Number Plate

گاڑی کی ٹمٹماتی ڈیجیٹل گھڑی کے نمبروں پر نظر پڑی تو دیر ہونے کا احساس ہوا، لاشعوری طور پر گاڑی کے ایکسیلریٹر پر پاؤں کا دباؤ بڑھ گیا۔ رفتار ذرا سی بڑھ گئی، چند لمحات ہی گزرے تھے کہ گاڑی کے پیچھے نیلی اور سرخ بتیاں گھومنے کا احساس ہوا۔ شمالی امریکہ کی سرد رات اور نسبتاً سنسان ہائی وے پر یہ پولیس کی گاڑی تھی، یہ پولیس آفیسر نہ جانے کہاں تاک لگائے بیٹھا تھا جیسے ہی گاڑی حدِ رفتار سے تیز ہو کر اسکی ریڈار گن کی زد میں آئی، اس نے اپنی گاڑی ہماری گاڑی کے پیچھے لگا کر لائیٹس آن کر دِیں جو کہ فوراً گاڑی روکنے کا اشارہ تھا۔

مجبوراً بھاری دل کے ساتھ گاڑی کو ہائی وے کے کنارے روکا۔ برابر والی سیٹ پر بیٹھیں بیگم کے چہرے پر بھی ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ بیگم نے حسب معمول سرزنش والی نظروں سے دیکھا مگر زبان سے کچھ نہ کہا۔ ۔ آگے کیا ہونے والا ہے ہم دونوں کو بخوبی اندازہ تھا۔ آفیسر گاڑی سے اتر کر ہمارے پاس آیا میں نے شیشہ نیچے کیا۔ آفیسر گویا ہوا ‘ہیلو۔۔ ہاؤ آر یو ڈوئینگ سر؟’ اور میں جواب دینے کی بجائے ہونقوں کی طرح اسکی شکل تکنے لگا۔ ذہن نے ایسا پلٹا کھایا کہ میں ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں سنہ انیس سو اسّی کی دہائی کی شروعات میں پہنچ گیا۔

والد صاحب بحیثیت سرکاری افسر ایک چھوٹے شہر میں تعینات تھے۔ انکے محکمے کی اہمیت یوں تھی کہ ضلعی انتظامیہ، ڈاکٹرز سے لے کر پولیس اہلکاروں تک سب کو انکے محکمے کی اہمیت ادراک رہتا تھا۔ باوجود اسکے کہ والد صاحب نے کبھی بھی حیثیت سے ناجائیز فائدہ نہ اٹھایا تھا مگر پھر بھی ہم بہن بھائی بچپن سے ہی تھوڑی سی غیر محسوس سی اہمیت ملنے کے عادی تھے۔

ہر متوسط طبقے کے گھرانے کی طرح سرکاری تنخواہ سے والدہ کی طرف سے کی گئی بچت سے کچھ رقم پس انداز ہوئی تو باقی رقم زرعی زمینوں کی آمدن سے ملا کر ایک عدد سو سی سی یاماہا موٹرسائیکل خرید لیا گیا، ماڈل شاید انیس سو اکیاسی کا ہوگا۔ نیا ٹمٹماتا میرون رنگ کا موٹرسائیکل گھر آیا تو عجب سے تفاخر کا احساس ہوا، یہ ہمارے گھر کی واحد سواری تھی۔

والد صاحب سے زیادہ خوشی انکے ماتحت عملے کے جونئیر ملازمین کو تھی۔ جس کو بھی وقت ملتا کپڑا لے کر موٹرسائیکل سے گرد جھاڑنے لگتا۔ چند قدم پیچھے ہٹ کر دور سے دیکھتا اور خوشی خوشی پھر جھاڑنے لگتا۔ ابو نےایک ایسے ہی جونئیر ملازم کو پیسے دئیے اور کہا کہ فارغ ہو تو ذرا چھٹی کے دن جا کر پینٹر سے نمبر پلیٹس تو بنوا لائے۔ شام سے پہلے موٹرسائیکل کی نمبر پلیٹس بھی آ گئیں۔ ہوا یہ کہ ملازم نے اوور ایفی شینسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمبر کے ساتھ ساتھ اگلی نمبر پلیٹ پر چھوٹے چھوٹے الفاظ میں بالخصوص ابو کا عہدہ درج کروا دیا اور پچھلی نمبر پلیٹ پر محکمہ۔ یہ چیز اسی کی دہائی میں عام تھی اور اس میں قباحت نہیں سمجھی جاتی تھی، بلکہ قباحت تو اب بھی نہیں سمجھی جاتی۔ بہرحال اسکے باوجود ابو نے ملازم سے کہا کہ کیا ضرورت تھی یہ سب لکھوانےکی؟ صرف نمبر پلیٹس بنوا لیتے! ملازم نے جواب دیا کہ چوہدری صاحب آجکل چوری چکاری بہت ہوتی ہے محکمہ لکھا ہوگا تو چور بھی ہچکچائےگا اور موٹرسائیکل ڈھونڈنے میں بھی آسانی ہوگی، چونکہ موٹرسائیکل بھی نیا نیا تھا اس لئے والد صاحب نے بھی بات کی معقولیت کو نظر انداز کر کے ملازم کا موقف تسلیم کر لیا اور خاموش ہوگئے۔

یہ یاماہا موٹرسائیکل ہماری خاندانی سواری بن گیا۔ والدہ کے ہمراہ ہم چھوٹے چھوٹے تین بہن بھی کچھ یوں سوار ہوتے کہ ہم دونوں بھائی ٹینکی پر بیٹھ جاتے اور ہماری چھوٹی بہن جو شاید ایک دو سال کی ہوگی اسکو والدہ گود میں پکڑ لیتیں اور یوں ہم ایک ایک سو کلومیٹر سفر کر لیتے۔ آہستہ آہستہ والد صاحب موٹرسائیکل کے مزاج کو سمجھنے لگ گئے۔ بار بار پلگ صاف کرنا، کلچ کتنا دبانا ہے یا چلتے ہوئے موٹرسائیکل کے کاربوریٹر میں ہوا اور پیٹرول کے مکسچر کی شرح کیسے سیٹ کرنی ہے وغیرہ وغیرہ یہ روٹین کے معاملے ہو گئے۔ والد صاحب بڑے بڑے سینئیرافسروں سے ملنے اور شادیوں میں شرکت سے لے کر گاؤں سے کینو کے توڑے تک اسی یاماہا موٹرسائیکل پر نہایت اعتماد سے لے آتے۔ آہستہ آہستہ یہ یاماہا موٹرسائیکل والد صاحب کی پہچان بن گئی۔ چوک میں کھڑے پولیس اہلکار سے لے کر راہگیر تک پہچاننے لگے کہ یہ موٹرسائیکل کس کی ہے۔ والد صاحب کے لمبے قد اور بارعب شخصیت کی وجہ سے اکثر نئے پولیس اہلکار والد صاحب کو پولیس افسر سمجھ کر دور سے ہی سلیوٹ کر دیا کرتے۔ جو نیا پولیس اہلکار والد صاحب کو نہ جانتا ہوتا وہ ایک نظر نمبر پلیٹ پر ڈالتا اور چند منٹوں میں اسکے چہرے کی درشتی غائب ہو جاتی۔ بعد ازاں جب میرے دو تین کزنز اے ایس آئی بھرتی ہوگئے تو شہر کے پولیس والے کزنز کے ساتھ گھر چکر لگاتے اور آہستہ آہستہ والد صاحب سے بےتکلف ہو گئے اور چاچا جی پکارنے لگے۔ اب ہم والد صاحب کے ساتھ موٹرسائیکل پر کہیں جاتے تو شہر کے مین چوک میں کھڑے اہلکار رکنے کا اشارہ کرتے، والد صاحب سے زور دار معانقہ کرتے دو تین اہکاروں کو آواز دے کر بلاتے کہ چاچا جی آئے ہیں۔ وہ بھی دوڑے دوڑے آتے ہاتھ ملاتے، چائے کیلئیے اصرار ہوتا، ابو پھر کبھی کا وعدہ کرتے، بعض اوقات کوئی سینئیر پولیس افسر ہوتا تو والد صاحب رک بھی جاتے۔ یہ سب صورتحال ہمارے لئیے بڑے مزے کی ہوتی۔ میں دل ہی دل میں دعا کیا کرتا کہ جب میں بڑا ہو کر موٹرسائیکل چلاؤں گا تو بھی یہی صورتحال برقرار رہے۔

سالہا سال یونہی گزرتے گئے۔ ہماری خاندانی سواری اکیاسی ماڈل سو سی سی یاماہا موٹر سائیکل ہمارے پاس موجود رہا۔ اس دوران فرق صرف اتنا ہوا کہ چند سالوں کی زرعی آمدن جمع کر کے ایک عدد سوزوکی ایف ایکس کار لے لی گئی اور مجھے اب میٹرک کے بعد موٹرسائیکل چلانے کی اجازت مل گئی تھی۔ میں جب بھی موٹرسائیکل لے کر جاتا اور کوئی پولیس اہلکار روک لیتا تو ایک نظر نمبر پلیٹ پر ڈالتے ہی ابو کا نام لے کر پوچھتا ‘ توں چاچے۔۔۔۔ دا پتر ایں؟’ میں اثبات میں سر ہلاتا تو فوراً معانقہ ہوتا اور ‘ او توں تے اپنا بھتیجا ایں۔۔۔ سلام کہیں چاچے نوں’ کا معاملہ ہوتا۔ اکثر میرے ساتھ کوئی دوست ہوتا اور پولیس کے روکنے پر گھبرانے لگتا تو میں اسے کہتا کہ بس خاموش ہو کر دیکھتے جاؤ، اور پھر وہی پولیس اہلکار کی نمبر پلیٹ پر ایک نظر اور ‘توں چاچے۔ ۔ دا پتر ایں؟ سلام کہیں چاچا جی نوں’ یا پھر ‘چاچا جی نوں آکھیں میں گِلہ کر ریا سی’

اس سب صورتحال میں میرے دوست بڑے متاثر ہوتے۔ بعد ازاں کالج جا کر بھی گروپ میں بات ہوتی تو سب دوست حیران رہ جاتے۔ اور یوں میں اور بھی معتبر ٹھہرتا۔ اکثر دوستوں کی کوشش ہوتی کہ مجھ سے موٹر سائیکل ادھار لے کر جائیں۔ مجھے بہرحال اس امر کی اجازت نہ تھی۔ ایک دن ایک دوست کے ہاں کوئی ایمرجنسی ہو گئی اور میں انکار نہ کر سکا۔ دوست موٹر سائیکل لے کر جونہی شہر کے مرکزی چوک سے گزرنے لگا پولیس اہلکار نے کاغذات چیک کرنے کیلئیے روکا۔ اہلکار نے نمبر پلیٹ پر نظر ڈالی اور پوچھا ‘توں چاچے ۔ ۔ ۔ دا پتر ایں؟’ دوست نے جونہی نفی میں سر ہلایا اسکو فوراً موٹر سائیکل سے نیچے اتار لیا گیا اور مزید انٹرویو کیلئیے دھوپ میں میز کرسی رکھے بیٹھے ہوئے ایس ایچ او صاحب کے جانب بھیج دیا گیا۔ دوست نے صورتحال واضح کی تو اسے ایک فون کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ میں گھر پہنچ چکا تھا فون سن کر فوراً پہنچا تو ایس ایچ او نے مجھے پہچان لیا۔ چائے کا کپ پلایا اور آئیندہ موٹرسائیکل کسی کو نہ دینے کی تنبیہہ کر کے جانے کی اجازت دے دی۔

چند برس بعد میں مزید تعلیم کیلئیے لاہور آ گیا تو ابو نے موٹرسائیکل ساتھ لے جانے کی اجازت دے دی، یہاں بھی نمبر پلیٹ نے بہت مدد کی۔ اکثر ٹریفک وارڈن روک لیتے تو نمبر پلیٹ پر ایک نظر ڈال کر کچھ دوستانہ گفتگو کے بعد جانے دیتے۔ تعلیم مکمل ہوئی تو میں نے زندگی کا پہلا بزنس کرنے کا فیصلہ کیا، کچھ مالی مدد گھر سے مل گئی اور جو تھوڑی بہت کمی رہ گئی تھی وہ رقم پوری کرنے کیلئیے میں نے موٹرسائیکل بیچنے کا فیصلہ کیا۔ ابو کی طرف سے اجازت ملی تو ایک دن مغل پورہ مارکیٹ جا کر موٹرسائیکل بیچ ڈالی۔ کہتے ہیں پہلی سواری اور پہلی گرل فرینڈ انسان ساری زندگی نہیں بھول سکتا۔ مجھے بھی وہ نمبر پلیٹ جانے کا دکھ رہےگا۔ دل میں قلق آج بھی ہے، اور شاید کبھی بھول نہ پاؤں گا۔

‘سر۔۔ آر یو آلرائٹ؟’ یہ گورے پولیس آفیسر نے مجھے متوجہ نہ پا کر کہا تھا، جسکی آواز مجھے اسّی کی دہائی سے واپس لے آئی تھی۔

میں فوراً ہڑبڑا کر بولا ‘یس یس آئی ایم سوری’

اسکو ڈرائیونگ لائیسنس پکڑایا کچھ دیر بعد اسنے جرمانے کا ٹکٹ ایشو کیا اور ایک چھوٹا سا لیکچر دے کر جانے کی اجازت دے دی۔

کچھ دور گئے تو بیگم نے پوچھا، ‘جب پولیس آفیسر آپ سے بات کر رہا تھا تو آپ کیا سوچنے لگے تھے؟’

میں نے جواب دیا۔ ۔’ سوچ رہا تھا، آج اگر میرے پاس وہ نمبر پلیٹ ہوتی تو دیکھتا یہ سُسرا مجھ سے کیسے نہ پوچھتا ‘آر یو سن آف انکل۔۔۔۔؟۔ ۔ ۔ پلیز ٹیل ہِم آئی سیڈ سلام

3 thoughts on “Number Plate

  • February 3, 2018 at 9:52 am
    Permalink
    بہت Nostalgia at its peak!!!
    بہت خوبصورت تحریر ہے بھائی جان
    لکھتے ریا کریں.
    Reply
  • February 3, 2018 at 5:24 pm
    Permalink
    بس ذرا یہ یاد رکھ لیتے کہ ٹریفک وارڈن بہت دیر سے آنے، ٹریفک پولیس 1981 والے یاماہا کے ساتھ زیادہ جچتی
    Reply
  • February 6, 2018 at 9:49 pm
    Permalink
    بہترین یادوں کا بہاو۔۔
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *