Tareekh Ka Aaina

تاریخ کا آئینہ

ذرا غور فرمائیے اور فیصلہ کیجئیے کہ ان تمام واقعات کو دیکھنا کس تناظرمیں ہے۔۔۔ 2018 میں ووٹ کی پرچی پر مہر لگاتے ہوئے لازم ہے کہ سب یاد رکھا جائے
مئی 2013 عام انتخابات کا انعقاد۔۔ مسلم لیگ ن کو واضح اکثریت ملتی ہے ، وفاق اور پنجاب میں ایک مظبوط حکومت بنا کر ملک میں جمہوری تسلسل رکھا جاتا ہے، سندھ میں پیپلز پارٹی، خیبر پختونخواہ میں کھلے دل کا مظاہرہ کرتے تحریک انصاف کو حکومت بنانے کا موقع دیا جاتا ہے اور بلوچستان میں قوم پرست سیاسی جماعت کو قومی دھارے میں شمولیت کو ایک بہترین موقع فراہم کیا جاتا ہے اور یوں میرا پیارا وطن آگے کی جانب دیکھتا ہے۔۔۔ ایک روشن پاکستان
لیکن ساتھ ہی آغاز ہوتا ہے کچھ عدم استحکام کی بنیاد بننے والے واقعات کا، ہم چونکہ بحیثیت مجموعی ایک ایسی قوم ہیں جو کہ اپنے ماضی کو بہت جلد فراموش کر دیتی ہے بلکہ نا صرف ماضی، ہم تو اپنی قوم کے اہم ترین مثبت کرداروں کو بھی بھول کر احسان فراموشی کا ایک کامل نمونہ پیش کیا کرتے ہیں۔ خیر فہرست ملاحظہ ہو:

انتخابی نتائیج کے اگلے روز ہی دھاندلی کا شوروغوغا مچاتی تحریک انصاف ٹیلیویژن پر چھا گئی
4 حلقے کھولو!
ووٹوں کی گنتی کرواؤ، انگھوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کرو
آروز کا الیکشن اور مینڈیٹ چوری کے ساتھ پیپلز پارٹی بھی حصہ ڈالتی رہی
دہشت گردی کے معاملات میں دبی اے این پی بھی کے پی کے کی حد تک شور مچاتی رہی
جلسے جلوسوں کی سیاست اور میں نہ مانوں کی تکرار لئے تحریک انصاف پیش پیش
قادری صاحب کی اینٹری اور نظام کی مخالفت، سیاسی کزنز کا ملنا اور اسلام آباد مارچ کی کال
لانگ مارچ کا آغاز ہونا اور لاہور کے وسط سے ہی ان دونوں کزنز کا الگ الگ ہو جانا، خان صاحب مایوس کہ عوامی سمندر نہیں اور قادری صاحب کے مجبور نظریاتی غلام صرف انکے روادار
گجرانوالہ میں خان صاحب کا شایان شان استقبال اور پانچ، چھ دن کا سوچنے والے ڈیڑھ دن میں اسلام آباد
بیانات پہ بیانات، انقلاب و انصاف کے دعوے، اور پھر اس زعم میں روز محفل سجانا کہ “10 لاکھ” لے آؤ اور من پسند شے لے جاؤ۔۔ چیز ونڈی دی!
پارلیمان کا مشترکہ اجلاس اور جمہوریت کے حق میں کھڑے سیاست دان، پالیمان کے باہر چور اور ڈاکو کے نعرے، جعلی پارلیمان کی صدائیں اور استعفے کی تاریخیں
نواز شریف آ رہا ، نواز شریف جا رہا، کل جا رہا پرسوں جا رہا، سوٹ کیس آ گئے، سوٹ کیس چلے گئے، جاتی عمرہ ، وزیر اعظم ہاؤس اور کبھی نہ اٹھنے والی اپمائیر کی انگلی
نواز شریف اور راحیل شریف کی ملاقات، دھرنے کے کرداروں پر بات ، قلعی کھولی سول خفیہ ایجنسی نے اور منہ کالا کروا لیا خاکی والوں نے
خالی کرسیوں سے دن میں خطاب، روز رات کو سجنے والی موسیقی کی محفل اور اسکے پیچھے کے ایسے بہت سے واقعات جن سے اسلام آباد کے لوگ اور مجھ جیسے بہت سے عام انسان بھی واقف
تاریخ پر تاریخ لیکن حکومت کا جمہوری انداز سے دفاع، استعفوں کی دھمکی، زبردستی کے دستخط شدہ استعفے، اجلاس میں شرکت اور استعفوں کی تصدیق کے بغیر واپس آجانا
ہاشمی صاحب کی علیحدگی ، پریس کانفرنس، اشارے کنائیے، عدالت اور فوج کے کردار کا اقرار اور اسمبلی سے فراغت
چابی ملتی ہے اور کزنز کٹھ پتلیوں کی مانند ڈی چوک، ہمارے باہمت اور مظبوط وزیر داخلہ کڑی نظر رکھتے ہیں اور جب ریڈ زون آتا ہے تو لاشوں کی تلاش
اوئے جھوٹو ! چین کا صدر تو آ ہی نہیں رہا تھا کی تکرار اور معیشت کے ساتھ کھلواڑ
پی ٹی وی، پارلیمان، عدالت عالیہ کا تقدس پامال لیکن یاد رہے۔۔ گملا تک نا ٹوٹا
تاریخ کا طویل ترین دھرنا اور اختتام ایک اندوہناک سانحہ۔۔۔ آرمی پبلک سکول
کچھ ہی دن بعد شہنائیاں اور قومی بھابھی کی آمد
سارے عمل میں شیخ رشید کا کردار، جلاؤ گھیراؤ کے بیانات، سول نافرمانی کی کال، بجلی کے بل جلانا، وغیرہ وغیرہ اور قصہ تمام ہوا گیزر اور گرم پانی پر
نہ انقلاب آیا نہ انصاف اس حد تک ملا کہ استعفی آیا، کمیشن بنا گیا لازمی اور رپورٹ میں تمام الزامات مسترد۔۔۔ حاصل ، لاحاصل
خواجی سعد کا کلئیر ہونا، این اے 122 کا الیکشن دوبارہ ہونا ، علیم خان کا بہتا پیسا اور جنہوں نے دیکھا انہوں نے خاکی کا کردار تب بھی دیکھا اور نتیجہ جیت کا مارجن کم لیکن ایاز صادق پھرسے اسمبلی کے اندر۔
روز روز کی پریس کانفرنسز، الزام تراشیاں لیکن دن بدن گھٹتی پذیرائی
عالمی منظر نامے کی تبدیلی، یمن میں فوج نا بھیجنے کا فیصلہ، راحیل شریف کی ایکسٹنشن کے معاملات، شکریہ شریف کی مہمات، ابھی نہ جاؤ چھوڑ کہ، کے بینر
سعودئ عرب کی ناراضی اور امریکہ بہادر کی کارستانی، دنیا میں پانامہ کا شور اور ہمارے ہاں ایک اگلا موقع
استعفی استعفی کی گردان ایک بار پھر، اسلام آباد لاک ڈاؤن کی کال، شکریہ شریف کے بین الاقوامی دورے وہ بھی اپنی مرضی کے اور جال پھر بچھتا ہوا
فیلڈ مارشل کی صدائیں، سی پیک کے دستخط کی تقاریب اور بجلی اور اسٹاک مارکیٹ کی مستحکم ہوتی بہتری، معاشی اشارئیے درست سمت کی نشاندہی کرتے
عدالت کے خواہش اور پانامہ پٹیشن کا سپریم کورٹ جانا اور مسترد ہو جانا اور پھر سبکدوش ہوتے ہوتے چیف جسٹس کا ایک بار پھر سے داخل ہوئی درخواست کو منظور کر لینا اور چلتے بننا
شکریہ شریف کا شکریہ کے ساتھ رخصت ہونا اور اگلے چیف کا آنا
عدالتی سماعتیں ، سوالات، تحقیر آمیز رویے اور بے یقینی کی کیفیات۔۔۔ عدالت کے باہر جلسے جلوس، لال حویلی اور بنی گالہ کی صدائیں، خواہشات کا روپ دھارتیں اور پھر قبول ہوتے نظر آتیں
چھ ہیروں کی تلاش اور وٹس ایپ کی کرامات، جے آئی ٹی کے کام کا آغاز
عمارت کی اسکیورٹی، سوالنامہ کی تیاری، شامل تحقیق افراد کے ساتھ رویے، تصویر لیک، شریف فیملی کے اعتراضات اور انکا سرے سے رد ہو جانا
عدالت کا اپنے دائرہ کار سے بڑھ بڑھ کر اقدام کرنا، سسیلین مافیا اور گاڈ فادر کے القابات اور انصاف کا قتل عام
جے آئی ٹی کے اندر کی کہانیاں ، سوالنامے اور جوابات کی میڈیا میں تشہیر اور تضحیک
رپورٹ جمع ہوئی، نقول فراپم ہوئیں اور فریقین کی پیشیاں، بچے گا نہیں بچے گا کے نعرے اور کھل کر سامنے آنے والی حسد اور دشمنی
خواہشات کی تابع فرمانی میں راتوں رات فیصلے کی تاریخ اور دن میں لال حویلی سے آنے والے بیانات، بنی گالہ سے ایک بار پھر دل کی باتیں ابھرتیں اور انکا پورا کیا جانا
پانچ – تین – پانچ ججز کی کہانی اور فیصلہ! نا اہل! ریفرنس، 6 ماہ کا وقت اور عدلیہ کی نگرانی میں انصاف کا عمل۔۔۔ عدالتی تاریخ کا تاریک ترین لمحہ
دوسری جانب عمران اور جہانگیر کے فیصلے میں جج خود دلائل دیتے رہے، راستے دکھاتے رہے، تاریخ پر تاریخ، مواقع لا تعداد، قانون کی عملداری کے بیانات، سماعت مکمل لیکن فیصلہ محفوظ نہیں، مزید ثبوت بھی لائے جا سکتے ہیں اور ان پرعدالتی کارروائی بھی ہو سکتی ہے، اداروں سے ریکارڈ نہیں منگوایا جا سکتا لیکن جو ریکارڈ آئے ، چاہے غلط ہو اس پر سوال نہیں۔ اینٹی ٹیررسٹ کورٹ کے وارنٹ ایسشو ہیں، الیکشن کمیشن کے معاملات کس طرح چل رہے لیکن کسی طور بھی عدالتوں کو اپنے بے توقیری محسوس نہیں ہو رہی اور نہ نواز شریف پر نقطہ چینی کرتے صحافیوں، قانون دانوں اور سابق فوجیوں کو اس میں کوئی خرابی نظر آتی۔
نہ میڈیا ، نہ اخبارات سب خاموش اور کیس چل رہا ہے انوکھے لاڈلے کا
این اے 120 کا الیکشن، شیخ رشید کا بیان، ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک کا کردار، ویگو ڈالوں کی پھرتیاں، دائمی اداروں کی گھسی پٹی روایات، ادارے کے سامنے زندہ باد کی جگہ سیاسی نعرے، عوام کا کھل کر دائمی اداروں کے خلاف ایک بیانیہ دینا، پنجابی اسٹیبلشمنٹ کا طعنہ لینے والے آج اپنے حق کے لئیے بولنے والے بن گئے، اور فتح پھر ایک بار مسلم لیگ ن کی۔
بہت پہلے کہا تھا کہ دکان چمکے گی یا تو غداری سے یا پھر رسول (ص) کی حرمت کے سیاسی استعمال سے۔ اتنے وقت میں غداری کا معامل تو چل نہ سکا، بل آیا تو حرمت کا معاملہ اٹھ گیا، اور اٹھانے والا بھی وہ جو کہ کمیٹی میں شامل تھا۔ اور اسکے ڈانڈے کہاں سے ہلتے سب جانتے ہیں۔
کہانی ابھی بھی چلے گی ذور و شور سے چلے گی، سینیٹ الیکشن قریب، سیاہ اکتوبر چل رہا ہے اور بجلی کا جن قابو میں آ ہی گیا تقریبا۔۔۔سب دیکھتے رہیں اور مہر لگانے سے پہلے یاد رکھیں کہ کسی ادارے کا کردار بس سرحد پر ہے یا وزارت دفاع کے تابع احکامات پراور ان سے امید رکھے سیاست دانوں کو آئینہ دکھانا لازم ہے۔ لیکن
پہلے تاریخ کا آئینہ خود دیکھتے رہئیے!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *