Ustara Istarah

اُسترا،اِس طرح

استرے کے استعمال کا آپ میں سے تقریباً سبھی حضرات کو براہ راست تجربہ کم از کم بطور مفعول تو ضرور ہو چکا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اس کا محفوظ استعمال بھی جانتے ہیں- استرا بظاہر ایک معمولی چیز ہے، جسے پکڑنا یا استعمال کرنا کوئی مسئلہ نہیں – اسے اگردرست طریقے سے استعمال کیا جائے تواس کے ذریعے آدمی کو انسان یا مسلمان بنایا جاسکتا ہے اور صرف انسان کو مہذب انسان بنایا جاسکتا ہے- لیکن یہی استرا اگر بغیر مہارت و احتیاط سے چلایا جائے تو یہ خراشیں دینے سے لے کر جان لینے تک کیلئے استعمال ہوسکتا ہے- اس کا محتاط ترین ناتجربہ کارانہ استعمال بھی آپ کو شرف انسانیت سے کچھ عرصے کیلئے محروم کر سکتا ہے یعنی آپ چند دن کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے

آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ اچھے خاصے سنجیدہ صفحات پر کیا استرا چلنا شروع ہو گیا ہے- چلیے استرے کو فی الحال روکتے ہیں اور آگے چلتے ہیں – حالیہ عرصے میں چند نئی چیزیں جو چپکے سے ہماری زندگیوں میں شامل ہوئیں اور خاموشی سے اسکا ایک حصہ بن گئیں ان میں سے ایک ہے سوشل میڈیا جسے درست یا غلط طور پر سماجی رابطہ بھی کہا جاتا ہے- سوشل میڈیا کا استعمال کچھ عرصہ قبل کمپیوٹر استعمال کرنے والے خواتین و حضرات تک محدود تھا لیکن سمارٹ فون کی ایجاد اور پھر اسکی حیران کن رفتار سے قبولیت نے سوشل میڈیا کو لُغوی معنوں میں عوام تک پہنچا دیا

ہمارا معاشرہ ہمیشہ سے ہی نئی چیزوں سے استفادہ کرنے میں پرجوش ہوتا ہے مگر ہمارا عمومی مزاج اور حکومتیں عموماً ان کے مضمرات کے بارے میں شروع میں کسی قسم کے غور و خوص کی قطعاً ضرورت محسوس نہیں کرتے – اسلیے کسی قسم کی قانون سازی تو دور کی بات ہے ہم ان چیزوں کے اپنے طرز زندگی اور معاشرت پر پڑنے والے اثرات کے متعلق بھی نہیں سوچتے- گذشتہ کچھ عرصے میں وی سی آر، سیٹلائٹ ٹی وی، کیبل ٹی وی،انٹرنیٹ اور موبائل فون اس کی مثالیں ہیں جنہیں ہم نے اپنایا پہلے اور انکے بارے میں سوچا بعد میں

سوشل میڈیا نے صرف ہمیں ہی نہیں تمام دنیا کو ہی بغیر بتائے اپنی لپیٹ میں لے لیا – تاہم بیشتر مہذب معاشروں میں پہلے سے موجود بنیادی حقوق اور امن عامہ سے متعلق قوانین اور ان پر موثر عملدرآمد نے ان نئے حالات و خطرات سے نبرد آزما ہونے میں کافی مدد دی

ہمارے ہاں سوشل میڈیا سے استفادہ کرنے والوں میں عام شہری، سیلیبریٹیز، کاروباری، سیاسی، صحافتی، سماجی و مذہبی تنظیمیں، حکومتی و ریاستی ادارے اور مجرمانہ و تخریب کارانہ خطوط و مقاصد پر کام کرنے والے افراد اور تنظیمیں شامل ہیں

سوشل میڈیا کی سب سے بڑی خوبی جو کہ اسکی سب سے بڑی خامی بھی سمجھی جاتی ہے وہ ہے ہر صارف کی دوسرے صارفین تک براہ راست رسائی – دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود شخص براہ راست صدر امریکہ کو انکے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پیغام بھیج سکتا ہے – اسی طرح اندرون ملک بھی وہ سیاسی شخصیات، کھلاڑیوں، اداکاروں اور اہم شخصیات تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے- یہ سلسلہ اہم شخصیات تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ عام شہریوں کو بھی آپسی رابطہ فراہم کرتا ہے – یعنی کہ یہ لغوی معنوں میں بھی سماجی رابطے کو آسان بناتے ہوئے اسے فروغ دیتا ہے

مگر ہمارے معاشرے سماجی رابطے کے مثبت استعمال سے بڑھ کر جو مسئلہ درپیش ہے وہ ہے اس کا منفی استعمال پہلے ہمارے ہاں اس بارے میں موثر قوانین کی عدم موجودگی اسکی ایک وجہ تھی،اب جبکہ قوانین بنائے جا رہے ہیں ابھی بھی انکا موثر اور درست استعمال فی الحال نظر نہیں آتا

اب آتے ہیں استرے کی طرف، سوشل میڈیا کی مثال بھی استرے کی سی ہے سمارٹ فونز اور موبائل ڈیٹا نیٹ ورکس کی ترویج کے بعد اب یہ سمجھیں کہ آپ استرا ہاتھ میں یا پھر جیب میں لیے پھرتے ہیں

ہمارے ہاں سوشل میڈیا سے سیاست میں اپنا پیغام عوام الناس تک نہیں پہنچایا جاتا بلکہ اب یہ مغلظات اور دشنام طرازی کے استرے کے طور پر استعمال ہوتا ہے جسے بے دریغ مخالفانہ خیالات رکھنے والوں بلکہ استرے کا درست استعمال کرنے کا مشورہ دینے والے شرفاء پر بھی استعمال کیا جاتا ہے- اس مقصد کیلئے ہر سیاسی جماعت کے پاس بےلوث بیروزگار نوجوانان کی کثیر تعداد موجود ہے جن کے بارے میں مخالفین کا خیال یہی ہوتا ہے کہ یہ وظیفہ خوار ہیں یہ خیال مکمل غلط بھی نہیں ہوتا کیونکہ ہر جماعت کے پاس چند ماہر استرا باز معقول مشاہرے پر بھی ہوتے ہیں مگر عموماً یہ کام ہمارے نوجوان فی سبیل اللہ انجام دیتے ہیں

اسی طرح مذہبی تبلیغ سے زیادہ اب استرے کا استعمال دیگر مذاہب اور مسالک کے لوگوں کو کافر قرار دینے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے – ایک اندازے کے مطابق پاکستانی سوشل میڈیا پر کفار کی تعداد ملک کی مجموعی آبادی سے بڑھ چکی ہے

صحافی حضرات بھی اب استرے کا استعمال خبر کی ترویج نہیں بلکہ ذاتی ریٹنگز کو مصنوعی طور پر بڑھانے کیلئے استعمال کرتے ہیں – خصوصاً الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ہر معلوم و نامعلوم خاتون و حضرت نے اپنے اپنے فین کلبز بنائے ہوئے ہیں جو اپنے ممدوح کی تعریف و توصیف میں مبالغہ آرائی کی حدود کو تہس نہس کرتے اور پیشہ ورانہ حریفوں کو سچ جھوٹ کے ذریعے کمتر اور بکاؤ ثابت کرتے ہیں مگر ان نجی یا ادارتی لشکروں کا اصل کام اپنے ممدوح پر تنقید کرنے والوں کے دانت کھٹے کرنا ہے – میڈیائی خواتین و حضرات کے دشمن صرف پیشہ ورانہ حریف ہی نہیں بلکہ سیاسی، سماجی و مذہبی جماعتوں کے عساکر بھی ہیں جو انہیں مخالفت پر بکاؤ جنس قرار دے کر حسب توفیق مغلظات سے نوازتے ہیں – مگر موافق نقطہ نظر کی صورت میں یہی لشکر انکے فین کلبز سے بڑھ کر انکی تعریفیں کرتے ہیں – ویسے تو صحافی حضرات نے بھی سوشل میڈیا پر صحافتی اخلاقیات کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا اور ہر قسم کے جھوٹ کو دانستہ طور پر پھیلایا

سوشل میڈیا کے استرے کا ایک بڑا منفی استعمال جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈہ اور افواہ سازی بھی ہے – اس میں آپ غلط اعدادوشمار اور جعلی یا تحریف شدہ تصاویر کے استعمال سے اپنے ممدوح یا موقف کے حق میں یا حریفوں کے خلاف فضاء بناتے ہیں جسے ہماری تیسری ذہین ترین قوم کے ذہین افراد باآسانی نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ اس کی ترویج کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہوئے سرانجام دیتے ہیں

چند اور استرے بھی ہیں جو اتنے اہم نہیں تاہم دو مہلک ترین استرے توہین مذہب اور غداری کے ہیں جن پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن راقم ان میں سے کسی بھی استرے کے اپنے اوپر استعمال کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ انہیں چلانے والے لوگ ان دو طرح کے استروں کے علاوہ اصلی استرے کا استعمال بھی اچھی طرح جانتے ہیں جس کی گواہی ہمارے ایک ممتاز تحقیقاتی صحافی بھی دے سکتے ہیں

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

ربّ نیڑے یا گھسُن

اور راقم اس معاملے میں ضعیف عقیدے کا مالک ہے
اسلیے تھوڑے کو بوہتا جانیں اور اس خط کو تار
وما علینا الالبلاغ

One thought on “Ustara Istarah

  • September 23, 2017 at 10:44 am
    Permalink

    Not very well written

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *