Faisla Awam Karenge

‏ایک با اختیار اور مقبول وزیر اعظم اسٹیبلشمنٹ کو ہمیشہ سے کھٹکتا ہے. نواز شریف کی حکومت نے عوام کی توقعات کے عین مطابق تین محاذوں (امن و امان، لوڈشیڈنگ اور معیشت) پر خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہے. عوامی مقبولت میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا اور نواز شریف راستہ روکنا بہت مشکل نظر آرھا ہے. اگر اسی طرح چلتا رھا تو جمہوری ادارے مضبوظ ہونگے اور روایتی چورن کی سیل بند ہونے کا خدشہ ہے اور یہ بات اسٹیبلمنٹ کو کسی صورت قبول نہیں ۔

تمام لوٹوں اور نواز مخالف لوگوں کو نواز شریف کے خلاف ایک چھتری تلے جمع کیا جارھا ہے. اس بار عدالت کے ذریعے شب خون مار کر نواز شریف کو نا اہل کرنے کے بعد کوشش ہوگی کہ نئے الیکشن کے اعلان کردیا جائے اور مسلم لیگ کو سنبھلنے کا وقت نہ دیا جائے. اگلے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ عدالتی بحران کے بعد فصلی بٹیروں کی کتنی بڑی کھیپ اڑ کر مخالف کیمپ میں جا بیٹھے گی۔

لیکن اس بار نواز شریف کیلئے صورتحال ماضی کے مارشل لاء سے کافی مختلف اور دلچسپ ہے. جوڈیشل ایڈوینچر کے بعد اگر فصلی بٹیرے بھاگ بھی جائیں تو زیادہ فرق پڑنے کا امکان نہیں. پنجاب میں پی ٹی آئی اور ن کے ووٹر میں خلیج بہت واضح ہوچکی ہے. مسلم لیگی ووٹر کسی صورت میں نواز شریف کے علاوہ کسی کو ووٹ دینے پر راضی نہیں. بحران پیدا ہونے کی صورت میں ووٹر اپنے غم و غصہ کا اظہار ووٹ کی صورت میں کرکے سازشی عناصر کو دھول چٹانے کی بھر پور کوشش کریگا۔

میڈیا، جمہوریت کا چوتھا ستون لیکن جمہوریت کیخلاف سازشوں میں بنیادی حیثیت اختیار کرچکا ہے. مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے فرائض میڈیا اپنا دائرہ اختیار اور حق سمجھتا ہے. چینلز اپنی عدالتیں لگا کر روزانہ سزائیں سناتے ہیں. صبح و شام تماشہ جاری ہے. نیوز کم اور بریکنگ نیوز زیادہ. قوم کو نفسیاتی طور پر مفلوج کرکے اور ہیجان برپا کرکے ریٹنگ کی دوڑ جاری ہے. میڈیا ہاوسز اپنے پالیٹیکل انٹرسٹ کیلئے جرنلزم کا روز جنازہ نکالتے ہیں اور اینکر علی الاعلان اپنی جانبداری کا اظہار کرتے ہیں۔

نئے زمانے میں سوشل میڈیا ہوا کی اک تازہ لہر ہے جو گاہے بگاہے تعفن زدہ صحافت کا اصل چہرہ سامنے لاتا رہتا ہے. ابتدائی ارتقائی مراحل اور حدود کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے بہت خامیاں ضرور ہیں لیکن سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں رھا. یوزرز کی تعداد میں اضافے کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا کا اثر و رسوخ کم سے کم ہوتا جائے گا اور ٹی وی پر بیٹھے پنڈت اس خدشے کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔

بات دور چل نکلی، واپس موضوع پر آتے ہیں. یہ اکیسویں صدی ہے، مختلف اقوام کے صدیوں پر محیط تجربات سے موجودہ جمہوری نظام وجود میں آیا ہے جو تقریبا ساری دنیا اختیار کرچکی ہے. ووٹ کو اصل طاقت کا سرچشمہ تسلیم کیا گیا ہے. عوام جو ووٹ سے جو فیصلہ کریں وہ حرف آخر. لہذا ووٹ کے ذریعے حکمرانوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے اختیار عوام کو دیجئیے اور اپنی آنے والی نسلوں پر رحم کیجئیے تاکہ وہ دنیا کے شانہ بشانہ چل سکیں اور باعزت قوم کے طور پر جی سکیں۔

کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ عوام ہی کرے گی. آج نہیں کرنے دینگے تو دس سال بعد، دس سال بعد نہیں تو بیس سال بعد. ہوش کے ناخن لیں اور پاکستان کو مزید پیچھے نہ دھکیلیں ۔

!فصل پک چکی ہے، اسے تباہ کرنے کی بجائے اس کا ثمر پاکستان کو کھانے دیجئیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *