Halqon ki Usooli Siasat

کئی برس سے وطنِ عزیز میں سیاست اور اصولوں کی بات کی جاتی رہی ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے، اصول کے تحت ہی سیاست ہونی چاہیے مگر وہ اصول ہو کیا؟

کیا خدمتِ خلق اصول ہونا چاہیے یا ” لُٹو تے پھُٹو” ۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ کسی بھی حلقے میں کتابی اصولوں کے تحت سیاست نہیں ہو رہی مگر یہ کہنا بھی غلط نہیں ہو گا کہ میڈیائی غوغا عام طور پر حلقے کی سیاست پر کم ہی اثر ڈالتا ہے۔ لوگوں کے اپنے مخصوص مسائل ہوتے ہیں اور ان کا حل ہی اہمیت رکھتا ہے۔ کئی بار ضمنی انتخابات ہوتے ہیں اور توقع کی جاتی ہے کی حزب اقتدار وہ سیٹ جیتے مگر ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ پنجاب اور بالخصوص پنجاب کے جنوبی علاقوں میں ووٹ میڈیائی حقیقتوں کا پابند نہیں ہوتا۔ چیخ چیخ کرآسمان سر پر اٹھا لیں تو بھی ووٹرکی مرضی اپنی ہی رہتی ہے۔

لوکل سطح پر ہمارے سیاست دان عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے ہیں کہ ممبر تو وہ قانون ساز اسمبلی کے بن رہے ہیں جس کا “ق” بھی عوام کو نہیں معلوم مگر وہ ان کے بجلی، سڑک، پُلی اور تھانے کچہری کے معاملات میں معاون ہو سکتے ہیں اس لیے وہ ان ووٹوں کے حقدار ہیں ۔ اور کبھی کبھی وہ دیسی رابن ہُڈ کا کردار نبھا کر بھی داد اور ووٹ سمیٹتے ہیں ، ان کے ڈیروں پر ہونے والی پنچائیتیں فیصلہ کرتی ہیں کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔ لوکل تھانے سے ایف آئی آر کروانے، واپس دلوانے اور صلح کروانے جیسے معاملات بھی کردار ادا کرتے ہیں، اب ایسے میں سیاسیات کی کتابوں کے مطابق ان کا کردار پرکھنے کا وقت کس کے پاس ہے۔

میں 2008 کے الیکشن سے دو مثالیں دینے کی کوشش کروں گا۔ 2008 کا الیکشن محترمہ کی شہادت کے بعد ہوا۔ پیپلز پارٹی کو بہت سیٹیں ملیں اوران میں سے ایک مشہور نشست این اے 178 مظفرگڑھ تھی جہاں سے جمشید دستی پی پی پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے۔ 0201 میں ان کی بی اے کی ڈگری جعلی ہونے کا مقدمہ چل رہا تھا ، فیصلے کے زریعے نااہل ہونے سے قبل ہی وہ مستعفی ہو گئے۔ کیس نمٹا دیا گیا۔ پی پی پی نے سخت میڈیا کیمپین کے باوجود جمشید دستی کو ضمنی الیکشن میں کھڑا کردیا۔ سارے ملک کے اصولی راگ الاپے جانے کے باوجود جمشید دستی ضمنی الیکشن لڑے بھی اور جیتے بھی ۔

اسی طرح ایک اور حلقے پی پی- 219 خانیوال میں 2008 کے الیکشن میں پی پی کے سابق ایم پی اے کرم داد واہلہ کو ٹکٹ نہ دیا گیا اور پیپلز پارٹی نے اپنے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی کو ٹکٹ دے دیا۔ کرم داد واہلہ آزاد امیدوار کے طور ہر کھڑے ہوگئے۔ پی پی کی اس وقت کی حالت اور حلقہ میں شاہ محمود کے اثرورسوخ کی وجہ سے کرم داد واہلہ یہ الیکشن قریب قریب4000 ووٹوں سے ہار گئے۔ لیکن شاہ محمود چونکہ قومی اسمبلی کی نشست سے بھی جیت گئے تو انہوں نے پی پی 219 کی سیٹ چھوڑ دی جس پر ضمنی الیکشن ہوا۔ کرم داد واہلہ کو دوبارہ الیکشن لڑنے کا موقع مل گیا ۔ شاہ محمود نے اپنے بھائی مرید حسین کو ٹکٹ دلوایا۔ ملتانی وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی دونوں نے حلقے میں وزٹ کیے، اربوں روپے کے منصوبے بشمول گیس سپلائی اعلان ہوئے۔ مگر کرم داد واہلہ نے برادری اور دھڑے کی بنیاد پر انتہائی مظبوط کیمپین کی جس پر حکومت یا فنڈز دونوں اثر انداز نہ ہو سکے اور 12000 ووٹوں کی لیڈ سے کرم داد واہلہ کامیاب رہے۔ کہا جاتا ہے کہ آخری روز ن لیگ نے حمائت کر دی مگر تب تک وہ مقامی طور پر کامیاب ہونے کا رستہ دیکھ چکے تھے۔

بات اصول و ضوابط کی ہی نہیں بلکہ لوکل سطح پر مضبوط پکڑ کی بھی ہے۔ الیکشن میں پارٹی ووٹ بھی ہوتا ہے مگر پنجاب کی حد تک لوکل سیاست لوکل مسائل حل کرنے والے مسیحا کا بہت ساتھ دیتی ہے۔

نواز شریف لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا ایجنڈا لے کر آئے تھے اور پانچ سال بعد وہ اس میں 80٪ تک کامیاب رہے ہیں۔ ان کے ووٹرز کی تعداد پر کسی بھی مقدمے کا اثر کم ہی پڑتا دکھائی دیتا ہے۔

One thought on “Halqon ki Usooli Siasat

  • July 23, 2017 at 7:20 am
    Permalink

    PP 219 barey aap ne buht acha likha, siasat waqae daiyron se aagey nahi barrh skti yahan, kuch ghaltiyan hain es barey, k karam dada 08 k general election se kafi pehly PPP chorr chukey thy, es se pehly wo kbhi MPA nahi rahey, tehsil nazim zror rahey 2 terms. Bi election me shikast ki wajuhat buht thin, Jin me local ko ticket na milnay ki wja se munafqat, polling day pr qureshi k jhagrrey aur jàhania school headmaster ko marna etc

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *