Shah ka Farmaan

چند روز قبل خیبر پختونخواہ اسمبلی میں ایک واقعہ پیش آیا جس کی رپورٹ اور ویڈیو کے مطابق صوبائی وزیر شاہ فرمان نے رکن اسمبلی نگہت اورکزئی کے بارے میں کچھ جملے کہے۔ چونکہ وہ جملے پشتو زبان میں کہے گئے تو مجھ ایسے پشتو سے ناواقف لوگوں کو بہت دیر تک یہ علم نہ ہو سکا کہ کہا کیا گیا ہے مگر پھر آہستہ آہستہ الیکٹرانک میڈیا پر جزوی اور سوشل میڈیا پر مکمل جملوں کا ترجمہ آ گیا۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ترجمہ جان کر یہ اپنے آدمی ہونے پر شرمندگی کی آخری حد تھی۔ ذہن ماؤف ہوگیا کہ کیا ایسی بات کوئی کر سکتا ہے، پبلک فورم تو کجا نجی محفل میں بھی ایسا سوچنا اور کہنا بیمار ذہنیت کا عکاس ہے۔

لیکن شاہ فرمان وہ پہلے شخص نہیں ہیں جس نے یہ بیہودہ گوئی کی ہے اور بدقسمتی سے آخری بھی نہیں ہوں گے۔ اس سے پہلے مراد سعید نے جاوید لطیف کو جو کچھ کہا اور جاوید لطیف نےان کو جو کہا وہ بھی سامنے ہے۔ نصرت سحر عباسی پر ذومعنی جملوں کا کسا جانا اور پھر چادر اوڑھایا جانا بھی یاد ہے۔ یہاں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ صرف سیاستدانوں کہ بات نہیں ہے، معاشرے کے ہر شعبے میں یہ گند اس قدر بھر گیا ہے کہ مذمت کے لئے الفاظ کھوکھلے لگتے ہیں۔

سکولز، دفاتر اور دیگر جگہوں پر کام کرنے والی خواتین کو ساتھی اہلکاروں سے اکثر ایسی باتیں سننے کو ملتی ہیں، ساتھی مرد جب بریک میں اپنے گروپ میں بیٹھے ہوتے ہیں تو ان خواتین کے بارے میں جو واہیات اور لغو باتیں کرتے ہیں ناقابل بیان ہیں، خواتین کولیگز کی پروموشن کو ہمیشہ غلط زاویے سے دیکھا جاتا ہے، ساتھی طلباء خواتین کے اچھے رزلٹ کو ہمیشہ بدی کے پیرائے میں دیکھتے ہیں،

یہ صرف شاہ فرمان نہیں ہے، یہ ہر وہ نام نہاد مرد ہے جس کی تربیت نہ ہو پائی۔ خدا فرماتا ہے،” لڑکے کی اُس راہ میں تربیت کر جدھر اُسے جانا ہے، وہ بوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں مڑے گا”۔

کتنے ہی لوگوں کو میں جانتا ہوں جو گھرمیں ماؤں بہنوں کے نام سے غلیظ زبان بولتے ہیں، گالیاں بکتے ہیں جو کہ ان کے بچے سیکھتے ہیں، ہمارے گاؤں میں ایک صاحب

باقاعدہ خوش ہو کر چار سالہ بیٹے کی کرتوت بتاتے تھے کہ ” ویکھ اؤے کڈی سوہنی گال کڈی سُو”۔ یہ حالت ہے ہماری۔

سرکاری سکول میں پڑھا ہوں اور وہاں مبینہ اساتذہ اتنی گندی گالیاں دیتے تھے کہ توبہ، پرائیوٹ سکول میں استانیوں سے پڑھ کر گیا تھا اور ایسی لغویات نہ کبھی گھر میں سنی نہ سکول میں مگر ان سرکاری سکول والوں نے تو کانوں میں سے دھواں نکال کے رکھ دیا۔ خال خال ہی کوئی استاد تھا جو ایسا نہ ہو۔

بازاروں میں آوازے کستے لوگ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں،راہ چلتی خواتین کو دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے والے بھی، یہ ایک دو اشخاص کی بات نہیں ہے ہمارا سوشل فیبرک اس قدر مسخ ہو چکا ہے کہ اخلاقیات کے سبق بھی بے جا لگتے ہیں،

جب سے سوشل میڈیا آیا ہے لغویات نے شارٹ فارم اختیار کر لی ہیں، لوگ گالیاں مخفف میں لکھتے ہیں اور محظوط ہوتے ہیں گویا یہ احساس ختم ہوگیا ہے کہ ہم نے کچھ غلط کیا ہے، الفاظ کے معنی تبدیل کر کے رکھ دیے ہیں ۔ جس کو ہم قبل از مسیح پڑھتے تھے آج اس کا مطلب وہ نہیں ہے، جس کو ہم میونسپل کمیٹی پڑھتے تھے آج اس کا مطلب بھی وہ نہیں ہے، حد ہو گئی ہے ۔

پھر بڑا احسان جتا کرکہتے ہیں میں آپ کو بہن سمجھتا ہوں، مطلب اگر بہن نہیں سمجھو گے تو عزت نہیں کرو گے کیا؟ کیا خواتین کی عزت بطور فرد نہیں کی جا سکتی؟ کیا انکو بطور انسان احترام نہیں دیا جا سکتا؟ رشتہ بنانا لازم ہے کیا؟ کوئی رشتہ نہ ہو گا تو احترام نہیں ہو گا کیا؟ اور بہن کیوں بنانا ہے ، جو یہاں لوگ بہنوں کے ساتھ کرتے ہیں اس کا نوحہ کہاں لے جائیں؟ ان کو کونسا احترام دیا جاتا ہے؟ ان کی مرضی کونسا سنی جاتی ہے ، بھیڑ بکریوں جیسا سلوک کرتے ہیں، جس کھونٹے سے چاہا باندھ دیا، قتل خود کیا بدلے میں بہن بیاہ دی، جائیداد بچانے کی خاطر غیرت کا نام دے کہ انتہائی بےغیرتی سے قتل کر ڈالا، ایسی بہن سمجھے جانے سے کیا حاصل؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم اس اخلاقی پسماندگی کا ادراک کرے اور آئیندہ نسل کی تربیت ابھی سے کرے جس میں نہ صرف سیاستدان، اساتذہ یا ماں باپ اہم کردار ادا کریں بلکہ ہر ٹویپ بھی یہ سوچ کر ٹویٹ کرے کہ کیا میرے الفاظ مناسب ہیں؟ مخالفت کے لیے دشنام طرازی ضروری نہیں ہے آپ اصولی موقف سادہ اور باوقار انداز میں پیش کریں تو زیادہ پراثر ہو گا، انگریزی میں گالیاں دینے کو کُول نہ سمجھیں غلط تو غلط ہی رہے گا۔

خدا ہمیں آدمی بننے کی توفیق عطا فرمائے

One thought on “Shah ka Farmaan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *