Siyasi Naahli

سیاسی نااہلی

ویسے تو صوبائی محکموں میں کرپشن کی روک تھام کیلئے اینٹی کرپشن کا ادارہ اور وفاق کی سطح پر ایف آئی اے کا ادارہ پہلے سے ہی موجود تھے مگر مشرف جب اقتدار پر قابض ہوا تو اسکو ایک ایسے قانون کی ضرورت پیش آئی جسکے تحت وہ ایسے سیاستدانوں کو بھی قابو میں کرسکے جنکے خلاف کرپشن میں ملوث ہونے کے کوئی ثبوت نہ ہوں اور ایسے افراد کو بھی گرفت میں لیا جاسکے جنھوں نے کبھی کوئی عوامی عہدہ نہ رکھا ہو۔ سیاستدانوں کو قابو کرنے کی وجہ وفاداری تبدیل کرنیوالوں پر مشتمل ق لیگ کا مجوزہ قیام یا انتقامی کاروائی تھا جبکہ غیرسیاسی یا عوامی عہدہ نہ رکھنے والوں کی گرفت کرنے کا مقصد سیاستدانوں کے عزیز و اقارب اور مشرف انتظامیہ کو ایک آنکھ نہ بھاتی سول بیوروکریسی کے رشتہ دار تھے

چنانچہ جو قانون بذریعہ صدارتی آرڈیننس لاگو کیا گیا اسکا نام ہے نیب آرڈیننس جبکہ اسکا سب سے تباہ کن ہتھیار “وسائل سے زائد اثاثے بنانے کا الزام” ہے. اس الزام کو ثابت کرنے کیلئے پہلی بار “شبہ/پریزمپشن” کی بنیاد پر سزا دینے قانون بنایا گیا جسکے تحت ملزم کے اثاثے اگر اسکے وسائل سے زیادہ پائے جاتے تو یہ پریزیوُم کرلیا جاتا کہ یہ کرپشن کے پیسے سے بنائے گئے ہیں چاہے ملزم کیخلاف کرپشن کا کوئی ایک ثبوت بھی نہ ہو۔ اسہی طرح اگر ملزم کے رشتہ داروں، کاروباری شراکت داروں یا دوستوں کے نام ایسے اثاثے ہوتے جو ان لوگوں کے وسائل سے زائد پائے گئے ہوں تو یہ پریزیوُم کرلیا جاتا کہ ان اثاثوں کا مالک درحقیقت ملزم ہے جو اس نے کرپشن سے خرید کئے اور پکڑے جانے سے بچنے کیلئے اپنے رشتہ داروں یا دوستوں کے نام کروائے

جیسے ہی احتساب بیورو نیب آرڈیننس کے تحت فعال ہوا تو فوراً ق لیگ میں شمولیت سے منکر سیاستدانوں اور انکے عزیز و اقرباء کو نیب کیجانب سے پیشی کے نوٹس جاری ہوئے۔ جو نہ پیش ہوتا وہ تو ڈائریکٹ سزا کا حقدار بن جاتا جبکہ ہر پیش ہونیوالے شخص کو ایک عدد سوالنامہ وصول کرایا جاتا جسکے تحت وصول کنندہ اپنے پڑدادے اور پڑنانے سے لیکر تا تاریخ جملہ رشتہ داروں کی معلومات مع آمدن اور اثاثے کی تفصیل مہیا کرنے کا پابند ہوتا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں پانچ سال سزا کا حقدار ہوجاتا۔ لوگ سزا کے خوف سے نیب کا سوالنامہ وصول کرتے ہی دیوانہ وار معلومات کے فراہمی کیلئے بھاگ دوڑ شروع کردیتے اور اکثر اوقات ایسے رشتہ داروں اور سابقہ کاروباری شراکت داروں کے دروازے بھی کھٹکٹانے پر مجبور ہوجاتے جن سے ملاقات کئے دہائیں بیت چکی ہوتی تھیں، اس ضمن میں کچھ نیب ملزمان کے لواحقین بیرون ملک مقیم فوت شدہ رشتہ داروں کی اولادوں کے پیر پکڑتے بھی دکھائی دئے۔ سوالنامہ کی لوازمات پورا کرنا تقریباً ناممکن ہوتا بالخصوص کاروبار اور زمینداری سے منسلکہ افراد کیلئے جو ٹیکس نیٹ میں نہ ہوں یا جنھوں نے پراپرٹی خریدتے وقت رجسٹری سرکاری ریٹ پر کروائی ہو

یہاں یہ بتانا خاصا غیر ضروری ہوگا کہ اس قانون کے تحت نیب کو قطعاً دوڑ دھوپ نہ کرنی پڑتی بلکہ اسکا کام حاصل شدہ معلومات کا سرسری جائزہ لیکر لازمی کیس بنانا ہوتاتھا۔ ملزم سیاستدان اور اسکے عزیز اقرباء سے حاصل شدہ معلومات سے حاصل ہونے کے بعد نیب کا “اصل کام” شروع ہوتا جو پچاس ساٹھ جائدادوں اور بنک اکاؤنٹس میں سے موٹے موٹے وہ دس بارہ اثاثے الگ کرلیتا جنکے حصول کی تاریخ ملزم سیاستدان کے عوامی عہدہ پر براجمان ہونے کے بعد کی ہوتی اور کیس بنایا جاتا کہ علحیدہ کئے گئے اثاثے جو ملزم یا اسکے عزیز اقرباء کے نام پر ہیں وہ انکے وسائل سے زائد پائے گئے ہیں اور پریزیوُمیبلی کرپشن کے پیسے سے بنائے گئے ہیں اور اگر اثاثے عزیز واقارب کے نام ہیں تو بےنامی ہیں اصل مالک ملزم سیاستدان ہے

کیس بنتے ہی ایک مشینی سا عمل شروع ہوجاتا جس میں ایک طرف سے نیب عدالت میں ریفرنس ڈالتا اور دوسری طرف سزا باہر نکل آتی، ہاں البتہ جو سیاستدان “راہ راست” پرآجاتا وہ اسکی پلی بارگین ریفرنس میں درج رقم کا دسواں یا بیسواں حصہ لیکر منظور کرلی جاتی اور وہ عقل والوں کیلئے نشانی بن جاتا۔ جبکہ بےعقلے متوالے اور جیالے جو پہلے ہی جیل میں بحیثیت ملزم بند ہوتے تھے وہ سزایافتہ ہونے پر بحیثیت مجرم قیدی بنے رہتے

اس طرح سیاستدان اپنے ناکردہ گناہوں کی پاداش میں یا کسی عزیز کیجانب سے ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے یا آمدن کے ثبوت نہ رکھنے میں سزایافتہ ہوتے رہے اور “پکڑے” گئے اثاثے بحق سرکار ضبط اور نیلام ہوتے رہے

نیب آرڈیننس سے سب سے زیادہ متاثر ہونیوالی سیاسی جماعت ن لیگ تھی جسکے سب سے زیادہ سیاستدانوں کو نیب آرڈیننس کے تحت انتقامی کاروائی کاسامنا کرنا جبکہ اسکے بعد پیپلز پارٹی نے بھی اس قانون کے ہاتھوں خاصا نقصان اٹھایا۔ دونوں جماعتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئیں اور مشرف کے اقتدار کو طوالت نصیب ہوئی
سیاسی جماعتوں نے نیب آرڈیننس کو عدالتوں میں چیلنج کیا مگر بےسود رہا لہذا سیاستدانوں کے پاس واحد آپشن قانون میں ترمیم کرنا بچا تھا

یہ ریکارڈ کا حصہ ہے کہ 2008 کی انتخابی مہم میں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں نے اس قانون کو کالا قانون قرار دیا اور اعادہ کیا کہ اقتدار میں آتے ہی اس قانون میں تبدیلیاں لائی جائیں گی۔ مگر صد افسوس کہ پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں جہاں قانون سازی کے میدان میں دوتہائی اکثریت سے 18ویں آئینی ترمیم جیسا کارنامہ سرانجام تو دیا جو آج وفاق کی تقویت کا باعث ہے مگر سادہ اکثریت سے ڈکٹیٹر کا لایا یہ کالا قانون نہ منسوخ کرایا نہ اسکی ظالمانہ اور احمقانہ شقیں بابت وسائل سے زائد اثاثے اور انکو ثابت کرنے کا غیرقانونی اور غیرآئینی طریقہ کار کی تنسیخ کروائی

ن لیگ جب 2013 کی انتخابی مہم کیلئے میدان میں اتری تو اسکی قیادت کو مخالفین کی صف بندی یہ اندازہ لگانے کیلئے کافی تھی کہ اگر انتخابات جیت بھی گئے تو کوئی دن آرام سے گزر نہ پائے گا اور انکے خلاف ہرممکنہ محاذ کھولا جائے گا۔اقتدار کا ہنی مون ابھی ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ قومی اسمبلی میں سرگودھا ڈویژن سے تعلق رکھنے نیب سے متاثرہ ایک لیگی رکن نے ہاؤس کی توجہ مجوزہ قانون سازی کیطرف دلائی جسکا قائد حزب اختلاف نے بھی خیرمقدم کیا مگر وفاقی وزارت قانون نے اس ضمن میں مزید کوئی کاروائی نہ کی اور معاملہ خیرمقدمی سے آگے نہ بڑھ سکا۔ اسکے بعد بھی وقتاً فوقتاً اسمبلی کے فلور پر متاثرہ ارکان اسمبلی اس ضمن میں آوازیں بلند کرتے رہے مگر وزارت قانون عملی کاروائی میں روکاوٹ بنی رہی۔پھر جب دھاندلی کارڈ کی ناکامی پر شکریہ مہم چل پڑی اور اسکے ساتھ ہی نیب کو متحرک ہونے کا حکم صادر ہوا تو اس مہم میں ایک دفعہ پھر لیگی اور جیالے پارلیمنٹیرینز، انکے رشتہ دار اور شراکت دار وسائل سے زائد اثاثوں سوالنامے کے وصول کنندہ بنائے گئے جن کی تعداد 27 کے قریب بتائی جاتی ہے. متاثرہ سیاستدانوں نے اس دفعہ یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور اس ضمن میں اس وقت کے وزیراعظم کو یاداشت بھی پیش کی کہ اس قانون میں حسب وعدہ تبدیلیاں لائی جائیں مگر مطلوبہ اکثریت رکھنے کے باوجود یہ احسن قدم نہ اٹھایا جاسکا

المیہ کہیں یا نااہلی کہیں آج اسی کالے قانون کی بدنام زمانہ “وسائل سے زائد اثاثے” کی شق شریف خاندان کو ڈسے کھڑی ہے جس پر چاروں نیب ریفرنسز میں کرپشن کرکے پیسے کمانے کا ایک الزام بھی نہیں ہے مگر یہ خاندان اثاثے آمدن سے مطابقت نہ رکھنے کے الزام میں عدالتوں کے دھکے کھانے پر مجبور ہے۔ مجھے قطعاً حیرانگی نہ ہوگی اگر اسی کالے قانون کے تحت ان کیسز میں محض پریزمپشن کی بنیاد پر حاضر ملزمان کو 14، 14 سال قید اور غیر حاضر ملزمان کو بوجوہ عدم حاضری 3، 3 قید کی سزا سنائی گئی مگر شدید افسوس ضرور ہوگا کہ نوازشریف نے باوجود اختیار رکھنے کے اس غیرمنصفانہ قانون سے ملکی سیاست، اپنی جماعت اور عوام کی جان کیوں نہ چھڑائی۔ ویسے اب دیکھنے کو کچھ خاص باقی نہیں ماسوائے اسکے کہ آیا تاریخ دوبارہ دہرائی جائیگی اور یہ قانون ن لیگ کے ٹکڑے کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے یا نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *