Kaar-e-Jahanbaani

کارِ جہانبانی
ایک لطیفے سے بات شروع کرتے ہیں
ایک فیصل آبادی شیخ صاحب بستر علالت پر کافی تشویشناک حالت میں تھے – تمام عزیز و اقارب بستر کے اردگرد جمع تھے
ایکدم شیخ صاحب کی حالت میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے اور انہوں نے آنکھ کھولی، اپنے اردگرد سب کی طرف نظر دوڑائی، سبھی تھوڑا اور آگے بڑھے – شیخ صاحب نے دوبارہ ایک نظر سب پر ڈالی اور گویا ہوئے
طاہر؟
جی ابّا جی
زاہد ؟
جی جی ابّا جی
اصغر؟
ادھر ہوں ابّا جی آپکے پاس
ارشد؟
جی ابّا جی
امجد؟
میں بھی ادھر ہی ہوں ابّا جی آپکے قدموں میں
ہائیں!! سبھی ادھر ہیں تو پھر دکان پہ کون ہے؟ دلگرفتہ آواز میں بولتے ہوئے شیخ صاحب نے ہمیشہ کیلئے آنکھیں موند لیں
یہ لطیفہ آپ نے یہودیوں، ہندو بنیوں یا پاکستانی شیخوں میں سے کسی ایک کے بارے میں ضرور سنا ہوگا – اسکے علاوہ بھی یقیناً یہ لطیفہ مختلف ممالک میں مختلف مقامی کاروباری طبقات اور برادریوں پہ چسپاں کرکے ضرور سنایا جاتا ہوگا
یہاں شیخوں پہ لطیفہ سنانے کا مقصد لائلپوری ہونے کی وجہ سے ذاتی تجربات و مشاہدات پر مبنی ہونا ہے مگر بات اس سے کچھ اور آگے کی ہے
ہمارا شہر کاروباری شہر ہے اور یہاں کی اپنی ایک علیحدہ لغت بھی ہے جو کہ بہت سی ایسی اصطلاحات پر مبنی ہے جو غیر کاروباری یا غیر متعلق لوگوں کیلئے تقریباً خلائی زبان جیسی ہیں روکٹ، پڑتہ، ویہار، جیسے بظاہر عجیب و غریب الفاظ متعلقہ کاروباری حضرات کیلئے اپنے اندر مفہوم و معانی کا سمندر لئے ہوئے ہوتے ہیں
تمہید کافی لمبی ہوگئی ہے مگر ان میں سے ایک اصطلاح جس سے تقریباً تمام کاروباری اور کچھ غیر کاروباری بھی واقف ہونگے وہ ہے “گلّے پہ بیٹھنا” یہ ہمارے یہاں کے اکثر کاروباریوں کی پسندیدہ اصطلاح ہے، اس سے مراد ہے کہ بزنس کے تمام معاشی و انتظامی امور براہ راست دیکھنا – فیصل آبادی ہونے کی وجہ سے اکثر دوست و اقارب ایسے ہیں جو کہ ماشاء الله اچھے کاروبار کے مالک ہیں اور ملکی سطح پر نمایاں شناخت کے حامل ہیں کئی دوست احباب و کسٹمرز کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور کام کرنے کی وجہ سے انکے کاروباری حالات و واقعات سے آگاہی ہوتی رہتی ہے – ایک چیز عمومی طور پر ان لوگوں میں نظر آئی کہ یارن مارکیٹ (دھاگے اور کورے کپڑے کی مارکیٹ) کو چھوڑ کر یہ لوگ زیادہ تر بہت مصروف نظر آتے ہیں خواہ وہ مینوفیکچرنگ میں ہوں یا ٹریڈنگ میں – مگر جب آپ ان کے زیادہ قریب جا کر انکی مصروفیات کا حصہ بن کر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے دن کا بیشتر حصہ ایسے امور میں گزرتا ہے جو نہ تو انکے معاشی اور نہ سماجی سٹیٹس کے مطابق ہیں
مثال کے طور پر میرے ایک بہت اچھے دوست ہیں ایکسپورٹر ہیں ہر سال دوسرے سال ایکسپورٹ ٹرافی حاصل کرتے رہے ہیں کچھ عرصۂ پیشتر خاندانی تنازعات کی وجہ سے اب اپنا علیحدہ ٹیکسٹایل یونٹ دیکھ رہے ہیں – اس سے پہلے مشترکہ خاندانی کاروبار ہونے کی وجہ سے صرف ایکسپورٹ کے معاملات دیکھ رہے تھے مگر اب اپنے یونٹ کے تمام تر مالی اور انتظامی معاملات خود دیکھتے ہیں – آج سے چند سال پیچھے چلے جائیں تو انکی ایکسپورٹ بہت بہتر تھی اور سال کے کم از کم آٹھ مہینے بیرون ملک کاروبار اور سیاحت میں گزارتے تھے جس کا انکے سکائپ اور فیسبک اکاؤنٹ سے پتہ چلتا رہتا تھا – حال ہی میں ایک پراجیکٹ کی وجہ سے کچھ عرصۂ انکے بزنس یونٹ میں صبح شام گزارنے کا موقع ملا انکے دفتر میں بیٹھ کر دیکھا تو انکا اکثر وقت جن لوگوں اور جن امور کے ساتھ گزرتا تھا وہ بالترتیب ٹیکنیکل مینیجر، سٹچنگ ماسٹر، الیکٹریشن اور ٹائم شفٹ والے ہوتے تھے – بیچ میں کچھ کالز بیرون ملک کسٹمرز کی اور بس، لیکن اسی سارے چکر میں پورا دن گزرتا تھا اسی عرصے میں دو دفعہ انتہائی ناگزیر معاملات کی وجہ سے انہیں بیرون ملک بھی جانا پڑا مگر تب بھی انکے صبح شام وائبر، سکائپ اور موبائل پر انہی لوگوں سے بات کرتے ہوئے ہی گزرے – ایک بات جو میں نے نوٹ کی وہ یہ تھی کہ انکو اپنے جنرل مینیجر سے لیکر آفس بوائے تک کسی پر اعتماد نہیں تھا وہ جو کچھ بھی کہتے اسکی تصدیق تمام تر دستاویزات دیکھنے کے باوجود کسی اور وقت انکے ماتحت، کولیگ یا متعلقه مینیجر سے کسی اور طریقے سے ضرور کی جاتی کاروبار کا یہ عالم تھا کہ مشترکہ خاندانی کاروبار میں ساٹھ ستر کنٹینر ماہانہ ایکسپورٹ جو کبھی کبھار سو کا ہندسہ بھی چھو لیتی اب پانچ چھ کنٹینر ماہانہ تک آچکی – یہ تو صرف ایک انتہائی براہ راست مشاہدہ ہے مگر اس کے علاوہ بھی اکثر کاروباری حضرات کو دیکھا کہ جن کی نیٹ ورتھ اربوں میں مگر ایک دو مینوفیکچرنگ یونٹس اور بس، باقی پیسے سے ایک دو پلازے، ایک آدھ شادی ہال اور لندن،دوبئی، اسلام آباد، لاہور وغیرہ میں گھر اور پلاٹ – ان میں سے ہر ایک کے پرانے قابل اعتماد منشی ہوں یا آفس بوائے انکے اکاؤنٹ میں دس، دس پندرہ پندرہ کروڑ کیش پڑا ہوگا جسکی چیک بک انکے اپنے لیپ ٹاپ بیگ میں ہوگی ، اس سے تین چار گنا کیش بیویوں کے اکاؤنٹ میں ہوگا – ایک مینوفیکچرنگ یونٹ میں ایک بھائی بیٹھا ہے اور دوسرے میں دوسرا، شہر والی قدیمی دوکان پہ ابّا جی
پولیسٹر کا یونٹ کیوں نہیں لگا لیتے؟ اپنی سپننگ مل کیوں نہیں لگا لیتے، اپنا سٹچنگ یونٹ کیوں نہیں لگا لیتے؟ اچھا خاصہ فرق پڑ جائیگا بچت میں
یار پیسے کا مسلہ نہیں الحمدللہ مگر میں ادھر ہوتا ہوں ویونگ یونٹ پہ، بھائی سائزنگ دیکھ رہا ہے، ابّا جی کا تو پتہ ہی ہے انکی اب صحت ایسی نہیں کہ کوئی یونٹ سنبھال لیں ویسے بھی الله کا شکر ہے سب کچھ تو ہے کیا ضرورت ہے ہاتھ پیر مارنے کی؟
تو اس دفعہ پھر چلیں گرمیوں میں سوات؟
نہیں یار اس دفعہ تو مشکل ہے تیرے سامنے ہی ہے صبح سے شام ہوجاتی ہے بیوی بچوں کو وقت دیا نہیں جاتا سوات کدھر جانا ہے؟ ہاں چودہ اگست کو مری چلے جائینگے، بچے ویسے ہی گرمیوں میں انگلینڈ ہونگے مری آنا جانا آسان ہے تیرہ کو نکلیں گے ادھر سے کام نپٹا کے موٹر وے سے شام کو چار پانچ گھنٹے میں مری اور چودہ کی شام کو واپسی، کام کا بھی کوئی حرج نہیں اور سیر بھی ہوجائیگی- ہاں اس جمعے کو ڈنر رکھ لیں گپ شپ ہوجائے گی
یہ ہمارے یہاں کے بیشتر کاروباری طبقے کی کہانی ہے جس کی سوچ خود گلّے پہ بیٹھنا ہے
اب ایک نظر دوسری طرف دیکھیں تو انہی کاروباریوں میں سے کچھ اور طرح کے لوگ بھی ہیں آج سے تیس چالیس سال پیچھے جائیں تو ایک چھوٹی سی دکان یا چھوٹی سی فیکٹری اور آج فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے رستے میں انکے آٹھ دس یونٹ نظر آئنگے، رائے ونڈ قصور روڈ پہ بھی انکے یونٹ ہونگے، ایک بینک، ایک انشورنس کمپنی کے مالک اور ملک بھر میں درجنوں ریٹیل سٹورز کے مالک ، انکے خاندان پہ نظر ڈالیں تو ایک بیٹا اور ایک بیٹی یا دو بیٹے یا کبھی کبھار دو بیٹیاں
تو انکے یونٹ کون دیکھتا ہے؟
سادہ سی بات ہے آئی بی اے، لمز، نیشنل ٹیکسٹایل یونیورسٹی، این سی اے اور پاکستان سکول آف فیشن ڈیزائن کے فارغ التحصیل مینیجرز یا کچھ اوپر چلے جائیں تو غیر ملکی بزنس سکولز کے گریجویٹس
میاں منشا جنہیں عمومی طور پر پاکستان میں ڈاکیومنٹڈ ویلتھ کے حساب سے امیر ترین آدمی تصور کیا جاتا ہے انکے بارے میں مشہور ہے کہ اپنے بیشتر انڈسٹریل یونٹس میں وہ صرف انکے افتتاح والے دن ہی گئے ہیں اور اب صرف انکی ایک صحفے پر مشتمل بیلنس شیٹ ہی دیکھتے ہیں انکے تین صاحبزادے ہیں اور انکے کاروبار کے اگر صرف شعبے ہی دیکھے جائیں تو ورٹیکل ٹیکسٹایل مینوفیکچرنگ، ٹیکسٹایل ریٹیل سٹورز نیٹ ورک، بنک، انشورنس، سیمنٹ مینوفیکچرنگ، پیپر مینوفیکچرنگ، پاور جینریشن، ہوٹلنگ اور ایوی ایشن شامل ہیں یعنی کہ ہر فرد کے حصے میں تقریباً تین شعبے آئنگے اور اگر یونٹس کی تعداد دیکھی جائے تو وہ درجنوں میں ہوگی المختصر یہ کہ اگر اہلیت نااہلیت سے قطع نظر تمام بھانجے بھتیجے دامادوں کو بھی شامل کرلیا جائے تو ہر گلّے پر جسمانی طور پر موجود ہونا ناممکن ہے – بالفرض محال ایسا ہو بھی جائے تو بھی اگلے تین چار سال میں میاں منشاء ایک عام سے کاروباری بن کے رہ جائینگے کیونکہ انکے ہر یونٹ کی پیداوار متاثر ہونا شروع ہوجائیگی اور وہ اپنا بیشتر وقت خاندانی و دیگر تنازعات نپٹانے میں صرف کریں گے
مندرجہ بالا دو مقامی امثال سے آپکو دونوں طرح کے کاروباری ماڈلز کی آمدن اور مواقع کے اعتبار سے پھیلاؤ کے ممکنات کا اندازہ ہوچکا ہوگا
اب اسی بات کو مزید پھیلائیں کہ اگر نرالا سویٹس کے مالکان کی سوچ گلّے پہ خود بیٹھنے کی ہوتی تو آج ملک بھر میں نرالا کی کتنی شاخیں ہوتیں؟
زیادہ سے زیادہ تین چار اور وہ بھی لاہور میں، ڈیری کا بزنس اور پورش کی ڈیلر شپ کا تو خواب بھی نہ دیکھا جاسکتا
یہی بات گورمے بیکرز کے بارے میں ہے جنکی باقی پنجاب تو ایک طرف رکھیں صرف لاہور اور گردو نواح میں دو سو کے قریب شاخیں ہیں، سافٹ ڈرنک مینوفیکچرنگ، ڈیری پراڈکٹس اور سنیکس اسکے علاوہ ہیں
میکڈونلڈز ، کے ایف سی اور پزا ہٹ کی تو بات ہی چھوڑ دیں کہ وہ پھر بین البراعظمی بات ہوجائیگی
اصل بات جو کرنے کی ہے وہ یہی ہے کہ ہر گلّے پر خود نہیں بیٹھا جاسکتا اور اگر بیٹھنا ہے تو اپنے وقت ، زندگی اور ترقی کی قیمت پہ بیٹھنا پڑے گا
یہ تو کاروبار ہے جس میں چند شعبوں کی بات ہے مگر آپ نے دیکھ لیا کہ بیٹے بیٹیوں، دامادوں، بھانجے بھانجیوں اور بھتیجے بھتیجوں کے ساتھ انکا چلانا بھی مشکل ہے تو کاروبار یا امور مملکت کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے کہ ہزاروں کلومیٹرز اور کروڑوں نفوس پر مشتمل ملک میں آپ تمام تر امور ان خطوط پر چلاسکتے ہیں؟
قطعاً نہیں
پیشہ ورانہ طور پر اہل افراد ہی ان امور کو بطریق احسن نپٹا سکتے ہیں اس بات کو جتنی جلدی سمجھ لیا جائے اسی میں سب کا فائدہ ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *