10 Arb ka Mukalma

پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی ماحول پر گفتگو روزمرہ کی زندگی کا معمول سا بن گیا ہے جس کا شکار معاشرے کے ہر طبقے کا ہر فرد نظر آتا ہے جو اپنے من پسند لیڈر یا جماعت کی نمائیندگی بھرپور طریقے سے بحث یا تندوتیز جملوں کی صورت میں کرتے ہیں
پاکستان یا شاید دنیا کی تاریخ میں ایسا انوکھا واقعہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ دو مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے دوستوں کی گفتگو ایک سیاسی جماعت کے چئیرمین نے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر لی ہو
مکالمے کے سیاق و سباق کو سمجھنے کیلئے تمہید ضروری تھی اب چلتے ہیں دبئی میں مقیم دو دوستوں کے مکالمے کی طرف

پہلا دوست۔ میری جماعت کے لیڈر نے بہت جدوجہد کی ہے تم دیکھ لینا پانامہ کیس تمھاری جماعت کے لیڈر کا سارا کچا چٹھا کھول دے گا

دوسرا دوست۔ احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہو تم اور تمہارا لیڈر فیصلہ قانون کے مطابق آتا ہے کسی کی خواہش پہ نہیں اور جس جدوجہد کی تم بات کر رہے ہو تمہارا لیڈردس بارہ ارب لے کر ایسے اپنی زبان بند کر سکتا ہے جیسے دھرنے کے ایک کردار نے کی تھی

پہلا دوست۔ یعنی تم کپتان کی بھی قیمت لگا رہے ہو؟
دوسرا دوست۔خان کے مالی معاملات جس طرح کے ہیں تم یہی سمجھ لو
پہلا دوست۔ کپتان کو کوئی نہیں خرید سکتا
دوسرا دوست۔ تم کپتان سے بات کر کے دیکھ لو تمھیں پتہ چل جائے گا۔

مکالمہ یہیں تک رہا اور دن گزرتے رہے پھر پہلا دوست پاکستان آیا اور بنی گالا میں کپتان سے ملا اور اپنی دوستانہ گفتگو کا زکر بھی کیا جس کا مطلب عمران خان نے ہمیشہ کی طرح اپنے اعصاب پہ بری طرح سے سوار نواز شریف کے خلاف یوں لیا کہ فورا یہ بیان داغ دیا کہ شہباز شریف نے انکو چپ رہنے کیلئے دس ارب روپے کی پیشکش کی ہے

اب آپ خود فیصلہ کر لیجیئے کہ ہنسنا ہے یا سر پیٹنا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *