8th Birthday

چار مئی دو ہزار سترہ کا دن تھا اور میرے بیٹے کی آٹھویں سالگرہ۔ اس دن کی میری زندگی میں ایک خاص اہمیت تھی اور اسکے انتظار میں ہر دن میں نے اور میری بیگم نے گن گن کے گزارا تھا اور بعض دن تو ہم دونوں کو شاید صدیوں برابر بھی محسوس ہوئے تھے۔ ذرا ٹھہریں وقت میں کچھ پیچھے چلتے ہیں، یہ چار مئی دو ہزار نو ہے اور سوموار کا دن ہے، ڈاکٹر نے مجھے بیٹے کی مبارکباد دی اور ساتھ ہی کہا کہ وہ کچھ ٹھیک نہیں ہے اسے ہائڈروسیفالس اور مایئیلومیننگوسیل ہے۔ یہ اصطلاح مجھ جیسے بینکر کیلئے نئی تھی اور نہ ہی میں اس کے بارے میں کچھ جانتا تھا۔ ساتھ ہی مجھے مشورہ دیا گیا کہ میں بچے کو کسی سپیشلسٹ ہسپتال میں لے جاوں اور متعلقہ سرجن سے رابطہ کروں۔ ڈاکٹر سے رابطہ میری زندگی کے مشکل مراحل میں سے ایک ثابت ہوا۔ ڈاکٹر کے بقول ایک مشکل مستقبل میرے بیٹے کا انتظار کر رہا تھا اور اسکی زندگی کی کوئی پیشین گوئی نہ کی جا سکتی تھی۔ اسکی زندگی بچانے کی کوشش کرنے کیلئے فوری طور پہ ایک سے زیادہ آپریشنز ہونے تھے۔ آنے والے اگلے چھ مہینوں میں ہمارا زیادہ تر وقت ڈاکٹرز اور ہسپتالوں کے چکر لگاتے گزرا۔ لاہور میں دستیاب متعلقہ پیڈیاٹرسٹ سرجنز اور میڈیسن پروفیسرز سے رابطہ کیا اور اکثریت نے کہا یہ بیٹا ہمارے پاس بس خدا کی امانت ہے اور کسی بھی وقت واپس لی جا سکتی ہے، اکثر نے کہا کہ زیادہ تر بچوں کی دوسری سالگرہ نہیں آتی۔ ایک ڈاکٹر جو کہ ایف ایم ایچ سے تھے نے کہا کہ میری زندگی کے تجربے میں آٹھ سال تک کا کیس ہے اور یہی وہ امید کی کرن تھی جو ہم میاں بیوی کی زندگی میں ایک روشن شمع کی مانند جل اٹھی اور ہم دونوں نے دنوں کو گننا شروع کردیا۔

ہر صبح ہمارے لئیے ایک امید کے ساتھ طلوع ہوتی اور ہم اس دن کے گھنٹے گننا شروع ہو جاتے پہلی سالگرہ آنے تک شاید ہم نے ہر دن کے ہر گھنٹے کو گنا اور بار بار گنا، ہماری تمام خوشیاں اس بچے کے ساتھ وابستہ ہو چکی تھیں، نہ جانے کتنی راتیں، شاید تمام راتیں ہم میاں بیوی ایک دوسرے کو تسلیاں دیتے اور تکیوں میں منہ چھپا کے آنسو بہاتے اور اللہ سے دعائیں مانگتے ۔اللہ تعالی کا فضل ہوا اور بیٹا 2 سال کا ہو گیا اور شاید مجھے اپنی زندگی کی بڑی خبروں میں ایک خبر ملی۔ چلڈرن ہسپتال کی ڈاکٹر نے کہا بچے کا نیچرل سسٹم ریوائیو کرگیا ہے اور اسکی پیدائیش کے بعد سے جو شنٹنگ سسٹم پہ انحصار تھا وہ اب ضروری نہیں رہا تھا، اسی عرصہ میں دماغ نے مکمل طور پہ ریکور کرلیا تھا۔ اب ہماری نگاہیں اگلی ٹائم لائین جوکہ 4اور 8 سال کی عمر کی تھیں اس پہ لگ گئیں۔ یہ وہ جھلکیاں ہیں کہ کیوں میری زندگی میں اس سالگرہ کی اہمیت تھی۔

آج میرا بیٹا اللہ کے فضل و کرم سے اپنی زندگی کے 9 ویں سال میں ہے، صحت مند ہے، نارمل بچوں کی مانند سکول جاتا ہے اور اپنی کلاس کے اچھے بچوں میں اسکا شمار ہے۔ ہاں اک ذرا سی مشکل ہے کہ اسکی زندگی وہیل چئیر پہ گزرے گی لیکن ہمیں خوشی ہے کہ وہ ہماری زندگی کا حصہ ہےان تمام گزرے آٹھ سالوں میں زندگی نے بہت سے سبق دئیے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے، بلاشبہ زندگی اور موت اسی کے ہاتھ میں ہے۔ مشکل ٹائم لگتا ہے کہ ٹھہر گیا ہے لیکن وہ یادیں دے کر گزر جاتا ہے۔ کوشش اور ہمت انسان کیلئے آگے بڑھنے کا راستہ کھولتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اچھی بیوی اللہ کا عطیہ ہوتی ہے اس سے بڑا دنیا میں کوئی غمگسار اور خیال رکھنے والا نہیں ہوتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *