Mera Kya Qusoor

میرا کیا قصور؟

سنہری آنکھوں میں نمی اور لرزتے ہاتھوں میں تھاما ایف ایس پری میڈیکل کا سٹوڈنٹ آئ ڈی کارڈ،’یہ دیکھیں… میرا کوئی قصور ہے تو بتائیں دن بھر کان پکڑے بیٹھا رہوں گا’
وہی سنہری آنکھیں جن کی چمک نے پہلے دن ہی مجھے مسحور کر دیا تھا- ٹین ایج کے مخصوص اضطراب کا شکار، دنیا کو قدموں میں جھکا دینے اور بہت کچھ کرنے کا عزم لیے، قرآن حفظ کرنے والے بچے تو یوں بھی بہت ذہین ہوتے ہیں اور ایسے بچے تو ہمیشہ سے میرے پسندیدہ رہے ہیں-
ایک جملہ ہمیشہ اس کی زبان پہ رہتا ‘ قاری صاحب نے یہ کہا’
اتنے دن سکول کیوں نہیں آئے ضرور قاری صاحب نے کسی کام سے بھیجا ہو گا
” جی ٹیچر جی”
کامران آپ گھر کیوں نہیں چلے جاتے اب تو حفظ کر چکے…. میں اکثر کہتی… ٹیچر جی میں چلا گیا تو قاری صاحب کے کام کون کرے گا استانی جی کو جب کہیں جانا ہو تو قاری صاحب صرف مجھ پہ ہی اعتبار کرتے ہیں
انگلش اس کے لیے اک اجنبی زبان تھی – اِز، ایز میں فرق کرنا محال تھا- بصد اصرار قاری صاحب سے اجازت لی کہ شام میں میرے گھر آجایا کرے میں بنا کسی فیس کے پڑھا دوں گی – سیکھنے کی لگن نے جلد ہی باقی کلاس فیلوز کے برابر لا کھڑا کیا
انگریزی تقاریر کا مقابلہ ہوا تو میں نے کہا کامران آپ بھی حصہ لیں گے…… میں ٹیچر جی! ہاں جی آپ نے یہ کر دکھانا ہے
اور جب اس کی تقریر ختم ہوئی تو سکول آڈیٹوریم بہت دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا- پیشانی سے پسینہ پونچھتا ہوا وہ میرے پاس آیا تو جی چاہا اسکا ماتھا چوم لوں لیکن وہ شرما جاتا سو کندھے تھپتھپانے پر ہی اکتفا کیا… سینڈ اپس قریب آئے تو بہت ایکسائٹڈ تھا کہ انگلش کے پیپر کی تیاری سب سے اچھی ہے… بڑے شوق سے پہلا پیپر اسی کا اٹھایا تو تقریباً خالی…. چوکیدار کو فوراً مدرسے بھیجا کہ کامران کو بلا لائے اس کا چہرہ دیکھتے ہی دل دھک سے رہ گیا اصرار پہ پتہ چلا کہ پھر ایک زلیخا نے یوسف کا دامن چاک کر ڈالا اور وہ معصوم صفائی بھی نہیں دے سکتا- سوشل بائیکاٹ کے باوجود اسے مدرسے میں ہی رہنے دیا کہ مفت کے ایسے ملازم کہاں ملتے ہیں روز روز
میٹرک کے امتحان میں نمایاں کامیابی پہ پھولے نہیں سما رہا تھا کہ بڑے بھائی کی طرح ڈاکٹر بنوں گا……. اچھے کالج میں ایڈمیشن بھی ہو گیا….. لیکن کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ کالج چھوڑ دیا…. بہت پیغامات بھیجنے کے باوجود کبھی میرے سامنے نہیں آیا…
آج سکول سے باہر نکلی تو سامنے ہی کھڑا تھا کان سے پکڑ کر سکول لے آئ اور کہا میرے سامنے بیٹھ جاؤ اور کان پکڑ لو…… یہ کیا حرکت تھی تمہیں تو ڈاکٹر بننا تھا
سنہری آنکھوں میں نمی اتر آئ
” ٹیچر جی کیسے کرتا مدرسے کے کام، ابو اور قاری صاحب کا اصرار
میرا کیا قصور؟
قصور تمہارا نہیں میرے بچے
قصور ہمارا ہے
کان تو ہمیں پکڑ کے تمہارے سامنے کھڑا ہونا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *