Aaj mujh ko Fursat hay

آج ایسا کیا ہوا ہے تمہاری بولتی مسکراتی آنکھیں
ورق ورق سے جھانکتی ہیں
میری سماعت کو چھونے والا
ہر ایک لفظ
تمہارے ہی لہجے میں بولتا ہے
کافی کی اڑتی بھاپ کی دوسری جانب
تمہارا چہرہ ابھر رہا ہے آج ایسا کیوں ہوا ہے
کہ
اب تو ہمارے ملن کا آخری پل بھی
کیلنڈروں کے ڈھیر میں کہیں دب گیا ہے
سنو
آج ایسا کیوں ہوا ہے
یہ وقت کی شرارت ہے یا
آج مجھ کو فرصت ہے

5 thoughts on “Aaj mujh ko Fursat hay

    • May 14, 2017 at 8:40 pm
      Permalink

      حوصلہ افزائی کا شکریہ

      Reply
  • July 29, 2017 at 6:25 pm
    Permalink

    ‏رب نے دی عزت بخشا یہ مقام تجھ کو
    ‏وطن کے غریبوں کا ھے سلام تجھ کو
    ‏بغض عناد حسد کی آگ میں جلتے ھیں ترے سارے حریف
    ‏ماسوائے حاسدوں کے سب کہتے ھیں جئے نواز شریف جئے نواز شریف
    ‏تو مسیحائےغریب ھے رب اور بخشے دوام تجھ کو
    ‏مٹ گئے ھیں مٹ جائیں گے تجھ کو مٹانے والے
    ‏کبھی نہ پائیں گے فلاح عوام کو رلانے والے
    ‏کام کرنا ھے شیوہ تیرا ھے کام سے کام تجھ کو
    ‏تیرا وجود ھی اس وطن پاکستان کی ترقی کا راز ھے
    ‏ھے اس وطن کی ترقی کا دشمن جو وہی تو تجھ سےناراض ھے
    ‏اے نواز تو سدا سلامت رھے ملے اس سے بھی بلند مقام تجھ کو

    Reply
    • July 29, 2017 at 6:59 pm
      Permalink

      ‏تیرے سامنے خم ھے میری گردن تو چاھتا کیا ھے
      ‏اٹھا شمشیر اڑا دے مری گردن تو چاھتا کیا ھے
      ‏میں نےتو تیری ھر شرط پہ لگا دی ھے بازی
      ‏میری برسوں کی ریاضت پر بھی گر تو نہیں راضی
      ‏دوں اپنے ھاتھ سے نکال کر نیام سے شمشیر تو چاھتا کیا ھے
      ‏عدل کی مسند بیٹھ کر نہ اور رسوا مجھے
      ‏کرکے خدمت خلق پائی تھی جو عزت کیا یہ نہیں منظور تجھے
      ‏میں تو قدم قدم پر وطن عزیز کے لئے دئیے ھیں سجدے
      ‏اے وطن عزیز تو سلامت رھے نہ کروں گا قوت باطل کے سامنے سجدے
      ‏شاھین یہاں عزت النفس ھے مجروح کہتے ھیں غدار وطن اب بچا ھی کیا ھے

      Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *