Damaghi Zehar

زمانہ قدیم اور دور حاضر میں اچھے اور سلجھے خاندان کی پہچان اس کے سربراہ سے ہوتی تھی۔ یہ خاندان نہایت ہی خوش و خرم زندگی گزار رہا ہوتا تھا۔ سربراہ حقیقی معنوں میں سربراہی کا حق ادا کرے تو مجال ہے کوئی اِدھر سے اُدھر ہوجائے- سب کو انکی ذہانت اور محنت اور قابلیت پر کام تقسیم کیے جاتے- لڑای جھگڑے کی اگر نوبت آجائے تو سربراہ کے سامنے ہی معاملہ رکھا جاتا اور وہی اسے خوش اسلوبی سے حل کرتا ہے۔ سب اسے دل سے تسلیم کرتے۔

بہرحال، وقت ایک جیسا نہیں رہتا اور کبھی کبھار ایک تیلی پورے خاندان کو برباد کردیتی ہے۔ ایسے نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں کہ وہی لوگ ایک دوسرے کی شکل دیکھنا گوادر نہیں کرتے۔ ایک جھوٹ پر مبنی وسوسہ پھیلا دیا جاتا ہے کہ بڑے بھائی کو جو دیا جاتا ہے وہ چھوٹے کو نہیں دیا جاتا یا تم اتنی محنت کرتے ہو بدلے میں بڑا سب کچھ لے جاتا ہے۔ یا پھر یہ کہا جاتا ہے کہ تم چھوٹے ہو اور تمھیں کوئی آگے بڑھتا ہوا دیکھنا نہیں چاہتا اس لیے ضرور کوئی جادو ٹونہ کروایا گیا ہے۔ جسکی وجہ سے تم جہاں دس سال پہلے تھے آج بھی وہیں ہو۔ اور یہ وسوسے ڈالنے والے ہمارے سگے ہی ہوتے ہیں جن کو دوسروں کے کاموں میں ٹانگ اڑانا اور انکے کام سے نفرت کرنا انکے معمول کا حصہ ہوتا ہے۔
یہی ایک چھوٹی سی چنگاری ہی ایک ہنستے کھیلتے خاندان کو تباہ کردیتی ہے- بظاہر تیلی لگانے والے کے پاس تو کچھ آتا نہیں لیکن اس کو یہ تسلی ہوجاتی ہے اب ہمارے مقابلے یا ہمیں نیچا دکھانے والا کوئی نہیں ہے۔

پاکستان 2013 سے پہلے جن حالات کا شکار تھا یہ تو ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ دہشت گردی، افراتفری، اکانومی، زرمبادلہ کے ذخائر، بجلی وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان مسلم لیگ نواز جب برسرِ اقتدار آئی تو اس نے شروع میں بہت سے کٹھن حالات کا مقابلہ کیا اور جتنے بھی وسائل تھے انھیں بروئےکار لا کر ملک کے پہیے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ الحمد الله پاکستان ایک ابھرتی ہوئی ریاست کے طور پر جانا جارہا ہے۔ ملک کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں آپ کو لوگ ن لیگ کی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے ہی ملیں گے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے جس طرح حالات پر قابو کیا چاہے وہ بلوچستان ہو سندھ ہو پنجاب ہو یا پختون خواہ، باعث مسرت اور اپنی مثال آپ ہے۔ آج کل کچھ ٹی وی اینکرز بڑے بڑے حلقوں میں جا کر چار سال پہلے کیے گئے وعدوں پر پروگرام کررہے ہیں اور جو سچ سامنے آرہا ہے وہ یہی ہے کہ عوام ن لیگ کی حکومت کے کیئے گئے اقدامات کو قابل ستائش نظر سے دیکھ رہی ہے۔

آتے ہیں اس چیز کی طرف جو اس تحریر کے شروع میں کہی گئی تھی۔ ابھی کچھ دیر پہلے ایک پروگرام دیکھا جس میں ہمارے ملک کے ایک دانشور صاحب اسی خاندان کے ایک فرد کا کردار ادا کررہے ہیں جو کہ تیلی لگانے، ذہنوں میں میں زہر بھرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔ موصوف حسن نثار صاحب یہ فرما رہے تھے کہ موجودہ حالات کو دیکھنے ہوئے ملک پاکستان میں 2018 کا الیکشن صاف ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ کیا ہم ان سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ :
آجکل ہر حلقے میں جو عوامی رائے آرہی ہے کیا آپ اس سے آگاہ ہیں؟
کیا آپ کو ملک میں کم ہوتی دہشت گردی نظر نہیں آرہی ہے؟
کیا بجلی کے نئے منصوبے جو لگ چکے اور لگ رہے ہیں پہلے پاکستان میں کیوں نہ لگے؟
ریلوے کا نظام پہلے سے بہتر کیسے ہو گیا؟
حجاج کرام جو پہلے دور حکومت میں پریشانی کے عالم میں واپس آیا کرتے تھے اب انکے دلوں سے دعائیں کیوں نکل رہی ہیں؟

جناب اس ملک میں اگر ایلکٹرانک ووٹنگ بھی شروع کردی جائے تب بھی آپ نے نہیں ماننا کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوئے ہیں۔ کیونکہ آپ سے یہ چیز ہضم نہیں ہونی۔ براہ کرم ملک پاکستان اور پاکستان کی عوام پر رحم کریں اور “دماغی زہر” میں قوم کو مبتلاء مت کریں۔ ابھی بھی ہماری ایک نئی پود ایسی ہے جو آپ کو سنتی ہے اور آپ کو اپنا معذرت کے ساتھ دانشور سمجھتی ہے۔ انکی عقل کا قیمہ مت بنائیں ان شاء اللہ 2018 کا الیکش ن لیگ تو جیت جائے گی لیکن اس زہر کا کیا کریں گے جو آپ کے دماغ سے نکل کر زبان پر آئی اور پھر اس نے نئی نسل کے ذہنوں میں نفرت کے ایسے بیج بو دئیے ہیں جن کو نکالنا بہت مشکل ہوگا۔

اللہ تعالیٰ ملک پاکستان کو فتنوں اور دشمنوں سے پاک رکھے- آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *