بدلے میں کائرہ برادری نے ایک دفعہ پھر سے مرزا احمد خان کو ہی نامزد کردیا۔ پھر نا جانے کیا ہوا کہ اس فیصلے کے باوجود بھی شمشاد علی ، لالٹین کا انتخابی نشان لیے میدان میں کود پڑے جبکہ روایتی حریف مرزا محمد حسین تانگہ اور مرزا احمد خان ہاکی کے انتخابی نشانات کے ساتھ پہلے سے ہی میدان میں موجود تھے۔ چنانچہ پہلی دفعہ اس وارڈ کا انتخابی دنگل دو طرفہ مقابلے کی بجائے سہ فریقی دنگل بن گیا۔ اس وارڈ کی انتخابی مہم بھی ہمیشہ سے ہی انتہائی پھسپھسی ہوتی تھی کیونکہ دونوں امیدوار ہی پوری وارڈ کے ہر گھر کا چکر لگاتے اور ان گھروں سے بھی اپنی حمایت کے طلبگار ہوتے جن کے بارے میں انھیں معلوم ہوتا تھا کہ یہاں سے انھیں ووٹ ملنا تو قطعاََ ممکن نہیں۔ اس دفعہ مگر انتخابی مہم قدرے رنگین اس طرح ہوگئی کہ جہاں دونوں روایتی حریفوں نے اپنی انتخابی مہم کو بھی روایتی انداز میں ہی چلانے کو ترجیح دی وہیں شمشاد علی کے حامی ، جو کہ ان کی اپنی برادری تک ہی محدود تھے، پوری وارڈ کی گلیوں میں لالٹین اٹھائے “ گل مُکدی مُکا ، مہر بتی اُتے لا “ کے نعروں کے ساتھ انتخابی ریلیاں نکالتے رہے۔ پھر پولنگ کا دن آیا ، ووٹ پڑے، پولنگ ختم ہوئی اور گنتی کے بعد جب نتیجہ سامنے آیا تو پہلی دفعہ مرزا محمد حسین 218 ووٹوں کے ساتھ ممبر یونین کونسل منتخب ہوگئے ، مرزا احمد خان 182 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، شمشادعلی 36 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے جبکہ 4 ووٹ مسترد ہوئے۔ مرزا احمد خان کے بھائی اور ان کے پولنگ ایجنٹ نے موقع پر ہی اس نتیجے پر اعتراض جڑ دیا۔ لیکن دوبارہ گنتی کے بعد مرزا محمد حسین کے مجموعی ووٹ ، دو ووٹوں کے اضافے کے ساتھ 220 ہوچکے تھے۔

**************************************************

اگر دیکھا جائے تو نوے کی دہائی میں پولنگ کے عمل کے دوران ہاتھ کر جانا ، آج کے مقابلے میں ، بہت زیادہ آسان تھا۔ پھر 3 فروری 1997 کی اس دوپہر تو اس دیہی پولنگ سٹیشن پر صرف حافظ مبشر ہی موجود تھے

آج کل تو پولنگ کے عمل پر دھیان رکھنا خاصا آسان ہو چُکا ہے۔ انتخابات چاہے ضمنی ہوں یا عام ، اس دوران ہوئی پولنگ تو کسی ریفرنڈم سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔ ریفرنڈم کے دوران نا تو مقامی دھڑے فعال ہوتے ہیں اور نا ہی آپسی چوہدراہٹ دکھانے کے مواقع موجود ہوتے ہیں ۔ پھر جس طرح کے کُھلے ڈُلے ریفرنڈم ہمارے ہاں کروائے جاتے ہیں ان کے دوران تو کوئی بھی شخص کسی بھی جگہ کسی بھی طرح کی شناخت ظاہر کرکے ووٹ ڈال سکتا ہے۔ باقی رہی سہی کسر پولنگ کے لیے آیا ہوا عملہ پوری کردیتا ہے۔ وجہ صاف ظایر ہے کیونکہ ان پرچیوں کی مدد سے انتخابات کی مانند کون سا کھوج لگایا جاسکتا ہے کہ کس سیریل نمبر کی بیلٹ بُک کا کون سے سیریل نمبر والا بیلٹ پیپر کون سے شناختی کارڈ نمبر کے تحت جاری ہوا تھا۔ مزید یہ کہ ریفرنڈم میں فارم 14 جیسے لوازمات ، جن کے تحت ریکارڈ رکھنا پڑتا ہے کہ اس پولنگ سٹیشن پر رجسٹرڈ ووٹ کتنے تھے؟ ان میں سے مرد ووٹروں کی تعداد کتنی تھی؟خواتین ووٹروں کی تعداد کتنی تھی؟ پولنگ کے دوران کتنے ووٹ ڈالے گئے؟ کتنے ووٹ مسترد ہوئے؟ اور درست شمار کیے گئے ووٹوں کی تعد کتنی تھی؟ وغیرہ وغیرہ ، بھلے ہی موجود ہوں مگر ان کو چیلنج کرنے کے لیے پولنگ ایجنٹ ہی موجود نہیں ہوتے۔ اسی طرح فارم 15 اور 16 جیسی مصیبتوں کی جانچ پڑتال اور تصدیقی دستخطوں سے بھی جان چھوٹی ہی رہتی ہے جن کے تحت نتائج مرتب کیے جاتے ہیں۔ چونکہ ۔۔۔۔۔ اگر ان تمام تر فارمز کے ذریعے مرتب کیے جانے والے نتائج اور پولنگ سٹیشن سے جاری ہوئے بیلٹ پیپرز کی تعداد میں مطابقت نہیں پائی جاتی ، تو نتائج میں ہوئی گڑ بڑ پولنگ سٹیشن پر ہی پکڑی جاتی ہے اور یوں پولنگ ایجنٹ نامی “بیماری” ان نتائج پر دستخط ہی نہیں کرتی جب تک کہ انھیں ڈرا دھما کر ایسا کرنے پر مجبور نا کردیا جائے۔ چنانچہ اس پولنگ سٹیشن کا نتیجہ ، حلقے کے مجموعی نتیجے میں بھی شمار نہیں ہوپاتا۔ اس دفعہ تو سونے پے سہاگہ یوں بھی ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن کے عملے کے لیے لازم قرار دے دیا گیا ہے کہ وہ نتائج کو مرتب کرنے والے تمام تر فارمز کی سافٹ کاپی فوری طور پر الیکشن کمیشن کو بھیج دیں۔ کچھ چیزیں بہرحال آج بھی ماضی کی طرح ہی قائم و دائم ہیں جیسا کہ پولنگ کا عمل شروع ہونے سے قبل بیلٹ باکس کو خالی دکھا کر پولنگ ایجنٹس کے سامنے تالا لگانا، پولنگ کے دوران تمام جماعتوں کے پولنگ ایجنٹس کا موجود رہنا، ووٹ ڈالنے آئے ہر شخص کی پولنگ ایجنٹس کی جانب سے اپنی اپنی ووٹر لسٹوں کے ذریعے تصدیق، پولنگ ایجنٹس کو ووٹر کی شناخت پر اعتراض کا حق، بیلٹ باکس کا پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں ہی کھولے جانا، پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں گنتی کا عمل ، گنتی کے بعد تمام پولنگ ایجنٹس کے پاس موجود ریکارڈ کی مدد سے نتائج کی تصدیق اور پھر آخر میں تمام پولنگ ایجنٹس کی جانب سے نتیجے پر دستخط لینے کے بعد الیکشن کمیشن کے دفتر میں تمام امیدواروں کے نمائندوں کی موجودگی میں اس نتیجے کو حلقے کے مجموعی نتیجے میں شمار کرنا۔ یوں کسی بھی جماعت کی الیکٹرول مشینری میں پولنگ ایجنٹ ایک کلیدی پرزے کی حیثیت اختیار کرجاتا ہے کیونکہ اگر وہ مرتب کردہ نتیجے پر دستخط نہیں کرتا تو اس پولنگ سٹیشن کا نتیجہ مجموعی نتیجے کا حصہ نہیں بن سکتا۔

خیر یہ کہانی بھی نا جانے کہاں سے کہاں سے نکل گئی۔ بات ہورہی تھی 3 فروری 1997 کے روز ہوئے عام انتخابات کی جب ہمارے پولنگ سٹیشن پر حافظ مبشر، مسلم لیگ ن کے پولنگ ایجنٹ کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہےتھے۔ پولنگ تو ویسے بھی ایک انتہائی بیزار کُن عمل ہوتا ہے کیونکہ اکثر اوقات پولنگ ایجنٹس مقامی ہی ہوتے ہیں اور وہ ووٹ ڈالنے آئے لوگوں سے ذاتی حیثیت میں شناسا بھی ہوتے ہیں۔ بیزاری کا یہی عالم اس دن بھی طاری تھا کہ پولنگ سٹیشن کے سامنے موجود کُھلے میدان میں ایک ٹویوٹا ہائی ایس آن ٹھہری۔ اس ٹویوٹا ہائی ایس سے پورے اٹھارہ اجنبی چہرے برآمد ہوئے اور پولنگ سٹیشن کے اندر لگی ووٹروں کی قطار میں شامل ہوگئے۔ جیسے ہی ان لوگوں میں سے پہلا شخص پریذائیڈنگ آفیسر کے پاس پہنچا تو حافظ مبشر نے فوری اعتراض جڑ دیا۔ حافظ مبشر کے بقول نا تو ان لوگوں کو انھوں نے کبھی دیکھا تھا اور نا ہی انھیں پیپلزپارٹی کے پولنگ ایجنٹ کے علاوہ کوئی دوسرا ایجنٹ شناخت کرپا رہا تھا۔ ووٹر لسٹ میں مگر ان کے نام موجود تھے۔ ان کے پاس مقامی پتے والے شناختی کارڈ بھی موجود تھے اور پیپلزپارٹی کا پولنگ ایجنٹ ان سے شناسائی کا دعویٰ بھی کررہا تھے۔ اعتراضات کا معاملہ بحث تک پہنچا، بحث تُوں تڑاخ سے ہوتی ہوئی گالم گلوچ تک پہنچ گئی اور پھر اسی گالم گلوچ کے دوران ہی حافظ مبشر دو قدم پیچھے ہٹے ، اپنا ساڑھے چار فٹ طویل دایاں بازوں “وائنڈ اپ” کیا اور مخالف پولنگ ایجنٹ کو تڑاخ کی آواز کے ساتھ ایک جڑ دی۔ تڑاخ کی اس آواز کی ہی دیر تھی کہ دونوں جماعتوں کے حمایتی ، جو وہاں مچے شور شرابے کے بعد اب “جائے وقوعہ” پر جمع ہوچکے تھے ، ایک دوسرے پر ٹُوٹ پڑے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پولنگ سٹیشن پانی پت کا میدان بن چکا تھا۔ خیر پولیس آئی ، بیچ بچاو کرایا اور آدھے گھنٹے کے “وقفے” کے بعد جب پولنگ دوبارہ شروع ہوئی تو انکشاف ہوا کہ جن لوگوں کے پاس شناختی کارڈ موجود تھے ، جن کے نام ووٹر لسٹ میں بھی موجود تھے مگر اس پورے محلے میں انھیں کوئی جانتا نہیں تھا ۔۔۔۔۔ وہ اسی ہڑبونگ کے دوران ہی کہیں غائب ہوچکے تھے اور وہ بھی ووٹ ڈالے بغیر۔

اس پورے دن میں پولنگ سٹیشن پر چِھڑی آدھا گھنٹہ طویل یہ “عالمی جنگ” ہی دلچسپ ترین واقعہ ثابت ہوئی کیونکہ اس کے بعد دوبارہ سے ٹھنڈ ماحول طاری ہوگیا۔ افسوس کہ ووٹوں کی گنتی اور اس کے بعد نتیجے پر دستخطوں کے عمل کے دوران کسی قسم کا کوئی اعتراض سامنے نا آیا ورنہ وہاں چِھڑی دوسری “عالمی جنگ” اس سرد شام کو خوب گرما سکتی تھی۔

**************************************************

چھبیس اپریل 2012 سے قبل ملتان کی وہ نشست ہمیشہ ہی مسلم لیگ ن کے نام ہوا کرتی تھی۔

کے عام انتخابات میں بھی اس حلقے ، PP 194 ، دو ہزار آٹھ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر شاہد محمود خان 28450 ووٹوں کے ساتھ ممبر پنجاب اسمبلیس منتخب ہوگئے جبکہ ان کے مخالف پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار اسحاق بُچا 14480 ووٹ ہی حاصل کرسکے۔ ہوا مگر یہ کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے مرکز میں حکومت تو قائم کرلی مگر اس کے بعد سے ان کا گراف مسلسل گراوٹ کا شکار ہوتا چلا گیا۔ اپریل 2012 تک اس حکومت کی سیاسی اعتبار سے حالت اس قدر غیر ہوچکی تھی کہ کئی دفعہ بوریا بستر گول ہوتے ہوتے بچ جانے کے واقعات کے دوران، یہ ایک دفعہ چند دنوں کے لیے اقلیتی حکومت ہونے کا اعزاز بھی حاصل کرچکی تھی۔ دوسری طرف اس حکومت کے اختیارات کا عالم یہ ہوچکا تھا کہ سیکرٹری دفاع تک اپنی سربراہ حکومت کے ہی خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں بیان حلفی جمع کرواتے پائے جارہے تھے۔ اسی دوران مستقبل کے لیے پاکستانی قیادت سنبھالنے کی خاطر سابقہ “پاکستانی اوبامہ” اور اب تبدیلی کے عالمی نشان عمران خان کا ہُوا “انتخاب” بھی اب اپنا اثر دکھانا شروع ہوچکا تھا۔ تبدیلی کی اسی ہوا نے پی پی 194 کو بھی ڈس لیا تو مسلم لیگی ممبر صوبائی اسمبلی شاہد محمود خان اپنی نشست سے مستعفی ہوتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ یوں اس حلقے میں ضمنی انتخاب کے انعقاد کا اعلان ہوگیا۔ ان دنوں جہاں پنجاب حکومت کی کارکردگی کے بل بوتے پر مسلم لیگ ن کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کا ہر سُو طوطی بولتا تھا وہیں مرکزی حکومت کی کارکردگی کے بل بوتے پر پاکستان پیپلزپارٹی ، پنجاب میں ہر ضمنی الیکشن ریکارڈ ووٹوں کے ساتھ ہارتی جارہی تھی۔ سونے پے سہاگہ یہ ہوا کہ مسلم لیگ ن نے 2008 کے عام انتخابات کے دوران اسی حلقے سے پاکستان مسلم ق کے ٹکٹ پر 10912 ووٹ لینے والے محمد معین الدین ریاض قریشی کو اپنا امیدوار نامزد کردیا۔ یُوں اپنی صوبائی حکومت کی موجودگی ، ایک تگڑے الیکٹیبل کی دستیابی اور ماضی کے تیس برسوں سے اس حلقےمیں قائم چلی آرہی بالادستی کو مدنظر رکھتے ہوئے مسم لیگ ن کے لیے یہ انتخاب جیتنا محض ضابطے کی ایک کاروائی ہی سمجھا جارہا تھا۔

مگر پولنگ کا عمل شروع ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد ، یعنی کہ 26 اپریل 2012 کی دوپہر کو ہی ، قومی سیاست کا منظرنامہ تبدیل ہوگیا۔ سپریم کورٹ میں ، وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کے خلاف ، چل رہی توہین عدالت کی کاروائی کے نتیجے میں وزیراعظم کو مجرم قرار دیتے ہوئے عدالتی برخواستی تک کٹہرے میں کھڑے رہنے کی سزا سنا دی گئی۔ گو کہ سپریم کورٹ اور حکومت وقت کے دوران چلی اس طویل چپلقش کے نتیجے میں بالآخر وزیراعظم کو گھر بھی جانا پڑا مگر اس روز تمام تر اندازوں کے برعکس انتخابی نتیجہ پاکستان پیپلزپارٹی کے حق میں نکلا۔ نتائج کے مطابق ہر جگہ سے شکست کھاتی اور ریاستی اداروں کے ہاتھوں میں کھلونا بنی پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار عثمان بھٹی نے اپنے مخالف یعنی مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد معین الدین ریاض قریشی کو ملے 20097 ووٹوں کے مقابلے میں 20416 ووٹ حاصل کرتے ہوئے چار سو ووٹوں کی برتری کے ساتھ کامیابی حاصل کرلی۔ اس حلقے سے مسلم لیگ ن کی تیس سالوں میں یہ پہلی شکست تھی اور وہ بھی اس جماعت کے ہاتھوں جو کہ اپنا دفاع کرنے کے قابل بھی دکھائی نا دیتی تھی۔

**************************************************


جی ٹی روڈ کے ایک طرف دو چار حمایتیوں کے ہمراہ اور دو عدد ڈھولچیوں کی جانب سے ڈم ڈم ڈِکا ڈِکا کے مچائے شور میں انھوں نےاپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ انھیں دیکھتے ہی جو یاد سب سے پہلے ذہن میں آتی ۔۔۔ وہ تھی ایک نظم جو کہ 1997 میں اس حلقے کی انتخابی مہم کے دوران ہر جلسے اور کارنر میٹنگ میں پڑھی جاتی۔ نظم کا عنوان تھا ۔۔۔ “ کی لوٹے دا اعتبار ۔۔ لوٹا پھِر جاندا”۔

ان کا نام تو چوہدری اعجاز احمد تھا مگر اپنے گاوں میانہ چک کی نسبت سے وہ چوہدی اعجاز میانہ کے نام سے جانے جاتے تھے۔ اُس وقت اس حلقے کا نمبر PP-96 تھا۔ 1990 کے انتخابات میں اس حلقے سے اسلامی جمہوری اتحاد کے امیدوار چوہدری محمداسلم کائرہ منتخب ہوئے 36000 سے زائد ووٹ لے کر۔ لیکن 1993 کے انتخابات میں چونکہ نوازشریف کا رستہ روکنے کے لیے پاکستان اسلامک فرنٹ کا ظہور ہوچکا تھا ، اس لیے چوہدری محمد اسلم کائرہ اب پِف کے امیدوار بن چُکے تھے۔ چنانچہ پاکستان مسلم لیگ ن کو ایک نئے امیدوار کی ضرورت آن پڑی تھی۔ اسی پس منظر کے ساتھ حلقے کی عوام کے سامنے چوہدری اعجاز میانہ کا نام پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کے طور پر آیا۔ خیر انتخابات ہوئے اور چوہدری اسلم کائرہ کی جانب سے ساڑھے دس ہزار کے لگ بھگ ووٹ توڑ لینے کے باوجود بھی چوہدری اعجاز میانہ 24000 ہزار سے زائد ووٹ سمیٹتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چوہدری محمد صفدر کو چند سو ووٹوں کے فرق سے شکست دینے میں کامیاب ہوگئے۔ ان دنوں فلور کراسنگ کے خلاف قانون تو موجود نہیں تھا چنانچہ اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت سازی کے دوران پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی اکثریت ہونے کے باوجود ، پیپلزپارٹی اور جونیجو لیگ نے اسے کہنی مارتے ہوئے اپنی اتحادی حکومت قائم کرلی۔ یہ اتحادی حکومت قائم کرنے کے لیے ایک درجن سے بھی زائد جن اراکین اسمبلی نے فلور کراس کیا، ان میں چوہدری اعجاز میانہ بھی شامل تھے۔ قومی مفاد میں دی گئی ان کی اس عظیم “قربانی” کے بدلے امورِ نوجوانان کی نئی نویلی وزارت تخلیق کرکے بھی ان کے حوالے کر دی گئی۔ اگرچہ ایم پی اے صاحب کو وزارت تو مل گئی تھی مگر ان کی فتح کا سامان کرنے والے کارکنان اور حامی ان کی اس قلابازی سے خاصے رنجیدہ ہوئے۔ چنانچہ جیسے ہی 1997 کے عام انتخابات کا بگل بجا تو مسلم لیگ ن نے ان کے لیے نو انٹری کا بورڈ دروازے پر لٹکا دیا اور مجبوراََ انھیں پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ہی انتخابات میں حصہ لینا پڑا۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن ان کی جگہ چوہدری لیاقت بھدر کو اپنا امیدوار بنا کر سامنے لے آئی۔ انتخابی مہم میں تو جن الفاظ سے چوہدری اعجاز کو یاد کیا جاتا رہا اس کی ایک جھلک آپ اوپر لکھے الفاظ میں دیکھ ہی چُکے ہیں لیکن انتخابی نتائج سامنے آئے تو چوہدری اعجاز میانہ کو لیاقت بھدر کے مقابلے میں سترہ ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

سیاست کی خوبصورتی یہی ہے کہ کسی نا صورت کسی صورت یہ آگے بڑھتی ہی رہتی ہے۔ چوہدری اعجاز ماضی کے اندھیروں میں گم ہونا شروع ہوگئے، ملک میں مارشل لا لگا ، مسلم لیگ ق وجود میں آئی اور چوہدری لیاقت بھدر بھی ن لیگی سے ق لیگی ہوگئے۔ 2002 کے انتخابات میں تو مسلم لیگ ن یہاں سےامیدوار لانے کے قابل ہی نا تھی چنانچہ وہ اس حلقے سے ، جو کہ اب PP – 112 بن چُکا تھا ، تنویراشرف کائرہ کی حمایت کرتی نظر آئی جبکہ 2008 کے انتخابات کے دوران بھی مضبوط امیدوار نا ملنے کے باعث یہاں سے تنویراشرف کائرہ ہی مسلسل دوسری مرتبہ فتح یاب ہوئے۔ دلچسپ بات مگر یہ تھی کہ ان دونوں انتخابات میں نا تو اعجاز میانہ دکھائی دیے اور نا ہی لیاقت بھدر کامیابی کا منہ دیکھ سکے۔ اب 2013 میں چوہدری لیاقت بھدر دوبارہ سے مسلم لیگ ن میں شامل ہونے کے بعد ٹکٹ نا ملنے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کو پیارے ہو گئے تھے اور اعجاز میانہ آزاد حیثیت میں ایک دفعہ پھر سے قسمت آزمانے آرہے تھے۔ خیر انتخابات ہوئے اور پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ق کی ٹکٹوں پر ہمیشہ سے ہارنے والے چوہدری اشرف دیونہ زندگی میں پہلی دفعہ پاکستان مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر ممبر پنجاب اسمبلی بن گئے جبکہ چوہدری اعجاز میانہ شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے صرف 4.83 فیصد ووٹ لینے کے بعد اپنی ضمانت بھی ضبط کروا بیٹھے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق چوہدری اشرف دیونہ کو بھی بتا دیا گیا تھا کہ اس دفعہ مسلم لیگ ن کی ٹکٹ ان کے حصے میں نہیں آئے گی چنانچہ وہ آستانہ بنی گالہ پر دیا جلانے تو پہنچ گئے مگر اس حلقے سے ٹکٹ کے حقدار ٹھہرے ہیں چوہدری لیاقت بھدر۔ دیکھتے ہیں کہ بار بار جماعتیں بدلنے والے امیدواروں کا حشر نشر کرنے والا یہ حلقہ اس دفعہ کیا اپنی روایت قائم رکھ پائے گا یا نہیں۔

**************************************************


کسی بھی مخصوص علاقے میں مقامی دھڑوں کو سنبھالنا اس قدر اعصاب شکن کام ہوتا ہے کہ بعض اوقات بڑوں بڑوں کی ہمت جواب دے جاتی ہے
۔

کسے نہیں معلوم کہ 2002 ایک ایسا برس تھا جب گجرات کے چوہدریوں کا طوطی ہر سُو بولتا تھا۔ ضلع گجرات تو خیر سے چوہدری برادران کا آبائی ضلع بھی ہے مگر اسی ضلع کی ایک تحصیل ۔۔۔۔ یعنی کہ تحصیل کھاریاں ، چوہدری برادران کے لیے ایک ڈراونا خواب ثابت ہوئی۔ یہ بات ناقابل یقین اس لیے بھی لگتی ہے کہ اس سارے عرصے کے دوران انھیں وہ تمام تر ریاستی سرپرستی حاصل تھی جس کے استعمال سے ہمارے ہاں انتخابی نتائج کا رُخ حسب منشا موڑا جاتا رہا ہے ۔

تحصیل کھاریاں میں اس وقت قومی اسمبلی کےتقریباََ ڈیڑھ حلقے موجود تھے یعنی کہ این اے 106 مکمل طور جبکہ این اے 107 کا اکثریتی حصہ۔ 2002 کے عام انتخابات کے دوران این اے 106 سے میاں افضل حیات آف کولیاں جبکہ سید نورالحسن شاہ این اے 107 سے ق لیگ کے امیدوار تھے۔ انھی انتخابات سے چوہدری برادران کے لیے اس تحصیل میں مشکلات کا آغاز ہوا۔ ہوا یُوں کہ تمام تر ریاستی سرپرستی کے باوجود بھی ق لیگ کے دونوں امیدوار این اے 106 میں قمرالزمان کائرہ اور این اے 107 میں چوہدری رحمان نصیر مرالہ کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوگئے۔ مگر چوہدری رحمان نصیر مرالہ کے اندر جذبہ حُب الوطنی جاگ گیا اور وہ “ضمیر” کے مطابق فیصلہ کرتے ہوئے براستہ پاکستان پیپلزپارٹی پیٹریاٹ ، ق لیگ سے جا ملے۔ یوں ضلع گجرات میں چوہدری برادران کے سامنے واحد چیلنج این اے 106 کی کائرہ برادری ہی رہ گئی۔ سید نورالحسن شاہ آف کلیوال سیداں کا خاندان ہمیشہ سے ہی چوہدری برادران کا ساتھی رہا ہےاور اسی ساتھ کا پاس رکھتے ہوئے انھیں اب تحصیل ناظم کھاریاں کے لیے گرین سگنل دیا جارہا تھا۔

2005 کے بلدیاتی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ق کی مضبوطی کا عالم یہ تھا کہ تحصیل کھاریاں کی 43 میں سے 29 یونین کونسلز پر اس کے امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ کائرہ خاندان کے حمایت یافتہ امیدوار فقط 9 یونین کونسلز سے ہی جیت کا ذائقہ چکنے میں کامیاب ہو سکے۔ سونے پے سہاگہ یہ تھا کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے تحصیل ناظم کھاریاں کے لیے نامزد ہونے والے امیدوار ندیم اصغر کائرہ پہلے سے ہی بدعنوانی اور دہشتگردی کے مقدمات میں الجھے بیٹھے تھے جس کے نتیجے میں وہ اس سارے انتخابی عمل کا نظارہ جیل سے ہی کرنے پر مجبور تھے۔ اب کی بار ق لیگ کے رنگ میں بھنگ مگر تب پڑنا شروع ہوئی جب ان کی اپنی صفوں میں سے ہی میاں طارق محمود آف ڈنگہ کی صورت میں تحصیل کھاریاں کی نظامت کے لیے ایک اور امیدوار نمودار ہوگیا۔ مسائل میں مزید اضافہ تب ہوا جب اچانک کہیں سے چوہدری برادران کے ہی ایک رشتے دار چوہدری مبشر نمودار ہوئے اور این اے 107 سے مستقبل کے لیے اپنی انتخابی سیاست کی تیاریاں شروع کردیں۔ چوہدری مبشر کی این اے 107 میں دلچپسی کے نتیجے میں وہاں سے ممبر قومی اسمبلی چوہدری رحمان نصیر مرالہ کے کان کھڑے ہونا لازمی تھا۔ یُوں تحصیل کھاریاں کے اندر ق لیگی اتحاد کا شیرازہ بکھرنا شروع ہوگیا۔ دوسری طرف چوہدری جعفر اقبال بھی ، اپنے ممبران یونین کونسل کے ساتھ ، اپنی روایتی رشتے داری نبھاتے ہوئے کائرہ گروپ کی حمایت پر کمربستہ نظر آرہے تھے۔ نظر بظاہر پاکستان مسلم لیگ ق کے لیے یہ معرکہ سرکرنا کوئی مشکل کام نا تھا بشرطیکہ وہ صرف اور صرف اپنے حامی دھڑوں کو ہی سید نورالحسن شاہ کی حمایت پر راضی کرلیتے مگر یہاں تو ان کا اپنا “ہاوس آف کارڈز” ہی بکھر چُکا تھا۔ سب سے زیادہ با آواز بلند مزاحمت انھیں میاں طارق محمود کی طرف سے مل رہی تھی جن کے بقول وہ ضلع ناظم کے لیے چوہدری شفاعت کو تو ووٹ دیں گے مگر تحصیل ناظم کھاریاں کے لیے ان کے ساتھ نامزد کیے گئے سیدنورالحسن شاہ کی حمایت کرنے کو تیار نا تھے۔ معاملات کو سلجھانے کی خاطر ملاقاتوں کے کئی دور چلے مگر بیل مُنڈھے چڑھتی دکھائی نا دی۔ بالآخر سیدھی انگلی سے نا نکلنے والے اس گھی کے لیے انگلی ٹیڑھی کرنے کا فیصلہ ہوا۔ جی ٹی روڈ پر ہی واقع پاکپور چائینہ فیکٹری کے بالمقابل موجود پٹوارخانے کے تربیتی مرکز کو سیف ہاوس کا درجہ دیتے ہوئے ہر کسی کو بھی طلب کرنے کی “قوت” رکھنے والوں نے تمام یونین کونسل ممبران ، چاہے ان کا تعلق کسی بھی دھڑے سے کیوں نا ہو، کو وہاں پر جمع کرنا شروع کردیا۔ یونین کونسل ممبران کی حاضریاں اور ان کی “مزاج پرسی” شروئی ہوئی تو چند ہی دنوں کے اندر اندر معاملات طے پا جانے کی اطلاعات آنا شروع ہوگئیں۔ مقامی اخبارات میں وہ بیانات بھی سامنے آنے لگے جن سے واضح ہوتا تھا کہ ضلع ناظم تو چوہدری شفاعت ہوں گے ہی مگر تحصیل ناظم کھاریاں کے لیے بھی سید نورالحسن شاہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گے۔ اب “سلطنت” کے ہر کونے میں امن و امان قائم ہوچکا تھا۔

بالآخر 6 اکتوبر 2005 کے روز تحصیل کھاریاں کی نظامت کے لیے انتخابی مشق کے معرکے کا دن بھی آن پہنچا۔ تمام یونین کونسل ممبران ٹاون ہال کھاریاں پہنچے، ووٹ ڈالے گئے مگر جب ووٹوں کی گنتی ہوئی تو چوہدری برادران کے حمایت یافتہ امیدوار سید نورالحسن شاہ آف کلیوال ، جیل میں بیٹھے ندیم اصغر کائرہ کے مقابلے میں دو ووٹوں کے فرق سے شکست کھا گئے۔ اگرچہ تمام تر ریاستی سرپرستی کی حامل جماعت کے لیے یہ ایک حیران کُن نتیجہ تھا مگر ان کے لیے اس تحصیل سے شکستوں کا یہ سلسلہ یہیں نا رُک سکا کیونکہ اس کے بعد بھی 2007 تک تحصیل ناظم کھاریاں کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکیں سامنے آتی رہیں مگر ہردفعہ ان کا نتیجہ ناکامی کی صورت ہی نکلتا۔

**************************************************

یُوں تو یہ صرف ایک حلقے کا ضمنی انتخاب تھا مگر حالات و واقعات نے اسے حق اور سچ کا معرکہ بنا دیا۔ بلکہ ہمارے ہر دلعزیز کپتان نے تو دو قدم آگے بڑھتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا ” عوام فیصلہ کردیں گے کہ وہ نوازشریف کے ساتھ ہیں یا پھر سپریم کورٹ کے ساتھ”۔

نوازشریف کی ایوان اقتدار میں تیسری واپسی کسی معجزے سے کم نا تھی اور اس معجزانہ واپسی کی بنیاد جن اینٹوں سے رکھی گئی تھی انھی میں سے ایک تھی اس وقت کے حلقہ این اے 120 سے انھیں ملی کامیابی۔ اس حلقے میں جب ضمنی انتخاب کا وقت آیا تو پاکستان مسلم لیگ ن کے سیاسی حالات کچھ ایسے تھے کہ ساڑھے چار برسوں تک نوازشریف اپنے خلاف دھاندلی کے نام پر دیے گئے دھرنوں ، شکریہ راحیل شریف نامی مہم ، ڈان لیکس ، لاک ڈاون وغیرہ سے اپنے ہومیو پیتھک انداز میں نمٹنے اور ابھرتے رہنے کے بعد اب پانامہ لیکس کے نام پر چائے کی پیالی میں اٹھا طوفان بھگتے بھگتے اماراتی اقامے اور بلیک لا ڈکشنری کا شکار ہو چُکے تھے۔ انھیں نااہل قرار دے کر وزارت عظمیٰ سے ہٹایا جا چُکا تھا اور اس کے ساتھ ہی وہ اس حلقے سے اپنی قومی اسمبلی کی رکنیت سے بھی محروم ہو چُکے تھے۔ دو سال سے پانامہ لیکس کے نام پر چل رہے مسلسل میڈیا ٹرائل اور پونے ایک برس سے چل رہی عدالتی کاروائی کے نتیجے میں حال یہ ہوچکا تھا کہ چوہدری نثار علی خان اور شہبازشریف جیسے قریبی لوگ بھی نوازشریف کو اب مسلم لیگ ن پر ایک بوجھ تصور کرتے تھے۔ مشکلات میں مزید اضافہ یوں ہوا کہ اس ضمنی انتخاب کے لیے مسلم لیگ ن کی امیدوار اور نوازشریف کی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز کینسر جیسے موذی مرض کا شکار ہونے کے بعد نوازشریف کی معیت میں ہی علاج کی غرض سے لندن روانہ ہو چکی تھیں۔ یہ تو تھے وہ سیاسی مسائل جن کے تناظر میں مسلم لیگ ن کی صف اول کی قیادت اس حلقے سے انتخابی مہم چلانے سے یا تو لاچار تھی یا پھر فرار۔

دوسری طرف فیصلہ ساز قوتیں تھیں جو کہ ساڑھے چار برسوں تک مسلسل طبع آزمائی اور ناکامی کے بعد ملی کامیابی کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتی تھیں۔ بے پناہ مسائل کا شکار مسلم لیگ ن اگر اب اپنے قائد کے آبائی حلقے سے بھی شکست کھا بیٹھتی تو اس میں ملک و قوم کا “فائدہ” ہی تھا نا کہ “نقصان”۔ اس صورتحال میں جب میڈیا ٹرائل جیسے ہتھیار پہلے سے ہی “موثر” انداز میں اپنا کام کررہے تھے، اب ضروت تھی کہ ہر اس حربے کو آزمایا جائے جس کے ذریعے عظیم تر قومی مفاد میں ایک “مثبت” نتیجہ سامنے آ سکے۔ چنانچہ حلقے میں ازاد امیدواروں کی لُوٹ سیل لگ گئی، اگر کسی کے ذہن میں پاکستان اسلامک فرنٹ والے تجربے کی کامیابی کی کوئی یاد موجود تھی تو اسی کے طرز پر تحریک لبیک پاکستان نے بھی اس دنیا میں پہلی دفعہ آنکھیں کھول لیں، امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے فوج کی بھاری تعداد طلب کرلی گئی جبکہ دھاندلی کو روکنے کی خاطر پولنگ سٹیشن کے اندر اور باہر فوجی جوانوں کو تعینات کردیا گیا۔ مزید یہ ہوا کہ پولنگ کے عمل دوران فوج کے جوانوں نے امن و امان قائم رکھنےکے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کے عملے کی ذمہ داریاں بھی سنبھالتے ہوئے لوگوں کے شناختی کارڈ اور ووٹر لسٹوں میں ان کے نام تک کی تصدیق بھی خود کرڈالی۔ اس ماحول میں جہاں مسلم لیگ ن کے کارکنان کو پولنگ سے ایک رات قبل اٹھائے جانے کی شکایات سامنے آئیں تو وہیں شیر کی پرچی تھامے رائے دہندگان کو پولنگ سٹیشن کے دروازوں سے ہی واپس بھیج دینے کی بے پناہ شکایات بھی سامنے آئیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ شیر کی پرچی تھامے جن لوگوں کو دروازے سے ہی لوٹا دیا جاتا تھا، ان میں سے کچھ بلے کی پرچی لینے کے بعد اسی پولنگ سٹیشن پر ووٹ ڈالنےمیں کامیاب رہے تھے۔ پھر کئی پولنگ سٹیشز سے تو ایسی شکایات بھی سامنے آئیں کہ تین بجے کے بعد ہی وہاں پولنگ کا عمل روک دیا گیا اور پولنگ سٹیشن کے اندر موجود لوگوں کو پانچ بجے کے بعد بھی ووٹ ڈالنے دیے جانے کی روایت کا بھی پاس نا کیا گیا۔

یہ سارے ایسے مناظر ہیں جن کی جھلک یا تو آپ آج کل دیکھ رہے ہیں یا پھر 25 جولائی کے روز دیکھیں گے۔ تاہم عام انتخابات کا دائرہ چونکہ بہت ہی وسیع ہوتا ہے اس لیے ان حربوں کا اثر بھی بہت حد تک کم ہوجاتا ہے۔ پولنگ کے دوران اس کا اثر یوں بھی کمتر دکھائی دے گا کہ 87000 سے زائد پولنگ سٹیشنز پر اگر ساڑھے تین لاکھ افواج تعینات کر بھی دی جائے تو یہ مشکل سے چار فوجی جوان فی پولنگ سٹیشن بنتے ہیں۔ خیر ۔۔۔۔ شاید یہی وہ عوامل تھے کہ جنھوں نے پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار محترمہ ڈاکٹریاسمین راشد اور سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کو یہ کہنے کا حوصلہ دیا کہ وہ پولنگ کے عمل سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد مگر جب گنتی شروع ہوئی تو ابتدائی نتائج کے مطابق تو ڈاکٹر یاسمین راشد جیتی دکھائی دیں مگر مزید نتائج کی آمد کے ساتھ ساتھ ہی نا صرف محترمہ کلثوم نواز مقابلے میں آگے چلی گئیں بلکہ نتائج مکمل ہونے کے بعد پندرہ ہزار کی واضح اکثریت کے ساتھ فتحیاب بھی ہوگئیں۔ حق و سچ کے اس معرکے کا انجام تو خیر جو ہوا سو ہوا مگر ڈاکٹر یاسمین راشد، جو کہ شام تک پولنگ کے عمل بارے اپنے بھرپور اطمینان کا اظہار کررہی تھیں ، اب بیس ہزار سے زائد ووٹوں کی اس حلقے میں اچانک منتقلی کی دہائی دے رہی تھیں۔

**************************************************

پہلے تو یہ ہوا کہ نبیل گبول کا ضمیر جاگ گیا ۔۔۔۔۔۔ پھر فیصل ووڈا کو کراچی کی چابی اپنے حوالے ہونے کی بشارت مل گئی۔

لندن پلان نامی براڈوے شو کو شروع کے دنوں میں تو خاصا رش لیتے ہوئے دکھایا گیا مگر ڈی چوک کے تھیٹر میں اس کی شدید ناکامی کی ملمع کاری زیادہ عرصے تک جاری نا رہ سکی۔ یہ ایک ایسی صورتحال تھی جس میں ہمارے ہردلعزیز اور مسیحا کپتان کی سیاسی کڑھی کو ایک عدد اُبالے کی اشد ضرورت تھی۔ انھی دنوں میں نبیل گبول کا ضمیر جاگ گیا اور انھوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے ڈالا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ لندن پلان کا سکرپٹ بھی انتخابی دھاندلی کے عنوان سے لکھا گیا تھا جبکہ نبیل گبول بھی انتخابی دھاندلی کے نام پر ہی انکشافات کا ٹوکرا اٹھائے ہر چینل پر براجمان ہورہے تھے۔ اس سے بھی دلچسپ بات یہ تھی کہ پانچ برسوں تک آصف علی زرداری کے دسترخوان پر پکی سیاسی کھچڑی دل کھول کر ڈکارنے والے نبیل گبول ، 2013 کے عام انتخابات سے قبل ہی ایم کیو ایم کو پیارے ہوئے تھے۔ جواب میں ایم کیو ایم نے بھی انھیں کھلی بانہوں کے ساتھ اپنے سیاسی دسترخوان پر پکی حلیم سے ، این اے 246 کا پیالہ لبالب بھر کر پیش کرتے ہوئے بھاری اکثریت سے منتخب کروایا۔ اب مگر فیصلہ ساز قوتوں کو ان کی ضرورت آن پڑی تھی چنانچہ انھوں نے خود ہی یہ انکشافات کرنا شروع کردیے کہ کیسے ٹھپہ مافیا نے انھیں گھر بیٹھے بٹھائے ممبر قومی اسمبلی بنوایا۔ نبیل گبول نے استعفیٰ دے دیا تھا تو اب این اے 246 میں ضمنی انتخاب کا انعقاد تو ہونا ہی تھا۔ چنانچہ ڈی چوک میں کھڑے کنٹینر کے اندر پروان چڑھے رومانس کی بدولت ہوئی شادی خانہ آبادی کے بعد کپتان ایک دفعہ پھر سے کراچی کے میدان میں کُود پڑے۔ ٹی وی سکرینوں پر رونق لوٹ آئی اور دھاندلی نہیں کرنے دیں گے، خوف کی فضا ختم کردیں گے ، زندہ لاشوں کو شکست دیں گے وغیرہ وغیرہ کے ڈائیلاگز کے دوران کپتان نے عمران اسماعیل کو اس حلقے کے ضمنی انتخاب کے لیے اپنا امیدوار نامزد کردیا۔ ایک طرف جہاں بانی ایم کیو ایم اور فیصلہ ساز قوتوں کے درمیان چھڑی جنگ کی وجہ سے دباو کا شکار ایم کیو ایم والے ٹی وی سکرینوں پر بھتہ خور، دہشت گرد، غدارِ وطن اور را کے ایجنٹ جیسے طعنوں کے درمیان بات کرنے کے قابل بھی نا رہتے تو وہیں میدان عمل میں انتخابی ریلی نکالتے ہوئے بھی وہ خود پر مقدمات قائم کروا بیٹھتے۔ دوسری طرف کپتان جب نئی نویلی قومی بھابھی اور خاتون اول بننے کی شدید خواہشمند محترمہ ریحام خان کے ہمراہ کراچی کی سڑکوں پر اپنے حامی جم “غفیر” کو لیے سیاسی ہنی مون نامی آئٹم سانگ فلمانے نکلتے تو وطن عزیز کا ہر چینل اس کے مناظر اپنا قومی فریضہ سمجھ کر پوری قوم کو دکھاتا۔ ٹی وی کی سکرینوں پر بیٹھے تجزیہ کاروں نے تو انشااللہ ایم این اے عمران اسماعیل کو پیشگی مبارکبادیں دے ڈالی تھیں مگر زمینی حقائق یہ تھے کہ تبدیلی کے نشان والے امیدوار کھانے تو حلیم جاتے تھے لیکن واپسی ان کی “عزت افزائی” کروانے کے بعد ہی ہوتی تھی۔ خیر اس تمام تر شور شرابے کے دوران پولنگ کا دن بھی آن ہی پہنچا۔ تحریک انصاف خاصی پر امید تھی کہ اس دن اسے “غیر جانبدار” ایمپائر میسر تھے۔ ہر پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر رینجرز کے جوان بھی تعینات تھے جو انتخابی عملے سے بھی قبل رائے دہندگان کے شناختی کارڈ اور ووٹر لسٹوں میں ان کے کوائف کی تصدیق کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقنی بناتے رہے کہ کہیں کوئی کسی کونے کھدرے میں بیٹھا ٹھپے نالگاتا پایا جائے۔ پورے حلقے کی سیکیورٹی اور کسی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے بھی رینجرز موجود رہی اور پاکستان کا متحرک میڈیا اس سارے عمل پر اپنے کیمروں کے ذریعے مسلسل پہرہ دیتا رہا۔ پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد جب گنتی شروع ہوئی تو یہ عقدہ کھلا کہ ان تمام تر حربوں کا حاصل جمع صرف اور صرف پولنگ کی رفتار کا سست ہونا ہی تھا کیونکہ نتائج مکمل ہونے کے بعد کپتان کے امیدوار ایک دفعہ پھر سے شکست کھا چکے تھے اور وہ بھی پچاس ہزار ووٹوں کے بھاری فرق سے۔ یوں اس حلقے کے انتخابی نتیجے پر تو کوئی اثر نا پڑا مگر کپتان خوف کی فضا ختم کر دینے اور محترمہ شیریں مزاری نے ایم کیو ایم کی جانب سے تحریک انصاف کو بہت بھاری فرق سے شکست دینے کے منصوبے کو ناکام بنانے کا دعویٰ ضرور کر ڈالا۔

اسی طرح جب کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے قبل فیصل ووڈا نے کراچی کی چابیاں اپنے حوالے کردینے کا دعویٰ کیا تھا تو اس دعوے کے پیچھے چھپے منصوبے کو سمجھنا قطعاََ مشکل نا تھا۔ جو بات سمجھنا مشکل تھی وہ یہ تھی کہ کراچی کے ایک حلقے میں ناکام رہ جانے والا سکرپٹ آخر کیونکر پورے کراچی میں کامیاب ٹھہرتا؟۔ مگر پھر بھی بھرپور کوشش ضرور کی گئی۔ اس دفعہ کمی تھی تو صرف قومی بھابھی محترمہ ریحام خان کی جو اب سابقہ ہوچکی تھیں ورنہ سب کچھ پہلے جیسا ہی تھا۔ اس دفعہ این اے 246 کے بدترین تجربے سے سبق سیکھتے ہوئے جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف ایک اتحاد کی صورت میدان میں “اُترے” تھے۔ اس دفعہ بھی “دھاندلی” روکنے کے پورے انتظامات کیے گئے تھے۔ اس دفعہ بھی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی “فیورٹ” تھے جبکہ ایم کیو ایم کے حامی صرف اور صرف جرائم پیشہ ، بدعنوان ، بے ضمیر اور غدار۔ اس دفعہ بھی اگر کپتان اور سراج الحق ایک ہی ٹرک پر سوار ہو کر پورے کراچی کا چکر لگا رہے تھے تو ایم کیو ایم کی جانب سے ریلی نکالنے والے قائدین پر مقدمات قائم ہورہے تھے۔ اس دفعہ بھی دھاندلی روکنے کے لیے پولنگ سٹیشن کے اندر اور باہر رینجرز موجود تھی ۔ اس دفعہ بھی پولنگ کی رفتار سُست رکھنے کی ارادی کوشش نظر آئی مگر ایم کیو ایم کے حامیوں نے دوپہر تک انتظار کرنے کی بجائے صبح سے ہی پولنگ سٹیشنز پر پہنچ کر ووٹ ڈالنا شروع کرکے سُست پولنگ کا توڑ نکال لیا۔ اور جیسا کہ سب کچھ پہلے کے جیسا ہی ہورہا تھا تو نتائج کیونکر پہلے سے مختلف ہوسکتے تھے۔ ایک طرف ایم کیو ایم 209 میں سے 136 یونین کونسلز جیتنے کے بعد سب سے بڑی پارٹی ہونے کے ناطے کراچی کی مئیرشپ لے اڑی تو دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف صرف 7 یونین کونسلز ہی جیت سکی اور ان کی جانب سے مئیر کراچی بننے کے امیدوار جناب علی زیدی اپنی یونین کونسل سے بھی شکست کھا گئے ۔ انتخابات کے بعد علی زیدی نے تو اگرچہ اپنے روایتی انداز ، یعنی کہ اپنے کپتان کا انداز ہوبہو اپناتے ہوئے، دھاندلی کے الزامات دہرا دیے جبکہ عوام ابھی تک اس تقریب کے انتظار میں ہے جہاں کراچی کی چابیوں کو فیصل ووڈا کے حوالے کیا جانا تھا۔ناجانے ہمارے ہاں لکھے گئے سکرپٹس میں اتنی خرابیاں کہاں آن گھستی ہیں۔

**************************************************

پسِ تحریر: مذکورہ بالا تمام تر واقعات راقم الحروف کے ذاتی مشاہدے اور معلومات کی بنیاد پر بیان کیے گئے ہیں۔ کسی بھی واقعے کے بیان میں غلطی کا احتمال موجود ہے جس کے لیے پیشگی معذرت قبول فرمائیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.