Khyber Mail (Part 1)

پاکستان میں ایک صوبائی حکومت چلانے کو کسی بھی طور بے اختیاری سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا تاہم حکمرانی اگر صوبہ خیبرپختونخواہ کی ہو تو حکمران جماعت کا اثر و رسوخ بہرحال محدود ہوتا ہے۔ یہاں جغرافیے کے اعتبار سے صوبائی دارلخلافہ تین اطراف سے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات میں گِھرا ہوا ہے تو شمال میں مالاکنڈ سے چِترال تک صوبائی حکومت کے زیرانتطام وہ قبائلی علاقے واقع ہیں جہاں کسی بھی کام کے لیے گورنر ہاوس کی توثیق لازمی ہے۔ اقتصادی اعتبار سے صوبائی آمدن کا نوے فیصد سے زائد حصہ وفاقی حکومت کی جانب سے ملی رائلٹی پر مشتمل ہوتا ہے۔ یُوں ، اور ماضی میں ایسا ہو بھی چُکا ہے ، وفاق میں براجمان حکومتی جماعت پل بھر میں صوبائی حکومت کو گُھٹنوں کی بل جُھکنے پر مجبور کرسکتی ہے۔ سیاسی اعتبار سے صورتحال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ خیبرپختونخواہ کی روایت رہی ہے کہ یہاں 1970 سے لے کر آج تک تمام حکومتیں کثیر جماعتی اتحاد کی صورت میں ہی تشکیل پاتی رہی ہیں۔ 2001 کے بعد سے تو یہ صورتحال یوں بھی پیچیدہ تر ہوتی گئی کہ ہر دفعہ حکمران اتحاد کو اپنی مخالفت میں شدید عوامی لہر کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں اکثر وفاقی و صوبائی اسمبلی کے ممبران کو اگلے انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

گذشتہ کئی برسوں کے دوران صوبے کے رائے دہندگان نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ رعایت یُوں بھی برتی ہے کہ ایک دفعہ شکست کا ذائقہ چکھنے والی جماعت کو دوبارہ موقع بھی دیا جاتا رہا ہے۔ لیکن 2013 کے انتخابی نتائج سے کئی ایسے تصورات راسخ ہوگئے جن کو افسانوی ہی گردانا جاسکتا ہے۔ ان تصورات میں سے پہلا تو یہی ہے کہ عمران خان کا سونامی رائے دہندگان کی غیرمعمولی تعداد کو ووٹ ڈالنے کے لیے کھینچ لائی تھی۔ حقیقت مگر اس تصور کے برعکس ہے۔ ان انتخابات میں رائے دہندگی کی شرح قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں بالترتیب 40 اور 44 فیصد رہی۔ یہ شرح اگرچہ 2008 کی نسبت تو زیادہ تھی مگر انھی انتخابات کے دوران پنجاب اور سندھ میں ریکارڈ کی گئی شرح سے پھر بھی کم ہی تھی۔ دوسرا تصور یہ ہے کہ پنجاب کے ووٹر کی نسبت خیبرپختونخواہ کا ووٹر تحریک انصاف کا زیادہ شدت سے حامی واقع ہوا ہے۔ اعدادوشمار اس تصور کی بھی نفی کرتے ہیں کیونکہ تحریک انصاف کو پنجاب کے مقابلے میں خیبرپختونخواہ سے ملے ووٹوں کی شرح صرف 0.2 فیصد ہی زیادہ ہے۔ شماریات کی رُو سے یہ فرق خاصا حقیر سمجھا جاتا ہے اور آسانی سے نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ تیسرا تصور یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی دراصل روایتی جماعتوں ، بالخصوص سابقہ حکمران اتحاد ، سے بیزاری کا نتیجہ تھا۔ اس کے برعکس ، اے۔این۔پی اور پیپلزپارٹی پر مشتمل ، سابقہ حکمران اتحاد اپنی شکست کا ذمہ دار خود کو نشانہ بناتی دہشتگردی کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کے بقول یہ دہشتگردی ہی تھی جس نے انھیں حقیقی معنوں میں انتخابی مہم چلانے سے باز رکھا۔ اعدادوشمار کے تناظر میں شاید یہ دلچسپ ترین تجزیہ ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی وہ واحد جماعت ہے جس کو ، 2008 کے مقابلے میں 2013 کے دوران، ملے ووٹوں میں واضح کمی آئی جبکہ اے۔این۔پی کو 2013 اور 2008 میں ملے ووٹوں کی تعداد تقریباََ ایک جتنی ہی تھی۔ لیکن رائے دہندگی کی شرح میں ہوا اضافہ ، جس کا براہ راست فائدہ تحریک انصاف کو ہوا، پڑنے والے ووٹوں میں اے این پی اور پیپلزپارٹی کے حصے کی شرح کو کمتر بنا گیا۔ یُوں اے۔این۔پی کو ملے ووٹوں کی شرح 17 فیصد سے 10.1 فیصد جبکہ پیپلزپارٹی کو ملے ووٹوں کی شرح 16.5فیصد سے 8.6 فیصد تک گِرگئی۔ مسلم لیگ ن کا پڑنے والے ووٹوں میں حصہ دوگنا ہوا تو جے۔یو۔آئی۔ایف کو پڑے ووٹوں میں اضافہ ہونے کے باجود ان کا حصہ 14.6 فیصد سے کم ہو کر 13.3 فیصد رہ گیا۔ آخری قابلِ ذکر تصور یہ ہے کہ ماضی میں مختلف جماعتوں کو ووٹ دینے والے وہ ووٹر جنہیں عُرفِ عام میں آزاد ووٹر تصور کیا جاتا ہے، وہ اب تحریک انصاف کے جھنڈے تلے جمع ہوگئے ہیں۔ تاہم اعداوشمار کے جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ آزاد ووٹر کی شرح میں ، 24.1 فیصد سے 15.8 فیصد ، کمی تو آئی تاہم ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد میں کوئی ڈرامائی کمی نہیں آئی بلکہ حقیر سا اضافہ ہی ہوا ہے۔ یہ تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کا ووٹر یا تو نیا ووٹر ہے یا پھر ماضی کا مسلم لیگ ، پیپلزپارٹی یا آزاد ووٹر وغیرہ تصور کیا جاسکتا ہے ۔ رائے دہندگان کا یہ حصہ وفاقی سوچ کا حامل ہوتا ہے۔ اسی لیے انھوں نے صوبے کے مسائل کا حل تحریک انصاف کو سمجھا باوجود اس کے کہ اس جماعت کی قیادت نسل اور طرزِندگانی میں ان سے مختلف تھی۔ ایسا ووٹر صوبائیت کی زنجیروں سے آزاد ہوتا ہے۔

اگر حزب مخالف کے معاملات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ جہاں صوبے کی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے وہیں یہ جماعتیں نئے رائے دہندگان کو متاثر کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ پیپلزپارٹی کو 1988 کے انتخابات میں 22.5 فیصد ووٹ ملے تھے۔ حتیٰ کہ ایم۔ایم۔اے کے حق میں آئی لہر کے باوجود بھی پیپلزپارٹی 9 فیصد ووٹ لے اُڑی تھی۔ مگر اب اس جماعت کو پڑتے ووٹوں کی تعداد مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن ، خیبرپختونخواہ سے ، کسی بھی ایک انتخابی معرکے کے دوران سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ 1997 کے انتخابات کے دوران اس جماعت نے رائے دہندگی کی کم شرح کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کے بائیکاٹ سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے 37 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ تاہم اب مسلم لیگ ن کا حصہ 18 فیصد پر مستحکم دکھائی دیتا ہے جو کہ مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کے ووٹروں کے یکجا ہونے کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح اے این پی بھی اب اپنی نوے کی دہائی والی کمزور پوزیشن کی طرف لوٹتی دکھائی دیتی ہے ۔۔۔ یعنی کہ قابل ذکر سیاسی قوت مگر تن تنہا جیتنے کی صلاحیت سے عاری۔ جے۔یُو۔آئی۔ایف اور جماعت اسلامی بھی اپنی نوے کی دہائی والی صورتحال سے ہی دوچار دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن جیسا کہ 2002 کے انتخابی نتائج سے ظاہر ہے کہ موافق حالات و اتحادی انھیں فتح سے ہمکنار کرا سکتے ہیں۔

غلط الرائج تصورات کے اس سلسلے میں چند خاموش تصورات بھی شامل ہیں جن میں سے پہلا تو یہی ہے کہ تحریک انصاف سٹیٹس کُو کی مخالف جماعت ہے ، حزب مخالف کی روایتی جماعتیں اپنا وقت گزار چُکی ہیں اور ایک نئے عہد کا آغاز ہوچُکا ہے۔ یہ تصور ، جیسا کہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں ، سِرے سے غلط ہے۔ دوسرا خاموش تصور یہ ہے ، اور یہ تصور تحریک انصاف مخالف جماعتوں میں بہت مقبول بھی ہے ، کہ تحریک انصاف پانی کا ایک بُلبلہ ہے جو کہ اگلے انتخابات کے دوران پھٹ جائے گا۔ اس تصور کا جائزہ ہم اگلی نشست میں لیں گے۔

پسِ تحریر: ذالان خان معروف بلاگر ہیں۔ ان کا تعلق خیبرپختونخواہ سے ہے اور وہ قصہ خوانی نامی بلاگ کے خالق ہیں۔ ذالان خان کا یہ تجزیہ ، پہلی دفعہ ، معروف انگریزی اخبار “دی نیوز” میں 11 مئی 2017 کے روز شائع میں ہوا۔
یہ ترجمہ مصنف کی خصوصی اجازت سے شائع ہوا۔

حصہ دوئم:
http://chaikhanah.com/2017/05/28/khyber-mail/

حصہ سوئم:http://chaikhanah.com/2017/05/30/khyber-mail-part-2/

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *