Naseeb ki Barishain

وہ دہم جماعت کے سیکشن ڈی کے سب سے آخری ڈیسک کے آخری کونے میں بیٹھا کرتا، اب سے نہیں بلکہ پچھلی تمام جماعتوں میں بھی اسکی وہ جگہ برقرار رہی، کبھی کسی نے قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ رنگ گہرا سانولا، دیہاتی نقوش، ناٹا قد، ہمیشہ اجڑے بال اور کپڑے کبھی استری شدہ نہ دیکھے۔ نام تو وکٹر مسیح تھا مگر کلاس میں اوئے وکٹر کہہ کر ہی عزت افزائی کی جاتی۔ ہر استاد سے مار کھایا کرتا اور کبھی ہوم ورک مکمل نہ ہوتا کہ اسکے پاس پوری کتابیں تک نہ ہوتیں۔ مجھے کبھی سمجھ نہ آ سکا کہ وہ کیسے پاس ہو جاتا ہے مگر ایسے تیسے کر کے وہ میٹرک تک پہنچ ہی چکا تھا۔ اسے شاید میں سال بھر میں ایک دو بار ہی بولتے سنا کرتا ورنہ ہمیشہ کا خاموش طبع اور سہما سا رہتا۔ انجانی وجوہات کی بنا پر ہر استاد جب ڈنڈے سے باقی طلبا کی تواضع کرتا تو وکٹر کو ہمیشہ باقیوں سے دو ڈنڈے زیادہ ہی پڑتے اور وہ کبھی شکایت تک نہ کرتا۔

میں پڑھائی میں اوسط درجے سے کچھ بہتر ہوا کرتا مگر شاید بہتر انتظامی اور نظم وضبط کی صلاحیتوں کی بنا پر کلاس کا مانیٹر (ہیڈ بوائے) بننے کا اعزاز مجھے ہی مل جاتا۔ جسے باقی کلاس بھی تسلیم کرتی۔ مانیٹر ہونے کی حیثیت سے وکٹر میرے بہت کام آتا گورنمنٹ سکول میں ہونے کی وجہ سے سردیوں میں دھوپ میں بیٹھنے کیلئے کلاس کیلئیے صفیں بچھوانا اور اساتذہ کیلئیے میز کرسی ڈنڈے اور بلیک بورڈ کا انتظام کرنا وغیرہ میری زمہ داریوں میں شامل ہوتا جو میں وکٹر کے ذمے لگا کر بے فکر ہو جایا کرتا اور وہ نہایت فرمانبرداری سے عمل کر کے مجھے مطلع کر دیتا۔

میری توجہ کا مرکز وکٹر مسیح کے علاوہ کلاس کا ایک اور کردار بھی رہا کرتا۔ یہ محمد حنیف تھا۔ لمبا تڑنگا مگر کلاس کا سب سے لائق طالب علم۔ ہم اسے احتراماً حنیف صاحب کہا کرتے۔ حنیف کلاس کا سب سے قابل لڑکا اور وکٹر اسکے برعکس کلاس کا سب سے پھوہڑ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ دونوں میں کیا مماثلت ہو سکتی ہے جو بیک وقت میری توجہ کا مرکز ٹھہرے؟ میں عرض کرتا ہوں، دونوں میں واحد مشترک چیز انکی کم گوئی اور خاموشی تھی۔ وکٹر کی طرح حنیف کو بھی شاید ہی کبھی بولتے سنا ہو۔ حنیف کا خاندانی پس منظر بھی شاید کچھ زیادہ مضبوط نہیں تھا۔ اسکے والد ایک لکڑی کی ٹال چلاتے۔ سکول کے بعد وہ اپنے والد کی ٹال پر چلا جاتا اور کلہاڑی اٹھا کر لکڑی کے ٹکڑوں کو چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر تبدیل کرتا رہتا۔ اسکے ہاتھوں پر ہمیشہ ہی ایک آدھ چھالا پڑا رہتا۔ حنیف کی قمیض ہمیشہ اس کے گھٹنوں سے ہاتھ بھر اوپر ختم ہوتی، اکثر اوقات پیوند بھی لگے دیکھے۔ مگر اس سب کے باوجود جانے کیسے حنیف ہمیشہ امتحان میں اول آ جایا کرتا۔ مجھے بالخصوص یہ جاننے کی دلچسپی رہتی کہ دیکھیں حنیف کا مستقبل اسے کس ملازمت میں لے جاتا ہے۔ مجھے حنیف غربت اور محنت کی عملی تصویر نظر آتا جسکا ثبوت اسکی ذہانت اور لیاقت تھی۔ کتابوں میں جو پڑھا تھا ان اصولوں کے مطابق اسکا مستقبل روشن تھا۔

وقت گزرتا گیا، میٹرک کا امتحان پاس کر کے ہم کالج چلے گئے اور زیادہ تر ہم جماعت تتر بتر ہو گئے۔ چونک میٹرک میں والد صاحب نے موٹر سائیکل چلانے کی اجازت دے دی تھی اس لئیے اب وقتاً فوقتاً آواری گردی کی سہولت بھی حاصل ہو گئی تھی۔ گرمیوں کے موسم میں گھر میں ایک اضافی کمرے کے تعمیر شروع ہوئی تو مستری تین دن تک غیر حاضر رہا۔ والد صاحب نے قریبی گاؤں جا کر مستری کا معلوم کرنے کا حکم دیا۔ میں موٹر سائیکل لے کر گاؤں پہنچا اور پوچھتا پچھاتا ایک کچے سے گھر کے سامنے جا پہنچا جسکے صحن کی آدھی دیوار غائب تھی اور صحن میں چند بکریاں بندھی ہوئی تھیں۔ میں نے پردے کا خیال کرتے ہوئے ایک جانب ہو کر لکڑی کے کواڑ پر دستک دی تو چند لمحوں بعد دروازہ کھلا، حیرت سے میرا منہ کھلا رہ گیا۔ دروازہ کھولنے والا وکٹر مسیح تھا۔ وکٹر بھی میری طرح دنگ رہ گیا تھا مگر اس کے چہرے پر خوشی اور مسرت کا احساس جگمگا رہا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ خوشی میں کیا کرے۔ کبھی ہاتھ ملاتا اور کبھی ہاتھ چھڑوا کر اندر بھاگنے کی کوشش کرتا پھر جلدی سے اندر بھاگ کر گیا اور اپنی والدہ کو آواز دی اور باہر آ کر مجھے اندر چلنے کیلئے اصرار کرنے لگا۔ میں ہچکچاتے ہوئے بادلِ ناخواستہ اندر جانے پر مجبور ہو گیا۔ دو کچے کمروں پر مشتمل اس گھر کے ایک کمرے میں مجھے لے جایا گیا جس کا فرش بھی کچا ہی تھا۔ وکٹر نے مجھے ایک چارپائی جس پر اسکی والدہ الزبتھ بی بی نے نئی چادر بچھائی تھی مجھے بٹھایا اور خود کچے فرش پر نیچے بیٹھ گیا۔ الزبتھ بی بی جو کہ ننگے پاوں ہی تھیں وہ بھی فرش پر نیچے ہی بیٹھ گئیں۔ مجھے بہت شرم محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ اوپر بیٹھیں تو وکٹر بولا نہیں نہیں سر آپ نے ہماری اتنی عزت بڑھائی ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ وکٹر مجھے سر کہہ کر مخاطب کر رہا تھا حالانکہ سکول میں ہمیشہ مجھے نام سے بلاتا۔ اس سارے پروٹوکول میں مجھے عجب سا احساسِ تفاخر ہو رہا تھا جس سے میں چاہ کر بھی جان نہیں چھڑوا پا رہا تھا۔

وکٹر نے اپنی والدہ کو چائے بنانے کیلئیے کہا تو میں نے منع کر دیا۔ الزبتھ بی بی فوراً بولیں صاحب جی آپ فکر نہ کریں میں برتن ساتھ والی زلیخاں کے گھر سے منگوا لیتی ہوں۔ ۔ یہ مسلم ہیں انکے برتن پاک ہیں۔ یہ ہمارے ساتھ بہت اچھے ہیں۔ آپ چائے ضرور پی کر جاییے گا ہماری عزت بڑھ جائےگی۔ میں شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ مزید معلومات پر علم ہوا کہ مطلوبہ مستری وکٹر کا بڑا بھائی ہے جو کنبے کا واحد کماؤ ہے۔ اور سال بھر سے یرقان کا شکار ہے اور اب کسی حکیم کے ہاں زیرِ علاج ہے۔

وکٹر کا والد جوزف مسیح شہر میں کمیٹی میں صفائی کا کام کرتا تھا اور چار سال قبل گٹر کی صفائی کے دوران زہریلی گیس سے دم گھٹنے سے ہلاک ہو گیا تھا۔ اسکی وفات پر متعلقہ افسر نے وعدہ کیا تھا کہ اگر جوزف کا لڑکا میٹرک کر لے تو اسے کمیٹی میں نائب قاصد بھرتی کر لیا جائے گا۔ وکٹر کی والدہ گاؤں کے نمبردار کی بھینسوں کا گوبر صاف کرنے کا کام کرتی تھیں۔ وکٹر کی سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ جس نائب قاصد کی پوسٹ کیلئیے وہ چار سال سے امید لگائے بیٹھا تھا وہاں مقامی ایم این اے نے اپنے کسی ووٹر کا آوارہ پھرنے والا لڑکا بھرتی کروا دیا تھا اور اب وکٹر کو میٹرک پاس کرنے کے باوجود گٹر صفائی کا کام کرنے کی آپشن دی جارہی تھی۔ وکٹر مجھ سے مدد کی توقعات لگائے بیٹھا تھا مگر میں جانتا تھا کہ میں شاید اس کے کسی کام نہ آ سکوں۔ اسکے باوجود مجھ سے انکار نہ ہو سکا اور میں حامی بھر کے واپس آ گیا۔

وقت گزرتا گیا میں کالج سے نکل کر اپنے آئی ٹی کی تعلیم کے شوق کی تکمیل کیلئیے اور مزید حصول علم کی خاطر لاہور چلا گیا وہاں تعلیم مکمل کی اور چند سال تجربہ حاصل کیا تو بیرون ملک ملٹی نیشنل کمپنی میں اعلٰی جاب بھی مل گئی۔ ‍‍‌بیرون ملک منتقل ہوا تو اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ شادی بھی وہیں بیرون ملک ہی ہو گئی۔

وطن عزیز واپس آنا ہوا تو ایک دن گاڑی میں گزرتے ہوئے ایک لکڑی کی ٹال کے سامنے ایک چہرہ نظر آیا جو جانا پہچانا سا لگا، گاڑی فوراً روک کر نیچے اترا تو دیکھا ہم جماعت حنیف صاحب کسی کو لکڑی تول کر دے رہے تھے۔ وہی حنیف جو کلاس کا سب سے قابل طالب علم تھا۔ جس کے بارے میں مجھے یقین تھا کہ ضرور اعلٰی عہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگا، اس کی قمیض آج بھی گھٹنوں سے ہاتھ بھر اونچی تھی۔ نہایت تپاق سے ملے۔ پوچھنے پر بتایا کہ میٹرک کا امتحان دے کر فارغ ہوئے تو والد انتقال کر گئے۔ گھر کا واحد ذریعہ معاش لکڑی کی ٹال تھی۔ ٹال پر نہ بیٹھتا تا دال روٹی بھی نہ چل پاتی۔کہیں سے وظیفہ مل سکا نہ ہی کسی سماجی تنظیم نے حامی بھری اور کوئی ذریعہ نہ تھا لہٰذا کالج جانے کی نوبت ہی نہ آئی۔

پاکستان سے واپسی پر میں اور برادرِ نسبتی اکٹھے واپس آئے۔ ائیر پورٹ امیگریشن پر گورے آفیسر نے پاسپورٹ دیکھا چند سوالات کئیے اور پاسپورٹ پر مہر لگا کر مجھے جانے کا اشارہ کر دیا۔ میں ایک طرف کھڑا ہو کر برادرِ نسبتی کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد وہ بھی آ گیا اور آتے ہی گورے امیگریشن آفیسر کے امتیازی سلوک پر پھٹ پڑا کہ یہ ہمیں اقلیت سمجھ کر جان بوجھ کر امتیازی سلوک کرتے ہیں اور غیر ضروری سوالات کرتے ہیں۔ وہ سامان چیک ہونے پر بھی سیخ پا ہو
رہا تھا۔ اس امتیازی سلوک کے بارے میں بات کرتے کرتے اییرپورٹ سے باہر نکلے تو بلند قامت عمارتیں دیکھتے ہوئے دور سے مجھے اپنے آفس کی کثیر المنزلہ عمارت نظر آئی تو نہ جانے کیوں میرے ذہن میں ایک بار پھر وکٹر مسیح آ گیا خود کو اس ملک میں وکٹر کے مقام پر رکھ کر سوچا تو جھرجھری سی آ گئی اور وکٹر مسیح کے ساتھ ہی ذہن کی لہر محمد حنیف کی جانب منتقل ہو گئی۔ یوں لگا کہ شاید محمد حنیف اس جگہ کا مجھ سے زیادہ بہتر حقدار تھا اور ہم وکٹر مسیح سے کہیں زیادہ امتیازی سلوک کے مستحق ۔ خیال آیا کہ معاشرے کا تانا بانا بکھر جانے کے باعث جانے کتنے ہی وکٹر اور محمدحنیف یوں امتیازی سلوک اور مواقع نہ ملنے کی وجہ سے ضائع ہو جاتے ہونگے، اچانک مجھے احساس ہوا کہ میرا سر ندامت سے جھکا ہوا تھا۔۔

2 thoughts on “Naseeb ki Barishain

  • June 20, 2017 at 2:26 pm
    Permalink

    حقیقت پر مبنی بہت عمدہ تحریر،
    لاسٹ میں ایکسپیکٹیشن کے مطابق کوئی ہیرو گیری نہیں کی گئی اچھا لگا پڑھہ کر اور بھی اچھا لگے گا اگر آپ سپیشلی وکٹر کے لیے اصل میں ہیرو گیری کریں

    Reply
  • June 20, 2017 at 6:29 pm
    Permalink

    لاجواب تحریر ہماری طبقاتی تقسیم نے کئی ہیرے نگل لیے اور کئی کوئلوں کو ہم نے ہیرا سمجھ کر گلے میں لٹکا رکھا ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *