Pakistani Jack-all

پاکستانی جیکآل، جیک آف آل ٹریڈز

جدید دور کا انسان بھی اس قدر جدید ہو گیا ہے کہ بات چاہے دنیا کے کسی شعبہ یا موضوع پر ہو اس سے متعلق اسے خاطر خواہ علم ہوتا ہے اور وہ اس سے دوسروں کو بھی مستفید کرتا ہے۔ مملکتِ خداداد پاکستان کی عوام اس معاملہ میں سب سے آگے ہے۔ سائنس، سیاست، قانون،اقتصادیات، سیاحت، دفاع، سماجی خدمات، طب، انجئینرنگ غرض کوئی شعبہ ہو آپ کسی سے رائے طلب کریں کھٹ گوگل کی طرح آپکو اس بارے میں سب بتا دے گا۔ قرائن بتاتے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں جب گوگل کی جگہ پاکستانی نوجوان لے لیگا اور دنیا انکے قدموں تلے ہو گی۔ دور دور سے لوگ پیچیدہ مسائل پر معلومات حاصل کرنے کے لئیے رابطہ کیا کریں گے

پاکستانی عوام کی اس خصوصیت کے بارے میں شک نہ ہو اسلئیے مثالوں سے اسکو واضح کیا جاسکتا ہے جیسا کہ ڈاکٹر پانچ سال طب کی تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن یہ تعلیم انکے پاؤں کی زنجیر نہیں بنتی۔ کسی بھی ٹیلی ویژن پروگرام کو اٹھا کر دیکھ لیں ڈاکٹر صحافت کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اگر کبھی دو گھڑی سکون نصیب ہو جائے تو اس میں بھی یہ صحافتی ڈاکٹر دوسرے پروگراموں میں قانون، خارجہ پالیسی اور دفاعی تجزیہ کاری کا کام بخوبی انجام دیتے ہیں۔ ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ اس قدر ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے کہ حکومت کی مدد کے لئیے افواہیں پھیلانے میں بھی معاون کردار ادا کرتے ہیں۔ صرف یہ نہیں عدالت کے پیچیدہ کیس رات ۸-۱۱ چٹکی میں حل کر دیتے ہیں۔ وکلاء کیا جانیں قانون اصل قانون کی پرکھ تو ہمارے ڈاکٹروں کو ہے جو پل بھر میں بتا دیں کہ کس پر توہینِ عدالت، ناموس رسالت یا تعزیراتِ پاکستان کے تحت سزا بنتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج علامہ اقبال زندہ ہوتے تو کچھ اسطرح فرماتے

محبت مجھے ان ڈاکٹروں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

ان ڈاکٹرز کی خصوصیات پر اگر انسان لکھنے بیٹھے تو دنیا کی ساری سیاہی ختم ہو جائے لیکن پھر بھی انصاف نہ کر پائے۔

ایک اور مثال جو پاکستانی نوجوان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے وہ ہمارے فنکار ہیں ۔ فنکاروں کی تعلیمی قابلیت کے بارے میں راوی کو زیادہ معلوم نہیں لیکن انکے علم کو ڈگری یا کسی ایک شعبہ میں تولا جانا ممکن نہیں۔ یہ فنکار ڈراموں / فلموں میں تو اپنے فن کا جوہر دکھاتے رہتے ہیں لیکن موضوعات پر انکی گرفت کا اندازہ انکی صحافتی اور رمضان میں “علامتی” گفتگو سے ہوتا ہے۔ اسی طرح کی درجنوں مثالیں موجود ہیں جس سے پاکستانی نوجوان ٹِم کُک کو شرمندہ کر دیں جو صرف ایک فون کمپنی کا ہیڈ بن کر سمجھتا ہے کہ اسکو سب معلوم ہے ۔ پس ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی نوجوان ہر فن مولا ہے اور انگریزی مقولہ
Jack of all trades master of none

کی نفی کرتا ہے . آخر میں ہر شعبہ پر دسترس رکھنے والے پاکستانی نوجوان کی شان میں تعریفی شعر

گوگل کی بساط کیا ہے پاکستانی نوجوان کے آگے
چٹکی میں بتا دیں سب کچھ اور ہیں سب سےآگے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *