Kya Kya Likhoon?

یہ ایک عجیب تحریر ہے، بلا ارادہ شروع ہونے والی اس تحریر کے عدم سے وجود میں آنے کا موجب احساس کی شدت تھا، اپنے آپ کی تلاش، گزرے ہوئے کل کی ڈھنڈیا ہے یا اپنی مرجھاتی ہوئی جڑوں کی آبیاری کر کے زندگی دینے کی ایک کوشش؟ یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں۔ بہرحال ایک بات طے ہے، ناسٹلجیا سے بھری یہ تحریر میرے اور ہم سب کے اس اصل کی مظہر ہے جو دھندلاتا جا رہا ہے۔
ٹویٹر پر دو سو چالیس الفاظ کی قید کے ساتھ اپنا مافی الضمیر لکھنے کیلئیے چند ٹویٹس کیں تو میری طرح چند اور ہم خیال دوستوں کے یادوں کے دریچے بھی وا ہو گئے اور یوں ناسٹلجیا سے بھیگے احساسات کے موتیوں کی لڑی پرو ہوتی گئی۔
عین ممکن ہے یہ تحریر آپ کیلئیے نہ ہو، پھر بھی ضرورت ذوق ادبی کی تحت ہی چند لمحات دان کر دیجئیے شاید یہ تحریر آپکو آپ کے گم گشتہ کل سے جوڑنے کا باعث بن جائے۔ اور اگر آپ بھی میری طرح ماضی کی سنہری یادوں میں کھو کر وٹامنز کی کمی پوری کرنے کے عادی ہیں تو یہ تحریر آپ کیلئیے پاور بُوسٹر سٹیرائیڈ کا کام کرے گی۔ میں بالخصوص آپا حمیرا اجمل، فرقان، مہرتاب، ڈاکٹر میاں صابر حسین اور عابد قریشی کا نہایت مشکور ہوں کہ انہوں نے حصہ لیا۔ ہلکی پھلکی قطع و برید کے بعد تحریر آپکے ذوق کی نذر ہے۔
خیر اندیش
درویش

‏گاؤں کی کھلے آسمان تلے تاروں بھری گرمیوں کی رات، بی بی سی کا سیربین، حقے کی گڑ گڑ اور اچانک آسمان پر کسی بھولی بھٹکی ٹٹیری کی چیخ و پکار۔ ۔ بانوے کے ورلڈکپ کے بعد پیدا ہونے والو، اس رومانس کو تم کیا جانو؟

‏بارش کے بعد مٹی کی سوندھی خوشبو، برگد کی ٹھنڈک، پیپل کی تالیاں، کڑھے دودھ کی مہک، کچے گھر کے شہتیر والے کمرے کا سا ٹھہراؤ، سادگی اور بردباری، بکری کے بچے کو پکڑنے کی ورزش، لکڑی کے کواڑ پر لگی کنڈی کھٹکھٹانے کی جھنجھناہٹ۔ ۔ ۔

‏‎کچی پکی سڑک پر تانگے میں بیٹھے منہ پر تازہ ہوا کے تھپیڑے ، دور اینٹوں کے بھٹے سے نکلتا دُھواں ، گڑ اور رو کی میٹھی مہک یا پھر ٹیوب ویل کی ہودی میں چھلانگیں مارتے لڑکے ۔ ۔ ۔ کیا کیا لکھوں؟

‏‎پانی کے کھال میں بہتے پانی کا شور، برسیم کے کھیت میں پڑے صبح دم شبنم کے قطرے، گندم کی لہلہاتی بالیاں، کوئل اور کوے کی آنکھ مچولی، دور پس منظر میں آٹا پیسنے کی چکی کی کوُک، چھڑی سے سائیکل کا ٹائیر چلاتے بچے کی سی آزادی کا احساس ۔ ۔ کیا کیا لکھوں؟

‏‎مٹی سے بنے ہوئے چولہے میں تیل سے بھیگا بوُرا، دہکتی لکڑیاں اور دھواں، بالن چمٹا اور پھونکنی، دیسی گھی کے پراٹھوں کی خوشبو ، دیسی انڈے کی پیلی ٹیٹ زردی، ابو جی کا لشک پشک کے منجی پر بیٹھ کر آواز دینا” او روٹی جلدی لے آو دفتر جانا اے” ۔ ۔ ۔ اب کیا کیا لکھوں؟

‏‎لسی مکھن پراٹھے کا بریک فاسٹ، لسی اچار روٹی کا لنچ، لسی سالن روٹی کا ڈنر، آٹھ بجے رات سونے کی تیاری، فجر کے وقت مدھانی چلنے کی آواز، دادی کا جمع کیا ہوا دیسی گھی کا کنستر، چائےکے ساتھ السی کی پنیاں، نئے مہمان کی آمد پر پنجیری کی تیاریاں۔ ۔

‏‎ہفتے دس دن میں لکڑیوں کی آگ پر پکتا گجریلے کا پتیلا ، پلیٹوں میں سلیقے سے ڈال کر ہمسایوں میں بانٹنا، بہاولپور سے منگوائی انگوری سے سوہن حلوے کی تیاری، زیادہ سارے ڈرائی نٹس پرات میں بچھا کر سوہن حلوہ اوپر سے انڈیل دینا، پورے محلے میں حلوے کی مہک ۔ ۔ ۔کیا کیا لکھوں؟

‏‎‎مٹی کی ہانڈی میں پکتا ساگ، گھر کے صحن میں پھرتی مرغیاں، پرانی چھت سے جھانکتی سورج کی کرنیں، صبح نلکے کا اُترا ہوا پانی، سر پر کھیسوں کی گٹھڑی رکھے بوڑھی عورت، محلہ کے گھر میں قرآن پڑھتے بچے. ۔ ۔

‏‎‎شادیوں پہ گدِا، مرگوں پہ بین، ادرک ہلدی اور نیم کے درخت سے ہر بیماری کا علاج، شیونگ کریم کے بغیر شیو کرتا نائی، کپاس کی چنائی، گندم کی بجائی، پھر مل کر فصلوں کی کٹائی، جو کرا ریا امریکہ کرا ریا پر اتفاق۔ ۔ ۔ کیا کیا لکھوں؟

‏‎‎پیڑھی پر بیٹھے ہاتھ میں تیل کی “کولی” پکڑے ماں کے ہاتھ سے سر کی مالش، گھڑے کا پانی، بھینس کی بولھی، ایک روپے کے لمبے والے 10 پاپڑ، مسجد کا خراب سپیکر اور اس پر چندہ دینے والوں کے ناموں کی فہرست ۔ ۔ ۔

‏‎ آٹھ بجے پی ٹی وی کا ڈرامہ، نو بجے کے خبر نامے سے گھڑیاں ملانا، شادیوں پر لال کالی گندی دریاں، ڈھنڈے شکر پارے، گھی سے تر سالن، بوتلوں کے “پَیپ” اکٹھے کرتے بچے ۔ ۔ کیا کیا لکھوں؟

‏‎‎کولڈ ڈرنکس کی بوتلوں کے پائیپوں سے پراندوں کے ڈیزائن بنوانا، ساتھ والے گاؤں سے اسپیکر پر ویاہ کی روٹی ورتانے کا اعلان
” ایہ محمد لطیف کھرل نے دو سو نیوندرہ پایا اے اینوں اساں دو کلو کٹے دا گوشت تے کلو جلیب ورتائی اے”
ہاہاہاہا کیا کیا لکھوں؟

‏‎‎بارش میں اینٹوں پر پاؤں رکھ کے بچ بچ کے چلنا، دور سڑک پہ چلتے ٹانگے کے گھوڑے کے ٹاپوں کی کھٹ کھٹ، مویشیوں پہ سواری کرتے بچے، چرخہ کاتتے پونیاں وٹتے دھوپ میں بیٹھی خواتین، گاؤں بھر کا گھوڑی چلا کر سویاں بنانا، سرسوں کےتیل میں تلے ہوئے پکوان۔ ۔ ۔

‏‎‎‎سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی گھر کی عورتوں کا گھرُٹ(چکی) پرجوار اور باجرہ پیسنے کی آواز، تندور اور پتھر کی بنی ہوئی تھوبی پر تازہ روٹیوں کی مہک، گھر کی پتھاری پر بیٹھ کر ناشتہ اور بعد میں گاؤں کی چوپال پر اکھٹے ہوتے مرد اورحقے کی گُڑگڑاہٹ، رات کو الاؤ کے گرد بیٹھ کر لوک گیت اور دوہڑے سننا. کیا کیا لکھوں؟

‏‎‎‎ٹاہلی پر پڑی پینگ اور اسے گول گول گھما کر بل دینا پھر یکدم چھوڑنا اور تیزی سے گھومنا، گڑیوں کے گھر بنانا، شادی کرنا، چھوٹے چھوٹے کپڑے سینا، گڑیا کو جھوٹ موٹ کے حفاظتی ٹیکے لگوانا، اسے چپ کرانا فیڈر پلانا ، درختوں کے نیچے کھیلنا اور کھوہ میں سے نیولا نکلتا دیکھنا چیخیں مار کر بھاگنا۔ ۔ ۔

‏‎‎‎تندوری پر روٹیاں لگاتی عورتیں اور ان عورتوں کی اپنی ساسوں کی چغلیاں، بالٹی میں رکھے ڈھنڈے ہوتے آم، سر پر بستہ رکھے بچے۔ ۔

‏‎‎‎ٹلی بجتے ہی شور مچاتے باہر بھاگتے بچے، سکول کے باہر کھڑا قلفی والا، پانی کے نلکوں پر محلے کے قصے، دروازے کے پردے کے پیچھے سے جھانکتی الہڑ مٹیاریں۔ ۔ ۔

‏‎‎‎وہ صبح صادق اٹھانے کے لیئے ماتھے پہ ماں کا ہاتھ، سخت سردی میں گائے کے تازہ دودھ کی گرماہٹ، وہ شیشم کے درخت کی مسواک اور اس مسواک کا مسوڑھوں پہ چڑھا ہلکا ہلکا سبز رنگ، صحن میں لمبی صفوں پہ محلے کے بچوں کی وہ سالاماً ، جارابًا کی آوازیں، ایک ہاتھ سے نلکا چلاتے نہانا۔ ۔ ۔ کیا کیا لکھوں؟

‏‎‎گندم کی چھان پھٹک اور صحن میں پھیلے سنہری خوشوں کی چادر، چمکتی دھوپ، رسیلے اور میٹھے مالٹے، چھلکوں کا رس دوسروں کی آنکھوں میں دھوکے سے پھینکنا، بھاگتے بھاگتے گندم پر گرنا اور لوٹنیاں لینا، بلاوجہ کِل کِل کرتے ہنستے جانا ،گنے چھیل چھیل کر منہ چھیل لینا۔ ۔ ۔
کیاکیا لکھوں؟

Participants:
@DigitalDarwesh @HumairaAjmal697 @Furqan_pk @DrMianSabir @Mhrtab @AbihQureshi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *