Aik Safar aur Sugar Mills

سفر درپیش تھا اور رحیم یار خان جانا تھا، دوست سے کہا بھی کہ ٹرین پر آ جاتا ہوں آپ اسٹیشن سے لے لیں گے تو شکرگزار ہوں گا۔ بولے، ” یار ٹرین چھوڑو ، تم بذریعہ سڑک آ جاؤ “۔

اب میں ان لوگوں میں سے ہوں جو دوست کو اپنا خیرخواہ سمجھتے ہیں چنانچہ علاقے اور سیزن کا علم ہونے اور خواجہ سعد رفیق کی ریلوے پر کی گئی محنت کا معترف ہونے کے باوجود دوست کی بات مان کر بس کے سفر پر روانہ ہو گیا۔

سات بجے بہاولپور ٹرمنیل سے نکلے تو خیال تھا کہ کہ ساڑھے تین چار گھنٹے میں رحیم یارخان پہنچ جائیں گے۔ ڈائیوو اچھی بس سروس ہے مگر لاہور کراچی روٹ پر اپنی سب سے پرانی بسیں لگا رکھی ہیں شائد۔ پھر بھی سروس ٹھیک ہی تھی ۔ بس میں 20 کے قریب مسافر تھے جن میں زیادہ تر خواتین تھیں، کوئی 5 مسافر کراچی جانے والے تھے اور باقی چوک بہادر پور تک جا رہے تھے جہاں سے شٹل سروس رحیم یار خان شہر پہنچاتی ہے۔ سفر بالکل آرام سے جاری تھا کوئی عجیب سی مار دھاڑ والی انگریزی فلم لگی تھی جس پر لوگوں کی توجہ بالکل نہیں تھی چنانچہ جب بس میں موجود مددگار خاتون نے ہیڈ فون کی ضرورت کا پوچھا تو زیادہ تر نے انکار ہی کر دیا اور اپنے اپنے کام میں مشغول رہے ۔ جو ہمراہ تھے وہ آپس میں گفتگو کر رہے تھے اور جو اکیلے سفر کر رہے تھے اپنے فونز میں گھسے ہوئے تھے۔ میں بھی ٹویٹر ہی دیکھ رہا تھا ، احمد پور شرقیہ میں گاڑی رکی اور ایک دھان پان سا لڑکا آ کر بیٹھا اور بس روانہ ہوئی، ڈیڑھ گھنٹے کے بعد اگلی منزل خانپور تھی، جی ہاں وہی خانپور جس کے پیڑے مشہور ہیں۔ لیکن کیا پتہ تھا کہ یہ سفر ڈیڑھ گھنٹے کا نہیں ہو گا اور نہ جانے کیا کچھ دکھائے گا۔ احمد پور سے قریب 20 کلومیٹر آگے ایک جگہ ہے چنی گوٹھ یہاں سے ایک راستہ این-5 براستہ جَن پور، ظاہرپیر اور اقبال آباد صادق آباد کو جاتا ہے جبکہ بائیں طرف ایک سنگل سڑک لیاقت پور ، خان پور اور رحیم یارخان سے گزرتے ہوئے چوک بہادر پور کے مقام پر این-5 سے مل جاتی ہے۔

اسی سنگل سڑک پر جب بس لیاقت پور سے آگے نکلی تو سڑک کے بائیں جانب گنے سے لدی اکا دُکا ٹرالیاں نظر آنے لگیں ایک اچٹتی نگاہ ڈالی اور موبائل کو بیگ میں موجود پاور بینک سے کنیکٹ کرنے کے بعد پھر سے ٹویٹر پر تانک جھنک شروع کر دی۔ بس کی رفتار آہستہ ہوتی گئی اور آخرکار فیروزہ کے بعد وہ ایک جگہ رک گئی ۔ نظر اٹھائی ، اندھیرے میں بائیں طرف کھڑکی سے دیکھنے کی کوشش کی تو گنے کی ٹرالی اس قدر قریب تھی کہ لگا جیسے ساتھ لگ کر ہی رکے ہیں۔

اب شروع ہوا انتظار، ایک گھنٹا۔۔۔۔۔دو گھنٹے اور تین گھنٹے گزر گئے، بس رکی رہی اور مسافر اکتا گئے، بولے کی اس روٹ سے آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ ڈرائیور نے آگاہ کیا کہ ظاہر پیر والا روڈ تو اور بھی بُرے طریقے سے بند ہے، میں بھی فون رکھ کر ساتھ والے مسافر سے بات چیت کرنے لگا۔ وہ لاہور سے رحیم یار خان جا رہے تھے ۔ کہنے لگے یار گنا بہت زیادہ ہے اور ملیں کم، جن ملوں کو کسی پرانے قاعدے کے تحت کام کرنے سےروک دیا گیا ہے اگر وہ چلتیں تو یوں عوام زلیل نہ ہو رہی ہوتی۔ اس روڈ پر جٹھہ بھٹہ میں حمزہ شوگر ملز ہے ، دن رات چل رہی ہے مگر کوور نہیں کر پا رہی اسی طرح دوسرے روڈ پربھی ملز کوور نہیں کر پا رہی ہیں ۔ کیا ضرورت تھی ایسے فیصلے کی جس سے عوام کی فلاح کی بجائے مصیبت کا پہلو نکلا۔

ابھی وہ بات کر رہے تھے کہ میرے سامنے والی نشست پر بیٹھی خاتون نہائت اونچی آواز میں بولیں، ” کیا آپ کو پتہ نہیں تھا کہ ٹریفک جام ہے۔ کیا کسی اور طرف سے نہیں آ سکتے تھے ؟” مددگار خاتون نے بتایا کہ میڈیم سب راستے بلاک ہیں تو وہ بولیں، پھیر یہ بس کینسل کرنی چاہیے تھی، آپ کو ہمیں سچ بتانا چاہیے تھا کہ راستے بند ہیں اور آپ آگے نہیں جائیں گے۔” وہ مددگار بولیں،” میڈم بس تو کینسل نہیں کر سکتے سفر آج کل ایسے ہی ہو رہا ہے۔” تب وہ مسافر خاتون غصے میں آ گئیں اور بولیں، ” تمہیں کیا پتہ ، تم تو بہاولپور سے بیٹھی ہو ابھی اور ہم لاہور سے آ رہے ہیں، ہمیں کتنی دیر ہو گئی ہے۔” دو اور مددگار خواتین ڈیوٹی آف ہونے کی وجہ سے بطور مسافر اس گاڑی میں واپس جا رہی تھیں ، ان میں س ایک کو سنیئر سے ایسے تخاطب پر برا لگا اور بولیں۔” میڈیم ہم نے سڑک بند نہیں کروائی اور دوسری بات ہم روز یہی کچھ برداشت کر کے جا رہے ہیں، روز کئی کئی گھنٹے روڈ بلاک دیکھ رہے ہیں۔” اس پر مسافر خاتون بھی اسی لہجے میں بولیں۔” تو یہ تم لوگوں کی ڈیوٹی ہے کوئی احسان نہیں۔” معاملے کو سنگین ہوتا دیکھ کر آن ڈیوٹی مددگار نے اپنی ساتھی کو خاموش کروایا اور مسافر خاتون کے پاس آ کر نہائت احترام سے سجھایا کہ ہم حالات پر افسوس کر سکتے ہیں مگر یہ بس کمپنی کی وجہ سے نہیں ہیں اور پانی پوچھا ۔ صورتحال میں تناؤ کچھ کم ہو گیا۔ مسافر خاتون بیمار تھیں اور لہجے کی تلخی ان کی صحت کے باعث تھی شائد۔

اس سب کے بعد میرے ساتھ بیٹھے مسافر پھر سے کہنے لگے کہ سالوں پہلے شوگرملز کی منتقلی اور نئی تعمیر پر اگر کوئی پابندی تھی بھی تو اب گنے کی کاشت کا ایریا اور فی ایکڑ پیداوار میں فرق آ چکا ہے، ملز ایک خاص حد تک گنجائش بڑھا سکتی ہیں اور اس کے بعد نئی ملز ناگزیر ہیں۔ یہ تو دیکھ لیا گیا کہ ماضی کے مقابلے میں کتنی ملز یہاں لگ گئی مگر کیا یہ بھی دیکھا کہ کتنے ہزار ایکڑ نیا رقبہ قابل کاشت ہو گیا ہے، زرعی ٹیکنالوجی اور تجربات کے باعث فی ایکڑ پیداوار کتنی بڑھ گئی ہے، کوئی یہ بھی چیک کر رہا ہے کے کتنے لاکھ کسان کپاس اور گندم کی فصلیں چھوڑ کر مسلسل کماد کاشت کر رہے ہیں؟

اسی اثنا میں ان کے دائیں طرف کھڑکی کے ساتھ بیٹھے اس دھان پان سے لڑکے کی آواز نے متوجہ کیا ،یہ سسکیوں کی آواز تھی۔ ہم ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ نوجوان نے پوچھنے پر بتایا کہ چولستان جیپ ریلی میں سردار نادر مگسی کی موٹر مینٹینینس ٹیم کا حصہ ہوں اور ابھی ریلی جاری ہے مگر اطلاع ملی کے کراچی میں بھائی کا ایکسڈینٹ ہو گیا ہے، اس کے سر پر چوٹ لگی اور وہ کومہ میں ہے ، میں نے یہ بس لی کہ جلد پہنچوں مگر یہ دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔ اور وہ بھر سے سسکیاں لینے لگا ۔ ہم نے انہیں تسلی دی اور ان کے بھائی کی جلد اور مکمل صحتیابی کی دعا کی۔ میں سوچنے لگا کہ سفر بھی کیا عجب شے ہے کیسے لوگوں کو اجنبی سے آشنا بنا دیتا ہے، باتوں باتوں میں لوگ غم بانٹ لیتے ہیں۔

بس میں موجود ایک مسافر بولے کہ انہیں ریسٹ روم استعمال کرنے کی ضرورت ہے اور بس سے نکل گئے تھوڑی دیر میں واپس آکر بتایا کہ جہاں بس کھڑی ہے چند قدم پیچھے گنے سے لدی ٹرالیوں کے بیچ سے گزر کر ایک پیٹرول پمپ اور ڈھابہ ساتھ ساتھ ہی ہیں اور پھر سے باہر چلے گئے ۔ بس مددگار یہ سن کر ان خاتون کے پاس آئیں جو کچھ دیر پہلے بڑبڑا رہی تھیں اور پوچھا کہ اگر وہ باہر جانا چاہیں تو وہ یعنی مددگار خود ان کو ساتھ لے جا سکتی ہیں۔ صرف وہی نہیں بلکہ چند اور خواتین بھی باہر جانا چاہتی تھیں چنانچہ ڈرائیور اور یہ مددگار خاتون ان سب کو پیٹرول پمپ تک لے گئے اور بحفاظت لے آئے۔ یہ صورتحال ایسی تھی جس میں سب کو ایک دوسرے کے ساتھ کوآپریٹ بھی کرنا تھا اور ایک دوسرے کا سہارا بھی بننا تھا۔

رات 12 بجے کے بعد راستہ ملا اور سب خدا کا شکر کرنے لگے ، کراچی کی دو مسافر بولیں شکر ہے گاڑی چلی پر اب ہماری توبہ جو دوبارہ ٹرین کی بجائے بس پر سفر کی خواہش کی ۔ دل ہی دل میں اپنے دوست کو کوسنے تو میں بھی دے رہا تھا کہ یار جلدی کے چکر میں کہاں پھنسا دیا، پنجابی محاورہ یاد آ گیا ” کاہلیاں اگے ٹوئے” ، شکر کیا کہ خدا خدا کر کے چل تو پڑے ۔ پر قسمت، بس کچھ دو کلومیٹر چلی اور ایک دم سے پھر رک گئی۔ پہلے لگا کہ دو چارمنٹ میں رستہ ملے گا مگر جب کوئی بات بنتی نظر نہ آئی تو پھر سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ پاور بینک جواب دے چکا تھا اور فون کی بیٹری بھی ختم ہو رہی تھی سو گھر پر ایک فون کر کے حالات سے آگاہ کیا اور بتا دیا کہ بیٹری بچانے کے لیے فون آف کر رہا ہوں کچھ وقت کے لیے آپ لوگ سو جائیں پہنچ کر مطلع کر دوں گا۔

ایک مسافر کو نجانے کیا سوجھی ، مجھے کہتے ہیں” آؤ یار تھلے چلنے آں ، میں تے بہہ بہہ کے تھک گیا ۔” پر میں نے معذرت کی تو وہ صاحب اکیلے باہر چلے گئے اور سامنے کھڑی ٹرالی سے ایک گنا کھینچ کر گھٹنے پر توڑا اورچوسنے لگے ۔ تھوڑی دیر بعد گنے سمیت آکر اپنی سیٹ پر بیٹھے اور بس میں چھلکوں کے ڈھیر۔

بس مخالف سائیڈ کے باہر کی طرف کھڑی تھی یعنی بائیں ہاتھ پر جہاں ہمیں ہونا چاہیے تھا گنے سے لدی ٹرالی کھڑی تھی، اس کے ساتھ جانے والا ایک ٹرک کھڑا تھا ، پھر سامنے سے آنے والا ٹرالر کھڑا تھا اور بس سڑک کے کچے شولڈر پر تھی۔ ڈرائیور اترا اور باہر چلا گیا۔ ٹرکوں ٹرالیوں والے سو چکے تھے ۔ رات کے تین بج رہے تھے اور جس سفر کو دس بجے ختم ہونا تھا اس کے ابھی بھی 60 کلومیٹر باقی تھے۔ ڈرائیور نے ساتھ کھڑے سامنے سے آنے والے ٹرالر کے ڈرائیور کو اٹھایا اور تھوڑا آگے کرنے کو کہا اور بس میں آ بیٹھا ۔ کچی پٹڑی پر بس آہستہ آہستہ آگے سرکنے لگی ۔ ہچکولے لگ رہے تھے اور سب کی نظر ونڈ سکرین پر جمی تھی ۔ بائیں جانب ٹرکوں کی لمبی قطار اور دائیں جانب پانچ چھ فٹ گہری جگہ تھی، کچھ لوگ خاموش بیٹھے تھے، کچھ دُعائیں پڑھ رہے تھے اور باقی ڈرائیور کو مشورے دینے والے، “استاد جی ایدھر رکھو ایدھر” نہائت آہستہ چلتے ہوئے بھی پہیہ اچانک ایک گڑھے میں دھنسا اور بس دائیں جانب کھائی کی طرف جھک کر رک گئی، دعا اور ورد کی آوازیں بلند ہو گئیں۔ ساتھ کے ٹرکوں سے لوگ نکل آئے۔

گاڑی نکالنے میں ٹرک ڈرائیورز اور ان کے ہیلپرز کا کوئی ثانی نہیں ہوتا،” آن دیو، بس بس۔۔۔ کلینڈر سائیڈ کٹو۔ کٹو کٹو ۔۔ بس ہن اپنی سائیڈ تے رکھ کے جان دیو” یہ چند آوازیں آئیں اور بس کا پہیہ گڑھے میں سے نکل چکا تھا۔ ایک واقعہ مجھے یاد آ رہا ہے کہ ڈرائیونگ لائیسنس کی درخواست دی تھی اور ٹسٹ کا وقت آ گیا ، ایل ٹی وی کی وجہ سے میرا ٹسٹ کمرشل ڈرائیورز کے ساتھ تھا ۔ سامنے ٹیبل پر ڈی ایس پی ٹریفک بیٹھے تھے جن کے سامنے ٹریفک اشاروں کا چارٹ لگا تھا اور وہ قطار میں کھڑے ہر امیدوار سے چند ایک اشارے پوچھ رہے تھے ۔ میرے آگے ایک نوجوان کھڑا تھا جب اس کی باری آئی چارٹ پڑھنے کی تو بولا ، “سر جی ہشارے پڑھنے نئیں آؤندے ، ٹرالا آکھو تے ریورس لہور لے جاواں گا” اور ان کا یہ اعتماد ایسے ہی نہیں ہوتا۔ لائسنس تو اس دوست کو نہیں ملا پر میں اس کا فین ہو گیا۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی بس کے نکلنے کی ، جیسے ہی بس آگے چلی، ایک خاتون مسافر اٹھ کھڑی ہوئیں ، ” بھائی آپ ہمیں اتاریں ، ہم پیدل آگے جائیں گے ۔ کیا پتہ بس الٹ گئی تو” پھر مسافروں سے مخاطب ہو کر بولیں ، ” چلیں سب نیچے ، پیدل آگے جاتے ہیں اگر بس وہاں تک پہنچ گئی تو ہم بیٹھ جائیں گے۔ ” ڈرائیور اورمجھ سمیت پانچ لوگ بس میں بیٹھے رہ گئے باقی بس کے آگے پیدل چل رہے تھے ۔ دیکھتے دیکھتے انہوں نے ٹرکوں کے دروازے بجانے شروع کر دیے ۔ ڈرائیورز جو صبح کی آس میں سو چکے تھے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتے اور درجن بھر خواتین کو دروازہ بجاتے دیکھ کر سٹپٹا جاتے ۔ ایک ٹرالے والا جاگنے کے باوجود رستہ دینے سے گریزاں تھا تو ایک نوجوان مسافر نے ٹرالی سے گنا کھینچ لیا ۔ جیسے ہی ونڈ سکرین پر مارنے لگا تو دوسرے نے اسے روکا اور ڈرائیور کو بھی کہا کہ ضد نہ کرے تو گاڑی رواں رہی۔ تھوڑی دیر میں ایک خاتون مسافر واپس بس میں سوار ہوئیں تو انہوں نے کوئی پندرہ بیس گنوں کا گھٹھڑ اٹھا رکھا تھا۔ بہتر راستہ مل گیا تو سب واپس بس میں سوار ہوگئے۔ حتی المقدور سب کے پاس گنے تھے ۔ مجھے ساتھی مسافر نے پوچھا کہ میں کیوں نہیں لایا تو بس اتنا کہہ سکا، ” میں نے بچپن سے کبھی گنا نہیں کھینچا”۔

خدا خدا کر کے خانپور پہنچے اور اگلا سفر آرام سے ہوا، ڈرائیور نے کمال مہارت، دلیری اور عقلمندی کا مظاہرہ کیا اور ان کی ساتھی خاتون نے بھی برداشت اور فرض شناسی سے کام لیا۔ ہم اکثر ان لوگوں کی محنت کو سراہتے نہیں ہیں۔ کرنا چاہیے۔

ایک مسافرباقی سفر کے دوران ان کو کوستے رہے جن کی وجہ سے کرشنگ کا بحران پیدا ہوا۔ جہاں رات 11 بجے تک رحیم یار خان پہنچنا تھا وہاں صبح 5 بجے پہنچے۔ اب یہ کس کے باعث ہوا آپ سمجھ تو گئے ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.