NA120 Kya Khoya Kya Paya?

حلقہ 120 کا الیکشن ختم شد۔ ن لیگ نے امید کے مطابق میدان مار لیا لیکن امید کے مطابق ہی جیت کا مارجن کم رہا۔ اس سارے معاملے میں جہاں مسلم لیگ ن کے سپورٹرز مریم نواز صاحبہ کے قصیدے پڑھنے میں مصروف ہیں (جو کہ واقعی مریم صاحبہ کا حق ہے کہ جس طرح انہوں نے ریاست کے دائمی اداروں کے منہ سے یہ نشست نکالی ہے) وہیں ہم ن لیگ کے آذاد خیال دوستوں کو اس کمپین کا تعمیری و تنقیدی جائزہ لازم ہے۔

مثبت پہلوؤں پر نظر ڈالی جائے تو کسی بھی سیاسی شخصیت کے لئیے اپنے آپ کو ایک قابل و باصلاحیت سیاستدان بننانے کے سفر کا آغاز کرنا ہو تو اس کے لئیے سب سے اہم بات گلی محلے کی سیاست کرنا اور اس کو سمجھنا ہوتا ہے۔ گراس روٹ لیول پر لوگوں سے ملنا، گھروں تک جانا اور ووٹر کے ساتھ رشتہ جوڑنا لازم ہوتا۔ اس بنیاد پر یاسمین راشد اور مریم نواز دونوں ہی داد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنے اپنے انداز میں گلی محلے کی سیاست کرنے کوشش کی اور محنت بھی کی۔ اس معاملے میں مجھے محترمہ یاسمین راشد کی جدوجہد زیادہ گہری نظر آتی ہے۔ جس طرح وہ گلی گلی پھریں اور اپنے لئیے ووٹ اکٹھا کیا یہ وہ سیاست تھی جو ہم 90 کی دہائی میں دیکھا کرتے تھے۔ مریم بی بی کا اس قدر آزادانہ حلقے میں نا گھومنا شائد انکی ذاتی سکیورٹی کی وجوہات کے باعث تھا لیکن پھر بھی انکی گاڑی نے ہر ممکن طور سے حلقے کے کونے کونے تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی اور جہاں رسائی ممکن نا بھی ہو پائی وہاں جلسوں اور میٹنگز کے ذریعے اپنا پیغام پہنچایا۔

ایک اچھی و مؤثر سیاسی کمپین کبھی بھی سود مند نہیں ہوسکتی اگر الیکشن کے دن کے حوالے سے آپ کی پلاننگ میں جھول رہ جائے۔ کیونکہ سیانے کہتے ہیں کہ الیکشن 40٪ پولنگ کے دن سے پہلے اور 60٪ پولنگ کے دن کی محنت سے ہی جیتا جا سکتا ہے۔

محترمہ یاسمین راشد کی تمام کمپین میں علیم خان نے اپنے وسائل کا بے دریغ استعمال کیا۔ لیکن حلقہ 122 کی طرح یہاں بھی کچھ بنیادی خامیاں رہیں جس کی وجہ سے تحریک انصاف کی جیت ممکن نا ہو سکی۔ میں یہاں قطعی طور پر ان غلطیوں کی بات نہیں کر رہا جو کہ عمران خان صاحب نے پچھلے کم و بیش 4 سالوں میں کیں اور انکی بدولت تحریک انصاف کے ووٹرز کی ایک بڑی تعداد مایوسی کا شکار ہوئی اور انہوں نے اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے تحریک سے منہ موڑ لیا، بلکہ میں بات کر رہا ہو انکی دوسرے اور تیسرے درجے کی لیڈرشپ کی جو کہ اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتی ہے ووٹنگ کے روز اور اسکا فائدہ مخالف جماعت کو ہو جاتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف آج تک اپنے اندر کی دھڑے بندی کی سیاست کو انتخاب کے دن کی سیاست سے الگ نہیں کر سکی اور اسکا نقصان ہمیشہ کم ووٹ اور ہار کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

اسکے برعکس مسلم لیگ ن کے جتنے بھی دھڑے ہیں وہ پولنگ کے دن سی پہلے تک اپنی اپنی سیاست کرتے ہیں، لیکن پولنگ کے دن سب کے سب صرف اس ایک بات پر اکٹھے ہوتے ہیں کہ شیر کو ووٹ ڈلوانا، اور اس دن انکا مقابلہ ہوتا کہ حلقے کی کون سی یوسی نے کتنے مارجن سے جتوایا اور اس سب کا مجموعی فائدہ امیدوار کو ہی ہوتا۔ ن لیگ میں ہر یوسی کے کرتا دھرتا کو پتا ہوتا کہ اس نے کیا، کب اور کیسے کرنا اور اسی پلاننگ کے ساتھ وہ الیکشن جیتا کرتے ہیں۔ اس نقطے پر حمزہ شہباز کا ذکر نا کرنا ناانصافی ہو گی کیونکہ اس جوڑ توڑ اور پلاننگ میں حمزہ شہباز ایک بہت مستند نام ہے۔ وہ اور انکی ٹیم ایک بہترین رزلٹ دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

حلقہ 120 کے ضمنی انتخاب کے اندرمریم نواز صاحبہ کی ٹیم میں مجھےجو ایک بنیادی خامی نظر آئی وہ یہ تھی کہ انکی ٹیم لاہور اور خصوصی طور پر 120 کے لوگوں کی مزاج سے آشنائی کے باوجود اپنے ووٹرز کو صحیح وقت پر گھروں سے نکالنے میں ناکام رہے۔ حلقہ میں چھٹی کے روز کے انتخابات میں یہ بات سامنے رکھنی چاہئیے تھی کہ ووٹر کی کوشش ہو گی ذرا دیر سے نکلنا لیکن آپ کی ذمہ داری تھی انکو ہر حال میں 11 بجے تک گھروں سے نکالنا۔ مسلم لیگ ن کے جنتے جید سیاستدان موجود تھے انکو اس طریقہ واردات کا بخوبی اندازہ ہونا چاہئیے تھا کہ پولنگ کے عمل کو آہستہ کیسے کروایا جاتا اور خاص کر کہ جب حلقے میں ایک مخصوص قوت ایک رات قبل سے ڈیرے ڈالے موجود تھی۔

مسلم لیگ ن کو تو پولنگ اسٹیشن کی خبر رکھنی چاہئیے تھی کہ کتنے افراد کی گنجائش ہے، ہال پہلی منزل پر ہے یا گراؤنڈ لیول پرجہاں ووٹ ذیادہ ہے وہاں کا پولنگ ایجنٹ گھاگ قسم کا سیاسی ورکر ہو، پولنگ کیمپس اوراس کے گرد کی ٹیم اپنی ذمہ داریاں بانٹ کر کووآرڈینیشن سے کام کرتیں تو شائد وقت کی قلت والے معاملے کو ایک حد تک سنبھالا جا سکتا تھا۔ لازم تھا کہ خواتین ووٹرز کو پہلے سے بتاتے کہ ناشتے کا انتظام 8 بجے کر کہ گھروں سے نکل پڑیں اور 12 بجے تک ایک بڑا حصہ ووٹ ڈال چکا ہوتا۔ میں ہرگز نہیں کہتا کہ ن لیگ کی ٹیم نے یہ سب نہیں کیا ہو گا لیکن خامیاں رہی ہیں اور اس کے نتائیج سامنے ہیں۔

ایک بات جس کی تعریف کرنا بہت ضروری ہے وہ ہے مریم صاحبہ کی سوشل میڈیا ٹیم اور مسلم لیگ سے محبت رکھنے والے “آزاد” کارکن، بہت ایکٹیو رہے اور ہر معاملے کو صحیح وقت پر سوشل میڈیا تک پہنچاتے رہے۔ شاباش

اب آجائیں ذرا دوسری جانب، اس انتخاب میں 44 امیدواروں کا کھڑے ہونا ریاست کے دائمی اداروں کی پہلی کارستانی تھی کہ جس قدر ذیادہ نشان اسی قدر ذیادہ وقت اور پولنگ کے عمل کو سست روی کا شکار کرنا۔ متعدد واقعات رپورٹ ہوئے جن میں ن لیگ کی پرچی والوں ااور ن لیگ کے ووٹرز کو ووٹ ڈالنے سے یا تو روکا گیا، یا غلط معلومات دی گئیں یا پھر تاخیری حربوں کا استعمال کیا گیا۔ مسلم لیگ ن کو ہر حال میں ایسے تمام واقعات کو الیکشن کمیشن کے شکایات سیل میں درج کروانا چاہئیے اور انکا منظقی نتیجہ بھی حاصل کرنا چاہئیے۔

سونے پر سہاگہ کہ ن لیگ کے مقامی عہدیداروں کو جس طرح دھمکایا گیا اور انکے گھروں سے اٹھایا گیا وہ پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کے لئیے ایک چیلنج ہے۔ ایسے معاملات کی اگر ابتدا میں ہی بیخ کنی نا کی گئی تو اسکے بدترین نتائیج 2018 کے الیکشن میں دیکھنا پڑیں گے۔

حلقے میں سفید لباس والے اپنے ڈالوں میں موجود ایکٹیو رہے اور جو جو کردار ادا ہو سکتا تھا کھل کر ادا کرتے رہے۔ اس ضمن میں بھی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ضرور ہے۔ کیسے ہوا کہ میڈیا کے نمائیندوں کو پولنگ اسٹیشنز اندر رسائی نا ملی حالانکہ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ کارڈ انکے پاس تھے۔ وجہ بس یہ تھی کہ اوپر سے آرڈر نہیں، اب یہ اوپر الیکشن کمیشن تھا یا پھر۔۔۔ پتہ لگانے کی ضرورت ہے۔

ملی مسلم لیگ کے فیکٹر کو پیدا کرنے پر بھی نظر رکھنا لازم ہے، ایسی جماعت جو اب تک رجسٹر نہیں ہوئی اسکا نام بھی استعمال ہو گیا اور اسکا کالعدم جماعت سے تعلق ہونا بھی الیکشن کمیشن کو کوئی بھی قدم اٹھانے پر مجبور نا کر سکا۔

میری نظر میں یہ ضمنی انتخاب پنجاب کے لوگوں اور لاہور کے آزاد مزاج رکھنے والے شہریوں کے لئیے ایک بہترین نمونہ تھا کہ کس طرح کراچی میں ایم کیو ایم نے دائمی اداروں کی موجودگی میں انتخاب لڑا ہو گا مگر مزے کی بات ہے کہ نتائیج دونوں حلقوں میں وہی رہے جس کی امید تھی۔ اس موقع پر مجھے میجر (ر) عامر کی ایک بات یاد آتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہر اس سیاستدان کو خطرہ سمجھتی ہے جس کے ساتھ عوام ہو۔ مسلم لیگ ن کو اگر اپنی عوامی حمایت کا احساس ہے تو انکو یہ احساس بھی وقت رہتے کرنا ہو گا کہ اگر یہی ماحول 2018 کے الیکشن میں بھی رہا تو آپ کو اس سب سے کیسے نمٹنا ہے۔

آخر میں جاتے جاتے۔۔۔ محترمہ مریم نواز کی وننگ اسپیچ سن کر مجھے میاں نواز شریف کی یاد بھی آئی اور انکی جھلک بھی نظر آئی۔ آخر کو اداروں کی پے در پے غلطیوں نے مریم نواز کو ایک سنجیدہ سیاسی کھیل کا ابھرتا ہو کامیاب کھلاڑی بنا ہی دیا۔

اور اپنے جناب عمران خان صاحب اور انکے بظاہر غیر سیاسی ہمنواؤں کے لیے بس دو لفظی جملہ ۔۔۔

!ہور چوپو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *