Betti

جب میری بیٹی پیدا هوئی تومیرا سر یه خبر سن کے شرم کے مارے جھک گیا, مجھے لگا که اب میں گھر سے باهر کیسے نکلوں گا, لوگوں کا سامنا کیسے کر سکوں گا- مجھے نهایت شرم محسوس هورهی تھی, دل کرتا تھا ماں اور بیٹی دونوں کو جا کرماردوں, لیکن میں ایسا نه کرسکا- وقت گزرتا گیا اور بچی بڑی هوتی گئی. میں گھر میں داخل هوتا تو وه بھاگ کر مجھ سے لپٹ جاتی, لیکن میرے دل میں اسکے لیئے محبت نه جاگی. میں جتنی سختی سے پیش آتا وه مجھ سے اتنا پیار کرتی. پھر ایک دن جب وه تقریبا 5 سال کی تھی, میرا ضبط جواب دے گیا. میں نے اسے اپنے ساتھ باهر چلنے کو لیا,وه خوشی خوشی اٹھی اور میرے چل پڑی. میں نے ساتھ کدال بھی اٹھا لی. آبادی سے باهر نکل کے میں نے ایک جگه مٹی کھودنا شروع کی. جب. مٹی میرے کپڑوں په گرتی تو وه اپنے ننھے ننھے هاتھوں سے میرے کپڑے جھاڑنے لگتی. جب کافی زمین کھود چکا تو میں نے اسے اس گڑھے میں پھینکا اور گڑھے کو مٹی سے دوباره بھر دیا, اور خوشی خوشی واپس آیا که اب میں فخر سے اپنا سر اٹھا کر چل سکوں گا- جب راوی چپ هوا تو دیکھا که میرے پیارے نبی (ص) کی آنکھوں سے اشک رواں هیں, ریش مبارک تر هو چکی هے یه واقعه کچھ الفاظ کی جمع تفریق کے ساتھ پڑھا تھا جو که قبل از اسلام کی پرانی عربی معاشرت کی جھلک پیش کرتا هے, الله تعالی بھول چوک معاف فرمائے

بیٹی, ایک ایسا چار حرفی لفظ جو که بلاشبه پیار, محبت اور احترام کا متبادل قرار دیا جاسکتا هے- همارے نبی (ص) بلاشبه اپنی بیٹیوں سے محبت اور شفقت فرمایا کرتے تھے جبکه اس وقت کے حالات کی ایک جھلک اوپر بیان کی گئی هے. بی بی فاطمه (رض) جب آپ (ص) کے پاس ملاقات کو تشریف لاتیں تو آپ (ص) کھڑے هوکر استقبال کرتے تھے. آپکے ارشادات اور افعال مبارک بیٹیوں سے شفقت برتنے کا واضع ثبوت هیں

همارے آج کے معاشرے میں بھی وهی پرانی, دور جاهلیت کی جھلکیاں نظر آنے لگی هیں- اکثر اوقات مشاهده هوتا هے که بیٹی کی پیدائیش په گھر والوں په سوگ کا سا منظر نظر آنے لگتا هے اور جس گھر میں یه رحمت خداوندی موجود هو وهاں نئی کی آمد اور زیاده ٹینشن کا باعث بنا دی جاتی هے

اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو بیٹیاں ماں باپ کا خیال رکھنے میں بیٹوں سے کهیں آگے نظر آتی هیں خاص طور په جب والدین بوڑھے اور انکی اولاد جوان هوچکی هو

میرے خیال میں بیٹوں اور بیٹیوں کے بارے میں یه واضع تفریق همارے معاشرے میں هندوؤں کے ساتھ رهنے کی وجه سے آئی هے. بیٹی کے پیدا هوتے هی والدین اسکے مستقبل کے بارے میں فکرمند هونا شروع هوجاتے هی- بیٹی چلنا بعد میں شروع کرتی هے جبکه اس کی ماں اسکا جهیز اکٹھا کرنا شروع کردیتی هے حالانکه زیاده جهیز کی فراهمی آنے والی زندگی کی کامیابی کی بالکل بھی ضمانت نهیں

اسی طرح بیٹی کو هر لحاظ سے بیٹوں سے کمتر رکھا جاتا هے. همیشه بیٹوں کو فوقیت ملتی هے اور اکثر اوقات قربانی دینا بیٹی کا مقدر بنتا هے- اس قسم کی تفریق میں هم سب شامل هیں اور کم پڑھے لکھے گھرانوں میں حالات زیاده خرابی کی طرف ملتے هیں, جدھر بیٹیوں کو انکے جائیز حقوق تک سے محروم رکھا جاتا هے

آئیں هم سب مل کے الله تعالی سے اسکی رحمتیں مانگیں کیونکه جب الله کی رحمت ملتی هے تو وه باقی نعمتوں کے دروازے کھولتی هے ورنه انسان یونهی پریشان پھرتا هے. مثالیں همارے اردگرد موجود هیں که جن لوگوں نے بیٹیاں نه هونے په خوشیاں منائیں انکو بعد میں افسوس اور حسرت کرتے هووے دیکھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *