Jis Ka Kaam Ussi Ko Saajhe

جس کا کام اسی کو ساجھے

ہماری قومی زبان اردو نہایت خوبصورت زبان ہے ۔ گھر میں گو کہ ہماری علاقائی زبان “پہاڑی” بولی جاتی ہے لیکن بچپن سے ہی ہمیں اردو بولنے اور لکھنے کی تربیت دی جاتی ہے ۔ جب سکول داخل ہوئی تو ظاہر ہے اردو کے علاوہ دیگر مضامین بھی تھے ۔ شروع شروع میں تو بڑی دلچسپی سے اردو کو سیکھا،سمجھا اور محظوظ بھی ہوئی ۔ مضمون نویسی کے مقابلوں میں حصہ لیا لیکن پھر تبدیلی یہ رونما ہوئی کہ سائنس و جغرافیائی علوم میں دلچسپی کی وجہ سے اردو پیچھے چلی گئی اور مضمون نویسی کے مقابلوں کی جگہ کھیل نے لے لی۔ لہذا اردو ادب سے واقفیت اتنی ہی ہو سکی کہ اسکو بہت “ادب” سےپڑھنا چاہئیے، چونکہ میں ذرا بےادب تھی اسلئیے دور ہی رہی۔

خیر قصہ کچھ یوں ہے کہ قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دل میں خواہش جاگی کہ ہمیں اردو میں کچھ لکھنا چاہئیے ۔ چنانچہ فورا اپنے بہن اور بھائی کو واٹس ایپ ( پیغام بھیجنے کی ایپلیکیشن عام طور پر “دردِ سر” کےنام سےبھی مشہورہے، بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول ہے ) کیا کہ بھئی ہم نے تو مصنفہ بننے کی ٹھان لی ہے اب بتائیں کہ کیا کرنا چاہئیے ۔ بھائی صاحب نے ایک لمبا چوڑا پیغام بھیجا جسکا لب لباب یہ تھا کہ پطرس بخاری،عصمت چغتائی،منٹو اور دیگر کو پڑھنے کے علاوہ ہو سکے تو مولوی عبدالحق کی قبر پر دعا بھی کر آؤ اور اردو کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لو ۔ تجویز پسند آئی اور کچھ جوش بھی ایسا تھا جو کسی سپاہی کو جنگ میں شرکت سے پہلے ہوتا ہے اسلئیے جو کتاب ملی پڑھ ڈالی۔

اردو ادب کے جانے مانے مصنفوں کو پڑھ کر ایک لمحہ کو خیال آیا کہ ان سب کی حیثیت ایک تناور درخت کی سی ہے اور میری زبان و بیان پر دسترس نہ ہونے کے برابر ہے انکے آگے تو میری حیثیت ایک معمولی بیج جیسی ہے لیکن اگلے ہی لمحہ اس خیال کو جھٹک دیا اور یاد کیا جب تیسری جماعت میں مضمون نویسی میں اول انعام حاصل کیا تھا۔ کتابیں پڑھ لینے کے بعد، میں کسی آمد کےانتظار میں رہی کہ بس ایک بار دماغ میں کچھ خیالات جمع ہوں تو اسکے بعد میرا قلم ہو گا اور اوراق ہوں گے۔ اپنی کتب (جو ابھی لکھی ہی نہیں تھیں ) کے بارے میں سوچا کہ کیسے آنے والی نسلیں ان سے فیض یاب ہو کر علم و دانش کی سیڑھیاں پروان چڑھیں گی، میری تصنیفات میں پروئے حکمت کے موتی چنتے انکی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں گے اور دعائیہ انداز میں کہیں گے کہ اے مصنفِ عالیہ ہم تیرے اس احسان کو کیسے چکا پائیں گے؟؟

لیکن ایسا کچھ ہوا نہیں دماغ نکورے کا نکورا رہا۔ کبھی چودھویں کے چاند کو بغور دیکھا تو کبھی سورج کی کرنوں سے مہکتے سبزاہ زار کو، کبھی کسی ریڑھی بان کو دیکھا تو کبھی کچہری میں کھڑے سائلوں کو،کبھی شیر خوار بچہ کی ہنسی کا جائزہ لیا تو کبھی دیوار پہ لکھے ”بنگالی باباکی کرامات” پر غور و فکر کیا لیکن دماغ کی بتی نہ جلی۔ غرض دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے کی عملی تصویر بن گئی۔ پھر کسی نے میری توجہ “جسکا کام اسی کو ساجھے” پر مبذول کرائی اور اس پر غور کرتے ہی میں نےایک بار پھر اپنی قانون کی کتابوں کا رخ کر لیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.