Khyber Mail (Part 2)

خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت کے ابتدائی برسوں میں ، شوکت یوسفزئی اور شاہ فرمان کی سرعام بے تُکی حرکتیں دیکھنے کے بعد ، میں نے تحریک انصاف کے ایک باخبر دوست سے پوچھا کہ کیا وجہ ہوئی کہ اپنے نااہل صوبائی اسمبلی ممبران ساتھیوں کی بجائے ، اُن جیسے واضح سوچ کے حامل اہل کارکنان نے 2013 کے انتخابی معرکے میں حصہ نا لیا؟۔اُن کا جواب حیران کُن تھا “ ہمارا خیال یہ تھا کہ گلی محلے کی سیاست کے لیے تجربے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم اس کے لیے مناسب نہ تھے”۔ ماضی کے اس فیصلے کا خمیازہ تحریک انصاف آج بُھگت رہی ہے۔ 2013 میں چند ہی ، اگر ایسا ہے بھی تو ، ایسے ایم۔پی۔اے تھے جو کہ اپنی سیاسی صلاحیتوں کے بل بوتے پر جیتے ہوں۔ یُوں یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا اور سب سے زیادہ قربانیاں دینے والے کارکنان شور ہی مچاتے رہ گئے۔ اس صورتحال کے ساتھ ساتھ مرکزی قیادت کے معاملات بھی تھے جس نے خیبرپختونخواہ کی حکومت کو 2013 کی انتخابی شکست کا غم غلط کرنے کے لیے ملے تحفے سے زیادہ اہمیت نا دی اور انھوں نے صوبائی حکومت کو اسلام آباد فتح کرنے کے لیے بطور پلیٹ فارم ہی استعمال کیا۔ دھرنوں اور بائیکاٹ جیسے خلفشاری عوامل توجہ بٹانے کا کام کرتے رہے اور مرکزی قیادت کی، اس سوچ کے تحت کہ فوری انتخابات کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں، فیصلہ سازی تشنج کا شکار ہوگئی۔

چار عناصر ایسے ہیں جنہوں نے تحریک انصاف کو مکمل تباہی سے بچایا۔ پہلا عنصر امن عامہ کی بہتر ہوتی صورتحال ہے جسے سمجھنا ذرا مشکل ہے۔ سال 2014 کے دوران پورے صوبے میں امن عامہ کی حالت انتہائی مخدوش تھی۔ سکول ، بازار، دفاتر اور حتیٰ کہ جنازے تک بھی اس بے رحم دہشتگردی سے محفوظ نا تھے۔ صوبے کو ایسے حالات کا خمیازہ افرادی و مالی ہجرت کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ ان حالات کا الزام بہرحال ، غلط یا صحیح، اے۔این۔پی اور پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کے سر ہی آیا۔ دوسرا عنصر ، اے۔پی۔ایس حملے کے بعد ، افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی کا ہے۔ برس ہا برس سے افغان مہاجرین صوبے کو درپیش ہر مسئلے میں قربانی کے بکرے کے طور پر کام آتے رہے ہیں۔ اگرچہ عمران خان اس جبری بے دخلی کے ناقد رہے ہیں مگر مقامی آبادی کو اس عمل سے قلیل مُدتی ہی سہی مگر فوائد ضرور پہنچے ہیں۔ جہاں عام آدمی کی اُجرتوں میں اضافہ ہوا ہے وہیں رہائشی کرایوں میں کمی بھی واقع ہوئی ہے۔ چنانچہ دو دہائیوں سے یہاں رہائش پذیر ہزاروں مہاجرین کی بے دخلی جیسا انسانی صدمہ کسی عوامی ہمدردی کو جنم نہیں دے سکا۔ تیسرا عنصر اس مثبت تاثر کا قائم ہونا ہے کہ صوبے کے اندر اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ سکولوں اور دفاتر کے اندر عملے کی حاضری بہتر ہوئی ہے ، موصول ہوتی شکایات کا تیزی سے ازالہ کیا جارہا ہے اور اصلاحات کو روکنے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کی جارہی ہے۔ اسی طرح ہیلتھ کئیر اور ایک ارب درختوں کی شجرکاری مہم جیسے منصوبے بھی بہتر نتائج دے رہے ہیں۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ عوام کی جانب سے مختلف منصوبوں کے آغاز میں حکومت کی جانب سے دکھائی گئی انتہا درجے کی سُست رفتاری بھی نظرانداز کی جارہی ہے کیونکہ عام تاثر یہی ہے کہ کچھ بہتر کرنے کی کوششیں ضرور ہورہی ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کے ہوئے انتہائی چالاکی کے ساتھ استعمال کے ذریعے بنیادی مسائل کو سامنے آنے سے روکا بھی جارہا ہے۔ مثال کے طور یہ باتیں سامنے نہیں آتیں کہ مفادات کے تصادم کے قانون کی کئی دفعہ دھجیاں اُڑائی جا چُکی ہیں ، احتساب کا عمل طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے اور پولیس کو غیر سیاسی بنانے اور اعلیٰ افسران کے احتساب کا عمل مشکوک ہوچکا ہے۔ اسی طرح صوابدیدی فنڈز کا غیرمنصفانہ استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ مستحق استحصالی علاقوں کی بجائے اس کا مرکز وزیراعلیٰ، سپیکر صوبائی اسمبلی اور وزیر تعلیم کے حلقوں تک ہی محدود ہے۔ چوتھا اور آخری عنصر عمران خان بذاتِ خود ہیں۔ باوجود اس کے کہ ان کی قیادت بہت سے مسائل کا شکار ہے، وہ اب بھی مقبولیت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے حامی اب بھی ناکامیوں کا ذمہ دار عمران خان کی بجائے ان کی ساتھی قیادت کو ہی ٹھہراتے ہیں۔ اگرچہ عمران خان کی اپنے من پسند امیدوار کو جتوانے کی صلاحیت اب ماند پڑچُکی ہے مگر وہ اب بھی صوبے کے کسی بھی علاقے میں نا صرف لوگوں کو بڑی تعداد میں جمع کر سکتے ہیں بلکہ ایک کمزور ترین امیدوار کو بھی غیرحقیقی انداز میں ایک مضبوط امیدوار کا درجہ دے سکتے ہیں۔

آج کے زمینی حقائق یہ ہیں کہ صوبائی حکومت کے خلاف کسی بڑی عوامی لہر کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ اسی طرح تحریک انصاف کے حق میں بھی کوئی بڑی عوامی لہر دکھائی نہیں دیتی۔ اس صورتحال کا سیدھا سادہ مطلب یہی لیا جاسکتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں جیت یا ہار میں امیدواروں کی ذاتی صلاحیت ہی فیصلہ کُن ثابت ہوگی کہ وہ ووٹروں کو کس طرح لُبھاتے ہیں اور ساتھ ہی ایسی قیادت کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں جو ان کے ووٹوں میں اضافے کا سبب بن سکے۔ اس معیار پر پرکھا جائے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کے پاس ایسی اہلیت کے حامل صرف چند امیدوار ہی ہوں گے۔ ان میں سے اکثریت کی جیت عمران خان کی مرہون منت تھی ورنہ وہ بذات خود دوبارہ منتخب ہونے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ ان کے اتحادی بھی مشکلات کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ سراج الحق کی قیادت میں جماعت اسلامی مایوسی کا شکار ہوچُکی ہے۔ ایک زمانے میں اپنی فکری صلاحیتوں سے جانی جانے والی یہ جماعت اب قومی سطح پر اپنی طُلبا تنظیموں کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔ جماعت اسلامی کی سیاست اب دِیر اور بُنیر کے حلقوں تک محدود ہوگئی ہے جہاں ساری توجہ محض اپنی انتخابی اہمیت کو برقرار رکھنے پر دی جارہی ہے۔ اگر جماعت اسلامی کو موقع ملے تو وہ شاید ایم۔ایم۔اے کے کسی بھی صورت میں ہوئے احیا کو ہی اپنے لیے بہتر گردانے گی۔ اسی طرح قومی وطن پارٹی بھی اپنے بل بوتے پر انتخابات جیتنے والے امیدواروں کا مجموعہ ہی دکھائی دیتی ہے۔ قومی وطن پارٹی کا مجتمع رہنا بھی دراصل آفتاب شیرپاو کی ذاتی صلاحیتوں کا ہی مرہون منت ہے جو کہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی تسلسل کے ساتھ جیتتے رہے ہیں۔ آفتاب شیرپاو اور تحریک انصاف کے تعلقات ماضی میں بھی گرمی سردی کا شکار رہ چُکے ہیں۔ جہاں ایک طرف وہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر چند حلقے جیت سکتے ہیں وہیں اس بات کی بھی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنی موجودہ نشستوں کی تعداد کو برقرار رکھ سکیں گے۔ اگر ایسا ہو بھی جائے تو قومی وطن پارٹی کو تحریک انصاف کے ہی ساتھ چلنے کی کوئی مجبوری درپیش نہیں۔ دوسری طرف آفتاب شیرپاو اب بھی اس دن کے انتطار میں ہیں جب وہ اپنی حالیہ جماعت کو اپنی ہی ماضی کی جماعت یعنی پیپلزپارٹی میں ضم کردیں گے۔

اس سارے پسِ منظر کو مدِنظر رکھتے ہوئے ، جب یہ بات سامنے رکھی جائے کہ تحریک انصاف کی تمام تر توجہ پنجاب اور اسلام آباد جیتے پر مرکوز ہے، تو خیبرپختونخواہ میں ان کی شکست یقینی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ یہ ایک قابل قبول شکست ہوگی یا پھر عبرتناک شکست۔

پسِ تحریر: ذالان خان معروف بلاگر ہیں۔ ان کا تعلق خیبرپختونخواہ سے ہے اور وہ قصہ خوانی نامی بلاگ کے خالق ہیں۔ ذالان خان کا یہ تجزیہ ، پہلی دفعہ ، معروف انگریزی اخبار “دی نیوز” میں 11 مئی 2017 کے روز شائع میں ہوا۔
یہ ترجمہ مصنف کی خصوصی اجازت سے شائع ہوا

حصہ اول:
http://chaikhanah.com/2017/05/28/khyber-mail/

حصہ سوئم:
http://chaikhanah.com/2017/06/05/khyber-mail-part-3/

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *