Noon League ki Syasat

جنگل کا سب سے خطرناک سانپ پیر صاحب سے بیعت ہوا تو انہوں نے اسے کسی کو بھی ڈسنے سے منع کر دیا۔ اب جنگل کے جانوروں نے دیکھا کہ سانپ نے ڈسنا چھوڑ دیا ہے تو اسے تنگ کرنے لگے سانپ بیچارہ خاموشی سے ان کی زیادتیاں برداشت کرتا رہا اور ایک دن زخمی حالت میں پیر صاحب کے پاس پہنچا اور انہیں حالات بتائے پیر صاحب نے فرمایا

تمہیں میں نے ڈسنے سے روکا تھا پھنکارنے سے نہیں۔۔۔
بات شروع کرتے ہیں 2013 سے جب میرے سمیت ڈیڑھ کروڑ پاکستانیوں نے پچھلے چودہ سال کی بدترین تاریخ سے جان چھڑانے کے لئے اپنا جمہوری حق استعمال کیا یہ وہ وقت تھا جب پاک فوج کے جوانوں کو “وردی” میں عوام میں جانے سے روک دیا گیا تھا۔ ووٹ کا حق اس لئے نہیں استعمال کیا تھا کہ ہمیں پکے روڈ اور نوکریاں چاہیئے بلکہ اپنی عزت اپنا وقار واپس چاہیئے تھا اور ہوا بھی یہی چار سال میں پاکستان اور پاکستانیوں کا مجروح وقار بحال ہونے لگا اس کی سب سے بڑی مثال چین کی پاکستان میں سی پیک پہ انویسٹمینٹ ہے لیکن پھر ہوا کیا عقل والوں کے لئے سب صاف ہے اور بغض والوں کو بھی حقیقت پتہ ہے۔۔

لیکن آج جس بات پہ بحث کی جائے گی وہ نواز شریف کے بعد حکومت کا رویہ ہے
اس رویے کی ابتدا سینیٹر مشاہداللہ خان کے وزارت سے استعفی سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد ایک لمبی فہرست جن میں پرویز رشید، طارق فاطمی اور راو تحسین شامل ہیں۔۔۔ ڈان لیکس کو پیچیدہ بنایا گیا ورنہ اس میں ایسی کوئی بات نہیں تھی جو ایک باشعور شہری کو نہ پتہ ہو لیکن وہ ایک علحدہ بحث ہے۔
حکومت کا رویہ مدافعانہ تھا یا کوئی حکمت تھی لیکن حکومت وقت کا رویہ نہایت بزدلانہ تھا۔

پھر پانامہ لیکس کے بعد ملک میں ایک غیر یقینی سی کیفیت اور ایک طوفان بدتمیزی تھا جس سے نہ صرف ن لیگ کا ووٹر حیران تھا بلکہ جمہوریت پسند ہر ذہن پریشان تھا چلیں نااہلی ہو گئی لیکن حکومت ابھی بھی سادہ اکثریت کے ساتھ ن لیگ کی ہی تھی۔
پھر نومبر میں شہر اقتدار نے ایک عجیب تماشہ دیکھا چند افراد کے ایک جھرمٹ نے جڑواں شہروں کو یرغمال بنا دیا۔
اور اس سے بڑا تماشہ حکومت وقت کا سادہ اکثریت کے ساتھ پارلیمنٹ میں موجود ہونے کے باوجود بزدلانہ تھا۔
یہاں ایک اور بات کا ذکر نہایت اہم ہے جب سابق وزیراعظم نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی تھی اور صحافیوں اور وزراء کو عدالت کے احاطے میں جانے سے روک دیا گیا۔۔۔ اور دنیا کو ورطہ حیرت میں اس وقت ڈالا گیا جب وزیر داخلہ کو اندر جانے سے روکا گیا۔۔۔ میرے جیسا ووٹر جو ووٹ کا تقدس چاہتا ہے اس صورتحال سے سخت پریشان ہے۔

تو بات ہو رہی تھی ایک نام نہاد دھرنے کی اور دھرنے کی وجہ ایک شق کی تبدیلی جسے واہس اصلی حالت میں کر دیا گیا لیکن دھرنے کا مقصد حکومتی رٹ کا چیلنج تھا۔
اور میرے جیسا ووٹر چاہتا تھا کہ جمہوریت اور ووٹ کے تقدس کو بحال کیا جائے۔

حکومت اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ فاٹا اصلاحات بل جو شروع تو ن لیگ نے کیا تھا لیکن صرف اپنے ایک اتحادی کو خوش کرنے کے لئے یہ بل التوا کا شکار ہے اور چھوٹی بڑی یتیم پارٹیاں بیان بازی اور دھرنوں سے اس بل کا کریڈٹ لینے کے لئے لائن میں کھڑی ہیں۔
نواز شریف کے اقتدار میں ہوتے ہوئے خبروں میں سی پیک کا ذکر ملتا تھا اور سی پیک کے ذریعے مکمل ہوتے ہوئے منصوبوں کی تفصیلات بھی ملتی تھیں لیکن اب حال یہ ہے کہ ٹی وی میں “یو ایس ایڈ” کے اشتہار تو چلتے ہیں لیکن “باعزت ون بیلٹ ون روڈ” جیسے تاریخ میں گم ہو گئ۔

ن لیگ نے اپنی ایک اور کمزوری اس طرح ظاہر کی کہ مریم اورنگزیب جو کہ حکومت کی وزیر اطلاعات ہیں لیکن ان کی بیان بازی سے لگتا ہے وہ وزیر اطلاعات نواز لیگ ہیں۔
ٹھیک ہے آپ اپنی مدت پوری کرنا چاہتے ہیں اور یہ بھی سچ ہے آپ کی راہ میں بہت سارے کانٹے بچھائے جا رہے ہیں لیکن بہت ساری غلطیاں آپ کی ہیں۔

سینٹ الیکشن سے پہلے کچھ کالی بھیڑوں کی کوشش ہے کہ اسمبلی تحلیل ہو جائے اور ایک سرکار تو چاہتے ہیں نگران حکومت کی تشکیل میں ن لیگ کا کوئی کردار نہ ہو۔ جناب آپ سے درخواست ہے ہماری ووٹ کی عزت آپ پہلے خود کریں۔

حکومت کو چاہیئے تھا چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملاتے لیکن نواز شریف کا بطور وزیراعظم رویہ ایسا تھا کہ ایم کیو ایم کے اراکین باوجود کوشش کے ان سے نہ مل سکے۔ اے این پی ایک جمہوریت پسند جماعت ہونے کے باوجود اور آپ کی اتحادی ہونے کے باوجود آج آپ سے دور کھڑی نظر آتی ہے۔۔۔

تو جناب من لب لباب یہ ہے کہ آپ کو پیر صاحب نے شکار کرنے سے منع کیا ہے لیکن دھاڑنے سے نہیں۔۔۔۔۔

One thought on “Noon League ki Syasat

  • December 19, 2017 at 1:46 pm
    Permalink

    عمدہ تحریر اور سب سے بڑھ کر۔حقائق پر۔مبنی،

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *