NA 120 Kis Ka

این اے 120 کِس کا
آج آخرکار این اے 120 کا ضمنی الیکشن تمام ہوا اور میں اس پر اپنی رائے کا اظہار یہاں کیے دیتا ہوں
سب سے پہلی بات تو یہ کہ جب سے حلقہ این اے 120 سن 2002میں نئی حلقہ بندی کے ساتھ وجود میں آیا اس سے پہلے اور بعد میں یہ نون لیگ کا حلقہ رہا ہے۔ چنانچہ یہاں سے ان کو جیتنا ضروری تھا اور وہ جیت بھی گئے۔ آج وہ قریب قریب ساٹھ ہزار ووٹ لے گئے۔ جیت گئے ہیں مگر بہت سے دانشواروں کے نزدیک اچھی کارکردگی نہیں دکھائی ہے۔
جب 2013 میں نواز شریف صاحب کے خلاف ڈاکٹر یاسمین راشد نے 50000 سے زاید ووٹ لیے تھے۔ تب بھی میرے لیے یہ سوال تھا کہ نواز شریف کے حق میں تو جو ووٹ پڑا سو پڑا پر 50000 سے زائد ووٹ میاں نواز شریف کے خلاف پڑ گیا۔ سوچنے کی بات تھی۔
مگر اس بار یہ الیکشن کئی لحاظ سے مشکل بھی تھا۔ حالیہ عدالتی فیصلوں کے بعد نواز شریف کا پہلا امتحان امیدوار کی نامزدگی تھا۔ جس میں ان کے لیے دھڑے بندیوں اور برادریوں کی فرمائشوں اور ناراضگیوں سے بچ بچا کر اپنا کوئی قانونی کردار نہ ہوتے ہوئے بھی ایک ایسا امیدوار لانا تھا جو نواز شریف کے ووٹر کو بھی قبول ہو اور جس پر فوری طور کسی قانونی خطرے کی تلوار بھی نہ لٹک رہی ہو۔ میاں صاحب اس میں سو فیصد کامیاب رہے اور بیگم کلثوم نواز کی شکل میں انہوں نے ہر دھڑے کو قابل قبول شخصیت کو میدان میں اتارا۔ کلثوم صاحبہ کی علالت نے معاملے کو گھمبیر کر دیا، وہ علاج کے لیے بیرون ملک چلی گئیں اور نواز شریف ان کی عیادت کے لیے۔
اب یہ واضح ہو گیا تھا کہ کلثوم صاحبہ خود الیکشن کمپین نہیں کر پائیں گی تو میاں نواز شریف کا اگلا امتحان کمپین لیڈر کا چناؤ تھا جس کے بارے میں فوری خیال تو یہ کیا جا رہا تھا کہ حمزہ شہباز کمپین لیڈ کریں گے اور اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ لاہور کی حد تک یہ کیمپینز حمزہ ہی چلاتے رہے ہیں اور کامیاب بھی رہے ہیں مگر جس طرح ن لیگ کے لوگوں کے خلاف شکایات کی جا رہی ہیں اور ان پر جلد از جلد فیصلے بھی آرہے ہیں ۔ یقیناً نواز شریف یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے گھر کا سب سے ایکٹو ورکر بھی ایسے کسی معاملے کی زد میں آئے اور نااہل ہو جائے تو پرویز ملک صاحب کو کیمپین لیڈ کرنے کا ٹاسک دیا گیا مگر ان پر بھی فوری اعتراضات آگئے تو نواز شریف کا اگلا آپشن مریم نواز شریف خود تھیں۔ ایسا نہیں ہے کہ میاں صاحب مریم بی بی کو نہیں لانا چاہتے تھے پر وہ سیف پلے کر رہے تھے۔ اب مریم بی بی کو کمانڈ سونپی گئی اور ساتھ بلال یٰسین کو کھڑا کیا جو پی پی 139 سے رکن پنجاب اسمبلی ہیں مگر وہی ری ایکشن کہ رکن اسمبلی کیوں آیا۔ غرض میدان میں مریم نواز ہی بچیں۔ اور انہوں نے یہ کیمپین کی، دلیری سے کی۔
لوگ کہتے ہیں کہ میاں شہباز اور حمزہ نظر نہیں آئے تو خاندان میں پھوٹ ہے۔ اندر کی باتیں تو خدا جانتا ہے مگر میرے خیال میں ایسی بات کا امکان کم ہی لگتا ہے۔ ان کا نہ آنا اس وجہ سے ممکن ہے کہ ان کو بھی فیصلوں کا سامنا ہو سکتا تھا۔
پھر یہ بات ہوئی کہ ڈاکٹر یاسمین صاحبہ ڈور ٹو ڈور کمپین کر رہی ہیں ، گلیوں میں پیدل نکل رہی ہیں مگر مریم بی بی ایسا نہیں کرتیں تو یہ بھی کچھ زیادتی ہے۔ مریم نواز کو خطرات کی سنگینی یاسمین راشد سے کہیں زیادہ تھی جس کی بنا پر یہ ممکن ہی نہ تھا کہ وہ ایسی کمپین کر پاتیں۔
الیکشن کمپین کے عین عروج پر چوہدری نثار کا انٹرویو مسلم لیگ ن کے لیے مشکلات کھڑی کرنے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ انہوں نے واضح طور پر خود کو نواز شریف کے فیصلوں سے دور کیا اور مریم نواز کے لیے تحقیر آمیز رویہ اختیار کیا جو کہ الیکشن پر منفی اثر ڈالنے کی ایک کوشش تھی۔ چوہدری نثار نے اپنی باتوں اور کاموں سے میاں شہباز کو بھی بھائی کے خلاف اکسانے کی کوشش کی اور اب تک صرف اسی آس پر نون لیگ سے چمٹے ہوئے ہیں کہ شاید میاں شہباز اپنے بھائی کو مشکلات میں چھوڑ کر پارٹی پر قبضہ کر لے اور میرا تکا لگا رہے۔ مگر انہوں نے میاں نواز کے لیے مشکلات کھڑی کرنے میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی نہ وزارت کے دوران اور نہ ہی وزارت کے بعد۔
الیکشن کے لیے اتوار کا دن منتخب ہونا بھی نون لیگ کے لیے نقصان دہ رہا ۔ نون لیگ عمومی طور پر کاروباری طبقے کی حمایت یافتہ جماعت ہے جن کے کاروبار کا پیک ٹائم چھٹی کا دن ہی ہوتا ہے ، بے شک اس سے بہت نقصان نہیں ہوا مگر فرق پڑا ہو گا۔
لائنوں میں کھڑے افراد کو پولنگ کا وقت ختم ہونے سے پہلے پولنگ اسٹیشن کی حدود میں جانے دیا جانا چاہیے تھا مگر بغیر اس کے دروازے بند کر دیے گئے جو کہ ووٹرز کے لیے نقصان دہ ہوا۔
اس سب کے بعد مریم بی بی اپنے پہلے امتحان میں سرخرو رہی ہیں اور اس کے لیے ان کو مبارکباد دی جانی چاہیے مگر کچھ باتوں پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے ۔ بے شک متغیرات بہت تھے اور یہ الیکشن شدید پریشر میں لڑا گیا۔ پی ٹی آئی کے لیے اسٹیکس زیادہ ہائی نہیں تھے کیونکہ ان کی طرف سے امیدوار نہ تو پارٹی لیڈر تھے اور نہ ہی ان کو پارٹی کی ساکھ بچانے کا چیلنج درپیش تھا جبکہ نون لیگ کی یہ سیٹ کوئی عام نشست نہیں تھی۔ ان کے قائد کی سیٹ تھی جو تیس سالوں سے ان کے پاس ہے، اور موجودہ حالات میں لوگوں کو ساتھ دکھانے، پارٹی کے اتحاد ، خاندان کی ساکھ اور مریم بی بی کے مستقبل کے ساتھ ساتھ میاں نواز شریف کی سیاسی ریلیونس بھی داؤ پر لگی تھی۔ اور مشکلات تھیں بھی سہی، چنانچہ یہ کامیابی تو بہرحال ہے اور اس کا کریڈٹ میدان کی لیڈر مریم نواز کے ساتھ ساتھ ن لیگ کی سمجھداری کو بھی جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے مزید بندے نااہل نہیں کروائے اور جیتے بھی مگر میری رائے میں ساٹھ ہزار پر خوش ہونے کی بجائے ان کو 45000 ووٹ کو کم کرنا چاہیے جو مخالفت میں پڑا ہے۔
2018 کا الیکش دلچسپ ہو گا اگر ہوا تو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *