Hamaray Rawaiyay

معاشرتی رویے جو قوم کی سمت کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اگر اپنے ان قومی رویوں کا ایک تنقیدی جائزہ لیں تو ایک پریشان کن صورتحال سامنے آتی ہے، جس کا مختصر جائزہ پیش نظر ہے۔ اگر کہیں غلطی سے سیکیورٹی پالیسی، ایجینسیوں کے حکومتی معاملات میں مداخلت یا انڈیا و افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات میں سے کسی ایک بھی موضوع پر مطالعہ پاکستان کے علاوہ موقف اختیار کیا، خارجہ پالیسی پر لب کشائی کی یا اداروں کا آئین کے مطابق کردار زیر بحث آیا تو گمشدہ افراد کی فہرست میں ایک نام اور شامل ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ آپ کے مذہبی خیالات زیادہ سے زیادہ کسی ایک فرقے سے مطابقت رکھ سکتے ہیں، جبکہ باقی سب کے نزدیک آپ کافر، مرتد یا مشرک میں سے ایک تو ضرور ہیں۔ اور اگر کہیں آپ مذہب سے دور ہیں، کچھ آزادانہ خیالات کے حامل ہیں تو کم از کم آپ گستاخی مذہب کے مرتکب تو ضرور کہلائیں گے۔ سوال کرنے کی گنجائش دن بدن مزید کم ہوتی جا رہی ہے اور ایسے موضوعات کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جو “ناقابل بحث” کے زمرے میں جاچکے ہیں۔ سیاسی جماعتیں، راہنما اور ان کے حمایتی اب غدار ہیں یا فرشتہ صفت، کوئی اور صورت حال طرفین کو قبول ہی نہیں۔ دائیں بازو والے سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے تمام مسائل کی جڑ دائیں بازو کے حاملین اور ان کے گناہ کبیرہ ہیں، کہ صغیرہ گناہ کرتا ہی کوئی نہیں آج کل۔ اور بائیں بازو والے سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو دہشتگردی کی عفریت میں دھکیلنے والے صرف یہی دائیں جانب والے طبقے کے لوگ ہیں۔

اپنے بنیادی ترین مسائل پر ایک صحت مند قومی بحث کی اشد ضرورت کے باوجود، مقصد اپنے سیاسی مخالف کو نیچا دکھانا رہ گیا ہے۔ کوئی بااثر معاشرتی گروہ لے لیں اور ان کے طرز عمل کا مشاہدہ کریں، میڈیا والے، ڈاکٹرز، وکیل، عدلیہ، سرکاری ملازمین، کاروباری لوگ۔ ہمارا رویہ مزید متشدد اور انتہا پسندانہ ہوتا چلا جا رہا، بقائے باہمی کے بنیادی ترین اصول سے دور ہٹتے چلے جارہے ہیں، ‘تم میرے ساتھ ہو یا دشمن’ والا رویہ معاشرے میں سراعیت کر چکا ہے۔

درج بالا مشاہدات کسی بھی بڑے واقعے یا سانحے پر زیادہ واضع ہو جاتے ہیں۔ مثلاً پنجاب اور کے پی میں معصوم بچوں کے ساتھ ہوئے حالیہ اندوہناک جنسی درندگی کے واقعات کو جس طرح اپنی اپنی سیاسی دکانیں چمکانے کے لیے استعمال کیا گیا، وہ انتہائی وحشت ناک تھا کہ اب ایسے دردناک واقعات بھی ہمیں اجتماعی لائحہ عمل اپنانے کی بجائے مزید تقسیم کر دیتے ہیں۔ آئیے ٹھہراو لائیں اپنی طبعیت میں، میانہ روی اپنائیں اور مختلف آراء و شخصیات کو برداشت کرنا سیکھیں، ہر انسان کے بنیادی حق تقریر و تحریر کو مانیں، نہیں پسند تو باعزت طریقے سے دوری اختیار کرلیں، دنیا انتہائی سرعت کے ساتھ آگے بڑھتی جا رہی ہے، اپنے خول سے باہر آئیں، دوسرے میں موجود خوبیوں کو مانیں، کسی کو اپنی زندگی پر اتنا ہی حق دیں جتنا اپنے لیے چاہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.