Doosra Pehlu

دوسرا پہلو

ٹی وی دیکھتے ہوئے اکثر ایک اشتہار نظر سے گزرتا ہے جس میں بہو بازار سے تھک کر گھر آتی ہے اور اُس کی ساس بہت ہی پیار سے بولتی ہے کہ بہو چائے تیار ہے اور یہ سن کر بہو کے چہرے پہ مسکراہٹ آجاتی ہے کہ آج اُسے بیٹھے بٹھائے چائے پینے کو مل رہی ہے وہ بھی اپنی ساس کے ہاتھوں کی بنی ہوئی۔ چائے پی کر اس کو احساس ہوتا ہے کہ چائے کا ذائقہ تو بلکل ویسا ہی ہے جیسے اس کی اپنی امی بنایا کرتی تھیں۔ جب اس بات کا اظہار وہ اپنی ساس سے کرتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ چائے اصل میں اس کی اپنی اماں جی نے ہی بنائی ہے اس کے سسرال میں آ کر۔

ویسے دیکھا جائے تو اس اشتہار میں ایک نہایت اچھی ساس نظر آتی ہے جو اپنی بہو سے بے انتہا محبت کرتی ہے لیکن اگر اسی بات کو دوسرے پہلو سے دیکھا جائے تو اس محبت کرنے والی ساس کے پیچھے آپ کو ایک انتہائی چالاک ساس بھی نظر آسکتی ہے جس نے نہایت عقل مندی سے بہو کی ماں سے اپنے گھر کے کچن کے کام کروائے تاکہ اس کو کوئی کام نہ کرنا پڑے۔ بہو نا سہی بہو کی ماں سے ہی کھانے بنوا دیے وہ بھی بڑے پیار سے اور ساتھ ہی خود کو ایک عظیم ساس بھی ثابت کردیا۔

یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کس نظریے سے باتوں کو اور چیزوں کو دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر یہ کہ کس طرح سے ہمیں چیزیں مختلف زاویوں میں دکھا کر ہماری سوچ کو بدلا جاتا ہے۔

کچھ اسی طرح کے مناظر کل اسمبلی کے فلور میں بھی دیکھے گئےجہاں کیپٹین صفدر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ان کے مطابق قادیانی طبقے کو پاکستان کی افواج میں بھرتی نہ کیا جائے۔ جس کے بعد الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پہ ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے اور بہت سے لوگوں کے مطابق یہ بیان مسلم لیگ نون کے لیے ایک خودکش حملہ ثابت ہوسکتا ہے۔

اب یہ بیان ایک خودکش حملہ ہے یا سیاست کی ایک اعلیٰ چال یہ تو دیکھنے والے کی نظر پر منحصر ہے لیکن اس بیان کے بعد یہ ضرور ہوا کہ کچھ عرصے سے ٹی وی اسکرین پر مذہبی کارڈ استعمال کر کے مسلم لیگ نون کی قیادت کے خلاف فتوے جاری کرنے والے سیاسی رہنما اور ٹی وی اینکرز اب کل سے اس نئ بحث میں مصروف ہوگئے ہیں اور خوب مصالحہ لگا کر تڑکا لگایا جا رہا ہے کہ دیکھو مسلم لیگ نون کس طرح قادیانیوں کے خلاف ہے ۔ جب کہ کچھ وقت پہلے ن لیگ قادیانیوں کی دوست ہے کہہ کر مغلظات بکے جا رہے تھے۔

ہوا بس اتنا ہی ہے کہ زبردستی سے جو ایک ماحول بنایا جارہا تھا ایک سیاسی جماعت کے خلاف مذہبی کارڈ کا استعمال کر کے زہر اُگلا جا رہا تھا اب ماحول میں ایک نیا رنگ بھرنے کے لئے اسی سیاسی جماعت نے ان گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے لوگوں کی منافقت کو بے نقاب کرنے کے لیے مذہبی کارڈ کا استعمال کیا. جو لوگ پہلے کفر کے فتوے لگانے شروع ہوگئے تھے وہ کل سے مسلم لیگ کو مذہبی جنونی جماعت ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس بلاگ کا اختتام کرتے ہوئے بس اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ سیاست میں مذہب کا استعمال نہ کیجیے تاکہ ریاست اپنا کام مکمل دیانت داری سے کرے۔ریاست کا کام اپنے ہر شہری کے حقوق کو تحفظ دینا ہے. چاہے اس شہری کا تعلق کسی بھی جماعت اور مذہب سے ہو۔ نہ کہ یہ بتانا کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں اس بات کا فیصلہ نہ ایک فرد کر سکتا ہے اور نہ ہی ریاست کیونکہ اس کا فیصلہ ہمارا پروردگار پہلے ہی کر چکا ہے ہم مسلمانوں کو کلمہ طیبہ
” لَا إِلٰهَ إِلاَّ اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ”
کا تحفہ دے کر اور قران میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مقرر کر کے
جو کلمہ طیبہ اور قران پر مکمل ایمان رکھتا ہے وہ مسلمان ہے اور جو ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں انہیں زبردستی مسلمان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اور کون کتنا مسلمان ہے، کون جنت میں جائے گا اور کون دوزخ میں اس بات کا فیصلہ بھی انسان نے نہیں اللہ تعالیٰ نے کرنا ہے۔ اس لیے دین کو ذریعہ بنا کر اپنے نظریات تھوپنے کے بجائے اس کو سمجھنے کی کوشش کریں ہمارا دین ہر فرقے کو تحفظ اور حقوق دینے کا کہتا ہے نہ کہ اس کو نفرت کا ذریعہ بنا کر مرضی کے فتوی جاری کرنے کا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *