Gehreean

 

یہ منظر تھا جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد کا اور جے آئی ٹی کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے بعد میڈیا سے بات کررہی تھیں مریم نواز

“ یہ پہلی لیکس نہیں ہیں جن میں مجھے ملوث کیا گیا ہے ، پانامہ لیکس۔ ایک ڈان لیکس بھی آئی تھی، اس میں بھی مجھے ملوث کیا گیا تھا۔ وجہ ایک ہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ باپ کو بیٹی کا نام استعمال کرکے دباو میں لانا۔ سب جانتے ہیں کہ جو بیٹی ہے اسلامی روایات میں ، مشرقی روایات میں ، بیٹی اپنے والدین کے اور خصوصاََ اپنے والد کے دل کا نرم ترین اور حساس ترین حصہ ہوتی ہے۔ نرم ترین حصہ اگر وہ والد کے دل میں ہو تو وہ فاطمة الزہرہ کی طرح ہوتی ہے، اگر وہ علم اٹھا کر میدان میں آجائے تو وہ بی بی زینب کی طرح ہوتی ہے۔ نوازشریف کی بیٹی کو اس کی کمزوری سمجھنے والے ، نوازشریف کی بیٹی کو ، انشااللہ اس کی طاقت پائیں گے۔ ”

مریم نواز کی 5 جولائی 2017 کے روز جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد خطاب سے اقتباس

* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *

یہ منظر تھا گوجرانوالہ شہر کا اور جی ٹی روڈ ریلی کے دوران خطاب کررہے تھے سابق وزیراعظم نوازشریف

“ اور میں لاہور جارہا ہوں کیونکہ مجھے ۔۔۔۔۔۔

اسی دوران شرکا کی جانب سے میاں صاحب آئی لو یو کے نعرے زور پکڑنا شروع ہوجاتے ہیں نوازشریف کے ہاتھ اور گردن بھی نعروں کی دُھن میں ہِلنا شروع کردیتے ہیں

۔۔۔۔ گُوجرانوالہ آئی لو یُو ٹُو ۔۔۔۔۔ آئی لو یُو ٹُو “

نوازشریف کی جی ٹی روڈ ریلی کے دوران گوجرانوالہ میں 11 اگست 2017 کے روز خطاب سے اقتباس

* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *

یہ منظر تھا وزیراعظم ہاوس اسلام آباد کا اور ٹیلی گراف کے نمائندے ڈیوڈ بلئیر کے ساتھ بات کررہے تھے سابق وزیراعظم نوازشریف

نوازشریف : یہ بڑی ہی بدقسمتی کی بات ہے کہ تقسیم کے فوری بعد سے ہم بھارت کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ میں اُلجھ گئے. میرے خیال میں ہم اس نقطہ نظر سے بڑا بدقسمت ملک ہیں۔ دونوں ممالک ، پاکستان اور بھارت، ایک دوسرے خلاف کے دفاع کی مد میں بے پناہ بجٹ ضائع کرتے ہیں۔ وہ مِگ 29 کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، ہم ایف 16 کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔وہ مزید ٹینک خرید رہے ہیں ، ہم بھی مزید فوجی اسلحہ خرید رہے ہیں۔ ہم آبدوزیں خرییدنے کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ۔۔۔۔ آپ دیکھیں کہ یہ کتنا مہنگا اسلحہ ہے۔ پھر بھارت نے ہم سے پہلے ایٹمی اسلحے کے رستے پر چلنا شروع کردیا۔ میرے خیال میں یہ سب اب ختم ہونا چاہئیے۔ جو پیسہ ہم دفاع میں ضائع کررہے ہیں وہ فلاحی کامو ں کے لیے خرچ ہوناچاہئیے۔ یہ پیسہ تعلیم پر خرچ ہونا چاہئیے، صحت پر خرچ ہونا چاہئیے۔ میں امید کرتا ہوں کہ دونوں ممالک کو ان غلطیوں کا احساس ہوجائے۔ میرے خیال میں دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنےکا مقصد یہی ہے کہ یہ سب ختم کیا جاسکے۔

ڈیوڈ بلئیر: تو کیا آپ دفاعی بجٹ کم کریں گے؟

نوازشریف: میرے خیال میں ہمیں یہ کرنا پڑے گا۔ مگر ہم یہ تنہا نہیں کرسکتے۔ یہ کام دونوں ممالک کو مل کر کرنا پڑے گا ۔ جس طرح ساٹھ سے زائد برسوں سے یہ اسلحے کی دوڑ چل رہی ہے ، ویسے ہی الزامات کا سلسلہ بھی چل رہا ہے۔ بھارت میں کچھ بھی ہوجائے وہ ہم پر الزام لگا دیتے ہیں اور پاکستان میں کچھ ہوجائے تو ہم اس کا الزام بھارت پر لگا دیتے ہیں۔ ان الزامات کے سلسلے کو بھی اب بند ہونا چاہئیے۔ پھر بھارت ہم پر الزام لگاتا ہے کہ ہماری سرزمین ان کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔ ہمارے ذرائع بھی بتاتے ہیں کہ بھارت پاکستان کے
اندر گڑبڑ میں مصروف ہے۔ ایسی اطلاعات میرے پاس آتی ہیں وقتاََ فوقتاََ۔

ڈیوڈ بلئیر : کیا یہ اطلاعات قابل اعتبار ہیں؟

نوازشریف: میں اس بارے میں اس سے زیادہ بات نہیں کرنا چاہوں گا صرف یہی کہوں گا کہ میرے پاس ایسی
اطلاعات آتی رہتی ہیں۔

ڈیوڈ بلئیر: کیا آپ ان اطلاعات پر یقین کرتے ہیں؟

نوازشریف: میں یہی کہوں گا کہ اس پر زیادہ بات نہیں کرسکتا [ قہقہ لگاتے ہوئے] لیکن ہم ایسی صورتحال تک پہنچیں بھی کیوں؟

برطانوی جریدے ٹیلی گراف کے ساتھ 23 اگست 2013 کے روز وزیراعظم نوازشریف کے انٹرویو سے اقتباس

* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *

یہ صفحات تھے پانامہ لیکس ریویو پیٹیشن کے فیصلے کے اور فیصلہ لکھا تھا جسٹس اعجاز افضل خان نے

پیراگراف نمبر 8 کا اختتام اس شعر کے ساتھ کیا جاتا ہے

اِدھر اُدھر کی نہ بات کر یہ بتا قافلہ کیوں لُٹا
مجھے رہزنوں سے گِلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

پانامہ لیکس ریویو پیٹیشن کے فیصلے کے پیراگراف نمبر 9 صفحہ نمبر 13 سے اقتباس

* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *

آج کل ایک مسئلہ یہ بھی ہورہا ہے کہ کچھ احباب کو جب تک کسی ناول یا فلم کا حوالہ نا دیا جائے انھیں بات کی سمجھ ہی نہیں آتی۔ فلم کا نام تو یاد نہیں مگر یہ ڈائیلاگ ہے کسی مشہور فلم کا ہی

“Oh …. There are many forms of immortality”.

مطلب کہ امرتا کی بہت سی اقسام ہیں۔

صورتحال یہ ہے کہ ابھی تک تو نوازشریف نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا جسے غیر متوقع کہا جاسکے۔

ہوابازی کی دنیا میں ایک اصطلاح اسمتعمال ہوتی ہے کنٹرول چیک ۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ اگر کسی تکنیکی خرابی کے شکار جہاز کو ہنگامی طور پر اُتارنا پڑجائے تو ایسی صورت میں جہاز کا کپتان مختلف پینتروں کے ذریعے اس کے اہم ترین آلات کا جائزہ لیتا ہے۔ مقصد اس عمل کا یہ ہوتا ہے کہ جہاز اتارنے کی کوشش کرنے سے پہلے اندازہ لگایا جاسکے کہ جہاز کے کون سے آلے پر کس حد تک اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال سے مسلم لیگ ن کو آج کل نوازشریف گزار رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ نوازشریف کی جماعت کی صحتمندی اور مضبوطی مخالفین کو مایوس کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ہوش بھی اڑاتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ پانامہ لیکس کی آڑ میں کھیلا گیا کھیل اور اس کے نتیجے میں نوازشریف کی نااہلی بذات خود ایک ہوشربا داستان ہے مگر یہ داستان آج ہمارا موضوع نہیں۔ اگر آپ مسلم لیگ ن کی آج کی صورتحال کا جائزہ لیں تو یقین ہی نہیں ہوتا کہ یہ جماعت مسلسل دو برس سے بغیر کسی وقفے کے ناصرف نشانہ بنتی رہی ہے بلکہ اپنے قائد کی کسی بھی عوامی عہدے کے لیے تاحیات نااہلی کا جھٹکا بھی برداشت کر چُکی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صورتحال میں آئی اس “ڈرامائی” تبدیلی کو ممکن بنانے کے لیے نوازشریف نے کسی قسم کا کوئی سرپرائز بھی نہیں دیا۔ ان کے عوامی طاقت کے مظاہرے ابھی تک انھی علاقوں میں محدود ہیں جو ہمیشہ سے ہی ان کا مضبوط گڑھ ثابت ہوتے رہے ہیں۔ تاہم جس چیز نے ان کے حامیوں کو پُرجوش اور ناقدین یا مخالفین کو مشترکہ طور پر حیران و پریشان کردیا ہے وہ عوام کی جانب سے ملا مثبت ردعمل ہے۔ جہاں نوازشریف کے جلسے حجم میں گذشتہ عشرے کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں وہیں وہ جوش و جذبے کا اظہار اتنی شدت سے کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ نوازشریف کے لیے اپنی تقریر مکمل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج کی صورتحال محض اتفاق بالکل بھی نہیں۔ جو لو گ سیاسی منظرنامے پر گہری نظر رکھتے ہیں ، انھوں نے آج کی تاریخ میں بنتی اس صورتحال کو گذشتہ برس اگست میں ہی بھانپ لیا تھا۔

یہ 10 اگست سنہ 2017 کی چلچلاتی دوپہر تھی جب نوازشریف کا قافلہ جی ٹی روڈ پر لاہور کی جانب رواں دواں تھا۔ اپنی نااہلی کی بعد انھوں نے اسلام آباد سے لاہور تک کا سفر براستہ جی ٹی روڈ طے کرنے کا قصد کیا تو اس سفر کے پہلے ہی دن انھیں پنجاب ہاوس اسلام آباد سے راولپنڈی کے کمیٹی چوک تک پہنچنتے پہنچتے تیرہ گھنٹے لگ گئے تھے۔ عوام کا جم غفیر ان کے ساتھ تھا جس کے وجہ سے قافلے کی رفتار انتہائی سُست رہی اور لیاقت باغ میں طے شدہ تقریر انھیں کمیٹی میں چوک میں ہی کرنا پڑی۔ گوجرخان میں طے شدہ پڑاو انھیں پنجاب ہاوس راولپنڈی میں ہی کرنا پڑا۔ سپریم کورٹ کے ہاتھوں اپنی نااہلی کے بعد انھوں نے چند دن مری میں بھی گزارے تھے۔ ان دنوں میں جب بھی وہ کسی عوامی مقام پر نظر آتے تو لوگ ان کی طرف دوڑے چلے آتے۔ ایسے ہی ایک دن مری سے اسلام آباد آتے ہوئے بہارہ کوہ کے مقام پر کارکنان کی ایک بڑی تعداد نے ان کے قافلے کو گھیر لیا۔ شیر آیا شیر آیا کے نعروں کے درمیان لوگ ان کی گاڑی کو چومتے اور روتے رہے۔ اب مگر ان کا قافلہ مریڑ چوک سے چلنے کے بعد سواں پُل عبور کرتے ہوئے جی ٹی روڈ پر چڑھنے جارہا تھا۔ نوازشریف اس وقت روات میں تھے جب انھیں بذریعہ خواجہ سعد رفیق پیغام ملا کہ آپ ان علاقوں سے جلد از جلد نکل جائیں کیونکہ سیکیورٹی کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ نوازشریف کی گاڑی اچانک قافلے کے درمیان سے نکلی اور انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھنا شروع ہوگئی۔ اسی عمل میں انھوں نے گوجر خان ، سوہاوہ اور دینہ جیسے علاقوں میں طے شدہ قیام اور خطاب بھی نا کیا اور جب خطاب کرنے کی نیت سے بریک لگائی تو وہ جہلم پہنچ چکے تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ گذشتہ طے شدہ مقامات پر نا رُکنے کے سبب جہلم کے بارے میں بھی یہی تاثر پھیل گیا کہ نوازشریف یہاں بھی رُکے بغیر ہی آگے گزر جائیں گے۔ ان کے انتظار میں جمع ہونے والے کارکنان کی بڑی تعداد واپس جانا شروع ہوچکی تھی۔ ٹی وی چینلز یہ خبریں بار بار چلا رہے تھے کہ نوازشریف جہلم تو کیا گوجرانوالہ سے پہلے کہیں بھی رُکنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ مگر نوازشریف جہلم میں رُک گئے۔ اس وقت جہلم کے مرکزی میں بازار میں اتنے ہی لوگ موجود تھے جتنے وہاں کسی بھی عام دن کے دوران موجود ہوتے ہیں۔ لیکن نوازشریف کے جہلم رُکنے کے صرف آدھے گھنٹے کے بعد ہی وہاں پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ نوازشریف کی تقریر سُن رہے تھے۔ اگلے ہی دن جہلم سے بھی بڑا جلسہ ان کا گجرات میں ہورہا تھا اور اسی رات وہ گوجرانوالہ میں ایک اور بہت ہی بڑے جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ گوجرانوالہ کی صورتحال تو اس رات ایسی تھی کہ شام چھ بجے تک گوجرانوالہ سٹی میں تِل دھرنے کو جگہ نہیں مل رہی تھی۔ رات نو بجے کے قریب ہونے والے جلسے میں شام چھ بجے کے بعد داخلے پر ہی پابندی لگانا پڑ گئی تھی کیونکہ مزید لوگوں کی گنجائش ہی باقی نا تھی۔اس سے اگلے ہی روز نوازشریف لاہور میں ہماری گذشتہ دس سالہ تاریخ کے سب سے بڑے جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ اور یہ سب کچھ ان کی نااہلی کے فوری بعد ہورہا تھا کیونکہ ایبٹ آباد ، کوٹ مومن، ہری پور اور جڑانوالہ وغیرہ کے جلسے تو ابھی کل کی باتیں ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ نااہلی کے فوری بعد سے ہی نوازشریف کو ملنے والا عوامی ردعمل حیران کُن، پُرجوش اور توقعات سے کہیں سے بڑھ کے ہے۔ لیکن ایک دفعہ پھر دہرانا پڑ رہا ہے کہ جو لو گ سیاسی منظرنامے پر گہری نظر رکھتے ہیں ، ان کے لیے یہ ردعمل توقعات کے عین مطابق ہے۔

ایسا کیوں؟ یہ سمجھنے کے لیے ہمیں تھوڑی گہرائی میں جانا پڑے گا۔ ایسا اس لیے کہ جو سکرپٹ نوازشریف کے خلاف استعمال کیا جارہا تھا، یا جس پر ابھی تک طبع آزمائی کی جارہی ہے، وہ اتنی دفعہ آزمایا جاچُکا ہے اور پِٹ چُکا ہے کہ اب اس کی حالت جاوید ہاشمی سے بھی زیادہ پھٹیچر دکھائی دینا شروع ہوگئی ہے۔ اگر ماضی کو بُھول بھی جائیں تو صرف حالیہ حکومتی مُدت کے دوران یہی سکرپٹ تیسری دفعہ آزمایا جارہا ہے۔ ہمیشہ کی طرح الزامات کی بارش، انھیں دہرانے والے وہی چہرے، وہی میڈیا کا بے پناہ استعمال اور آخر میں پٹاری سے نکلا ہوا وہی مائنس ون فارمولہ۔ جبکہ یہاں تو الزامات بھی وہی تھے جو نوے کے جہادی سیاسی عشرے میں پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی صادق اور امین شخصیت جناب ملک عبدالرحمان کے تیار کردہ تھے۔ مشرفی آمریت میں بھی وہی پٹاری کھولی گئی اور اب کی بار پانامہ لیکس کی آڑ میں بھی وہی خیالی پُلاو چولہے پر چڑھا دیا گیا۔ وہی خاندانی کاروبار کے گرد گھومتی منی لانڈرنگ کے الزامات جن کے بارے میں آج تک یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ پیسہ کونسے سرکاری منصوبے کی بدولت حاصل ہوا، کس طرح اور کہاں سے ہوتا ہوا یہ پیسہ بیرون ملک کون سے بنک اکاونٹ میں پہنچا۔ وہی پہلے سے لکھے ہوئے فیصلے اپنے میز کی دراز سے نکال کر پڑھنے میں یدطولیٰ رکھتے منصف۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا سوائے اس کے کہ اس دفعہ نوازشریف نے ، اپنے قریبی ساتھیوں کے مشورے کے برخلاف ، اپنی گردن عدالت کے ہاتھ پکڑا دی۔ چنانچہ کچھ نقصان ہوگیا یعنی کہ عدالتی نااہلی۔ اگر معاملہ عدالت کے ہاتھ نا جاتا تو سکرپٹ لکھنے والے ابھی تک دیواروں سے ٹکریں مار رہے ہوتے۔ خیر یہاں تک اُن کا زور چلتا تھا تو انھوں نے چلا دیا۔ مگر عدالتی نااہلی کے علاوہ سکرپٹ کے مختلف مفروضوں کا جو حال ہوا ہے اس کا اندازہ لگانا قطعاََ مشکل نا تھا۔ کیونکہ یہ مفروضے ایسے تھے جو ائیرکنڈیشنڈ ڈرائنگ رومز میں بیٹھے غیرسیاسی اذہان کو تو حقیقی محسوس ہوسکتے ہیں مگر سیاست کے زمینی حقائق کے ساتھ ان کا دور دور تک کا واسطہ نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر یہ فرض کرلینا کہ نوازشریف پر دباو ڈال کر انھیں استعفیٰ دینے کے لیے مجبور کیا جاسکتا ہے۔ اس مفروضے کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو 1993 میں نوازشریف کا مستعفی ہوجانا اور دوسری یہ غلط فہمی کہ نوازشریف اعصابی طور پر زیادہ مضبوط نہیں۔ لیکن یہ بات فرض کرتے ہوئے نوے کی باقی ماندہ دہائی سے لے کر آج تک کی تاریخ نظرانداز کردی جاتی ہے۔ حالیہ دور حکومت کو اگر نظرانداز کر بھی دیا جائے تو 1999 کی فوجی آمریت کے بعد والے دنوں سے زیادہ برے حالات کا سامنا نوازشریف نے شاید ہی کبھی کیا ہو۔ اس دور میں نوازشریف سے استعفیٰ نکلوانے کی ذمہ داری جنرل محمود نبھا رہے تھے۔ 12 اکتوبر 1999 کی رات استعفیٰ حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد بھی نوازشریف کو کئی حیلوں بہانوں کے ساتھ استعفیٰ دینے کے لیے آمادہ کرنے کی کوششیں جاری رہیں مگر نوازشریف انکاری رہے۔ چار ماہ کی قید تنہائی کے بعد بالآخر انھیں کراچی بھجوانے کا فیصلہ ہوگیا۔ جنرل محمود اس سفر کو بھی استعفے کی کہانی چھیڑنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ چار ماہ بعد اب نوازشریف کے ہوش ٹھکانے لگ چُکے ہوں گے۔ چنانچہ سات گھنٹوں کے اس سفر میں جنرل محمود نوازشریف کے سامنے بیٹھے رہے صرف اس انتظار میں کہ نوازشریف گفتگو شروع کریں تو استعفے سے متعلق بات چھیڑی جاسکے۔ نوازشریف مگر سات گھنٹوں تک ۔۔۔۔۔۔ جی ہاں سات گھنٹوں تک ۔۔۔۔ جنرل محمود کو نظرانداز کرتے ہوئے خاموش بیٹھے رہے۔ اب تو نوازشریف استعفے کےلئیے بھجوائے گئے پیغامات کا چیزہ لینا شروع بھی ہوگئے ہیں۔ جیسا کہ انھوں 2014 کے دھرنے کے دوران ملے پیغام کی کہانی جی ایچ کیو کی بھری محفل میں سُنا کر لیا تھا۔ ہمارے ہر دلعزیز سکرپٹ رائٹر ناجانے کب استعفوں سے آگے بڑھیں گے ۔ دوسری بات جو کہ فرض کرلی جاتی ہے کہ کہ نوازشریف کی نااہلی کے بعد فوری طور پر مسلم لیگ ن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائےگی۔ یہ ایک ایسا مفروضہ تھا جس کی بنیاد صرف مسلم لیگ کا ماضی اور جنرل مشرف کی آمریت کے دوران مسلم لیگ ن کی ٹوٹ پھوٹ کو بنایا جاتا ہے۔ مگر سوچ کے یہ گھوڑے دوڑاتے ہوئے جو باتیں بات یکسر نظر انداز کردی جاتی ہیں وہ یہ کہ ایک تو مسلم لیگ ن ، ماضی کی مسلم لیگوں سے مختلف ہے کیونکہ گذشتہ نصف صدی سے مسلم لیگوں کو نوازشریف کے قد کاٹھ کی قیادت شاید ہی کبھی دستیاب رہی ہو۔ دوسری بات یہ کہ نوازشریف کی سیاسی طاقت کا محور پنجاب ہے۔ جس وقت نوازشریف کی جماعت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی تھی تو پنجاب حکومت کا کنٹرول بھی ان کے ہاتھوں میں نہیں رہا تھا ۔ اگر سوچ یہ ہے کہ پنجاب کے تگڑے امیدوار ن لیگ چھوڑ کر مخالفین کے ساتھ جاملیں گے تویہ بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے کہ وہ ایسا کیوں کریں گے؟۔ تگڑے سیاسی امیدواروں کے نزدیک ان کے حلقوں میں اپنا کنٹرول انتہائی اہم ہوتا ہے۔ چنانچہ اپنے حلقوں میں بیوروکریسی اور پولیس کی تعیناتیوں وغیرہ میں اپنی مرضی و منشا شامل رکھنے کے لیے وہ حکومت میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ آخرکار یہی باتیں تو ان کا ٹہکا شہکا بنا کر رکھتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اپنی جیت کو یقنی بنانے کے لیے ان سیاسی خانوادوں کو تگڑی عوامی حمایت والی سیاسی جماعت کی پُشت پناہی بھی درکار ہوتی ہے۔ پنجاب کے ہر حلقے میں نوازشریف کے نام پر پڑنے والے بھاری ووٹ بنک کو یہ لوگ نظر انداز کر ہی نہیں سکتے۔ مزید معاملہ یہ ہوا کہ گذشتہ دو مالی برسوں کے دوران بنیادی ڈھانچے کی تعمیرو ترقی کی نیت سے فنڈنگ کا جو سیلاب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کے علاوہ مقامی حکومتوں کی طرف موڑا گیا تھا اس کے بعد تو مقامی دھڑوں کی تمام تر صف بندی بالکل ہی نئی صورت اختیار کر چُکی ہے۔ مقامی حکومتوں کے قیام کے بعد اپنےاپنے علاقوں میں کام کروانے کی نیت سے وہ دھڑے بھی مسلم لیگ ن کے ساتھ منسلک ہوتے دکھائی دئیے جن کا تعلق ایک برس قبل تک مخالف سیاسی جماعتوں سے تھا۔ یہ ایک ایسے تبدیلی ہے جس کی ہزاروں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سیاسی خانوادے ہجرت کی ہمت کیسے کرتے جب انھیں ووٹ دلوانے والےمقامی دھڑے نا تو فنڈنگ کے لیے ان کے محتاج ہوں اور نا ہی انھیں یقین دلانے کو تیارہوں کہ وہ بھی اپنے ایم پی اے یا ایم این اے کی ہجرت میں شامل ہوں گے۔ یوں بے پناہ عوامی حمایت ، پنجاب حکومت کا قائم دائم رہنا، اس کے وسائل و اختیارات پر مضبوط ترین کنٹرول اور سب سے بڑھ کر ہر سطح کے حلقوں میں کام کرنے کے لیے دستیاب فنڈنگ جیسے عناصر ہی تھے جنہوں نے مسلم ن لیگ کے اتحاد کو یقینی بنائے رکھا۔ ایسی صورت میں مسلم لیگ ن وہی چھوڑنا چاہ رہا تھا جسے آئندہ انتخابات میں ٹکٹ ملنے کی امید نا ہو تاہم ایسے لوگ بھی پہلے آپ اور پہلے آپ کی کشمکش میں کھو گئے۔ خفیہ ہاتھوں کا تکیہ جن پرندوں پر تھا وہ دباو کے تحت وعدے وعید تو کرتے رہے مگر وقتِ “شہادت” آتے ہی پتلی گلی سے نکل لیتے۔ اس کی مثالیں کیا دینی، مُشکل کُشا پیر آف سیال شریف کے پاس جمع شدہ استعفوں کی تعداد کا حوالہ ہی کافی ہے۔ آخر آپ سب بھی روز ہی ٹی وی دیکھتے ہیں۔

لیکن کیا یہ معاملہ اتنا ہی سادہ ہے کہ حکومتی اختیار اور وسائل پر ن لیگ کی گرفت نے اسے ٹوٹنے سے بچائے رکھا؟۔ یقیناََ نہیں مگر مسلم لیگ ن کی مضبوطی کو سمجھنے کے لیے ہمیں مزید گہرائی میں غوطہ لگانا پڑے گا کیونکہ یہ بات سمجھتے ہی ہمیں سکرپٹ میں موجود ایک اور جھول واضح طور پر نظر آئے گا۔ اختیارات اور وسائل پر کنٹرول اپنی جگہ مگر اس سب کے باوجود بھی مسلم لیگ ن ایک مضبوط سیاسی گروہ ہے جس کی عوامی حمایت پر کسی شک و شبے کی گنجائش نہیں ہونی چاہئیے۔ نوازشریف نے اپنی سیاست کا آغاز صرف ستائیس برس کی عمر میں کیا تھا جبکہ اکتیس برس کی عمر تک وہ پنجاب کے وزیرخزانہ بن چُکے تھے۔ وہاں سے وہ وزیراعلیٰ پنجاب ، دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب، وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم پاکستان اور ایک دفعہ پھر سے وزیراعظم پاکستان بنے۔ 1993 کے انتخابات سے قبل انھوں نے اپنی جماعت یعنی پاکستان مسلم لیگ ن کی بنیاد رکھی جس نے اپنی پہلی ہی کوشش میں 7980229 جبکہ دوسری کوشش یعنی کہ 1997 کے عام انتخابات میں 8751793 ووٹ حاصل کرلیے۔1999 کے مارشل لا کے بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی یہ جماعت 2002 کے انتخابات میں کہیں دکھائی تک نا دی۔ نوازشریف اس وقت سعودی عرب میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ 2008 کے انتخابات سے صرف چند دن قبل ہی نوازشریف کی پاکستان واپسی ہوئی تو ان کی واپسی کے ساتھ ہی مسلم لیگ ن کے دن ایک دفعہ پھر سے بدل گئے اور یہ جماعت 8007218 ووٹ لے اڑی۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ان انتخابات سے قبل اپنی جماعت کے نامزد کردہ امیدواروں میں سے اکثریت کو نوازشریف جانتے تک بھی نا تھے اور نا ہی ان کے پاس لگ بھگ گذشتہ دس برسوں سے کسی بھی قسم کا حکومتی کنٹرول موجود تھا۔ پھر 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتری اور 14794188 ووٹ لے اڑی۔ ان اعداد و شمار اور تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نا ہوگا کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ نوازشریف کی مقبولیت اور ان کے سیاسی قد کاٹھ میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ پہلے ان کی مخالف سیاسی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی ان کے سامنے سُکڑتی سُکڑتی صرف سندھ تک محدود ہوئی تو بعد میں پاکستان تحریک انصاف نامی نازک کلی بِن کھِلے ہی مُرجھا گئی۔ نوازشریف کو کئی دفعہ اقتدار کے ایوانوں سے نکالا گیا اور وہ ہر دفعہ پہلے سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آتے گئے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کو نوجوانوں کی نمائندہ جماعت قرار دیا جاتا تھا۔ حالیہ عرصے میں مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ نوازشریف کے جلسوں میں بھی بے پناہ نوجوان دکھائی دیتے ہیں ۔ میں صوبائیت کا ہرگز قائل نہیں مگر سیاست نصابی باتوں کے گرد تو بالکل بھی نہیں گھومتی۔ سیاسی حقیقت یہی ہے کہ پنجاب پاکستان کا ساٹھ فیصد حصہ بنتا ہے۔ یہاں سے قومی اسمبلی کی ڈیڑھ سو کے قریب نشستیں ہیں جو کہ مرکز میں حکومت بنانے کے لیے درکار نشستوں سے زیادہ ہی ہیں۔ اسی طرح ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ نوازشریف کو نوے فیصد کے قریب مینڈیٹ پنجاب سے ہی ملتا ہے۔ یُوں لگتا ہے کہ نوازشریف کی شکل میں پنجاب کو “سچاپیار” مل گیا ہے ۔ صرف شمالی اور وسطی پنجاب کے علاقے ، جہاں نوازشریف کے حمایت کے بغیر جیتنا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے، میں سو قریب کے نشستیں ہیں۔ یہ وہی علاقے ہیں جہاں سے 2008 کے انتخابات میں نوازشریف کی صرف وطن واپسی ہی کافی ثابت ہوئی تھی۔ ان علاقوں میں اکثریت کے بعد پنجاب میں حکومت بنانا اور قائم رکھنا بالکل بھی مشکل نہیں۔ 2010 کےسیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد شہبازشریف حکومت کی جنوبی پنجاب میں کارکردگی نے یہاں بھی مسلم لیگ ن کے ووٹ بنک میں اتنا اضافہ کرڈالا کہ 2013 کے انتخابات میں یہ جماعت ان علاقوں سے ملی اکثریت کے بل بوتے پر سادہ اکثریت حاصل کرگئی ۔ نوازشریف پنجاب کے علاوہ ہزارہ ڈویژن، سوات ، شانگلہ، کوئٹہ ، کوہلو وغیرہ جیسے پاکستان کے کئی علاقوں میں بھی بہت مقبول ہیں ۔ یوں پاکستان کا اکثریتی علاقہ نوازشریف کے سیاسی قد کاٹھ کا معترف دکھائی دیتاہے۔ چنانچہ صورتحال کچھ ایسی بن جاتی ہے کہ نوازشریف کو چھوڑ دینے سے ان کے ساتھیوں کو ڈھیلی ڈھالی مرکزی حکومت میں تو شاید حصہ مل جائے مگر پنجاب حکومت کا نوازشریف کے بغیر بننا اور قائم رکھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف مرکز میں بنی کوئی بھی ایسی حکومت جو کہ نوازشریف کو کُہنی مار کر بنائی جائے وہ نوازشریف کی سیاسی طاقت کے سامنے ایسے ہی دکھائی دے گی ، خصوصاََ جب پنجاب حکومت اور سو کے قریب قومی اسمبلی کی نشستوں والی اپوزیشن نوازشریف کے پاس ہو، جیسے کہ قصائی کے سامنے بکرا۔ یقین نا آئے تو 2008-2013 کے درمیان پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت کو ہی یاد کرلیں۔ایسے بھاری بھرکم سیاستدان کو سائیڈلائن کردینا، وہ بھی ایسی صورت میں جب اس کا کوئی متبادل بھی دستیاب نا ہو ، انتہائی بچگانہ سا مفروضہ تھا۔ ایسے مفروضے کو پِٹنا ہی تھا مگر یہاں بات صرف ناکامی کی نہیں رہی کیونکہ بات ردعمل تک پہنچ گئی ہے۔ ہوا یہ ہے کہ اس مقبول ترین قیادت کو انتہائی تسلسل کے ساتھ اپنے بچے جموروں ، بھونپو اینکروں اور حبط الحواس تجزیہ کاروں کی بدولت انتہائی بے رحمی کے ساتھ تحقیر کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ان کے خاندانی کاروبار ، گھریلو معاملات اور روزمرہ کے اخراجات تک ناصرف عدالتی کاروائی کے دوران کھنگالے گئے بلکہ انھیں عدالتی کاروائی کے بعد رات گئے تک ٹی وی سکرینوں پر یوں موضوع بحث بنایا گیا کہ جیسے یہ سب عوامی تفریح کا سامان ہو۔ نوازشریف کے خلاف درخواست گزاروں کے کھیسوں سے الزامات سے آگے کچھ برآمد نا ہوا تو جج صاحبان نے بذات خود فریق بن کر اس ساری کاروائی کی قیادت سنبھال لی اور ہر روز عدالتی کاروائی کے دوران بیسیوں ایسے ریمارکس دیے جاتےرہے جن سے آئین و قانون کی بجائے خالص سیاست جھلکتی ۔ صرف نوازشریف کے حامیوں میں ہی نہیں بلکہ عوام میں بھی یہ بات انتہائی شدت کے ساتھ محسوس کی گئی۔ نتیجتاََ ان کے حامیوں کی حمایت اب ضد میں بدل چُکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتنی طویل ، بے رحم اور مسلسل مشق کے باوجود بھی نا صرف نوازشریف کا حامی ان کے ساتھ کھڑا ہے بلکہ سڑکوں پر بھی ان کے ساتھ نکلنے کو تیار ہے۔ نوازشریف کے حمایت تو پہلے سے ہی موجود تھی مگر احتساب کے نام پر انھیں جس طرح نشانہ بنایا گیا اس نے حمایت اور ہمدردی کو یکجا کردیا۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جو کہ سکرپٹ لکھنے والوں کے وہم و گمان میں بھی نا تھی۔ بلکہ ان کے مفروضے اس سے 180 درجے کے زاویے پر موجود منظرنامے کی امید کررہے تھے۔

ایک سوال تو مگر یہ بھی ہے کہ نوازشریف میں ایسا کیاہے کہ عوام انھیں بار بار واپس لے آتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ان کے ہمعصر سیاستدان اپنے حلقوں سے آگے نا بڑھ سکے۔ نوازشریف کو لانے والی قوتوں کے دوسرے لاڈلے نوازشریف کی طرح کیوں “چھا چُھو” نا سکے؟۔ جواب موجود ہے مگر مزید گہرائی میں جانا پڑے گا۔ نوازشریف کو ہمیشہ ایوانِ صدر، فوجی بغاوت ، عدلیہ وغیرہ کے ذریعے نکالا گیا مگر ان میں سے کسی ایک بھی “ فیصلے” میں عوام کا فیصلہ شامل نا تھا۔ ایسا ہوتا تو عوام انھیں واپس کیوں لاتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا رہا مگر ان کی عوامی حمایت ایک طویل عرصے سے سُکڑتی جا رہی ہے اور آج کل وہ صرف سندھ تک محدود ہے۔ آخر نوازشریف کی عوامی حمایت میں کمی کیوں نہیں آرہی؟ یہ اُلٹا بڑھتی ہی کیوں جارہی ہے؟۔ اس سوال کا جواب بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہی پوشیدہ ہے۔ پاکستان ایک ایسا مُلک ہے جہاں حکومتوں کی ناکامیوں پر مقالہ لکھنا شروع کریں تو سمجھ ہی نا آئے کہ شروع کہاں سے کریں اور اس کا اختتام کہاں ہو۔ حکومتوں کی کارکردگی ماپنے کے جتنے بھی پیمانے ہیں ان کے مطابق پاکستان کی آج تک آنے والی ہر حکومت ہی ناکام تصور کی جائے گی بشمول موجودہ حکومت کے۔ مگر کیا کریں کہ یہ نصابی باتیں ہیں اور ایک دفعہ پھر سے یہ بات دہرانی پڑے گی کہ سیاست نصابی تو ہرگز نہیں ہوتی۔ ماضی میں پاکستان کی بحیثیت ریاست ترجیحات کبھی بھی معیشت ، تعلیم ، صحت ، صنعت ، آبپاشی ، بنیادی ڈھانچہ وغیرہ جیسے معاملات نہیں رہے۔ روز اول سے ہی پاکستان خود کو غیر محفوظ تصور کرتا رہا ہے اور یہ سوچ سقوط ڈھاکہ کے بعد مضبوط تر ہوتے ہوئے اب ایک ریڈلائن کی صورت اختیار کر چُکی ہے۔ چنانچہ محدود وسائل اور دفاع پر غیرمعمولی توجہ کا نتیجہ یہ نکلا کہ دفاع کے سامنے ہر دوسرا مسئلہ فہرست میں نیچے ہی جاتا گیا۔ اس نظریے کے نتیجے میں فیصلہ سازی کا تمام تر اختیار عسکری حلقوں کے ہاتھ ہی رہا اور وقتاََ فوقتاََ ملک کو چلانے کے لیے عالمی طاقتوں کے جنگی عزائم میں اپنا کردار تلاش کرتے ہوئے اس کے بدلے میں ملی اُجرت پر انحصار بڑھتا گیا ۔ دوسری طرف پاکستان کے اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کبھی بھی بہتر نہیں ہوسکے اور نا ہی اس کی کبھی کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ آج کی صورتحال یہ ہے کہ بھارت اور افغانستان کے ساتھ چلے آرہے ہمارے مسائل بارے عشروں سے اپنائے گئے موقف سے ذرا سا اختلاف بھی براہ راست غداری کے زمرے میں چلا جاتا ہے۔ یوں پاکستان کبھی بھی معاشی ترقی کی شکل دیکھنے کے قابل نا ہوسکا۔ اس سارے پس منظر میں نوازشریف کی سوچ ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند سامنے آئی۔ وہ بھارت کے ساتھ اگر دوستی نہیں تو دشمنی بھی نہیں کے نظریے کے تحت مسائل کو حل کرنے کی سوچ رکھتے ہیں تانکہ بھاری بھر کم دفاعی اخراجات کا رُخ عوامی فلاح و بہبود کی جانب موڑا جاسکے۔ اسی طرح افغانستان کے ساتھ مسائل حل کرتے ہوئے پاکستان کو ایک اقتصادی راہداری بنانے کی ان کی سوچ نوے کی دہائی سے ہی موجود ہے۔ ان کی سوچ کے مطابق ایسے کسی حل کے لیے دو قدم آگے بڑھ کر اقدامات کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی کوششیں کچھ زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوسکیں۔ تاہم ملک کے اندر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور معیشت کی بہتری کے لیے مناسب ماحول تیار کرنے کے حوالے سے وہ کچھ اقدامات کرنے میں کامیاب ضرور رہے۔ چونکہ اس کی تاریخ خاصی طویل ہے اسی لیے ہم حالیہ دور حکومت کو ہی مثال بنائیں گے۔ 2013-14 کے مالی سال میں ، جب نوازشریف کی حکومت آئی تو ، اس کے پہلے بجٹ کا حجم 4057 ارب روپے تھا۔ آئندہ برس یعنی 2014-15 کے مالی سال میں اضافے کے بعد یہ حجم 4235 ارب روپے ، 2015-16 میں 4479 ارب روپے، 2016-17 میں 4841 ارب روپے جبکہ 2017-18 کے مالی سال کے لیے یہ حجم تقریباََ 4751 ارب روپے تک پہنچا۔ اسی طرح اندرونی محصولات کی مد میں حکومت ہر سال مسلسل اضافہ کرتی ہوئی اسے 1615 ارب روپے سے 4013 ارب روپے تک لے آئی ہے۔ خیال رہے کہ یہاں دئیے گئےزیادہ تر اعدادوشمار حتمی ہیں نا کہ مجوزہ ، ماسوائے 2017-18 کے مالی سال کے جسے ابھی تکمیل کے مراحل سے گزرنا ہے۔اس کے علاوہ یہ بات بھی اہم ہے کہ حاصل کیے گئے اندرونی و بیرونی قرضے یا سرمایہ کاری بجٹ کا حصہ ہی ہوتے ہیں۔ اہم ترین بات مگر یہ ہے کہ اگر ضمنی اور غیر واضح اخراجات کوایک طرف رکھ دیا جائے تو بھی 2013-14 کے مالی سال کے بجٹ میں دفاعی اخراجات کے لیے 630 ارب روپےخرچ کیے گئے جبکہ دفاعی مد میں رسیدیں، پنشن اور اوور ڈرافٹنگ اس کے علاہ تھی۔ اس کے مقابلے میں اسی برس مجموعی نیشنل پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام المعروف پی ایس ڈی پی کا حجم اگرچہ 851 ارب روپے رکھا گیا تھا مگر آئی ایم ایف کی جانب سے اخراجات کو قابو میں رکھنے کی شرط پر چُھری اس برس بھی پی ایس ڈی پی پر ہی چلی تھی۔ تاہم پانچ برس بعد صورتحال یکسر مختلف دکھائی دیتی ہے۔ 2017-18 کے مالی سال کے لیے دفاعی اخراجات کی مد میں تو 920 ارب رکھے گئے مگر پی ایس ڈی پی کے لیے 2113 ارب روپے رکھے گئے۔ اسی طرح گذشتہ برسوں کے دوران بھی پی ایس ڈی پی کے تحت اخراجات میں مسلسل اضافہ کیا جارہا تھا۔ اگر بات ابھی تک آپ کی سمجھ میں نہیں آئی تو سادہ ترین الفاظ میں اسے یوں بیان کیاجاسکتا ہے کہ جیسے ہی پاکستان کی آمدن کے ذرائع میں اضافہ ہوتا گیا ، نوازشریف ان وسائل میں سے زیادہ تر کا رُخ دفاع کے بجائے میں تعمیروترقی کی طرف موڑتے رہے۔ اور یہیں سے ان کے لیے مسائل جنم لیتے ہیں۔ یہ سوچ اور عمل پاکستان کی بوائز ، باباز اینڈ بابُوز پر مشتمل طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی سوچ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ نوازشریف بھارت نواز، غدار اور سکییورٹی رسک قرار پاتےہیں اور یہ طاقتور اتحاد اسی سوچ کو بنیاد بناتے ہوئے نوازشریف کا شکار کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا۔ نوازشریف کی اسی سوچ کے مطابق یہ جوہری تبدیلی لانے والے ان کے “سپاہ سالار” اسحاق ڈار نشان عبرت بنا دیے جاتے ہیں۔ تاہم عوام کی سوچ اس معاملےمیں بہت مختلف ہے۔ یہ درست ہے کہ عوام کی بڑی تعداد ان تکنیکی باریکیوں کو نہیں سمجھتی مگر اس تبدیلی کے نتائج انھیں ضرور دکھائی دیتے ہیں۔ طالع آزماوں اور مطلق العنانیت کےہاتھوں صدیوں سے پِس رہی اس خطے کی عوام کو اس تبدیلی سے کسی نا کسی حد تک ریلیف ملتا ہے۔ یہیں سے ایل این جی پاور پلانٹس کے لیے پیسے جاتے ہیں۔ تین دہائیوں سے سردخانے کی نظرہونے والا نیلم جہلم ہائیڈور پاورپلانٹ تعمیر ہوتا ہے۔ داسو اور بھاشا ڈیم جیسے منصوبوں کے لیے زمین خریدی جاتی ہے۔ میٹرو بس سروسز تعمیر ہوتی ہیں۔ فرانزک لیب بنتی ہے۔ دیہی علاقوں تک سڑکوں کا جال پہنچتا ہے۔ ہسپتالوں کے حالات بہتر ہوتے ہیں اور صحت کارڈز عوام تک پہنچتے ہیں۔ ایل این جی ٹرمینلز اور گیس کی ترسیل کے لیے پائپ لائنز تعمیر ہوتی ہیں ۔ ضرب عضب اور ردالفساد جیسے اہم ترین آپریشنز کے لیے اخراجات دستیاب ہوتے ہیں۔ یُوں دہشتگردی میں کمی آتی ہے۔ کاروباری و معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے اور معاشی نمو چھ فیصد کی طرف کا سفر طے کرتی دکھائی دیتی ہے۔ انھی تبدیلیوں کی وجہ سے وہ معاشرہ ، جو کہ 2013 میں دہشت گردی و توانائی کے بحران کے سبب اپنی بقا تک کے خطرات سے دوچار تھا، اب پانچ برس بعد تیسری دنیا کےکسی بھی عام ملک کی طرح مہنگائی اور بیروزگاری جیسے مسائل کے بارے سوچنے کے بھی قابل ہوا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ تمام تر مخالفت کے باوجود دستیاب وسائل کا رُخ عوام کی طرف موڑنا ہی دراصل وہ وجہ ہے کہ دھرنے ، لاک ڈاون ، بھاری قرضوں کی گردان ، معاشی سیمینار، کرپشن ، منی لانڈرنگ، بھارت نوازی اور سیکیورٹی رسک کے نام پر لگے کئی سرکس دیکھنے کے باوجود بھی نوازشریف مقبول ترین سیاستدان کی حیثیت برقرار رکھتے ہیں۔

لیکن ۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔ لیکن جب کسی بھی معاملے کا ڈھنڈورا اتنے زور و شور سے پیٹا جاتا ہے تو اس کے اثرات کسی نا کسی حد تک تو نظر آتے ہی ہیں۔ چنانچہ یہ سکرپٹ دوبرس تک بھگتنے کے بعد مسلم لیگ ن کے لیے بھی صورتحال کسی حد تک گھمبیر تو ضرور ہوئی۔ من گھڑت خبروں ، نوازشریف کی نااہلی اور من پسند پیشگوئیوں نے خوب رنگ جمایا اور وہ بھی ایسے وقت میں جب عام انتخابات صرف ایک برس ہی دور رہ گئے تھے۔ گذشتہ چار برسوں سے مسلم لیگ ن کی نوازشریف حکومت یا تو حکومتی امور نمٹانے میں مصروف تھی یا پھر اپنے خلاف ہوئی سازشوں کا مقابلہ کرنے میں۔ اس سارے عرصے میں کسی بھی موقع پر مسلم لیگ ن نا تو اپنی تنظیم نو پر توجہ دے سکی اور نا ہی اپنی عوامی حمایت کا کوئی مظاہرہ دکھانے کی طرف راغب ہوئی۔ اس سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلم لیگ ن نے اپنی حکومتی مدتوں کے ساتھ جُڑی تیسرے برس کی نحوست سے جان چھڑوانے کے لیے خاموش حکومت بننے کا رستہ چُن لیا اور ساری توجہ تعمیروترقی پر دی۔ چنانچہ مسلم لیگ ن کے سیاسی اور غیرسیاسی مخالفین نےاس صورتحال کا خوب فائدہ اٹھایا۔ جہاں حکومتی علمداری کو کُھل کر چیلنج کیا گیا وہیں حکومتی خاموشی کے جواب میں ہر انداز اور ہر پلیٹ فارم نوازشریف کی تحقیرکرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس حکومتی حکمت عملی کا فائدہ تو یہ ہوا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت ماضی کی روایات کو توڑتے ہوئے تیسرے برس میں ہی ختم ہوجانے کی بجائے پانچویں برس میں داخل ہوگئی ، انتخابی وعدوں پر عملدرآمد کے معاملے میں پیشرفت ہوئی ، بہت سے شروع کیے گئے منصوبے تکمیل کے قریب پہنچے اور حکومت صرف اپنی کارکردگی کی وجہ سے قائم رہتی دکھائی دی۔ تاہم نقصان یہ ہوا کہ حکومتی علمداری کی حالت بھی جاوید ہاشمی کی طرح ہی پھٹیچر ہوگئی اور انتہائی نچلے درجے کے سرکاری ملازم بھی اسے چیلنج کرتے رہتے مگر حکومت کچھ بھی نا کرپاتی۔ سرکاری ملازم وزیراعظم کے احکامات کو بذریعہ ٹویٹ مسترد کرتے پائےگئے ، وزیراعظم کے جہاز کو اپنے ہی ملک کے اندر ان ہی کے ماتحت ادارے اترنے کی اجازت نا دیتے جبکہ ان کے مخالفین کو پورے پروٹوکول کے ساتھ گھمایا پھرایا جاتا رہا۔ وزیراعظم کو غدار، گاڈ فادر، سیسئلین مافیا اور نا جانے کیا کیا خطاب دیے جاتے رہے اور انجام یہ ہوا کہ عدالت نے ملکی آئین و قوانین کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے ایک غیرسرکاری ڈکشنری سے اپنی من پسند متنازعہ تعریف دریافت کی اور اسی کے بل بوتے پر ملک کے منتخب وزیراعظم کو نااہل کردیا۔ مخالفین تو مخالفین ، نوازشریف کے کئی عشروں سے وفادار چند ساتھی بھی اسے ان کی سیاست کا اختتام سمجھ بیٹھے اور ان کی اپنی ہی جماعت کے اندر سے مخالفت میں آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں۔ مزید مصیبت یہ ہوئی کہ انھیں اپنی بیگم کے علاج کے لیے لندن کا سفر کرنا پڑا۔ ایسے وقت میں ان کے چند قریب ترین ساتھی بھی انھیں پارٹی پر بوجھ تصور کرنا شروع ہوگئے اور یہ مشورہ دیتے پائے گئے کہ نوازشریف کو چاہئیے کہ مسلم لیگ ن کو اپنے بھائی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے حوالے کرنے کے بعد خود اپنی بیگم کے علاج پر توجہ دیں۔ لیکن اس صورتحال میں ان کی صاحبزادی مریم نواز ان کی حمایت میں بھرپور انداز سےسامنے آئیں اور اس بات پر ڈٹ گئیں کہ وہ اپنے والد کو اس انداز میں خاموشی کے ساتھ سیاست سے ریٹائر نہیں ہونے دیں گی۔ ایک طرف جہاں انھیں لاہور میں ضمنی انتخاب کا معرکہ درپیش تھا وہیں جماعت کے اندر بے چینی کے ساتھ ساتھ اپنے ہی خاندان کے اندر سے بھی انھیں بے اعتنائی کا سامنا تھا۔ مریم نواز کے چچا زاد بھائی اور شریف فیملی کی دوسری سیاسی نسل کے سب سے تجربہ کار شخص حمزہ شہباز نے ایسے موقع پر طویل وقت کے لیے بیرون ملک جانا پسند کیا تو ان کے چچا شہباز شریف ،جو کہ پورے پانامہ کیس کے دوران ایک پراسرار سی خاموشی اپنائے ہوئے تھے ، نے نوازشریف کی نااہلی کے بعد بھی خاموش رہنے کا ہی انتخاب کیا۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ جو باتیں شہبازشریف اپنے رشتے کی وجہ سے کہنے سے لاچار تھے وہ ان کے یارِ غار چوہدر نثار ، اپنی حقیقی و غیرحقیقی رنجشوں کا تڑکا لگاتے ہوئے ، سرعام کہہ رہے تھے۔ لیکن ان مشکل ترین حالات میں بھی مریم نواز لاہور میں اپنی والدہ کی انتخابی مہم تنِ تنہا چلاتی رہیں اور تمام تر ریاستی ہتھکنڈوں کے باوجود بھی انھوں نے یہ ایکشن جیت کر دکھایا۔ نوازشریف کی نااہلی کے بعد وہ مسلسل اپنے ٹویٹر اکاونٹ ، تقریروں ، میڈیا کے ساتھ بات چیت ، انٹرویوز وغیرہ جیسے ہر دستیاب فورم کو انتہائی مہارت کے ساتھ استعمال کرتی دکھائی دیں اور مسلم لیگ ن کو وہ جارحانہ و توانا آواز فراہم کی جو کہ گذشتہ چار برسوں سے کہیں کھو چُکی تھی۔ اپنی اسی کھلے عام “ فائرنگ ” میں انھوں نے کسی کو بھی نا بخشا۔ مہرے کو مہرہ کہا ، سازشی کو سازشی کہا ، بغضی کو بغضی کہا اور جواب میں شُتر بے مہار دندناتے مخالفین جواز تراشتے دکھائی دینا شروع ہوگئے۔ رہی سہی کسر سیاسی و غیرسیاسی مخالفین نے اپنی حماقتوں اور غیرضروری پھرتیوں سے پوری کردی۔ نوازشریف کا بیرون ملک جانا ڈیل قرار پایا کہ اب وہ واپس نہیں آئیں گے۔ نوازشریف کا ملک واپس آنا ڈیل قرار پایا کہ وہ ڈیل کرکے آرہے ہیں۔ وقت گزرتا گیا۔ خواہشیں خبریں بنتی رہیں اور چند ہی گھنٹوں کے اندر اندر پٹتی رہیں ۔استعفوں کے آنے اور پرندوں کے اڑنے کا انتظار طویل تر ہوتا ہوگیا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مخالفین کے ساتھ عوامی بے اعتنائی بھی بڑھتی ہی گئی۔ عدالتی حکم پر بنے ریفرینسز کے غبارے سے ہوا ہر پیشی کے ساتھ نکلتی رہی اور اب یہ عالم ہے کہ نوازشریف نے جیسے ہی اپنی عوامی رابطہ مہم شروع کی تو چار سالوں سے خاموش مگر تازہ دم ان کے حامیوں کی تعداد اور جوش و جذبہ دیکھ کر مخالفین کے ہوش اڑ گئے۔ بڑے بڑے جگادری تجزیہ کار جو آج سے چھ ماہ پہلے سکرپٹ کی طاقت اور سکرپٹ رائٹروں کے لاڈلوں کو ناقابل شکست قرار دے رہے تھے ، آج نوازشریف کی سیاسی مضبوطی، حکمت عملی اور سکرپٹ کی ناکامی کا رونا رو رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے سامنے کھڑی کی گئی رکاوٹیں ایک ایک کرکے خود ہی ہٹتی چلی جارہی ہیں۔ مسلم لیگ ن تازہ دم اور پرجوش دکھائی دیتی ہے جبکہ انکے مخالفین تھکاوٹ اور ذہنی پسپائی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں جماعت کے اندر سے سر اٹھاتی آوازیں اب کونے میں بیٹھے دہی کھانے میں مصروف ہیں وہیں مخالفین کے پاس کچھ نہیں بچا تو وہ وقت گزارنے کی خاطر سیکیورٹی رسک اور ختم نبوت جیسے معاملات سے دل بہلانے میں مصروف ہیں۔

قصہ مختصر یہ ۔۔۔۔ گو کہ سطحی ہی سہی مگر ایک طوفان ضرور اٹھا تھا جو کہ اب گزر چکا۔ اس سارے طوفان میں نوازشریف کو جو نقصان پہنچا وہ بھی ان کی اپنی غلطی کی وجہ سے ہی ممکن ہوسکا نا کہ کسی دوسرے کی طاقت سے۔ دلچسپ بات یہ کہ اس سطحی طوفان سے ابھرنے کے لیے نوازشریف کو کچھ بھی نہیں کرنا پڑا۔ تاہم وہ کچھ کرنا ضرور چاہتے ہیں۔ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں یہ بحث تب چھیڑیں گے جب آئندہ چند ماہ میں مسلم لیگ ن مستقبل بارے اپنا منشور سامنے لائے گی اور انتخابی مہم کے خدوخال واضح کرے گی۔ فی الحال تو اسی خبر پر گزارہ کرنا پڑے گا کہ مریم نواز آئندہ انتخابات میں این اے 120 سے حصہ لیں گی۔ یہی نہیں بلکہ وہ اسی حلقے میں واقع پنجاب اسمبلی کے ایک حلقے سے بھی انتخابات لڑنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ہمارے ہاں وزیراعظموں کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے اس کی روشنی میں ناجانے کب اگلے دو تین برسوں کے اندر اندر کسی کو پنجاب سے ترقی دے کر مرکز میں بھیجنا پڑجائے۔ آخر امرتا کی بہت سی اقسام ہوتی ہیں۔

* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *

یہ منظر تھا ماڈل ٹاون سیکریٹریٹ کا اور این اے 120 میں فتح کے بعد خطاب کررہی تھیں مریم نواز

“ آپ جانتے ہو ، میرے بھائیو میری بہنو آپ جانتے ہو ، کیا آپ جانتے ہو کہ آج آپ نے کتنا بڑا کام کردیا۔ آج آپ نے نا صرف ان سے مقابلہ کیا جو میدان میں کہیں کہیں نظر آتے تھے بلکہ ان سے بھی مقابلہ کیا جو نظر بھی نہیں آتے۔ اور ان سازشوں کے باوجود جو ہمارے خلاف کی گئیں , پاکستان مسلم لیگ ن اکیلی کھڑی تھی ، ایک طرف پاکستان مسلم لیگ ن یہ الیکشن لڑ رہی تھی تو دوسری طرف وہ سب قوتیں کھڑی تھیں جو بار بار منتخب وزرائے اعظم پہ وار کرتی ہیں۔ “

این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں فتح کے بعد 17 ستمبر 2017 کے روز مریم نواز کے خطاب سے اقتباس

* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *

یہ منظر تھا الحمرا ہال کا اور ورکرزکنونشن سے خطاب کررہے تھے نوازشریف

“ جن حالات میں آپ نے یہ الیکشن لڑا ہے ، میں دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہمارے بزرگوں نے جو مریم کے سر پہ ہاتھ رکھا ، ہماری بہنوں نے جو مریم کا ساتھ دیا ، بھائیوں نے جس عقیدت کا ثبوت دیا ہے ، میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں آپ کا شکریہ ادا کرسکوں۔ لندن میں، میں اپنی بیگم کلثوم کا علاج کروا رہا تھا اور یہاں وہ الیکشن ہورہا تھا ۔ اور مریم جہاں جاتی ، جس محبت سے آپ پھول نچھاور کرتے تھے ، نوازشریف کا دل چاہتا ہے کہ حلقے کے ایک ایک ووٹر کے سر پہ میں پھول نچھاور کروں۔ حلقے کے ایک ایک ووٹر کا ماتھا چُوموں، انھیں اپنے گلے سے لگاوں۔ آپ نے میرا مان رکھا۔”

این اے 120 کے ورکرز کنونش سے 4 اکتوبر 2017 کے روز نوازشریف کے خطاب سے اقتباس۔

4 thoughts on “Gehreean

  • January 28, 2018 at 9:38 am
    Permalink
    بہت خوب تجزیہ
    نوازشریف عوام کے نمائندے ہیں اور عوام کی بات کرتے ہیں مجھے یاد ہے کہ 1992 میں جب نوازشریف کی حکومت آئی تھی تو انہوں نے مڈل ایسٹ تک سڑک اور ریل پٹری بچھانے کا پلان دیا تھا تاکہ پاکستان کی ٹریڈ بڑھے سی پیک نوازشریف کا وہی وژن ذرا مختلف شکل میں ہے
    اللہ پاک نوازشریف کی مشکلات نہیں بلکہ اس ملک کی مشکل آسان کرے اور نوازشریف دوبارہ آئے، آمین
    Reply
  • January 28, 2018 at 10:59 am
    Permalink

    An impressive analysis in deep depth.
    Good controlled and integrated series of events and background conspiracies.
    But
    But
    But
    all these is of past
    Please
    Please
    Please
    We do want to know about coming senate and general elections and political groupings in near furure.
    Regards,
    @goharshamke
    Khaled Gohar

    Reply
  • January 28, 2018 at 11:01 am
    Permalink

    Very very thanks for writing over pak politics after a long long waiting

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *