Khyber Mail (Part 3)

خیبرپختونخواہ میں اپوزیشن جماعتوں کو متحد رکھنے کی واحد وجہ ان کی عمران خان کے لیے شدید ناپسندیدگی ہے۔ ایسا شاید پنجاب کی سیاست کے لیے تو مناسب ہو مگر خیبر پختونخواہ کے اندر ، جہاں جماعتوں کو کمزور مینڈیٹ ملنے کی روایت ہو ، یہ عنصر انتخابی شکست کا موجب بھی ٹھہرسکتا ہے۔ روایتاََ تو اب تک سابقہ حکمران اتحاد ، پیپلزپارٹی اور اے۔این۔پی ، کو مضبوط پوزیشن حاصل کرلینا چاہئیے تھی۔ عموماََ اس مرحلے پر رائے دہندگان ماضی کے حکمرانوں کی کوتاہیاں بھولنا شروع ہوچکے ہوتے ہیں۔ حالانکہ امنِ عامہ کی بہتر صورتحال اب پُرزور انتخابی مہم کے لیے موافق ہے مگر حقائق ان جماعتوں کے لیے کچھ زیادہ خوشگوار نہیں۔ پیپلزپارٹی کے ووٹوں میں آئی کمی اور نئے ووٹروں کو متاثر کرنے میں ان کی ناکامی سے جنم لیتی مایوسی ان کے حالیہ جلسوں سے عیاں ہے۔ اپنے زمانہ عروج میں یہاں جیالے ایک بھرپور قوت ہوا کرتے تھے اور پیپلزپارٹی کسی بھی حلقے میں دور دراز کے علاقے سے لائے گئے امیدوار کو بھی ووٹ دلوا سکتی تھی۔ خصوصاََ پختون پٹی کے اندر پیپلزپارٹی نے بڑے بڑے ناموں کو جنم دیا اور اپنے مخالف قوم پرستوں کو چاروں شانے چِت کیا۔ اسی جماعت نے صوبائی اسمبلی سے صوبے کا نام تبدیل کروانے اور کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں مُہم بھی چلائی۔ اگرچہ آفتاب شیرپاو کے دھڑے کی علیحدگی اور محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سے یہ جماعت مسلسل زوال کا شکار دکھائی دیتی ہے مگر پیپلزپارٹی کو آخری جھٹکا ایک دوسری سمت سے ملا۔ آصف علی زرداری کا ، جو کہ اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ لازوال وفاداری نبھانے کے لیے شہرت رکھتے ہیں ، اے۔این۔پی سے گہرا رشتہ خاصہ پُرانا ہے۔ یہ ان کا ذاتی تعلق ہی تھا جس کے توسط انھوں نے ، صوبائی خودمختاری اور صوبے کے نام کی تبدیلی جیسے، پیپلزپارٹی کے کارناموں کا کریڈٹ بھی اے۔این۔پی کو سونپ ڈالا۔ یُوں پیپلزپارٹی ، اے۔این۔پی کا ایک جونئیر پارٹنر بن کر رہ گئی اور پیپلزپارٹی کا کٹہر اے۔این۔پی مخالف ووٹر اس سے دور ہوگیا ۔ دوسری طرف اے۔این۔پی کے پاس فصیح اور پُرجوش کارکنان کی ایک نئی نسل تو ضرور موجود ہے مگر ان کے پاس ماضی کے جیسی قیادت موجود نہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے بعد جہاں اب ناکام حکمرانی کا بوجھ ساتھ چلتا ہے وہیں کالاباغ ڈیم مخالف ، صوبائی خودمختاری یا پھر صوبے کے نام کی تبدیلی جیسے گھسے پٹے نعرے اب ووٹروں کو متاثر نہیں کرتے۔ حالات یہ ہیں کہ میاں افتخار اور حیدرہوتی کے پائے لیڈر بھی اپنے حلقوں تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ اور بیچ اس منجدھار کے جماعتی قیادت ، اپنی جماعت کی باگ دوڑ ایمل ولی خان کو سونپنے میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ اب تک ایمل ولی خان کو لانچ کرنے کی ایک سے زیادہ کوششیں ہوچکی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی کوشش دیرپا تاثر چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ فی الحال وہ اپنی سیاسی، مُہماتی یا انتظامی صلاحتیوں سے کسی کو بھی متاثر کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ اس سب کے باوجود اے۔این۔پی کی مقامی سطح پر اتحاد بنانے اور مضبوط امیدوار چُننے کی صلاحیت اپنی جگہ موجود دکھائی دیتی ہے۔

مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کے درمیان بٹے ووٹوں کو یکجا کرلینے کے بعد اب مسلم لیگ ن کی پوزیشن مضبوط دکاھئی دیتی ہے۔ ماضی میں ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والی قیادت 1997 کے بعد نا تو کوئی انتخابی معرکہ سر کر سکی اور نا ہی انھوں نے صوبے میں اپنی جماعت کی بہتری کے لیے کوئی کردار ادا کیا۔ حتیٰ کہ انھوں پختون پٹی میں موجود اپنے ماضی کے ووٹروں کو واپس لانے میں بھی ذرا دلچسپی نا دکھائی اور فاٹا کے خیبرپختونخواہ میں انضمام کے معاملے میں بھی ان کا کردار منفی ہی رہا۔ یُوں اپنی جماعت کے لیے موجود مواقع تلاش کرنے کی بجائے وہ اپنے علاقائی اثرورسوخ کو ترجیح دیتے رہے۔ مرکزی قیادت نے بالآخر اس حقیقت کا ادراک کرتے ہُوئے ڈرامائی انداز میں پیرصابرشاہ اور سرار مہتاب عباسی کی اجارہ ختم کی اور جماعتی اختیارات صاحب ثروت امیرمقام، جاوید عباسی اور گورنر اقبال ظفرجھگڑا پر مشتمل ایک نئی مثلث کے حوالے کردیے۔ امیرمقام کے اس عروج کی کہانی بھی خاصی دلچسپ ہے۔ ماضی میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے اس سیاستدان کو 2002 میں ملی کامیابی اپنے قریبی رشتے دار مرحوم پیر محمد خان کی مرہون منت تھی۔ مسلم لیگ ق میں شمولیت کے بعد اپنی سخاوت کے بل بوتے پر وہ جنرل پرویز مشرف کی آنکھ کا تارہ بن گئے۔ یہی کُلیہ انھوں شریف خاندان پر بھی آزمایا۔ مریم نواز کی حمایت جیتنے کے بعد اب وہ مسلم لیگ ن کے اندرونی حلقوں تک رسائی حاصل کرچُکے ہیں۔ ان کے ذمے لگایا گیا کام بھی انتہائی عام فہم اور واضح ہے ۔۔۔ یعنی کہ تحریک انصاف کی شکست کو یقینی بنانا۔ اب یہ نئی مثلثی قیادت انتہائی پُرجوش انداز میں ان علاقوں سے بھی امیدواروں کو لُبھانے میں مصروف ہے جہاں مسلم لیگ ن گذشتہ دو دہائیوں سے غیرحاضر تھی۔

مولانا فضل الرحمان کی جے۔ یو۔آئی ایف نے صوبے کے اندر تسلسل کے ساتھ اپنے ووٹوں میں اضافہ کیا ہے۔ جہاں اس جماعت کے قائد انتہائی آسانی کے ساتھ سیاسی اتحاد بنالینے کی شہرت رکھتے ہیں وہیں تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ جے یو۔آئی۔ایف بھی ، صوبے کے طول و عرض میں پھیلے اپنے مدرسوں کی وجہ سے ، پورے صوبے میں وجود رکھتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے لیے سب سے بڑا خطرہ تحریک انصاف کا مولانا کے روایتی انتخابی حلقوں میں سرایت کرجانا ہے۔ اس کا سب بڑا مظہر 2013 کے بعد ضمنی انتخابات میں عمران خان کا مولانا کے بھائیوں کے حلقوں میں انتخابی مہم چلانا اور انھیں شکست سے دوچار کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آسانی سے طیش میں نا آنے والے مولانا ، عمران خان کے ذکر پر ہی چِڑ جاتے ہیں۔ یہ انتخابی خطرہ ، مولانا فضل الرحمان کے بھائی اور وزارت اعلیٰ کے لیے ان کے غیراعلانیہ امیدوار ، مولانا لُطف الرحمان کی غیرمتاثرکُن کارکردگی کی وجہ سے دوگنا ہوجاتا ہے۔

مذکورہ بالا جماعتوں کو متحد کرنے کی واحد وجہ عمران خان ہیں۔ اس وقت تحریک انصاف ہی وہ واحد جماعت ہے جو کہ چارسدہ سے ایبٹ آباد اور شانگلہ سے ڈیرہ اسمٰعیل خان تک اپنے امیدوار سامنے لاسکتی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے پاس چار برسوں کے دوران بے پناہ وقت دستیاب تھا کہ وہ تحریک انصاف کی مخالفت میں ترقی ، تعلیم ، صحت اور بدعنوانی جیسے مسائل پر مبنی اپنا متبادل بیانیہ اور تصورات سامنے لاتے۔ بدقسمتی سے انھوں نے وہی رستہ چُنا جو کہ تحریک انصاف نے مسلم لیگ ن کے خلاف اختیار کیا تھا ۔۔۔ یعنی کہ میں خود کو صحیح ثابت کیوں کروں جب میں تمہیں غلط ثابت کرسکتا ہوں؟۔ قصہ مختصر یہ کہ صوبہ خیبرپختونخواہ کے اندر حزب مخالف کے لیے صورتحال خاصی موافق ہے باوجود اس کے کہ اس میں ان کا اپنا کوئی کمال نہیں۔ تین اقساط پر مبنی تحاریر کا یہ سلسلہ خیبرپختونخواہ کے اندر آج کے زمینی حقائق کا جائزہ لیتا ہے۔ اگلے ایک برس کے دوران صوبائی و وفاقی حکومتوں کو درپیش کوئی بحران ، قبل از وقت انتخابات یا پھر کوئی بڑا مالی بحران اس تمام صورتحال کو یکسر تبدیل کرسکتا ہے۔ لیکن آج کے حالات میں ۔۔۔۔۔ کسی ویژن یا پھر بہتر مستقبل کی امید سے عاری مگر تحریک انصاف کی مخالفت میں متحد حزب مخالف کی جماعتیں آئندہ انتخابات جیتنے کے لیے فیورٹ ہیں۔

پسِ تحریر: ذالان خان معروف بلاگر ہیں۔ ان کا تعلق خیبرپختونخواہ سے ہے اور وہ قصہ خوانی نامی بلاگ کے خالق ہیں۔ ذالان خان کا یہ تجزیہ ، پہلی دفعہ ، معروف انگریزی اخبار “دی نیوز” میں 11 مئی 2017 کے روز شائع میں ہوا۔
یہ ترجمہ مصنف کی خصوصی اجازت سے شائع ہوا

حصہ اول:
http://chaikhanah.com/2017/05/28/khyber-mail/

حصہ دوئم:
http://chaikhanah.com/2017/05/30/khyber-mail-part-2/

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *