Phurrtian

یہ منظر تھا جی ۔ ایچ ۔ کیو راولپنڈی کا اور یوم شہدا کی تقریب سے خطاب کررہے تھے اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی

قومی مفاد کا تعین کرنا پاکستان کا حق ہے۔ صرف خوشحالی کے لیےپاکستان کی عزت و وقار کا سودا نہیں کریں گے۔پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے مگر عوام فیصلہ کرچکے ہیں کہ روکھی سوکھی کھا لیں گے لیکن عزت سے جئیں گے۔ اس عزم میں فوج ان کے ساتھ ہے

یوم شہدا کی 30 اپریل 2011 کے روز منعقدہ تقریب سے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے خطاب سے اقتباس

*******************************************

یہ منطر تھا مزارِقائد کراچی کا اور جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے مولانا فضل الرحمان

یہ ادارے ہمیشہ اپنے ٹوڈی تلاش کرتے ہیں کہ کس طرح ہمارے ٹوڈی اقتدار میں آئیں اور پھر ان کی کمان ہمارے ہاتھ میں ہو۔ جمعیت علما کا رستہ کھولو۔ سازشیں مت کرو، دھاندلیاں مت کرو۔ اسٹیبلشمنٹ اپنے من پسند لوگوں کو یہودی اور امریکی لابی کے ایجنٹوں کو پُشت پناہی مت دے۔ پھر دیکھیں ملک کے اندر ایک صاف اور شفاف سیاست ابھرتی ہے یا نہیں۔ ایک سنجیدہ سیاست ابھرے گی۔ ایک باوقار سیاست ابھرے گی۔ ملکے اندر سکون آئے گا۔ لیکن اس کو اگر فلاحی مملکت بنانا ہے تب۔ اور اگر سیکیورٹی سٹیٹ بنانا ہے تو پھر ہر وقت بے قراری اور بے اطمینانی کی کیفیت کو زندہ رکھنا پڑتا ہے۔ مقتدر قوتیں، اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی ۔۔۔یہی ہیں جو پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کے رستے میں رکاوٹ ہیں۔

کراچی میں 28 جنوری 2012 کے روز مولانا فضل الرحمان کا جلسہ عام سے خطاب

*******************************************

یہ منظر تھا وزیراعظم ہاوس اسلام آباد کا اور ٹیلی گراف کے نمائندے ڈیوڈ بلئیر کے ساتھ بات کررہے
تھے وزیراعظم نوازشریف

نوازشریف : یہ بڑی ہی بدقسمتی کی بات ہے کہ تقسیم کے فوری بعد سے ہم بھارت کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ میں اُلجھ گئے. میرے خیال میں ہم اس نقطہ نظر سے بڑا بدقسمت ملک ہیں۔ دونوں ممالک ، پاکستان اور بھارت، ایک دوسرے خلاف کے دفاع کی مد میں بے پناہ بجٹ ضائع کرتے ہیں۔ وہ مِگ 29 کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، ہم ایف 16 کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔وہ مزید ٹینک خرید رہے ہیں ، ہم بھی مزید فوجی اسلحہ خرید رہے ہیں۔ ہم آبدوزیں خریدنے کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ۔۔۔۔ آپ دیکھیں کہ یہ کتنا مہنگا اسلحہ ہے۔ پھر بھارت نے ہم سے پہلے ایٹمی اسلحے کے رستے پر چلنا شروع کردیا۔ میرے خیال میں یہ سب اب ختم ہونا چاہئیے۔ جو پیسہ ہم دفاع میں ضائع کررہے ہیں وہ فلاحی کامو ں کے لیے خرچ ہوناچاہئیے۔ یہ پیسہ تعلیم پر خرچ ہونا چاہئیے، صحت پر خرچ ہونا چاہئیے۔ میں امید کرتا ہوں کہ دونوں ممالک کو ان غلطیوں کا احساس ہوجائے۔ میرے خیال میں دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنےکا مقصد یہی ہے کہ
یہ سب ختم کیا جاسکے۔

ڈیوڈ بلئیر: تو کیا آپ دفاعی بجٹ کم کریں گے؟

نوازشریف: میرے خیال میں ہمیں یہ کرنا پڑے گا۔ مگر ہم یہ تنہا نہیں کرسکتے۔ یہ کام دونوں ممالک کو مل کر کرنا پڑے گا ۔ جس طرح ساٹھ سے زائد برسوں سے یہ اسلحے کی دوڑ چل رہی ہے ، ویسے ہی الزامات کا سلسلہ بھی چل رہا ہے۔ بھارت میں کچھ بھی ہوجائے وہ ہم پر الزام لگا دیتے ہیں اور پاکستان میں کچھ ہوجائے تو ہم اس کا الزام بھارت پر لگا دیتے ہیں۔ ان الزامات کے سلسلے کو بھی اب بند ہونا چاہئیے۔ پھر بھارت ہم پر الزام لگاتا ہے کہ ہماری سرزمین ان کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔ ہمارے ذرائع بھی بتاتے ہیں کہ بھارت پاکستان کے اندر گڑبڑ میں مصروف ہے۔ ایسی اطلاعات میرے پاس آتی ہیں وقتاََ فوقتاََ۔

ڈیوڈ بلئیر : کیا یہ اطلاعات قابل اعتبار ہیں؟

نوازشریف: میں اس بارے میں اس سے زیادہ بات نہیں کرنا چاہوں گا صرف یہی کہوں گا کہ میرے پاس ایسی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔

ڈیوڈ بلئیر: کیا آپ ان اطلاعات پر یقین کرتے ہیں؟

نوازشریف: میں یہی کہوں گا کہ اس پر زیادہ بات نہیں کرسکتا [ قہقہ لگاتے ہوئے] لیکن ہم ایسی صورتحال تک پہنچیں بھی کیوں۔

برطانوی جریدے ٹیلی گراف کے ساتھ 23 اگست 2013 کے روز وزیراعظم نوازشریف کے انٹرویو سے اقتباس

*******************************************

مُرشد کہتے ہیں کہ سیاست میں جو بات کہی جاتی ہے اس سے کہیں زیادہ اہم بات وہ ہوتی ہے جو کہ کہی جا رہی باتوں کی آڑ میں کہی نہیں جاتی۔

اُس ہفتے کام کے سلسلے میں فن لینڈ کے شہر ہیل سینکی میں موجود تھا۔ شام کے وقت دفتر سے ہوٹل واپسی ہوئی تو فُرصت سے اپنا موبائل دیکھنے کا موقع ملا۔ مُرشد کی جانب سے ایک پیغام ہمارے جواب کا منتظر تھا۔ مُرشد کہہ رہے تھے کہ پتا کرو کہ کہیں میاں صاحب کے بھارت یا افغانستان کےساتھ پسِ پردہ مذاکرات تو نہیں چل رہے؟ مُرشد سے اس سوال کی وجہ کے بارے میں استفسار کیا تو پتا چلا کہ مُرشد کو یہ بات اُلجھائے جارہی تھی کی تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان اچانک میڈیا پر کہاں سے آن ٹپکے۔ کام کی زیادتی اور کچھ نجی مصروفیات کی وجہ سے وہ دو تین ہفتے خبروں سے دُور ہی گُزرے تھے ، اس لیے مُرشد کے سوالات کا جواب تو ہمارے پاس موجود نہیں تھا تاہم ہفتہ وار تعطیلات کے دوران اس بارے کچھ تحقیق کرنے کا وعدہ مُرشد سے ضرور کرلیا۔ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ مُرشد کے ساتھ ہوئی اس پیغام رسانی کےتھوڑی ہی دیر بعد مختلف چینلز پر بھارتی سٹیل ٹائیکون سجن جندال کی ایک وفد کے ہمراہ پاکستان آمد اور وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ مری میں مُلاقات کی خبریں آنا شروع ہوگئیں۔ یُوں تو دُنیا بھر ، بشمول بھارت ، سے مختلف وفود پاکستان آتے اور وزیراعظم سے مُلاقات کرتے رہتے ہیں مگر اس خبر کو میڈیا پر دی جانے والی “اہمیت” اور اس کے پیچھے چُھپا شور یہ واضح کرنے کے لیے کافی تھا کہ یہ صرف اور صرف ایک کاروباری وفد کی وزیراعظم پاکستان سے مُلاقات نہیں تھی۔ یہ خبر تو اچانک سامنے آئی تھی مگر گذشتہ کچھ عرصے سے ڈان لیکس نامی معاملہ کسی نا کسی صورت میں ہلچل ضرور مچارہا تھا۔ اپنے دھماکہ خیز پسِ منظر کے باوجود ان دنوں میں یہ قضیہ اپنے انجام کو پہنچتا ہوا دکھائی رہا تھا۔ اس کی تحقیقات پر معمور مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی اپنا کام مکمل کرنے کے بعد اپنی سفارشات مرتب کرچُکی تھی جن میں سے کچھ پر یا تو عملدرآمد ہوچُکا تھا یا پھر ان پر علمدرآمد بارے احکامات اسی ہفتے بروز ہفتہ کی صبح جاری کردیے گئے۔ یوں یہ معاملہ منظر نامے سے ہٹنے ہی والا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک دھماکہ خیز ٹویٹ نے منظر نامہ ایک دفعہ پھر سے بدل ڈالا۔ اس ٹویٹ کے بعد مختلف اطراف سے تبصروں ، تجزیوں اور بیانات پر مشتمل بھونچال نے ایک نئی صورتحال اختیار کرلی اور اس بھونچال کے شور میں وہ اہم ترین سوال دب کررہ گیا کہ فوج کی جانب سے اس ردعمل کی آخر وجہ تھی کیا؟۔ شاید کسی نے بھی یہ نا سوچا کہ وہ معاملہ جس کی تمام تر جزیات پس پردہ طے ہوئیں اور باقی ماندہ جزیات ، جو کہ اپنی حساسیت میں خاصی کمتر دکھائی دیتی ہیں، وہ بھی پس پردہ ہی طے ہوسکتی تھیں۔ سوال تو یہ بنتا تھا کہ کیا اس ردعمل کی اصل وجہ ڈان لیکس ہی تھی ؟۔ اس کا جواب شاید نہیں بلکہ یقیناََ نفی میں ہے۔ لیکن اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے دو اہم ترین باتوں کے پسِ منظر کو واضح کرنا لازمی ہے۔

ایک اہم ترین بات تو یہ ہے کہ ڈان لیکس درحقیقت ہے کیا؟۔ ڈان لکیس دراصل رائی کی مدد سے کھڑا کیا گیا وہ پہاڑ تھا جس نے “آپریشن ایکسٹینشن” کے دوران رنگ کے ایکے کا کردار ادا کرنا تھا مگر بدقسمتی کہئیے یا خوش قسمتی، اس ایکے کے ساتھ کوئی دوسرا بڑا پتا ہی دستیاب نا ہوسکا جس کی مدد سے بازی جیتی جاسکتی۔ ویسے بھی اس طرح کی کہانیاں نا تو اچانک جنم لیتی ہیں اور نا ہی ان پر اُٹھا شور بلاوجہ ہوتا ہے۔ جس طرح ڈان لیکس کا ایک پسِ منظر ہے ویسے ہی اسے بنیاد بناتے ہوئے رائی کا پہاڑ بنانے جیسے عمل کے پیچھے بھی انتہائی ٹھوس مقاصد تھے۔ سنہ 2014 کے دوران اسلام آباد میں لگنے والی لکی عمرانی سرکس اور اس کے بعد سنہ 2015 میں شکریہ راحیل شریف نامی مہم کی دُھول کی وجہ سے نوازشریف پسِ منظر میں چلے جانے کے بعد دوبارہ سے ابھر تو آئے تھے مگر اس ساری رام کتھا کے دوران خارجہ پالیسی جیسا اہم ترین معاملہ ان کے ہاتھوں سے نکل گیا تھا۔ ہوا مگر یہ کہ راحیل شریف نے خارجہ پالیسی کا کنٹرول سنبھالا ، ساری دنیا کے چکر لگائے مگر دنیا کو ان کی باتوں کی کیا سمجھ آتی وہ تو الٹا گھر آئے مہمانوں سے الجھنا شروع ہوگئے۔ یوں راحیل شریف نے خارجہ پالیسی کا حشر نشر تو کر ہی ڈالا تھا مگر ان ناکامیوں کا ملبہ وہ اپنے “مُحبِ وطن” تجزیہ کاروں کے ذریعے جمہوری حکومت کے سر انڈیلنے کی کوششیں کرتے پائے گئے۔ راحیل شریف تمام دنیا کا چکر لگا چکے تھے مگر دنیا کے، پاکستان کے اندر پائے جانے والے انتہاپسند گروہوں کے بارے میں ، موقف کے اندر کوئی تبدیلی کیا آتی الٹا چین جیسے یار ممالک سے بھی اعتراضات آنا شروع ہوگئے۔ بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے اجلاسوں کے اندر کی صورتحال مگر ٹی وی سکرینوں پر جاری مباحثوں سے خاصی مختلف تھی۔ نوازشریف اس صورتحال کی ذمہ داری فوجی آپریشنز کے اندر پائی جانے والے دوعملیوں کے ساتھ ساتھ خود کو خارجہ پالیسی سے الگ کرنے کو بھی ٹھہراتےپائے جارہے تھے ۔ چنانچہ 2016 کے دوسرے حصے میں نوازشریف نے خارجہ پالیسی کو دوبارہ سے اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوششیں شروع کردی تھیں۔ اسی مقصد کے لیے وہ مختلف اجلاسوں کے دوران اپنی بات منوانے کے لیے کوشاں نظر آتے۔ یہ کوئی پہلا موقع تو نہیں تھا جب انھوں نے عسکری اداروں کے کردار سے متعلق چند باتوں پر اعتراض کیا ہو کیونکہ اس سے قبل بھی وہ “مائنس الطاف” اور “آپریشن گیٹ زرداری” جیسے پروجیکٹس پر ایسے ہی بنددروازوں کے پیچھے ہونے والے اجلاسوں میں اعتراضات اٹھاتے رہے تھے ۔۔۔ اب مگر ان کی باتوں میں شدت آنا شروع ہوگئی تھی۔ایسے اجلاسوں کی روداد لنگرگپ کا موضوع بنتی رہیں۔ یہی لنگر گپ سابق شدہ “ذرائع” کے توسط سے ڈان نیوز کے رپورٹر باقر سجاد سید کے ذریعے ڈان نیوز کے ہی ایڈیٹر ظفر عباس تک پہنچی۔ ظفرعباس نے یہ خبر تصدیق کے لیے سئیرل المیڈا کے حوالے کی جنہوں نے اس مقصد کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سے رابطہ اور وفاقی وزیراطلاعات و نشریات پرویزرشید کے ساتھ ملاقات کی لیکن دونوں احباب نے اس خبر کی تردید ہی کی۔ تاہم لنگر گپ سے نکلی اس روداد کی تصدیق ایسے “سابقین” کرتے پائے گئے جو کہ ٹی وی سکرینوں پر دفاعی تجزیہ کار اور عسکری اداروں کے ترجمان بنے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایسے ہی “ذرائع” کی تصدیق کے بعد یہ خبر ڈان نیوز کی زینت بنی تھی ۔ اگر یہ خبر معمول کے حالات میں شائع ہوتی تو شاید صرف ایک تردیدی بیان ہی کافی ہوتا اس خبر کو جھٹلانے کے لیے۔ مگر ان دنوں پانامہ لیکس کے تناظر میں احتجاج اور اسلام آباد لاک ڈاون منظر نامے پر چھایا ہوا تھا جبکہ پسِ منظر میں جنرل راحیل شریف کی توسیع کے لیے کوششیں جاری و ساری تھیں۔ توسیع کی کوششوں کے لیے ان دنوں سب سے بڑاخطرہ اس ایک اعلان کو گردانا جارہا تھا جوکہ وزیراعظم نوازشریف کسی بھی وقت کرسکتےتھے ۔۔۔ یعنی کہ نئے آرمی چیف کی تعینیاتی کا۔ چنانچہ جنرل راحیل شریف کے معتقدین میں پائے جانے والے “ڈُگڈگی” گروپ نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ٹھان لی اور اس خبر کو قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی خبر قرار دے ڈالا۔ اس وقت کہانی کا واحد مقصد وزیراعظم کو اسلام آباد لاک ڈاون سے قبل نئے آرمی چیف کے اعلان سے باز رکھنا تھا اور اسی لیے یہ موضوع کورکمانڈرکانفرنس اعلامیے کا حصہ بھی بنوایا گیا۔ لیکن ان “موضوعات” پر بات کرنے کے لیے جب جنرل راحیل شریف نے ، 10 اکتوبر 2016 کے روز، وزیراعظم سے ملاقات کی تو یہ ان کی نوازشریف کے ساتھ گذشتہ تین برسوں کی تلخ ترین ملاقات ثابت ہوئی۔ ہونا تو یہ تھا کہ ڈان لیکس کا تنازعہ حکومت کو دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور رکھتا اور وہ اسلام آباد لاک ڈاون کو روکنے کے لے طاقت کا وہ استعمال نا کرپاتی جس کی تیاریاں وزارت داخلہ میں چل رہی تھیں۔ یُوں ایک دفعہ اسلام آباد پر تحریک انصاف کا جھنڈا لہرا دیا جاتا تو 2014 کی مانند ایک دفعہ پھر سے اپنے وہ مطالبات منوانے کے لیے حکومت پر دباو ڈالا جاسکتا تھا جن میں توسیع کی خواہش سرفہرست ہوتی۔ مگر ہوا یوں کہ نوازشریف کے ساتھ اپنی تلخ ترین ملاقات کے بعد راحیل شریف نے پیچھے ہٹنا ہی مناسب سمجھا اور ابتدائی طور پر پرویزرشید کا استعفیٰ جبکہ عسکری افسران کی بھرمار والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی جیسے “حل” پر رضامندی ظاہر کردی۔ اس کے بعد وزارت داخلہ نے اپنے دست و بازو آزماتے ہوئے اسلام آباد لاک ڈاون کے خواہشمند بچے جموروں کے سارے کس بل نکال دیے۔ یوں نا تو نو من تیل دستیاب ہوا ، نا ہی رادھا ناچی اور شری کرشناجی کو گُوکل کی گوپیوں بھری گلیاں چھوڑ کر کہیں اور پدھارنا ہی پڑا۔ جنرل راحیل شریف کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف بنے جو کہ اس ساری کہانی کی حقیقت سے بخوبی واقف تھے اور افسوسناک قصے کو دفن کرنے کے خواہشمند بھی۔ چنانچہ ایک طرف تو اس قصے کے سکرپٹ رائٹر اور ان کے حامیوں کو کونے میں دہی کھانے کے لیے بٹھادیاگیا تو دوسری طرف “حیران کُن” طور پر وطن عزیز کی بہترین خفیہ ایجنسیوں کے بہتر سراغرسانوں پر مشتمل اس ٹیم کو چھ ماہ کی تحقیقات کے بعد بھی وہ ذمہ داران ہی نا مل سکے جنھوں نے ان “قومی رازوں” کو افشا کیا تھا۔ ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ اور اس کے نتیجے میں طے ہونے والی تمام تر سفارشات پر آرمی چیف اور وزیراعظم کا اتفاق تھا۔ تمام معاملات اسی اتفاق کے تحت آگے بڑھ رہے تھے کہ انھی متفقہ سفارشات پر علمدرآمد کو مسترد کرنے والا ٹویٹ سامنے آگیا۔ کیوں؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک متوازی پیشرفت اور اس کی تاریخ کو سمجھنا ضروری ہے۔

ممکن ہے کہ میری یہ معلومات درست نا ہوں مگر جہاں تک مجھے علم ہے ۔۔۔۔۔ نوازشریف شاید وہ واحد سیاستدان ہیں جنہوں نے اپنے انتخابی جلسوں کے دوران پاک بھارت تعلقات بارے مفاہمتی رویہ اختیار کرتے ہوئے بہتری لانے کے اعلانات کیے ہوں اور اس کے باوجود انتخابات جیت بھی گئے ہوں۔ عموماََ تو ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی صورتحال کو اپنے مفادات کے لیے ہی استعمال کیا جاتا ہے مگر نوازشریف کی حالیہ سوچ اس معاملے میں خاصی مختلف اور سنجیدہ ہے۔ ان کے قریبی حلقے جانتے ہیں کہ وہ بنیادی طور پر یورپ کی تاریخ سے متاثر ہیں جہاں جرمنی اور فرانس جیسے ممالک جنگوں سے تو کچھ بھی حاصل نا کرپائے تھے مگر آخر میں اکٹھے ہو کر ایک نئے یورپ کی بنیاد رکھنے میں کامیاب رہے۔ یوں تاریخ طور پر عالمی جنگوں کا میدان ترقی کے حیرت کدے میں تبدیل ہوگیا۔ چنانچہ نوازشریف پاکستان اور بھارت کے درمیانی معاملات کو بھی اسی رُخ لے کر جانا چاہتے ہیں جس سمت آگے بڑھتے ہوئے یہ دونوں ممالک ماضی کے مسائل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے خالصتاََ کاروباری تعلقات قائم کریں اور ایک نئے جنوبی ایشا کی بنیاد رکھیں۔ نوازشریف کے علاقائی تعاون کا ویژن صرف پاک بھارت اور جنوبی ایشا تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ اس تعاون کو چین، روس اور وسطی ایشا تک وسعت دیتے ہوئے پاکستان کو ایک ایسی تجارتی راہداری کی شکل میں ابھارنا چاہتے ہیں جو کہ نا صرف اس خطے کو آپس میں جوڑے بلکہ اس پورے خطے کی مشرق وسطیٰ اور یورپ تک رسائی میں بھی بنیادی اہمیت کا حامل ہو۔ یہی وہ بنیادی باتیں ہیں جو کہ نوازشریف کو پاک چین اقتصادی راہداری بارے بہت زیادہ پُرجوش بنا دیتی ہیں۔ یوں سادہ الفاظ میں نوازشریف اور ان کے قریبی حلقے پاکستان کے اندر پائی جانے والی غربت، معاشی کمزوری، توانائی کے بحران اور دہشت گردی جیسے مسائل کے حل کے لیے ایک ایسا رستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں جس میں وقت بھی کم سرف ہو اور نتائج بھی جلدی نکلیں۔ ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری سے وہ نا صرف ایک بڑا کام کرتے ہوئے تاریخ میں اپنا نام رقم کروانا چاہتے ہیں بلکہ اندرونی طور پر دیرینہ معاشی مسائل میں کمی لانے کا انتطام بھی کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم اس سوچ کا ایک دوسرا رُخ یہ بھی ہے کہ ایسے کسی بھی عمل کے پاکستان کی اندرونی سیاست پر بھی گہرے اثرات ظاہر ہوں گے کیونکہ بھارت کے ساتھ تمام معاملات بھائی چارے کے ساتھ طے کرنے کا نتیجہ نا صرف بھارت کے ساتھ امن کی صورت نکلے گا بلکہ افغانستان کے رستے ہونے والی دراندازی پر بھی قابو پایا جاسکے گا۔ یوں امن کے اس ماحول سے فیصلہ سازی کے عمل پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت بھی کمزور ہوگی۔ فوجیں جنگوں اور تنازعات میں ضرورت سے زیادہ طاقتور کردار اپنا لیتی ہیں جبکہ امن کے ماحول میں سیاستدان حتمی اور کُلی طور پر طاقت کی لگام اپنے ہاتھ میں رکھ سکتے ہیں۔ لیکن اس خُوش کن تصور کے ساتھ ایک انتہائی ٹھوس قسم کی بدقسمتی بھی نتھی ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کے عسکری ادارے نا صرف ایسے کسی بھی عمل کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں بلکہ وہ اپنے علاوہ کسی بھی دوسرے پر اس بابت اعتماد کرنے کو تیار ہی نہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ تقسیم ہند کے موقع پر ہونے والی ناانصافیاں ہیں مگر یوں بھی محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے عسکری ادارے ابھی تک سقوط ڈھاکہ جیسے حادثے کے اثر سے خود کو آزاد نہیں کرواسکے ۔ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ ایک چھوٹا ملک ہونے کے ناطے ایسے کسی بھی عمل کا انجام پاکستان کے لیے نقصان دہ ہی ہوگا۔ دوسری طرف یہی کشمکش زدہ غیریقینی ماحول عسکری اداروں کو ضرورت سے کہیں زیادہ فیصلہ سازی کی قوت فراہم کرتا ہے جس کا براہ راست اثر ان کے حجم اور قومی اخراجات کے اندر ان کے لیے مختص حصے پر بھی پڑتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ عسکری اداروں کے زیرسایہ چلنے والے کئی کاروباری بھی ادارے ہیں ، حالیہ عرصے میں اس فہرست کے اندر میڈیا کا اضافہ بھی ہوچُکا ہے، جن کا مستقبل ایسی ہی صورتحال کے قائم رہنے سے وابستہ ہے۔ شاید یہی وجوہات ہیں جن کے باعث پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے جب بھی کوششیں شروع ہوتی ہیں تو کچھ نا کچھ لازماََ ایسا ہوجاتا ہے کہ مفاہمتی عمل دوبارہ سے صفر پر پہنچ جاتاہے۔ یہ کہنا یقیناََ زیادتی ہوگی کہ ایسی صورتحال سے صرف پاکستان ہی دوچار ہے کیونکہ بارڈر کے اُس پار بھی عقابوں کی بھرمار ہے مگر اس وقت ہمارا موضوع پاکستان ہے۔

چنانچہ جب بھی نوازشریف کی علاقائی خارجہ پالیسی کا معاملہ زیربحثت آتا ہے تو یہ بات صرف اختلاف رائے تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ دو مختلف انتہاوں پر مبنی سوچوں کے ٹکراو کے جیسی صورت اختیار کرجاتی ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو نوازشریف اپنے دوسرے دور حکومت کے دوران بھی پہلے اپنے ہم منصب اندر کمار گجرال اور بعد میں اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ مذاکرات میں مشغول رہے۔ اس وقت تو ٹریک ٹُو ڈپلومیسی کے تحت بات اتنی آگے بڑھ گئی تھی کہ عقابوں کے رنگ نیلے پڑنے شروع ہوگئے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ ایک دن اچانک ہی کارگل کا شور اُٹھا اور دونوں ممالک ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے۔ اس وقت عالمی دخل اندازی نے ان دونوں ممالک کو کسی بڑی جنگ سے تو بچا لیا مگر پاکستان کے اندر اُن واقعات کا تسلس چل پڑا تھا جس کے اختتام پر نوازشریف غائب تو وزیراعظم ہاوس اسلام آباد سے ہوئے مگر برآمد کراچی سے ہوئے۔اگلے ایک ماہ تک وہ بغیر کسی فردجُرم یا عدالتی کاروائی کے کال کوٹھڑی میں پڑے رہے تاہم یہ داستان بذاتِ خود الگ سے ایک موضوع ہے جس پر عنقریب تفصیل سے بات ہوگی۔ ایک عشرے سے بھی زائد کا عرصہ انھوں نے جیلوں ، کال کوٹھڑیوں، جلاوطنیوں اور اپوزیشن میں رہ کر گزارہ ۔ اس تمام قصے کے بعد جب ان کی اقتدار میں معجزانہ انداز میں واپسی ہوئی تو اس دفعہ ان کی کتاب میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ طاقت کے توازن پر شراکت بارے کسی قسم کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔ اگرچہ اپنے تیسرے دور حکومت کے ابتدائی عرصے میں ، اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کو کم کرنے کی کوششوں میں ، نوازشریف کو کسی حد تک کامیابیاں تو ملی تھیں مگر یہ سلسلہ زیادہ عرصے تک نا چل سکا اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے بارے ان کی ہر کوشش کے رستے میں رکاوٹیں درپیش آنا شروع ہوگئیں۔ اول تو انتخابات جیتنے کے فوری بعد ہی انھوں نے اپنے بھارتی منصب منموہن سنگھ کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دے ڈالی۔ پھر وہ ، مئی 2014 میں ، بذاتِ خود نو منتخب بھارتی وزیراعظم نریندر مُودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے بھارت چلے گئے۔ یہ ایسی ہی باتیں تھیں جن کی وجہ سے انھیں پاکستان کے “ آزاد” میڈیا کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی برس جب انھیں لندن پلان کےتحت دھرنوی سرکس کا سامنا کرنا پڑا تو اس کی وجوہات میں سے ایک ان کی بھارت بارے پالیسی بھی گنوائی جاتی رہی۔ انھی دھرنوں کی بدولت جنرل راحیل شریف پاکستان کی خارجہ پالیسی کے امین مقرر ہوگئےتھے۔ دلچسپ امر مگر یہ تھا کہ دھرنوں کے ، دسمبر 2014 میں، فوری خاتمے کے بعد ہی نوازشریف نے , جنوری 2015 میں ، بھارتی وزیراعظم کو خط لکھ ڈالا جس میں بھارتی یومِ جمہوریہ کی مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات استوار کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کی دعوت دی گئی تھی۔ لیکن یہ کوششیں بھی رنگ نا لاسکیں کیونکہ پاکستان کے اندر پھٹا پوسٹر نکلا ہیرو کے مصداق انتخابی دھاندلی کے نام پر دیے دھرنوں سے شکریہ راحیل شریف کی گردان برآمد ہوگئی اور نوازشریف پسِ منظر میں چلےگئے۔ شکریہ راحیل شریف نامی گردان نے چند ماہ کے لیے تو خوب رنگ جمایا مگر جلد ہی یہ گرد بیٹھ گئی اور نوازشریف دوبارہ سے نمودار ہوگئے۔

اسی برس , 2015 , کے اواخر میں نوازشریف اپنی امریکہ یاترہ سے دوبارہ ابھرے تھے مگر یہ منظر انھیں پس منظر میں دھکیلنے والے راحیل شریف کو پسند نا آیا تو وہ خود بھی امریکہ کی سیر کو نکل لیے۔ اگرچہ راحیل شریف امریکہ پہنچے تو اپنا جلوہ دکھانے کے واسطے تھے مگر امریکیوں نے اپنے اس بِن بُلائے مہمان کو پاک بھارت مذاکرات کی حمایت پر راضی کرکے واپس بھیجا۔ نوازشریف نے مگر اس دفعہ ماضی کے مقابلے میں قدرے مختلف طریقہ آزمایا۔ سابق کورکمانڈر جنرل ناصر خان جنجوعہ جو کہ اب وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے قومی سلامتی کا عہدہ سنبھال چُکے تھے، بنکاک میں اپنے ہم منصب اجیت دوول سے ملےاور پاک بھارت مذاکرات کے لیے نیا ایجنڈہ طے کیا۔ پس پردہ ہونے والی ملاقاتوں کے نتیجے میں ایک صبح اچانک ہی بھارتی وزیراعظم کابل سے دہلی واپسی کے دوران ، نوازشریف کو یوم یدائش کی مبارکباد دینے کے لاہور رُک گئے اور ایک موہوم سی امید ایک دفعہ پھر سےپیدا ہوگئی کہ اب کی بار شاید معاملات درست سمت میں آگے بڑھ سکیں۔ اسی اثنا میں مگر ایک طرف پٹھانکوٹ کا واقعہ ہوگیا تو دوسری طرف پاکستان کا “آزاد میڈیا اپنے ہی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کو لتاڑنا شروع ہوگیا۔ دلچپسپ بات یہ تھی کہ یہی حوالدار میڈیا ایک وقت میں جنرل جنجوعہ کی اس عہدے پر تعیناتی کو عسکری قیادت کی کامیابی قرار دے رہا تھا مگر اب ان کی کردار کُشی میں جُت گیا تھا۔ حوصلہ افزا بات مگر یہ تھی بھارت کی جانب سے پٹھانکوٹ کے واقعے کو خلافِ معمول بہت بڑا مسئلہ نا بنایا گیا۔ مگر جیسا کہ تھوڑی دیر قبل عرض کیا تھا کہ مسائل کی وجوہات صرف پاکستان کے اندر ہی نہیں پائی جاتیں۔ مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارت کی اپنی ناکامیاں اُڑی جیسے واقعہ کی صورت میں سامنے آئیں جن سے بُرہانی وانی کی شہادت جیسے واقعہ نے جنم لیا اور اس تحریک کی شکل اختیار کرلی جو کہ مکمل طور پر مقامی بھی تھی اور بھارتی کنڑول سے باہر بھی۔ مقبوضہ کشمیر کے اندر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے جہاں بھارت ظلم و بربریت کی نئی داستاینں رقم کررہا تھا وہیں وہ اپنی ان ناکامیوں کا الزام بھی پاکستان پر ہی ڈالتے ہوئے کسی قسم کے مذاکرات پر تیار بھی نا تھا۔ کچھ ہی عرصے کے بعد نوازشریف کو بھی یہ احساس ہوچکا تھا کہ شاید نریندرمودی کی موجودگی میں پاک بھارت مذاکرات حقیقت کا روپ نا ڈھال سکیں۔ تاہم اس صورتحال کے باوجود وہ کسی بھی ایسی کوشش کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت اگر دوست نا بھی بن سکیں تو کم از کم تاریخی دشمنی سے پیچھے ہٹتے ہوئے پرامن ہمسایوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ گزارہ کرنا سیکھ جائیں۔ یہ ایک ایسی خواہش ہے جس کے نتیجے میں نوازشریف کو مُودی کی یاری، بھارت نوازی اور حتیٰ کہ غداری تک کے طعنے سننا پڑتے ہیں۔ میڈیا پر بیٹھے عسکری اداروں کے خودساختہ ترجمان اور بچہ جمورے قسم کی سیاستدان کبھی بھارت کے اندر نوازشریف کا کاروبار دریافت کرلیتے ہیں تو کبھی ان کے کاروباری کارخانوں کے اندر بھارتی جاسوس گرفتار کروارہے ہوتے ہیں۔ مگر نوازشریف تمام تر مخالفت کے باوجود پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی کوششوں پر بضد پائے جاتے ہیں۔ ڈان لیکس پر سابقین کے اندر پائے جانے والے شدید ردعمل کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مذکورہ ملاقات کے اندر ہونے والی بحث کا موضوع بھی وہی گروہ تھے جنہیں عام طور پر “ ہندوستان سپیشلسٹ” سمجھا جاتا ہے ۔ یہی وہ گروہ ہیں جو کسی فوجی آپریشن کے دائرہ کار میں بھی نہیں آتے اور دنیا بھی ہم سے ان کی وجہ سے نالاں نظر آتی ہے ۔

اب اس پس منظر کے ساتھ جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ، امریکی نیشنل ایڈوائز ہربرٹ ریمنڈ میک ماسٹر کی پاکستان اور بھارت بارے حالیہ سرگرمیوں کے تناظر میں سجن جندال کی پاکستان آمد پر غور کریں تو کئی کانوں کا کھڑا ہونا پلک جھپکنے سے بھی قبل سمجھ میں آجانا چاہئیے۔ اب تو یہ حقیقت بھی سامنے آ چکی ہے کہ سجن جندال دراصل پاک بھارت وزرائے اعظموں کے درمیان آئندہ سارک کانفرنس ، جو کہ ماہِ نومبر میں پاکستان میں منعقد ہوگی ، کے موقع پر کسی بڑی پیشرفت پر مبنی ملاقات بارے ٹریک ٹُو ڈپلومیسی کی خدمات سرانجام دیتے پائے جارہے تھے۔ ڈان لیکس ایک طے شدہ معاملہ تھا جو کہ مکمل طور پر پس منظر میں ہی طے ہوا تھا۔ اس کا کسی بھی قسم کا غیر طے شدہ حصہ بھی پس منظر میں ہی طے ہوسکتا تھا۔ لیکن سجن جندال کی ٹریک ٹُو ڈپلومیسی کے تحت آمد کو سبوتاژ کرنے کی نیت سے اضطراری ردعمل کے طور پر ڈان لیکس کی خالی پلیٹ میں چمچوں کی مدد سے شور ڈال دیا گیا۔ اس بات کی وضاحت کے لیے شاید ایک دلیل ہی کافی ہوگی۔ ہمارے “آزاد” اور “متحرک” میڈیا میں بیٹھے جغادریوں میں سے کسی ایک کو بھی سرکاری اعلامیے کی غیر موجودگی میں یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان وزیراعظم ہاوس میں ملاقات ہوئی ہے۔ معلوم تب ہوتا ہے جب اگلے روز اس ملاقات بارے سرکاری اعلامیہ جاری کیا جاتا ہے۔ مگر اسی انتہائی “باخبر” میڈیا کے پاس سجن جندال کے پاسپورٹ اور اس پر لگے ویزہ تک کی کاپیاں پہچنچ جاتی ہیں۔ یہ سب کیسے ہوتا ہے؟ ذرا سوچئیے۔ اس سارے عمل سے جہاں بیرونی دنیا کے سامنے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانے کے خواہشمند جمہوری حکمرانوں کو بے توقیر کردیا گیا ہے وہیں یہ پیغام بھی دے دیا گیا ہے کہ عسکری گروہوں کو قابو بھی صرف ہم ہی کرسکتے ہیں اور سویلینز کے ساتھ طے شدہ باتوں کو تسلیم کرنا یا نا کرنا بھی ہماری ہی صوابدید ہے۔ ۔۔۔۔ خیر زندگی نے بہرحال آگےبڑھنا ہے۔پاکستان کے تعلقات اپنے ہمسایوں میں سے، ما سوائے چین کے، کسی بھی ملک کے ساتھ خوشگوار نہیں ہیں۔ جلد یا بدیر ہمیں اس بات کا احساس بھی کرنا ہی پڑے گا کہ ہم دنیا سے کٹ کر جی نہیں سکتے بالکل اسی طرح جیسے ہمیں دہشتگردی کے معاملے میں ستر ہزار جانیں گنوانے کے بعد ہی اس عفریت سے نمٹنے کا احساس ہوسکا تھا۔ جلد یا بدیر ایک وقت آئے گا کہ پاکستان بھی اپنے ہمسایوں ، بشمول بھارت، کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔ اس وقت جب ہم مُڑ کے اس واقعہ پر نظر دوڑائیں گے تو نصرت جاوید کی یہی بات یاد آئے گی کہ ۔۔۔۔ شکرہے کہ اس دفعہ بات کارگل کی پہاڑیوں پر کسی خوفناک جنگ کی بجائے فقط ایک ٹویٹ پر رُک گئی۔

***********************************************

یہ منظر تھا ترکی کے شہر انقرہ کا اور میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ بات کررہے تھے وزیراعظم نوازشریف

نوازشریف: ہم بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، ہماری انتخابی مہم بھارت مخالف نہیں تھی جبکہ بھارت میں انتخابات کے وقت ہم پر الزام تراشی ہوتی ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ خطے میں انتشار ہو۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کریں۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں میرے خیالات اب بھی وہی ہیں جو کہ 2013 میں تھے ۔

ترکی کے شہر انقرہ میں 23 فروری 2017 کے روز وزیراعظم نوازشریف کی صحافیوں کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے اقتباس

***********************************************

پسِ تحریر: اب شاید نوازشریف کو بھی سوچنا ہوگا کہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں بارے ان کا آزمودہ طریقہ کار تو نتائج نہیں دے رہا۔ اس بارے میں وہ جب بھی کوشش کرتے ہیں تو ان کی ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں۔ شاید انھیں بھی اپنے طریقہ کار میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ کیا یہ بہتر نا ہوگا کہ وہ پہلے اپنے اندونی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے ان ریڈلائنز کا تعین کرلیں جن کے اندر رہتے ہوئے اس پراگندہ ماحول کو بہتر کرنے کا آغاز کیا جاسکے؟۔ اس تعطل کا حل مذاکرات سے ہی نکلنا ہے چاہے وہ بیرونی ممالک کے ساتھ ہوں یا پھر اندروانی اداروں کے ساتھ۔

5 thoughts on “Phurrtian

  • May 9, 2017 at 8:40 am
    Permalink

    Too impressive. Very appropriate suggestion to NS. Don’t want to see him fall again 🙁

    Reply
  • May 9, 2017 at 9:17 pm
    Permalink

    وہی منصفوں کی روایتیں وہی فیصلوں کی عبارتیں
    مرا جرم تو کوئی اور تھا پہ مری سزا کوئی اور ہے

    Reply
  • May 10, 2017 at 1:54 am
    Permalink

    Very well written article.

    Reply
  • May 13, 2017 at 11:00 pm
    Permalink

    کافی کچھ لکھا گیا لیکن مبالغہ آرائی بھی ہے
    آپ اس وقت تک کسی کو گلے نہیں لگا سکتے جتنے تک آگے بندہ نہ چاہے ہاتھ ملایا جا سکتا ہے لیکن جب ملک کو چلایا جاتا تو بہت ذمہ داری بھی ادا کرنی پڑتی ہے
    شائد اس چیز سے ہم کافی دور کھڑے ہیں

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *