Kahaniaan – Khawabiat

اشرف کو یقین تھا کہ اس کی بات میں دم ہے مگر علاقے کے مکین اس کی بات پر یقین کرنے کو تیار ہی نا تھے۔

اس محلے کے دو مختلف اطراف میں دو درگارہ نما دربار قائم ہوئے تھے۔

وہ محلہ ایک طرف سے تو ریلوے لائن کے ساتھ جُڑا ہوا تھا۔ محلے کا ریلوے لائن سے جُڑا ہونا بہرحال صرف کہنے کی حد تک ہی تھا کیونکہ ریلوے لائن اور گلی کی قطاروں کا درمیانی آدھے میل کا فاصلہ کسی آسیبی جنگل کے جیسا منظر پیش کرتا تھا۔ اسی آسیبی جنگل میں موجود شیشم کے طویل قامت اور عمررسیدہ درختوں کے درمیان گھِرا ہوا مائی سکینہ کا گھر تھا۔ لمبی تڑنگی سفید بالوں والی بائیں آنکھ سے محروم مائی سکینہ ، جو اپنی مُردہ آنکھ کو ڈھانپنے کے لیے سیاہ رنگ کی پٹی کا استعمال کیا کرتی تھی ۔ اس کے آخری ایام اپنے اسی گھر میں گزرے تھے جہاں وہ اپنے مرحوم خاوند کی وفات کے بعد تنہا مقیم تھی۔ کچی مٹی سے بنائی گئی دیواروں والا وہ گھر اگرچہ کئی مرلوں پر محیط تھا مگر رہنے کو اس گھر میں دھریک اور بیری کے درختوں کے درمیان صرف ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ گلی محلے کی مائیں اپنے شرارتی بچوں کو ڈرانے کی نیت سے انھیں اسی جنگل میں چھوڑ آنے کی دھمکی دیا کرتی تھیں جہاں سے چڑیل انھیں اٹھا لے جاتی۔ بچوں کے ذہن میں بھی چڑیل کا نام سنتے ہی مائی سکینہ کا تصور ابھر آتا۔ مائی سکینہ جب اپنے آخری ایام گزار کر اس دارِ فانی سے چل بسی تو وہ مکان اس کے کسی رشتے دار نے سائیں شیرا کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ سائیں شیرا کا خاندان مقامی بھٹوں سے اینٹیں ، بھمبھر کے نالے سے ریت یا پھر مختلف جوہڑوں اور خالی زمینوں سے چکنی یا خشک مٹی اٹھا کر لوگوں کے گھروں تک پہنچانے کا کام کیا کرتا تھا۔ اسی مقصد کے لیے انھوں نے چند گدھے اور دو عدد خچر بھی پال رکھے تھے۔ وہاں منتقل ہونے کے بعد انھوں نے گھر کے اندر ہی ایک طرف کے چھوٹے سے حصے کو اپنے جانوروں کو باندھنے اور چارہ ڈالنے کے لیے مخصوص کردیا۔

اس مکان میں مگر پہلا ساون ہی اس خاندان کو بھاری پڑ گیا جب ایک صبح انھیں اپنے دو گدھے مردہ پڑے ملے۔ ان گدھوں کی اچانک موت کی وجہ تو شاید کسی کو معلوم نا ہوسکی مگر اردگرد کے لوگوں کا خیال یہی تھا کہ ڈھور ڈنگر یوں اچانک الٹے مردہ پڑے نہیں ملتے۔ یقیناََ یہاں کسی نیک ہستی کی قبر ہوگی جس کا نام و نشان مٹ چکا ہے اور وہ اپنی بے حرمتی پر اس خاندان سے نالاں ہے۔ بہتر ہوگا کہ وہ اس جگہ کو خالی کردیں اور بدلے میں یہاں دربار قائم کردیا جائے۔ یہی خیالات مشورے کی صورت سائیں شیرا کے خاندان تک بھی پہنچے مگر غربت کا شکار یہ خاندان ، جس نے یہ جگہ بھی جیسے تیسے کرکے خریدی تھی ، وہ کہیں اور جاتا بھی تو کہاں جاتا۔ لے دے کے انھوں نے اسی “جائے وقوعہ” کے آدھ مرلہ پر مشتمل حصے کے اندر ہی قبر نما ڈھیری بنا کر اردگرد چار دیواری کھڑی کردی اور اسے بابا معصوم شاہ کا دربار قرار دے دیا۔ ممکن ہے کسی نے یہ بھی سوچا ہو کہ شاید کسی بھولے بھٹکے سانپ وغیرہ نے ان گدھوں کو ڈس لیا ہو مگر محلے کی اکثریت اس واقعے کا خاصا گہرا اثر قبول کرچکی تھی اور دربار قائم ہونے کے کچھ ہی عرصے کے اندر اندر لوگوں نے اس کی تعظیم بھی کرنا شروع کردی تھی۔ وہاں آ کر لوگ منتیں مانتے، ماتھا ٹیکتے ، جمعرات کی شام کو وہاں دیے جلاتے ، برات کی روانگی کے موقع پر ہر دولہا یہاں سلام کرتا پایا جاتا اور ان سارے واقعات کا لازمی حصہ تھا زائرین کی اپنی گنجائش کے مطابق چڑھاوے۔ سائیں شیرا مگر اپنے دو گدھے کھونے کے بعد خاصا خوفزدہ ہوچکا تھا اور وہ اس دربار کی بدولت اکٹھے ہونے والے چڑھاووں کو پوری ایمانداری کے ساتھ دربار کی خدمت کے واسطے ہی استعمال کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ ساون کے جس روز اسے اپنے گدھے مردہ پڑے ملے تھے ، اور اس کی بدولت اسے یہاں موجود کسی نیک ہستی کی قبر کا علم ہوا تھا ، اسی روز کی نسبت سے اس نے دربار پر عرس کا میلہ منعقد کروانا شروع کردیا۔ وہ اس دربار کے تمام تر چڑھاوے پورا برس ایک طرف اکٹھے کرتا جاتا، عرس والے ہفتے کے دوران دربار کے باہر چندے کے لیے ڈبہ بھی رکھ دیتا ، ڈھول کے تھاپ کے ساتھ سنہری رنگ کے گوٹے سے پیکو کی ہوئی سبز رنگ کی چادر لیے اپنے اور اردگرد کے محلوں کے چکر بھی لگاتا تاکہ مکین علاقہ بھی اپنا اپنا حصہ ڈال سکیں اور یوں اکٹھے ہونے والے تمام تر چندے کی مدد سے اسی دربار کے سامنے موجود اس آسیبی جنگل میں میلے نما عرس کا انعقاد کرواتا۔

میلہ بھی کیا تھا۔ چنے والے چاولوں کی ایک دیگ پکتی ، ڈھول کے سامنے ڈُونا بھنگی دھمال ڈالتا اور رات کو دربار کے سامنے اسی آسیبی جنگل میں ہی ایک عدد قوال پارٹی اپنے ساتھی خواجہ سراوں کے ساتھ بابا معصوم شاہ کے دربار میں اپنی عقیدت کا اظہار کرتی۔ میلے کی رات کو جمی اس محفل میں قوال پارٹی اور خواجہ سراوں کو جہاں عقیدت کے بدلے “ ویلیں” نصیب ہوتیں وہیں محلے کے چند “ابھرتے” ہوئے نوجوانوں کےساتھ گزارے “خوشگوار” وقت کی بدولت ان خواجہ سراوں کو اوپر کی کمائی بھی دستیاب ہوجاتی۔ یوں بابا معصوم شاہ کا میلہ اختتام کو پہنچتا۔ سائیں شیرا ہر برس باقاعدگی کے ساتھ یہاں عرس کا میلہ منعقد کرواتا رہا اور مکین علاقہ سائیں شیرا سے دم درود کے بعد پھونک مروانے کے ساتھ ساتھ اپنی مشکلات کے حل کے لیے تعویذ وغیرہ بھی لینا شروع ہوگئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ محلہ بھی تبدیلیوں سے محفوظ نا رہ سکا۔ اس آسیبی “جنگل” کے درخت کٹ گئے، لوگوں نے اس علاقے میں بھی زمینں خرید کر مکان بنا لیے اور محلے کے کونسلر کی انتھک “محنت” کے نتیجے میں جہاں اس کی اپنی بیٹھک تعمیر ہوگئی تھی وہیں اس “جنگل” نما علاقے سے اب پکی گلی بھی گزرتی تھی۔ آبادی کے یہاں پہنچنے اور پکی گلی کی تعمیر سے عام لوگوں کی آمدورفت کے ساتھ وہ آسیبی جنگل اب صرف جنگل بھی نا رہا تھا۔ انھی تبدیلیوں کے دوران ایک دن چٹا ان پڑھ، صفائی ستھرائی کے بنیادی فلسفے سے بھی نابلد اور نماز روزہ تلاوت وغیرہ سے یکسر لاعلم ہونے کے باوجود بھی کسی حد تک روحانی درجہ حاصل کرلینے والا سائیں شیرا بھی اس جہانِ فانی سے کوچ کرگیا۔

سائیں شیرا کے سب سے بڑے بیٹے کا نام تھا ظفر۔ کام کاج وہ کچھ بھی نہیں کرتا تھا۔ حتیٰ کہ اپنے خاندانی کام میں بھی ہاتھ بٹانے کی بجائے وہ ہڈیوں کے متروک کارخانے کے سامنے واقع ایک سائیکلوں کو پنکچر لگانے والی دکان کے باہر پڑے بنچ پر بیٹھے بیٹھے سارا دن گزار دیتا۔ چونکہ وہ سائیں شیرا کا سب سے بڑا بیٹا تھا ۔۔۔۔ اس لیے اپنے باپ کے انتقال کے بعد بابا معصوم شاہ کے دربار کی گدی پر پہلا حق اسی نے جتایا۔ چنانچہ ظفر نے اپنے نئے نام یعنی کہ پیر ظفر شاہ کے ساتھ خود کو متعارف کروانا شروع کردیا ، یہ الگ بات تھی کہ ظفر کا اچانک پیر ظفر شاہ کے اوتار میں ہوا ظہور مکینِ علاقہ کے لیے خاصی تفریح کا باعث بن رہا تھا۔ مگر پیر ظفر شاہ اپنے زیرانتظام دربار کے آئندہ عرس کے موقع پر ، اپنے اس نئے نویلے مرتبے کے بھرپور اظہار کا متمنی تھا۔ چنانچہ اس برس بابا معصوم شاہ کے عرس کی تیاریوں میں پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش نظر آیا جس میں سائیں شیرا کے پسماندگان پر مشتمل پورا خاندان بڑھ چڑھ کےحصہ لیتا دکھائی دیا۔ اگرچہ عرس ابھی کئی مہینے دور تھا لیکن اس کے لیے چندہ مہم ابھی سے شروع ہو چکی تھی۔ ہر جمعرات کی شام دو روپے کی خصوصی خمدت کے عوض محلے کی مسجد کے لاوڈ سپیکر سے بابا معصوم شاہ کے میلے میں اپنا حصہ ڈالنے کا اعلان کروایا جاتا۔ ماضی کی روایات کے برعکس اس دفعہ دربار کے باہر چندے کے لیے ڈبہ بھی کئی ماہ پہلے ہی رکھ دیا گیا۔ پھر میلے کے دنوں سے قبل ہی کئی ہفتوں کے لیے پورے محلے کے ساتھ ساتھ ارگرد کے دو تین محلوں میں بھی سنہری گوٹے سے پیکو کی ہوئی سبز چادر پھیلا کر پورے ڈھول ڈھمکوں کے ساتھ چندہ اکٹھا کرنے کی مہم بھی چلائی گئی۔ اپنے محلے کے ساتھ ساتھ محلقہ محلوں کی کئی دیواروں پر سبز رنگ کے ساتھ میلے کے بارے میں اعلانات بھی تحریر کیے گئے۔ مگر ان تمام تر تیاریوں کے باوجود بھی جب میلہ سجا تو اس کا سارا دارومدار ایک دفعہ پھر سے اسی چنے والے چاولوں کی ایک دیگ، اسی پرانی قوال پارٹی اور خواجہ سراوں کی عقیدت پر ہی تھا۔ یہ تمام تر تیاریاں شاید چندے میں تو اضافہ نا کرسکی ہوں مگر میلے کے “حاضرین” میں اضافہ ضرور ہوا جس کی بدولت جہاں شاید برف کے گولوں اور چنا چاٹ کے ٹھیلے والوں کی بِکری میں اضافہ ہوا وہیں قوال و خواجہ سرا پارٹی کو ملی ویلوں میں اضافہ تو لازماََ ہوا۔ پھر میلے کے آخری لمحات کے دوران پیر ظفر شاہ اپنی برادری ہی کے چند “مریدین” کے جمگھٹے میں جلوہ افروز ہوئے تو ان کے ہاتھ چومنے والوں میں بھی صرف ان کی براردی ہی کے دو چار احباب شامل تھے کیونکہ باقی ماندہ حاضرین کی توجہ قوالی اور خواجہ سراوں کی عقیدت کی طرف ہی مبذول رہی۔ نا جانے کیوں بابا معصوم شاہ کے دربار پر سجا وہ آخری میلہ ثابت ہوا۔ جہاں پیر ظفر شاہ نے اپنی پیری کے سلسلے کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش نا کی وہیں اس میلے کے لیے استعمال ہونے والی بچی کھچی زمین کو بھی محلے کے کونسلر نے خرید کر اپنی سیاسی بیٹھک کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔ بابا معصوم شاہ کا دربار بہرحال اب بھی وہیں قائم ہے یہ الگ بات کہ اب نا تو وہاں تعظیم کا وہ عالم ہے اور نا ہی عرس کا میلہ سجتا ہے۔

اسی محلے اور اس کے ساتھ ملحقہ محلے کے درمیان ہی ایک دوسرا درگاہ نما دربار بھی واقع تھا۔ اس طرف سے بھی دونوں محلے ملحقہ تو صرف کہنے کو ہی تھے کیونکہ ان کے درمیان ایک قبرستان واقع تھا اور اسی قبرستان کے اندر واقع تھا بی بی مرحوم کا مزار۔ بی بی مرحوم کے بارےمیں مگر لوگوں کے پاس بہت کم معلومات تھیں۔ بڑے بوڑھوں سے جب بھی ان کے بارے میں پوچھا جاتا تو یہی پتا چلتا کہ ان کا تعلق ، قبرستان سے اس پار آباد محلے میں مقیم ایک خاندان سے تھا جو کہ اپنے پاس آنے والوں کو تعویذ وغیرہ دیا کرتیں تھیں۔ کسی زمانے میں وہ لاہور سے لے کر اندرون سندھ تک پھیلی مقدس زیارتوں پر حاضری دینے کے لیے ننگے پاوں سفر بھی کیا کرتی تھیں۔ اپنے علاقے میں ان کے خاصے مُرید بھی موجود تھے جبکہ مزید ضروتمندوں کی مدد کے لیے وہ جن نکالنا ، تعویذ دینا ، وظیفے یا چِلے کرنا ، معاملات میں سے بندشوں کو دور کرنا وغیرہ جیسے فریضے انجام دیتی تھیں۔ بعض روایات کے مطابق ان کے پاس کئی جنات بھی زیر تعلیم رہ چکے تھے اور وہ بوقت ضرورت اپنے ان شاگرد موکلین کو حاضر بھی کرلیا کرتی تھیں۔ ان کے انتقال کے بعد اب یہ فریضے ان کے خاوند سرانجام دیا کرتے تھے۔ بی بی مرحوم کے عرس کا میلہ گو کہ بابا معصوم شاہ کے مقابلے میں خاصا بڑا ہوا کرتا تھا مگر اس کا انعقاد ہر برس نہیں کیا جاتا تھا۔ ارد گرد کے گاوں یا محلوں میں آباد ضرورتمند اکثر ان کی قبر پر اپنے خلاف پڑے تعویذ دباکر تلف کرنے، مشکلوں کے حل کے لیے دیے گئے تعویذ دبانے یا اسی مقصد کے لیے بی بی مرحوم کے خاوند اور پیر صاحب کی جانب سے ہی انھیں دی گئی کاغذی بتیاں جلانے جاتے تو اس عمل کا ایک لازمی جزو دربار پر چھڑھاوا چڑھانا بھی ہوتا۔ ان سارے معاملات میں چڑھاوے اس حد تک لازمی تصور ہوتے تھے کہ پیر صاحب بذات خود بتاتے تھے کہ چڑھاوا کم سے کم کتنا ہونا چاہئیے۔ یوں ان چڑھاووں اور پیر صاحب کی خدمت میں پیش ہوئے نذرانوں کی مدد سے اکثر ہر تیسرے برس عرس کا میلہ سجانے کی گنجائش نکل ہی آتی تھی۔ اس میلے میں جہاں مزیدار دال کے ساتھ ساتھ ایک بڑے سے توے ، جسے مقامی زبان میں کَلوہ کہہ کر پکارا جاتا تھا ، پر بنی انتہائی پتلی پتلی چپاتیوں کے ساتھ حاضرین کی تواضح کی جاتی وہیں ہاکی کا میچ ، کُتوں کی لڑائی ، ڈُونے بھنگی کے علاوہ سائیں شبیر کی اضافی دھمال اور آخر میں قوالی و خواجہ سراوں کی عقیدت سے خوب رنگ جمتا۔ میلے کا سب سے دلکش نظارہ مگر وہ ہوتا تھا جب پوری انتظامیہ میلے کے انتظامات کرنے کے ساتھ ساتھ ڈھول کی تھاپ پر ہلکی ہلکی دھمال بھی ڈالتی رہتی۔ سنا تھا کہ دھمال ڈالنا لازمی ہے۔

اسی پس منظر کے ساتھ اشرف نے لوگوں کو اپنی کہانی سنانا شروع کردی تھی۔

اشرف خود کو فوجی کہلوانا پسند کرتا تھا۔ وہ کوئی پیشہ ور فوجی تو نہیں تھا مگر پاک فوج کا ملازم ہونے کی وجہ سے لوگ اس کے سامنے اسے فوجی جبکہ اس کی غیر موجودگی میں اسے لانگری کہہ کر پکارتے تھے۔ اشرف کی بیوی ہاجرہ اس کی چچا زاد تھی اور اپنی بہنوں میں سے وہ واحد تھی جس کی شادی کسی ایسے شخص سے ہوئی تھی جو کہ ایک مستحکم آمدن کا مالک تھا۔ اشرف کا ایک سالا جبار کسی نا کسی طرح مسقط پہنچ گیا تھا اور اب غیرقانونی طور پر وہیں مقیم تھا۔ خاندان والوں کو اس کی خیر خبر تھی اور نا ہی وہ اپنے خاندان کی مدد کر پارہا تھا۔ اس کا دوسرا سالا ریاض وہیں اردگرد کے محلوں میں رنگ و روغن کے سلسلے میں دیہاڑی دار مزدور تھا۔ ریاض اپنی بہن یعنی کہ ہاجرہ کے ہاں ہی مقیم تھا۔ چنانچہ اشرف کی ساری آمدن اپنے خاندان اور سسرال کی زندگی کا سلسلہ چلانے میں ہی نکل جاتی تھی۔ پاک فوج سے ریٹائرمنٹ کے موقع پر جب اس کی تمام تر جمع پونجی اسے منتقل ہوئی تو اسی کے سہارے اشرف نے پانچ مرلے زمین خریدی اور اس پر دو کمروں کا مکان تعمیر کر ڈالا۔ بعد از ریٹائرمنٹ اب اشرف بھی اپنے باقی ماندہ تین بھائیوں اور ایک عدد سالے کے ساتھ ہی رنگ و روغن کی دیہاڑیاں لگانا شروع کرچکا تھا۔ عیدِ قربان یا کسی دوسرے مخصوص موقع پر وہ قصائی بھی بن جاتا تھا جبکہ ان کے پورے خاندان کی خواتین زرعی سیزن کے دوران مقامی زمینداروں کی زمینوں پر ملی مزدوری وغیرہ کے ذریعے زندگی کا سلسلہ چلانے کی کوشش کرتیں۔ ریاض کی شادی کا موقع آیا تو بڑی بہن ہونے کے ناطے ہاجرہ نے اس شادی کے تمام تر اخراجات اپنے ذمے لے لیے۔ اس مقصد کے لیے انھیں جہاں اپنے آجروں سے ادھار اٹھانا پڑا وہیں اپنے ایک آجر اور مقامی سیاستدان چوہدری فیاض ممبر کی ضمانت پر مقامی سنار سے مطلوبہ زیورات بھی ادھار ہی لینا پڑے۔ یوں ریاض کی شادی تو بظاہر دھوم دھام سے ہوگئی مگر اشرف کا بال بال اب قرض میں ڈوب چکا تھا۔ گو اشرف سے ریاض نے وعدہ کررکھا تھا کہ وہ قرض اتارنے میں اشرف کی مدد کرے گا مگر شادی سے پہلے اس کے پاس نا تو مستقل روزگا تھا اور نا ہی شادی کے بعد یہ سلسلہ تبدیل ہوا۔ دن ہفتوں میں بدلے ، ہفتے مہینوں میں بدلے اور مہینے دو برسوں تک پھیل گئے مگر اشرف قرض کی ایک پائی بھی لوٹانے میں کامیاب نا ہوسکا۔

انھی دنوں میں اشرف نے وہ خواب دیکھ لیا جس کی روداد اب وہ لوگوں کو سناتا پھر رہا تھا۔ بقول اشرف وہ ایک رات صحن میں سو رہا تھا کہ کسی کے زور زور سے آواز دینے کے نتیجے میں اس کی آنکھ کھل گئی۔ آنکھ کھلتے ہی اس نے محسوس کیا کہ غیرمانوس قسم کی بھینی بھینی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی اور ایک سفید پوش باریش بزرگ اس کے سرہانے کھڑے تھے۔ بزرگ ہستی نے اشرف کو اپنے ساتھ آنے کا حکم دیا تو اشرف ننگے پیروں ہی ان کے ساتھ چل پڑا۔ بزرگ ہستی گھر کی بیرونی دیوار کے پاس رُکی اور ساتھ ہی وہاں کچی زمین میں پڑی ایک دراڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئےاشرف کو بتایا کہ یہاں اُن کا جسدِ خاکی دفن تھا اور ان کی قبرکا نام و نشان اب مٹ چُکا ہے۔ بزرگ ہستی نے اشرف کو حکم دیا کہ وہ ان کا مقبرہ بنائے اور اس کا انتظام بذات خود سنبھالے۔ اگلی صبح اشرف کو یہ تو یقین نہیں تھا کہ رات کو پیش آنے والا واقعہ حقیقت تھا یا صرف ایک خواب ، مگر وہ اس واقعے کو ایک بشارت لازمی سمجھتا تھا۔ چنانچہ جب اُس نے اِس بشارت کی روداد اپنے گھر والوں کو سنائی تو اس کے گھر والوں کو تو فوری یقین آگیا مگر محلے کے لوگ اس کہانی کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ چند ہی دنوں میں اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر اشرف نے اس جگہ پر نا صرف قبر نما ڈھیری قائم کردی بلکہ مزید ادھار پکڑ کر اس قبر کے گرد چار دیواری بھی کھڑی کردی۔ یوں چند سبز جھنڈوں کے اضافے اور خوابی بشارت کے مطابق ہی نا صرف بابا سخی سرکار کا دربار قائم ہوگیا تھا بلکہ تین ماہ کے بعد وہاں عرس منانے کا اعلان بھی کردیا گیا۔

گو کہ مکینِ علاقہ یقین کرنے کو تیار نا تھے مگر اشرف کو یقین تھا کہ اس کی بات میں دم ہے۔ اسی لیے اس نے ڈھول والے کا بندوبست کیا ، سنہری گوٹے سے پیکو کی ہوئی سبز چادر تیار کروائی ، ہاجرہ نے اپنے بازووں میں کڑے ڈالے، دونوں نے جُوتے اتار دیے اور اپنے محلے کے ساتھ ہی ملحقہ محلوں کی گلی گلی میں بھی چندہ اکٹھا کرنے کی مہم کا آغاز کردیا۔ دربار کے باہر بھی چندہ اکٹھا کرنے کی نیت سے ایک عدد ڈبہ رکھ دیا گیا جس کا انتظام ریاض کے پاس تھا۔ یہ سلسلہ عرس کی مقررہ تاریخ سے قبل اڑھائی مہینوں تک جاری رہا۔ مسئلہ مگر یہ تھا کہ مکینِ علاقہ اچانک اس دربار کی دریافت ، کسی مافوق الفطرت واقعے یا کسی کرامتی ہستی کی غیرموجودگی ، علاقے میں پہلے سے موجود دو عدد درباروں کی مدہم ہوتی یادوں اور اشرف کے مالی حالات کو دیکھتے ہوئے اس پوری کہانی پر یقین کرنے کو تیار ہی نا تھے۔ یہی وہ عوامل تھے جس کے نتیجے میں عرس کے لیے مطلوبہ چندہ اکٹھا ہونا تو درکنار بلکہ معمولی سے چڑھاووں کا نام و نشان تک دکھائی نا دیتا تھا۔ اشرف کے اپنے پاس تو کچھ تھا بھی نہیں جس سے وہ عرس کے لیے درکار چندے میں حصہ ڈال سکتا۔ چنانچہ انجام یہ ہوا کہ بابا سخی سرکار کے دربار پر عرس تو منعقد نا ہوسکا مگر انتہائی قلیل سا جو چندہ اکٹھا ہوا تھا وہ بقول اشرف اس نے بابا معصوم شاہ کے دربار پر چھڑھاوا چڑھا دیا تھا تانکہ وہاں آئندہ عرس کے موقع پر کام آسکے۔ یہ الگ بات کہ نا تو اس دربار پر برسوں سے عرس منعقد ہوا تھا اور نا ہی مستقبل قریب میں اس کے امکانات تھے۔ اس کے بعد تو اشرف کو کبھی بابا سخی سرکار کے دربار پر عرس منعقد کروانے کا موقع بھی نا مل سکا کیونکہ چند ہی دنوں کے اندر اندر اسے زمینی حقیقتوں نے آن گھیرا۔ اشرف کو اپنا گھر بمع دربار بیچنا پڑا تانکہ وہ اپنے قرض داروں سے جان بخشی کروا سکے۔ یوں اپنا سب کچھ بیچنے کے بعد اشرف کے پورے خاندان نے واپس گاوں کی راہ لی اور ہاجرہ کے آبائی گھر میں منتقل ہوگیا۔ آخری اطلاعات کے مطابق وہ ابھی تک وہیں مقیم ہے۔ ناجانے بیچارے اشرف کو کبھی اس باریش بزرگ کی زیارت دوبارہ نصیب ہوئی یا نہیں۔

پس تحریر: مذکورہ بالا تمام تر واقعات و کردار حقیقت پر مبنی ہیں جو کہ یہاں حقیقی ناموں اور تفصیل کے ساتھ بیان کردیے گئے ہیں۔ برائے مہربانی کسی دوسرے کردار یا واقعے سے مماثلث محض اتفاقیہ تصور کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.