Pakistani Media

آجکل جس طرح سے ہمارے ملک میں میڈیا اور اپوزیشن کےسیاستدانوں نے اپنے ذاتی ایجنڈے کو لے کر ایک طوفان بدتمیزی مچا رکھا ہےاور اپنے اس ایجنڈے کو عوامی خواہشات بتا کر پیش کرنا ان کروڑوں خاموش عوام کے منہ پر طمانچہ ہے جو کے اس ملک میں معاشی ترقی، استحکام ، صحت ، تعلیم اور ڈیویلپمنٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔ میڈیا کی ایک روش ایجنڈا سیٹنگ ہے کہ جس کے تحت میڈیا تمام خبروں اور مطالب میں سے بعض مسائل کو نمایاں طور پر بیان کرتے ہیں جبکہ ممکن ہے کہ وہ حقیقت میں اتنے اہم نہ ہوں جتنا میڈیا ان کو اہم بنا رہا ہے۔
لیکن میڈیا کی ایک روش اور بھی ہے جسے فریمنگ یا خبر کو ایک خاص رنگ دینا کہتے ہیں۔ اس روش میں میڈیا ناظرین کے لیے ایک خاص فریم تیار کرتا ہے اور تمام مسائل اسی فریم کے تحت بیان کیے جاتے ہیں اور ان کی تشریح کی جاتی ہے۔ اس طرح ایک عرصے کے پروپیگنڈے کے بعد ناظرین میڈیا کے ساتھ ہم فکر ہو جاتے ہیں اور اسی فریم کے تحت دنیا کو دیکھتے ہیں۔
اب ان چیزوں کو مدنظر رکھ کر پاکستانی میڈیا اور اپوزیشن کے پچھلے چار سال کے ایجنڈے کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے دنیا کے سب سے زیادہ کرپٹ حکمران اس ملک میں ہیں، ہمارا الیکشن کمیشن دنیا کا سب سے بڑا بکاو کمیشن ہے، ہماری افواج اس وقت تک محب وطن ہیں جب تک وہ سیاسی حکومت کو دبا کر ڈرا دھمکا کر رکھیں، پہلے الیکشن کو متنازعہ بنا کر صبح و شام کچھ اینکرز نے عمران خان کے ساتھ ایسی کیمپین چلائ کہ ہمیں سردار ایاز صادق کی جیتی ہوئ سیٹ دوبارہ الیکشن کی صورت میں جیتنی پڑی حالانکہ جج صاحب نے کسی بھی دھاندلی کے ثبوت نا ہونے کا اعتراف کیا۔
پھر پانامہ لیکس کا ڈرامہ بھی ہے عوام بھگت چکی ہے کہ صرف اس میڈیا کی فریمنگ اور اپوزیشن کے چوبیس گھنٹے کوریج کے بعد وہ کیس جو دنیا کی کسی اور عدالت میں جاتا تو ردئ کی طرح پھینک دیا جاتا مگر ایک بار پھر اپوزیشن کی نان سٹاپ کوریج اور میڈیا کے جانبدارانہ کردار کی بدولت یے کیس بھی سنا گیا اور پھر اسکا نتیجہ بھی ہمیں ججوں کے ریمارکس ایسے سننے کو ملے کہ گاڈ فادر میں یہ ہوا، اور جج صاحب نے فیصلے میں دو ٹی وی انٹرویوز کا حوالہ تک دے دیا، اور اب کب کے ایک جے آئ ٹی اس کیس کی مزید تفتیش کر رہی ہے اپوزیشن اور جانبدار میڈیا ایک بار پھر اپنی روش برقرار رکھتے ہوے اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پھر ہم نے ڈان لیکس کا پنڈورا باکس کھلتا اور بند ہوتا دیکھا، مگر سب سے زیادہ خطرناک بات جو دیکھی گئ کہ یہ مادر پدر آزاد میڈیا اس حد تک بےلگام ہو چکا ہے کہ اب پاکستانی افواج کو ہتھیار ڈالنے کے طعنے تک دیئے گئے، اپوزیشن کے ساتھ ملک کر کچھ نام نہاد دانشوروں اور ریٹائرڈ دفاعی تجزیہ نگاروں نے اتنی دھول اڑائ کے خدا کی پناہ انکا بس نہیں چل رہا کے اس ملک میں ایک اور مارشل لاہ لگ جائے۔
میڈیا کی ازادی کے سب قائل ہیں مگر جو کھیل پاکستانی میڈیا پاکستانی عوام کے ساتھ کھیل رہا ہے وہ بہت خطرناک ہے اور اسکے نتائج بہت بھیانک ہیں۔

3 thoughts on “Pakistani Media

  • May 20, 2017 at 11:15 am
    Permalink

    انتہائی زبردست اور بالکل سچا تجزیہ ہے امجد بھائی۔ بالکل ایسا ہی منفی کردار ہے پاکستانی میڈیا کا۔

    Reply
  • May 20, 2017 at 11:53 am
    Permalink

    ماشاللہ بہت عمدہ

    Reply
  • May 20, 2017 at 1:15 pm
    Permalink

    بہت اچھا لکھا
    حقیقت کو صاف بیان کیا ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *