Panama Case Faisla

*انیس سال یاد رکھے جانے والا فیصلہ*
قصہ مختصر یوں ہے کہ پاکستان کا موجودہ آئین جو 1973 میں پارلیمان نے منظورکیا اسکے آرٹیکل 225 میں قرار دیاگیا کہ مجلس شوری اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کے الیکشن سے متعلق تمام تنازعات کا فیصلہ ایسا ٹرائبیونل کرے گا جسکا تعین پارلیمان کرے گی ۔ چناچہ مقننہ نے طویل غوروخوص اور بحث و مباحثہ کے بعد عوامی نمائندگی ایکٹ مجریہ 1976 (روپا) کے نام سے قانون پاس کیا جس میں انتہائی واضح طور پر درج ہے کہ عوامی نمائندے کی نااہلیت بوجوہ اثاثے چھپانے، غلط گوشوارے جمع کروانے، صادق امین یا راست باز نہ رہنے سمیت دیگر جملہ انتخابی تنازعات کا فیصلہ کرنے کا واحد اختیار الیکشن کمیشن کے ٹرائبیونل کوہوگا جسکی کاروائی میں قانون شہادت، ضابطہ فوجداری، ضابطہ دیوانی لاگو ہوں گے، دستاویزی اور زبانی شہادتیں قانون شہادت کے مقرر کردہ پیمانے سے تولی جاسکیں گی، ہر کس فریق کو اپنے خلاف پیش ہونے والے گواہان پر جرح کا حق ہوگا جبکہ ٹرائبیونل کے فیصلے سے متاثرہ فریق سپریم کورٹ میں اپیل کا حق رکھتا ہوگا۔

چناچہ گذشتہ چار دہائیوں سے الیکشن تنازعات کا فیصلہ الیکشن کمیشن کا ٹرائبیونل کرتا رہا اور اسکے فیصلوں کیخلاف اپیلوں کے فیصلے سپریم کورٹ کرتی رہی۔ ان چالیس سالوں میں بےشمار دفعہ اسطرح بھی ہوا کہ کچھ مقدمہ باز غلط مشورے کی بنا پر یا سہوا” اپنے انتخابی تنازعات کے حل کیلئے عدالت عالیہ اور عظمیٰ کا دروازہ اسکی آئینی حدود میں کھٹکٹانے کی غلطی کرتے رہے مگر ہربار عدلیہ نے ایسی تمام پٹیشنز آئین کے آرٹیکل 225 اور روپا کا حوالہ دیکر خارج کیں اور بارہا قرار دیا کہ اعلیٰ عدلیہ آئینی دائرہ اختیار سماعت میں قانون شہادت میں مروجہ طریقہ کار کے تحت دستاویزاتی شہادتوں کو تولنے سے قاصر ہے اور صرف سرسری جائزہ لینے کی مجاز ہے جو فیئرٹرائل کے بنیادی حق سے متصادم ہے مزید یہ کہ عدالت عظمیٰ کیجانب سے یہ بھی قرار دیا جاتا رہا کہ آئینی دائرہ اختیار سماعت میں اگر انتخابی تنازعات کافیصلہ کرنا شروع کردیا جائے تو ایسا کرنے سے متاثرہ فریق اپیل کے حق سے محروم ہوجائے گا جو خلاف قانون ہے۔

سب کچھ حسب ضابطہ و قانون چل رہا تھا کہ اچانک 29-08-2014 کی شام ایک ایسی ٹوئیٹ نمودار ہوئی جس نے آگے چل کر آئین پاکستان اور روپا کی جڑیں ہلا کررکھ دیں۔ ہوا یوں کے اسوقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے دھرنا دئے ہوئے دو شخصیات عمران خان اور طاہرالقادری کی آرمی چیف سے ملاقات کے حوالے سے بیان دیا کہ “نہ فوج نے ثالثی کا کردار مانگا نہ ہم نے فوج سے ایسی کوئی درخواست کی”. اس بیان کے جواب میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے وزیراعظم کے بیان کو جھٹلاتے ہوئے ٹویٹ کی کہ “پرائم منسٹر ہاؤس میں منعقدہ میٹنگ میں حکومت نے آرمی چیف کو مصالحتی کردار ادا کرنےکو کہاتھا”۔ بس ٹوئیٹ کیا آئی ایک بھونچال آگیا، درجن کے قریب نیوز چینلز نے وزیراعظم کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے وزیراعظم کو صادق اور امین نہ رہ سکنے کا مرتکب ٹہرانا شروع کردیا اور اس بیان پر نااہلی کا بیانیہ باقاعدہ لانچ کردیا گیا۔

اسکے ساتھ ہی گوہرنوازسندھو ایڈوکیٹ نے ہائیکورٹ کی آئینی حدود میں وزیراعظم کی آئین کی شق 62-63 کےتحت ناہلی کی پٹیشن واگزاری جو ہائیکورٹ سے خارج ہوئی جبکہ دوسیاستدانوں اسحق خاکوانی اور چودھری شجاعت حسین اور ایک وکیل اظہرصدیق صاحب نے براہ راست سپریم کورٹ کی آئینی حدود میں وزیراعظم کی نااہلی کی پٹیشنز داخل کیں۔ چاروں پٹیشنز سپریم کورٹ یکجا ہوئیں اور انکی سماعت کیلئے چھ رکنی بینچ قائم کیاگیا جس میں موجودہ و سابقہ چیف جسٹس صاحبان کے علاوہ عزت مآب جسٹس آصف سعید خان کھوسہ صاحب بھی شامل تھے۔ اس بنچ نے نوازشریف کی نااہلی کیلئےدائر کی گئیں تمام پٹیشنز خارج فرما دیں مگر ساتھ ہی حدیبیہ پیپر ملز کے فیصلہ شدہ کیس کی فائل پر لگی چند گرہیں تو کھولی ہیں ساتھ ہی اسکے علاوہ *انیس سال* یاد رکھے جانے والا فیصلہ بھی صادر فرمایا کہ “پارلیمان نے قانون میں اس عدالتی فورم کا تعین نہ کیا ہے جس میں ممبراسمبلی کی آئین کے آرٹیکلز 62&63 کے تحت نااہلی کا فیصلہ کیا جاسکے لہذا اب ہم کسی اور مقدمے میں اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ پارلیمنٹیرین کی نااہلی کا فیصلہ کرنے کا اختیار کس عدالتی فورم کے پاس ہے۔ جبکہ محترم جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے اپنے اضافی نوٹ میں 62-63 کے قانون کو ناپسندیدہ تک قرار دے دیا۔

جہاں تک میرا تعلق ہے جب میں نے یہ *انیس سال* یاد رکھے جانے والا فیصلہ پڑھا تو کچھ دیر کیلئے اپنا دماغ سن سا محسوس کیا، پھر جب حواس بحال ہوئے تو ورطہ حیرت میں ڈوب گیا کہ اگر قانون میں نااہلی کے عدالتی فورم کا تعین نہیں تھا تو چالیس سال سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے ٹرائبیونل کے نااہلی سے متعلقہ فیصلوں کی اپیلیں کیوں اور کیسے سنتی رہی، ان فیصلہ شد مقدمات جن کی وجہ سے کچھ پارلیمینٹیرینز نااہل ہوئے، دوبارہ الیکشن ہوئے کیا وہ سب غیرقانونی تھا یا اس فیصلے میں کوئی سقم ہے۔ خیر میں تو فورا” روپا کی کتاب اور عدالتی نظائر کے سالنامے دفتر کے پاس حنیف پکوڑے والے کو دے آیا کہ اسکے کام آجائیں گے مگر عدالت عظمیٰ نے اس *انیس سال* یاد رکھے جانیوالے فیصلے کی صورت میں *بیس سال* یاد رکھے جانے والے فیصلے کی بنیاد رکھی جب سپریم کورٹ نے ‘عمران خان بنام نوازشریف وغیرہ’ مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے پٹیشنر سائڈ(عمران خان) کے وکلا کی پچھلے کئی روز سے جاری “گرلنگ”/ دہلائی کے بعد فریقین مقدمہ سے عدالتی تاریخ کا دوسرا انوکھا ترین سوال پوچھ ڈالا کہ فریقین مقدمہ بتائیں کہ کیس کا فیصلہ اس عدالت کی آئینی حدود میں کروانا چاہتے ہیں یا جوڈیشل کمیشن بنا دیں۔ جسکے جواب میں پٹیشنر عمران خان کی طرف سے کہا گیا کہ اگر جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تو اسکا بائیکاٹ کیاجائے گا لہذا کیس کا فیصلہ آئینی حدود میں منظور ہوگا جبکہ مخالف فریق جوکہ شائد بنچ کیجانب سے انتہائی حوصلہ افزا ریمارکس کیوجہ سے پٹیشن کے سوفیصد خارج ہونے کی قوی امید لگائے بیٹھا تھا اور ویسے بھی اچھےاور تابعدار بچے کا امپریشن قائم کرنے کا بیحد شوقین تھا، عدالت عالیہ کی آئینی حدود کو تسلیم کرگیا۔

آئینی حدود تسلیم کرنے کے فورا” بعد آسماں نے ایسے ایسے رنگ بدلے جو 20-4-2017 کے گاڈفادر والے فیصلے سے ’مائی بےبی‘ سٹیٹس والی جےآئی ٹی کیجانب سے وزیراعظم ہاؤس کی بگنگ/ٹیپنگ کے عدالتی اعتراف سے ہوتی ہوئی فقط تجویز شدہ مگر وصول نہ شدہ دس ہزار درہم کی تنخواہ کو قابل وصول اور مخفی اثاثہ قرار دینے کی بنیاد پر نااہلی تک محیط ہے۔
نوٹ: عدالتی تاریخ کا پہلا انوکھا ترین سوال پٹیشنر عمران خان سے عدالت عظمیٰ کیجانب سے پوچھا گیا سوال تھا(جس نے فریق مقدمہ وزیراعظم وغیرہ کو شدید غلط فہمی میں مبتلا کیا) کہ “آیا پٹیشنر عمران خان کو عدالتی فیصلہ منظور ہوگا یا نہیں؟ ” جسکا جواب مثبت آنے پر اس عدالتی کاروائی کا آغاز بعد از “یوم تشکر برموقع پریڈگراؤنڈ” کیا گیا جس کو سپریم کورٹ ناقابل سماعت قرار دے چکی تھی۔

خصوصی استدعا: قائرین اس تحریر کو پڑھ کر قطعا” جذباتی نہ ہوں یہ تو محض ایک ایسے شخص کی نااہلی کا معاملہ تھا جو فیصلہ کے بعد بھی بھلا چنگا ہے جیتا جاگتا ہے، یہاں تو بےگناہ پھانسی لگنے کےبعد باعزت بری ہوجاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *