Ahmed Pur Sharqiah

صبح اُٹھا اور ٹی وی آن کیا، خیال تھا کہ جمعہ کے روز ہوئے بم دھماکوں کو بھول کر خبروں والے اب عید اور اس سے متعلقہ معاملات پر بات کر رہے ہوں گےمگر جو دیکھا وہ انتہائی اندوہناک تھا۔ احمد پور شرقیہ میں ایک آئل ٹینکر میں آگ لگ چکی تھی اور 120 افراد جاں بحق ہو چکے تھے۔ اس غموں کے مارے ملک کے سینے پر ایک خراش اور کُریدی جا چکی تھی۔
ابھی 20 کی شام اورپھر 21 جون کی شام کو اس ہی مقام سے دو بار گزر ہوا تھا۔ 20 تاریخ کا طوفانِ بادو باراں میں نے اسی جگہ سے گزرتے ہوئے بیتایا تھا ۔ انسان کا علم ناقص اور محدود ہے ، کیا معلوم تھا کہ یہ جگہ پاکستان کے حادثوں کی تاریخ میں ایک دلخراش باب کا اضافہ کر جائے گی۔
صبح سے ٹی وی دیکھ رہا ہوں، رپورٹرز اور تبصرہ نگاروں کی باتیں سن رہا ہوں۔ سوشل میڈیا پر بھی تبصروں ، الزامات اور توقعات کا سیلاب ہے۔ جذبات اور دلگیری عیاں ہے اور یقیناً واقعہ ہی ایسا ہے کہ افسوس کا لفظ بے معنی اور رسمی لگتا ہے ۔ دل کو انتہا کی بے چینی ہے۔ کوئی نواز شریف صاحب کے ملک میں نہ ہونے کو دوش سے رہا ہے، کوئی جنوبی پنجاب میں سہولیات نہ ہونے پر شکوہ کر رہا ہے، کوئی اس واقعے کو دہشت گردی قرار دے رہا ہے اور کوئی غربت کو ہجوم کی موت کا زمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔ سب دلی جذبات بیان کر رہے ہیں جن کی وجہ اس حادثے کا غم ہے اور یہ جذنات کسی بھی قسم کے شک و شبہے سے بالا ہیں مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ ایک حدثہ نہیں تھا بلکہ پے در پے غلطیوں کا نتیجہ ہے کہ بیسیوں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آئیے کچھ وجوہات کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
ڈرائیور کی غلطی
ہمارے ہاں ٹریفک رولز ہیں، تقریباً برطانیہ جیسے ہیں مگر عملدرامد ندارد ہے۔ کوئی بھی سیفٹی کا خیال نہیں رکھتا۔ لائیسنس کوڑیوں کے بھاؤ بکتے ہیں، ایچ ٹی وی لائسنس کے قواعد بہت سخت ہیں پر جب جاری کرتے ہوئے ان پر عملدرامد ہی نہیں ہونا تو کیا فائدہ؟ ٹرالرز کے ڈرائیورز عام طور پر لمبے وقت تک گاڑی چلاتے ہیں اور آرام کم کرتے ہیں، جس کی عمومی وجہ مالکان ہیں وہ منافع کی لالچ میں ڈرائیورز کو ہر پھیرا کم سے کم وقت میں لانے پر انعام کا لالچ دیتے ہیں یوں ڈرائیورز جلد پہنچنے کے لیے نیند کے باوجود گاڑی چلاتے رہتے ہیں اور حادثات کا باعث بنتے ہیں
عام لوگ
چلیئے قسمت کی خرابی سے یا ڈرائیور کی غلطی سے حادثہ ہو گیا اب اس کا دوسرا پہلو عام لوگ ہیں۔ روزانہ سفر کرتے ہوئے میں سینکڑوں گاڑیوں کے قریب سے گزرتا ہوں بڑے ٹرالرز کو بھی دیکھتا ہوں۔ خاص طور پر آئل ٹینکرز پر لکھا ہوتا ہے کہ یہ “آتش گیر” مادہ ہے، یعنی آگ پکڑ سکتا ہے تو “فاصلہ رکھیں” یا “دُور رہیں” بیشک یہ کہا جا سکتا ہے کہ عام لوگ پڑھے لکھے نہیں مگر ٹینکر کی شکل تو پہچانتے ہی ہیں نہ، پیٹرول کو آگ لگ جاتی ہے، یہ تو جانتے ہی ہیں نہ۔ پھر بھی وہ قریب آ جاتے ہیں جیسا یہاں ہوا۔
ان کا لالچ قومی سوچ کا عکاس بھی ہے ۔ مفت تیل حاصل کر لینے میں جان کو لاحق خطرے کو بھی خاطر میں نہیں لائے اور لالچ میں آ کر تیل جمع کرنا شروع کر دیا۔
عام طور پر جب گاڑی حادثے کا شکار ہوتی ہے تو اس کا سارا نظام اُتھل پُتھل ہو جاتا ہے ۔ الیکٹریکل وائرنگ بھی ہل جاتی ہے تاریں مقررہ جگہ سے نکل جاتی ہیں اور کہیں نہ کہیں سپارک ہو جاتا ہے ۔ آئل ٹینکر کے معاملے میں یہ بھیانک ہو سکتا ہے اور ہوا بھی۔ کچھ لوگ کہیت ہیں کہ دھماکہ ہوا تو شائد یہ کوئی دیشت گرد تھا جس نے ہجوم میں بم چلایا جس کی آواز آئی۔ میں غلط ہو سکتیا ہوں مگر میرا خیال ہے کہ اگر آگ کسی آئل ٹینک میں پہنچ جائے تو وہ ٹینک دھماکے سے پھٹ جاتا ہے اور ایسا ہی یہاں ہوا اور دھماکے میں بیسیوں لوگ مارے گئے۔
نیشنل ہائی وے اور موٹر وے پولیس
عام طور پر یہ پولیس اپنا کام کافی بہتر انداز میں کرتی ہے۔ جس وقت یہ ٹینکر گرا اور جس وقت حادثہ رُونما ہوا اس دوران اتنا وقفہ تھا کہ سینکڑوں لوگ تیل جمع کرنے اکٹھے ہو گئے اور یقیناً وہ سب مسافر نہیں تھے کیونکہ وہ برتن لئے ہوئے تھے تو شائد ساتھ کی آبادیوں سے آئے تھے۔ اور قریب سے ٹریفک بھی رواں دواں تھی پولیس کو جائے حادثہ پر آکر سب سے پہلے عارضی طور پر باقی ٹریفک کو روکنا چاہیے تھا اور پھر متبادل راستہ بتانا چاہیے تھا۔ اگر لوگ تیل جمع کرنے کے لئے اکٹھا ہونا شروع ہو گئےتو فوراً مقامی تھانے کی مدد لینا چاہیے تھی ، چاہے لاٹھی چارج کرنا پڑتا یا آنسو گیس مگر اس لالچی مجمع کو منتشر کر دینا چاہیے تھا تا کہ جانیں تو بچ جاتیں اور یہ سراسر ان کہ حفاظت کے لئے ہوتا۔
ریسکیو آپریشن
پنجاب کی حکومت نے 13 سال پہلے شروع ہونے والے ریسکیو 1122 پراجیکٹ کو بڑھایا ہے اور تحصیلوں تک پھیلا دیا ہے ، گورنمنٹ ہسپتالوں کی ایمبولینسز کو بھی آن بورڈ لیا گیا ہے اور تو اور تمام اضلاع میں پرائیوٹ ایمبولینس آپریٹرز کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ھنگامی صورت حال میں ہم ایک مربوط کوشش کر کے حادثے کے نقصانات کو کم سے کم کر سکیں ۔ یہ اچھی بات ہے۔ جس جگہ اور جس نوعیت کا یہ حادثہ ہے اس کے لئے بڑی کوشش درکار تھی۔ شعلوں کی لپیٹ میں آنے والے کئی تو موقع پر مر چکے تھے۔ زخمیوں کو ہسپتال لے جانا تھا۔ ہر ٹی ایح کیو کی حالت بری ہے۔ چند بنیادی سہولتات کے علاوہ ہر مریض کو ڈی ایچ کیو بھیج دیا جاتا ہے ۔ اس جائے حادثہ سے قریب ترین وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور ہے جہاں 25 بستروں پر مشتمل برن یونٹ ہے۔ جو مناسب ہے۔ ہم روز ایسے حادثات کی توقع نہیں کرتے ۔ جلنے کے مریض عام طور ہر کم ہوتے ہیں لیکن جب اِس نوعیت کا حادثہ ہو تو کتنی بھی سہولیات ہوں کم پڑ جاتی ہیں۔ رحیم یار خان میں ایک دس بستروں پر مشتمل برن یونٹ ہے اور پھر ملتان میں۔ فاصلہ دونوں ہی طرف قریباً 160 کلو میٹر بنتا ہے۔ فوج بھی مدد کو آئی ہے اور ہیلی آپریشن کے زریعے بعض مریضوں کو دوسرےشہروں تک منتقل کیا جا رہا ہے۔ جو کہ مناسب اقدام ہے۔
عہدیداران
سب سے زیادہ تنقید وزیراعظم صاحب پر ہو رہی ہے کیونکہ وہ کئی دن سے ملک سے باہر ہیں۔ پہلے تو عمرہ کر ہے تھے مگر پھر عید منانے کے لیے لندن جا پہنچے۔ اور اس دوران ملک کے طول و عرض میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں اور اب یہ حادثہ۔ انہیں لازماً وطن واپس آنا چاہیے تھا اور اگر صحت کی خرابی کی وجہ سے جگہ جگہ نہ بھی جا سکتے تو کم از کم اپنے دفتر سے مانیٹر ہی کرتے رہتے، حکام کو ہدایات ہی دیتے رہتے۔ کچھ دلاسہ ہو جاتا قوم کو۔ سیاست دانوں کو ہمیشہ دوسروں سے گلہ رہتا ہے کہ جو کام دوسروں کے کرنے کے نہیں وہ کیوں کرتے ہیں، ارے بھائی جب آپ کام کے وقت میں جگہ خالی چھوڑ دیں گے اور لوگ کسی سے توقع کرتے ہوں گے تو جو سامنے نکل کر ان کی خیر خواہی کرے گا وہ عوامی حمائت پائے گا۔ ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے بیٹے رہو اور پھر جگہ چھن جانے کا گلہ کرو۔۔۔۔ اچھا نہیں۔ ان کا تجاوز درست نہ بھی ہو تو اکثر کو درست لگے گا کیونکہ آپ اپن جگہ پر موجود نہیں تھے۔
آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ ہم ایک قسمت کی ماری قوم ہیں عید ہو یا کرکٹ ہماری خوشیاں پل دو پل کی ہوتی ہیں اور ماتم عُمروں کے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *