Doosri Manzal

والد صاحب کا معاملہ میرے ساتھ شروع سے ذرا سخت ہی رہا۔ ایسا نہیں کہ مجھے کوئی گلہ ہے بلکہ میں تو شکرگزار ہوں کہ کیرئیر کے جس مقام پر آج ہوں اس میں انکی بروقت اور مناسب سختی کا بڑا دخل رہا ورنہ الحمدللہ ایسا تخلیقی ذہن پایا تھا کہ بامشقت والی سزا تو ضرور ہوتی۔ بہرحال یہ تو جملہ برائے تفنن کہا مگر یہ حقیقت رہی کہ بچپن میں بھی کبھی لاڈیاں کرنے کا تصور نہ رہا۔ ابو نے کبھی ہم پر ہاتھ نہ اٹھایا تھا مگر اسکے باوجود ایسا رعب داب قائم کہ ابو کے خفا ہونے کے تصور سے ہی خفیف سی کپکپی چھڑ جاتی۔

والد صاحب کے گھر آنے سے قبل ہی ٹیپ ریکارڈر اور ریڈیو وغیرہ بند اور ٹی وی کے واحد چینل پی ٹی وی پر ہماری اجارہ داری ختم اور والد صاحب کا قبضہ تصور کر لیا جاتا۔ جس دن ابو کا موڈ اچھا ہوتا اس دن اپنے بچپن اور جوانی کے خوب قصے سناتے اور جس روز موڈ خراب ہوتا اس دن ہماری کم بختی انگلش کے ٹینس اور گرائمر وغیرہ کے ٹیسٹ کے طور پر آتی جسکا منطقی انجام ہر بار ہمارے زار و قطار رونے پر ہی ہوا کرتا۔

اٹھارہویں گریڈ کے سرکاری آفیسر ہونے کے باوجود ہمارا بچپن ایک عدد سو سی سی یاماہا موٹر سائیکل کی سواری پر گزرا، ہم ذرا بڑے ہوئے تو ترقی کی انتہا ایک عدد چھ سات سال پرانی سوزوکی ایف ایکس کار کی صورت ہوئی جو کہ آبائی زمین کی پیداوار جمع کر کے خریدی گئی تھی۔ مجھے بہت پہلے اندازہ ہو چکا تھا کہ والد صاحب اس معاشرے کے حساب سے ترقی نہیں کر سکتے۔ بے لچک رویہ، اصولوں کی پاسداری، خوشامد کی بجائے ہر اعلٰی افسر سے اصولوں کی خاطر ماتھا لگا لینا۔ نتیجے کے طور پر ٹرانسفر پر ٹرانسفر ہونا معمول کی بات رہی۔

بہرحال سن دو ہزار ایک کے اوائل میں والد صاحب پر بوجہ برین ہیمبرج فالج کا اٹیک ہوا شاید اسکی وجہ وہی ہائی بلڈ پریشر تھا جو انکی طبیعت کا حصہ اور خاصا تھا۔ مگر بہتر اور بروقت علاج، گھر والوں کی توجہ اور اس کے ساتھ ساتھ انکی غیر معمولی قوت ارادی نے کام کیا اور الحمدللہ ابو دو ہفتوں میں اپنے قدموں پر چلنے لگے۔ جسم پر فالج کے اثرات بہرحال موجود تھے مگر انہوں نے اس کو اپنی آزادی کے آڑے نہ آنے دیا نہ انکے معمولات متاثر ہو سکے۔ انہوں نے ایسی بیماری کو جو عام آدمی کے اعصاب چٹخا دیتی ہے فی الواقع بیماری ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ جزوی معذوری کے باوجود انہوں نے اپنی آبائی زمینوں پر قبضے بھی چھڑوائے اور جب شریکوں نے مقدمات میں الجھایا تو مقدمات کا سامنا بھی کیا اور انکو شکست سے دوچار بھی کیا۔
مجھے اکثر والد صاحب کی جی داری پر فخر محسوس ہوتا اور اپنی طرف دیکھتا تو مکمل قحط الرجال نظر آتا۔

دو ہزار کی دہائی کے شروعات میں مَیں والد صاحب کی اجازت سے بیرون ملک آ گیا۔ چھوٹا بھائی پھر بھی انکی دیکھ بھال کے لئیے موجود تھا۔ اب مگر اتنا ضرور ہونے لگا تھا کہ ابو مجھ پر بھی اب شفقت اور نرمی کا اظہار کرتے۔ بلکہ کبھی فون کرنے میں دیر ہو جاتی تو باقاعدہ مِس بھی کرتے۔ بچھلے سال 2016 میں پرانا گھر بیچ کر اور کچھ پس انداز رقم ملا کر نیا گھر خریدا تو یہ گھر ابو کو بہت پسند آیا۔ فون پر جب بات کرتے ادھر ادھر کے باتوں کی بجائے گھر کی تعریف کرتے اور مجھے بھی اصرار کرتے کہ یار اب تم بھی آ کر چکر لگا جاؤ اور گھر بھی دیکھ لو۔ میں حسب معمول ٹال مٹول سے کام لے جاتا، ایک دن یونہی بات کرتے ہوئے مجھ سے فون پر کہا کہ یار گھر کی اوپر والی منزل دیکھنے کو بہت جی چاہتا ہے مگر کیا کروں اوپر جا نہیں پاتا۔ ابو نے کچھ ایسے انداز سے خواہش کا اظہار کیا کہ میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا کہ ابو آپ فکر نہ کریں میں آ کر آپ کو لے کر جاوں گا۔

ابو مجھ سے ہر بار آنے کا تقاضا کرتے اور میں ہر بار جی اچھا بس اگلے ماہ کہہ کر ٹال جاتا۔ پچھلے ماہ اگست میں ابو پر فالج کا دوسرا حملہ ہو گیا۔ جسنے انکے اعصاب کو شدید متاثر کیا بلکہ یادداشت پر بھی فرق پڑا۔ میرے بیرون ملک میں ہوتے ہوئے یہ قیامت کے لمحات تھے۔ چودہ گھنٹے کی فلائٹ کا کرب ایسے حالات میں بیان کرنا الفاظ کے بس کی بات نہیں۔

میرے پہنچنے سے پہلے چھوٹا بھائی اور گھر والے ابو کو فیصل آباد کے ایک اچھے ہسپتال لے آئے تھے جہاں انکا اچھا علاج شروع ہو چکا تھا۔ میں بھی سیدھا ہسپتال پہنچ گیا اور باقی کا ہفتہ اس وقت تک ابو کے ساتھ رہا جب تک ابو صحتیاب ہو کر ڈسچارج نہ ہوئے۔
گھر واپس آ کر ذرا ہوش سنبھلا تو مجھے بلایا اور میرا وعدہ یاد دلایا اور پوچھا کہ مجھے اوپر والی منزل کب دکھاؤ گے؟ میں نے کہا کہ ابھی آپ مکمل صحتیاب ہو جائیے پھر لے کر جاوں گا۔ بمشکل دو دن گزرے اور ابو نے مجھ سے پھر مطالبہ کر ڈالا۔ اب کی بار میں نے فیصلہ کر ہی لیا، ابو کو اوپر کی منزل پر لے کر جانا دراصل آسان کام نہ تھا، چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد، بھاری جسم اور اوپر سے فالج کے اثرات کی وجہ سے اعصاب کی کمزوری اور کنٹرول کا فقدان۔

اس حوالے سے ایک ہنگامی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا اور سٹریٹجی ترتیب دی گئی۔ وہیل چئیر پر سیڑھیوں کے قریب لا کر میں نے اور چھوٹے بھائی نے ابو کے دونوں بازو اپنے کندھوں پر رکھے اور انہیں پاؤں پر کھڑا کیا۔ ڈرائیور کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ توازن قائم رکھنے کیلئیے کمر کو سہارا دئیے رکھے۔ یوں ہم تین افراد ایک ایک سیڑھی چڑھتے پسینے سے شرابور اور پھولے ہوئے سانسوں کے ساتھ بفضلہٖہ اوپر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

اوپر پہنچ کر ابو کے چہرے کے تاثرات ایک ایسے معصوم بچے جیسے تھے جیسے کوئی بچہ پہلی بار ونڈرلینڈ آ جائے۔ سترہ سال بعد تازہ ہوا، خاموشی اور منزل پا لینے کے احساس نے انکے چہرے پہ خوشی، تازگی، حیرت اور فخر کے ملے جلے ایسے تاثرات قائم کئیے کہ بے اختیار میری آنکھیں نم ہو گئیں۔ شاید انکو پہلی بار احساس ہوا ہوگا کہ انکے بیٹے اب واقعی بڑے ہو گئے ہیں۔ جو باپ کو کاندھوں پر اٹھا کر دوسری منزل دکھلا سکتے ہیں۔

ابو کے احساسات کچھ بھی ہوں مجھے یوں لگا کہ شاید میں آج فرزندگی کی دوسری منزل پر پہنچ چکا ہوں۔

2 thoughts on “Doosri Manzal

  • September 26, 2017 at 11:06 am
    Permalink

    nice what a nice feelings after reading this beautifully written article.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *