Zainab Aur Hum

زینب اور ہم

بلھے شاہ کے کلام سے گونجتی گلیاں اور بازار

او خواب سی جگدے ویلے دا

پل سوں کے خواب گنوا بیٹھے

دل کالی رات توں ڈردا سی

اساں قسمت رات لکھا بیٹھے

قصور شہر کی بھی قسمت میں کالی راتیں لکھی گئیں، وجہ بنی وہاں بچوں کے ساتھ ہونے والی درندگی زینب بھی ان میں سے ایک ہے

یوں تو یہ خبر میری سماعت پر بجلی کی طرح گری کہ بلھے شاہ کے قصور میں ایک بے قصور سات سالہ بچی کو زیادتی کے بعد بے دردانہ انداز میں قتل کر دیا گیا،دفتر نے معاملے کی حساسیت کو جانچتے ہوئے مجھے قصور بھیجوا دیا،دماغ غصے جبکہ دل جذبات سے بھرا ہوا تھا کہ انتظامیہ اور پولیس کی بے حسی ایک اور بچے کی موت کا سبب بن بیٹھی

لاہور سے جیسے ہی قصور کی حدود میں داخل ہوا تو زینب کی ان پانچ راتوں کی سسکیاں سنائی دینے لگیں ،اس کی آہ و پکار ، ماں ، ماں کرتی چیخیں اور مدد کے لیے آوازیں ، سب میرے کانوں میں گونجنا شروع ہو گئیں، خود کو مضبوط اعصاب کا مانتے ہوئے ان سب خیالات کو دماغ سے نکالنے کی کوشش تو یک دم آنکھوں کی سامنے کوڑے کے ڈھیر پر پڑی معصوم کی لاش نے جھنجوڑ دیا

وہ راتیں جب درندے اسے ہوس کا نشانہ بناتے رہے اور وہ معصوم نہ جانے کیسے وہ سب سہتی رہی ہو گی۔ یہاں یہ بتانا لازمی ہے کہ بطور کرائم رپورٹر بیشتر معاملات میں دل و دماغ جذبات کا سہارا نہیں لیتے لیکن خود ایک بچے کا باپ بننے کے بعد حالات یکسر مختلف ہو چکے ہیں

قصور پہنچا تو تماشائی گدھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تماشا لگا کر بیٹھے تھے یعنی ٹولیوں کی صورت میں جگہ جگہ احتجاج جاری تھے، وہ درد و کرب کسی کو معلوم ہی نہ تھا جس سے زینب کا خاندان گزر رہا تھا لیکن جو معلوم تھا وہ سرکاری اور نجی املاک کا نقصان ، عوام کی خواری اور ہلڑ بازی

دس جنوری ایک بجے کے قریب لگ بھگ دو سو مظاہرین نے تھانہ صدر پر توڑ پھوڑ کے بعد ڈی سی آفس کا رخ کیا تو پولیس کے ساتھ تصادم ہو گیا اور دو مظاہرین کی موت نے مظاہروں پر تیل کا کام کر دکھایا، پھر کیا تھا گلی گلی مظاہرے شروع، اسپتال چوک چوراہوں بازاروں اور شاہراوں پر توڑ پھوڑ میں شدت آ گئی

نااہل پولیس نے نااہلی کا ثبوت دیا اور مظاہرین کو ان کے حال پر چھوڑ دیا

تماشائی گدھوں کے بعد سیاسی گدھ زینب کی لاش پر اپنا حصہ لینے پہنچنا شروع ہو گئے، جنازے سے لے کر تدفین تک ان گدھوں نے معصوم زینب کی لاش کو نوچا تاکہ اپنے مقاصد پورے کر لیں، گیارہ جنوری بھی ان سیاسی گدھوں کے ساتھ ہی شروع اور اختتام پزیر ہوا لیکن فرق صرف اتنا تھا کہ معصوم کی موت سے شروع ہونے والا معاملہ منوں مٹی تلے دب چکا تھا اور اب ہر زبان پر سیاسی اور زاتی نعرے موجود تھے، زینب کے قاتل پکڑے گئے یا نہیں وہ کسی کو یاد ہی نہ تھے، وہ مظاہرین جو کل تک زینب کے لیے انصاف مانگ رہے تھے آج وہ کسی نہ کسی سیاسی یا مزہبی جماعت کے نعرے لگا رہے تھے

قصور کی سرد راتوں میں سسک سسک کر جان دینے والی زینب آج کسی کو یاد نہ رہی تھی۔

زینب سے پہلے ایمان فاطمہ، فوزیہ، نور فاطمہ، عائشہ آصف اور لائبہ بھی یہ سب سہہ چکی ہیں ۔

ثنا، تہمینہ ، عمران، بابر اور عثمان کو بھی درندے نوچنے کے بعد قتل کر چکے ہیں

ان معصوموں کی لاشوں نے جہاں کرپٹ اور نااہل پولیس اور انتظامیہ کی اوقات دکھائی وہیں بے حس اور مردہ ضمیر قوم کی بھی نشاندہی کی کہ ان کے مرنے کا کسی کو دکھ نہیں لیکن ان کے لاشوں پر اپنی اپنی دکان لگانے کا سب کو حق ہے۔

زینب امین چار جنوری کو گھر کے باہر سے اغوا ہوئی تھی جبکہ نو جنوری کو اس کی لاش کوڑی کے ڈھیر سے ملی جسے نہ صرف زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا بلکہ اس کو قتل بھی بے دردی سے کیا گیا تھا اور پولیس تاحال معصوم کے قاتلوں کو گرفتار کرنے سے قاصر ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *