Kotaahi

بوڑھے کو اپنے وجود کا احساس ہوا اور آنکھ کی درز نیم وا کر کے دیکھی تو سامنے دیوار پر لگی سکرین پر سال 2046 اور مارچ کے مہینے کی کوئی تاریخ نظر آئی جو اسے سمجھ نہ آ سکی۔ سمجھ آتی بھی کیسے؟ مشینوں میں جکڑے اور نالیوں میں پروئے اس ستر سالہ بوڑھے فالج کے مریض کیلئے یہی غنیمت تھا کہ آنکھ کھول پا رہا تھا۔ ذہن میں چل رہے بے بسی کے جذبات اور یادِ ماضی کے طوفان، احساس تنہائی کے کرب اور اپنے آپ پر بےاختیاری کے ساتھ سمجھوتہ ہی شاید اب اسکا مقدر تھا۔

شکاگو کے اعصابی امراض کے بحالیء مریضاں کے اس جدید ترین ہسپتال کے یونٹ میں ایڈمنسٹریشن ڈیسک پر موجود مخصوص لباس میں ملبوس نرس کے سامنےبہت ساری سکرینوں میں سے ایک سکرین پر بیپ بیپ کی آواز کے ساتھ تصویر ابھر آئی تو نرس نے سکرین کو ایک انگلی سے ٹچ کر دیا اور سکرین پر شبیہہ واضح ہو کر نظر آنےلگی۔

‘ہیلو سٹاف’ ابھرنے والی شبیہہ نے کہا

‘ہیلو ڈاکٹر ڈین، آپ آج بھی ریموٹ مونیٹر کریں گے؟ نرس نے ہیلو کہنے کے بعد پوچھا

‘سٹاف، یہ 2046 سال ہے تم تیس سال پرانی باتیں کرنا چھوڑ دو۔ لگتا ہے تم بوڑھی ہو گئی ہو’ ڈاکٹر ڈین نے مذاقاً کہا

‘ہاہاہا ڈاکٹر ایسی تو کوئی بات نہیں میں تو ایسے ہی کہہ رہی تھی۔ مجھے علم ہے آپ ریموٹلی رپورٹس اور مریض کی کنڈیشن چیک کر سکتے ہیں’ نرس نے ہنستے ہوئے جھینپ کر کہا

‘کیا چل رہا ہے؟ آج کی کوئی خاص بات؟’ ڈاکٹر ڈین نے پوچھا

‘بس ڈاکٹر باقی سب مریضوں کی چارٹس تقریبًا روٹین کی مطابق ہی ہیں مگر روم فور بی کے مریض مسٹر صفدر حسین کا بی پی بھی ہائی رہا ہے اور اعصابی تناؤ بھی ہے جبکہ برین ایکٹیویٹی بھی بہت ہائی ہے جس سے لگتا ہے کہ جذبات اور خیالات کا شدید دباؤ ہے، مریض کے کمرے کے باہر اسکی بیوی ہر وقت موجود رہتی ہے اور اپنی مذہبی کتاب پڑھتی رہتی ہے، اور کوئی ملنے بھی نہیں آتا’ نرس نے بوڑھے کے بارے میں ذکر کر کے جواب دیا

‘ہاں سٹاف، آپ درست کہہ رہی ہیں، میں بھی مسٹر صفدر حسین کے چارٹس میں یہی دیکھ رہا تھا۔ ہم اپنے طور پر تمام آپشنز استعمال کر چکے ہیں مگر بہت عرصہ ہو گیا ہے اور اس مریض کی حالت سنبھلنے میں نہیں آ رہی۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم سے کہاں کوتاہی ہو رہی ہے؟ بہرحال شکریہ’ ڈاکٹر ڈین نے تفکر بھرے لہجے میں کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا

کمرہ نمبر فور بی کی دیوار میں بنی شیشیے کی بڑی کھڑکی کے باہر کوریڈور میں کرسیاں لگی ہوئی تھیں جن میں سے ایک کرسی پر ایک پاکیزہ چہرے والی باوقار سی بوڑھی خاتون بیٹھی آنکھوں میں آنسو لئیے رقت بھری آواز میں دعا مانگ رہی تھی ‘یا الٰہی تو صفدر حسین کو صحت دے دے مجھ سے اسکی تکلیف دیکھی نہیں جاتی، اگر تجھے اسکی صحت منظور نہیں تو اسے اس تکلیف سے نجات عطا فرما دے۔ یا الٰہی اب تو دعا مانگ مانگ کر تھک چکی، کتنی ہی بار یاسین پڑھ چکی۔۔ سمجھ نہیں آتا مجھ سے کیا کوتاہی ہوئی کہ دعائیں قبول نہیں ہو رہیں۔ ۔’

کمرے میں موجود دوا کی نالیوں اور مشینی تاروں میں جکڑے صفدر حسین کے ذہن میں خیالات کے جھکڑ چل رہے تھے۔۔ ایک ہی سوچ مسلسل اور بار بار آ رہی تھی۔۔ ‘ آخر کیوں؟ کیا غلط کیا؟ کہاں غلطی ہوئی مجھ سے؟ ساری عمر امریکہ میں گزاری کیا کام ایمانداری سے نہیں کرتا رہا؟ کیا بیوی کے حقوق پورے نہیں کئیے؟ کیا پیچھے وطن میں موجود بہن بھائیوں اور ماں باپ کا خیال نہیں رکھتا رہا؟ کیا انکی ضروریات نہیں پوری کیں؟ کیا جب بھی انہیں میری ضرورت پڑی کیا میں مدد کیلئیے نہیں پہنچتا رہا؟ آخر کیوں آج میرے ہی بچے مجھے ملنے سے کترانے لگے؟ آ خر کیا کوتاہی ہوئی مجھ سے؟ کیا میں نے بچوں کی تربیت میں کمی چھوڑی؟ کیا میرے بچوں نے میرے والدین کی خدمت کی؟ ارے ارے یہ کیسا سوال؟ ارے او میرے خدایا۔۔۔میرے بچوں نے مجھے کبھی والدین کی خدمت کرتے دیکھا ہی نہیں تھا تو وہ میری کیا خدمت کرتے؟’

ایڈمنسٹریشن ڈیسک پر موجود نرس کی سکرینوں پر یکدم ایمرجنسی الارم اور بیپ ہونے لگی۔ نرس نے سر اٹھا کر دیکھا تو کمرہ نمبر فور بی کے مریض مسٹر صفدر حسین کی کنڈیشن یکدم تشویشناک ہو گئی تھی۔ بی پی خطرناک حدود کراس کر رہا تھا، دل کی دھڑکن یکدم بےترتیب ہو گئی تھی۔ ۔ مگرجب تک نرس بھاگ کر کمرے میں پہنچتی۔۔۔ بہت دیر ہو چکی تھی۔ کمرے کی دیوار پر لگی سکرینوں پر سیدھی لائینیں چلنا شروع ہو چکی تھیں۔ صفدر حسین کے بے جان چہرے پر ایک ہلکا سا اطمینان تھا ۔ ۔۔ اطمینان جیسے سوال کا جواب ملنے پر آ جایا کرتا ہے۔

نرس کے ساتھ بوڑھے صفدر حسین کی بیوی بھی اندر کمرے میں آ گئی تھی دونوں کے چہروں پر تاسف اور افسردگی کے ساتھ ساتھ ایک ہلکا سا اطمینان بھی تھا جیسے سوال کا جواب ملنے پر آ جایا کرتا ہے۔۔۔ بیوی کو دعا کے قبول نہ ہونے کا جواب اور نرس کو دوا کے کارگر نہ ہونے کا جواب۔ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.