Jiyala Aur Foxy

جیالا اور فوکسی
جیالا ہماری سیاست کا ایک بہت جانا پہچانا کردار ہے – عمومی تعریف میں جیالا پیپلز پارٹی کے کارکن کو کہا جاتا ہے مگر یہ غلط العام ہے کیمیاوی اعتبار سے جیالے کی تعریف ایک ایسے انسان کی ہے جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوکر بھٹو صاحب کے سحر میں مبتلا ہو یعنی ایک مذھب کی طرح اسکا یقین و ایمان ہو کہ پیپلز پارٹی بھٹو صاحب کی بنائی ہوئی کوئی آفاقی تنظیم ہے جو زمینی طور پر جیسے بھی ہو روحانی طور پر بھٹو صاحب سے کنیکٹ ہونے کی وجہ سے جوہری اعتبار سے ہمہ وقت معجزاتی طور پر کایا پلٹنے پر قادر ہے – اسلام کی طرح اسکے موجودہ حالات یا زوال کا حتمی نتائج پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا اور کسی بھی وقت بھٹو خاندان کا کوئی فرد تلوار پکڑے سفید گھوڑے پر ظہور پذیر ہو کر سب کچھ تہہ و بالا کرکے حتمی فتح دلوادے گا
اگر آپ موجودہ دور میں جیالوں کو دیکھیں تو آپ کو ان میں اور ووکس ویگن بیٰٹل المعروف ‘فوکسی’ کے مالکان میں حیران کن مماثلت نظر آئے گی وہ کیسے؟ آئیے دیکھتے ہیں
ہر شہر میں بہت قلیل تعداد میں پائے جاتے ہیں
سبھی ایک دوسرے سے بخوبی آشنا ہوتے ہیں
سبھی جب آپس میں ملتے ہیں تو اسی کی باتیں کرتے ہیں
معروضی طور پہ جانتے بوجھتے بھی یہ ایک فریب میں مبتلا ہوتے ہیں کہ انکے پاس ایک ہمیشہ رہنے والی ٹیکنالوجی یا نظریہ ہے جو کہ دنیا میں سب سے بہتر ہے اور دوبارہ اس سے بہتر بننا ممکن نہیں
دوسروں سے مختلف نظر آنے کو ہی اپنی کامیابی سمجھتے ہیں
اسکی خرابیوں پہ مختلف توجیہات کے ذریعے پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں
اچھی طرح سمجھنے کے باوجود خود فریبی کی بدولت ہمہ وقت اپنے آپکو مطمئن سمجھنے اور نظر آنے پر قادر ہوتے ہیں
ہمہ وقت اسکی صفائی اور جھاڑ پونچھ کے ذریعے اسے کارآمد اور حال سے متعلق ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں
یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کی ہئیت کے پیش نظر اسکے موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے کبھی بھی جدید نہیں بنایا جاسکتا اسکی تبدیلی پر بات نہیں کرتے
انکو معلوم ہے کہ موجودہ ڈھانچے میں جو انجن رکھا گیا ہے وہ اس کے لحاظ سے نہیں بنا اور اسکو ترمیم کرکے اسکا حصہ بنایا گیا ہے جبکہ اصل انجن اب پرزہ جات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کارآمد نہیں ہے اور جلد یا بدیر ڈھانچہ یا انجن دونوں میں سے کسی ایک کو بدلنا ہوگا
اپنے سے غیر متفق لوگوں سے بات کرتے ہوئے انکی تمام تر دلیلیں اسکی سچائی اور درستگی پہ اسطرح مرتکز رہی ہیں کہ اب چاہیں بھی تو اسے صرف اس وجہ سے تبدیل نہیں کرسکتے کہ لوگ کیا کہیں گے
ان تمام تر معروضات کا مقصد کسی کی تضحیک نہیں بلکہ مخلص سیاسی کارکنوں کے ایک طبقے کے المیے کی طرف توجہ دلانا مقصود تھا
ہماری سیاست میں کم و بیش تمام سیاسی جماعتیں ہی شخصیت کے گرد گھومتی ہیں مگر موجودہ پیپلز پارٹی کا المیہ کچھ مختلف اس طرح سے ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک غیر موجود وجود سے وابستہ کیے ہوئے ہیں جو کہ انکے حالیہ ڈھانچے سے کسی طرح بھی متعلق نہیں ورنہ شخصیت پرستی میں ہر جماعت الا ماشاء الله ایک دوسرے سے بڑھ کر ہی ہے
ابھی ہماری آنکھوں کے سامنے ایک ایسا طبقہ پیدا ہورہا ہے جسے کچھ عرصے تک ایسے ہی المیے کا سامنا ہوگا کیونکہ مختلف اور منفرد دکھائِی دینے کے شوق میں آپ اپنے ہی ہم نفسوں سے کٹ کرتنہائی کا شکارہو جاتے ہیں – اس پر پھرکبھی بات کریں گے فی الحال کہا سنا معاف اوراصلی جیالوں سے ایک بارپھرمعذرت
نوٹ: یہاں فوکسی سے مراد کلاسک بیٹل ہے جس کا انجن پیچھے ہوتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *