Panama ka Hungama

پانامہ لیکس کے ضمن میں عدالتی سماعت تو ماہِ فروری میں ہی نمٹائی جا چُکی تھی مگر تب سے اب تک ہر کسی کو اس مقدمے کے فیصلے کا انتظار ہے۔ عدالت کے حتمی فیصلے کا علم تو معزز جج صاحبان کو ہی ہوسکتا ہے مگر ہر کوئی اپنے اپنے خیالات کے گھوڑے دوڑانے میں ضرور جُتا ہوا ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ پانامہ لیکس کا معاملہ جہاں چوری شدہ دستاویزات کی بھیک کے بل بوتے پر پھنے خان بننے کے خواہشمند چند صحافیوں کی اوقات کو آشکار کرگیا وہیں ہماری اعلیٰ ترین عدلیہ اور سیاستدانوں کی ساکھ سے متعلق بھی کئی سوالات اُٹھانے کے بعد اپنے انجام کو پہنچنے کی طرف گامزن ہے۔

ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ اس معاملے کے منظرعام پر آنے کے بعد ان محرکات پر غور و فکر کیا جاتا، جن کی وجہ سے پانامہ لیکس میں سینکڑوں پاکستانیوں کے نام آئے، جس کے بعد نظام میں موجود خرابیوں کی نشاندہی کی جاتی اور پھر ان خرابیوں کو دُور کرنے کے لیے موثر قانون سازی کی طرف توجہ دی جاتی۔ ُہوا مگر یہ کہ قانونی حیثیت سے مکمل عاری ان “دستاویزات” کے سہارے ہم نے وطنِ عزیز کا ایک برس سے بھی زیادہ کا عرصہ غیریقینی صورتحال پیدا کرنے اور اس سے جُڑی کھینچا تانی کی نظر کرڈالا۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس کوتاہی کے سب سے بڑے ذمہ دار ہمارے سیاستدانوں کا ہی ایک حصہ نکلا۔ پانامہ لیکس میں اگرچہ سینکڑوں پاکستانیوں کے نام آئے، جن میں سے صرف چند ہی سیاست کے شعبے سے وابستہ تھے جبکہ باقیوں کا تعلق دوسرے شعبہ ہائے زندگی کے ساتھ ساتھ میڈیا، عدلیہ اور افواج سے تھا۔ مگر عمران خان اور شیخ رشید جیسے بازارِ جنس سیاستدانوں نے اس کے وقت چند خُود و توسیع پسند حاضر سروس اعلیٰ عسکری افسران کے اشارے پر اس سارے معاملے کو ایک نئے مائنس ون فارمولے کے لیے استعمال کرنے کا بیڑہ اٹھالیا۔ یوں وہ مسئلہ جس کا حل اتفاق رائے کے ساتھ پارلیمانی ایوانوں کے اندر سے نکل سکتا تھا وہ جلسے، جلوسوں، لانگ مارچوں اور لاک ڈاون کی نظر ہوگیا۔ قریب تھا کہ 2014 کی ہی مانند اسلام آباد ایک دفعہ پھر سے طویل عرصے کے لیے یرغمال بن جاتا اگر حکومت وقت اپنے بچاو میں ریاستی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اس چائےکی پیالی میں اٹھے طوفان کو اس کی اوقات نا دکھا دیتی۔ بات یہاں بھی نا رُکی اور بعد میں پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ بھی اس کہانی کا ایک کردار بن گئی۔ یُوں روزانہ کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے اندر اور باہر اس کھیل تماشے کا ایک نیا باب لکھ ڈالا گیا۔ اب جبکہ عدالتی فیصلے کی آمد آمد ہے تو غالب امکان یہی ہے کہ اس ساری کاروائی سے نا تو کوئی مائنس ون ہونے جارہا ہے اور نا ہی کسی قسم کا سیاسی فائدہ کسی ایک بھی فریق کو حاصل ہوگا۔ اگر کچھ حاصل ہوگا تو وہ یہی کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نظام کے اندر موجود خرابیوں کی نشاندہی ہوگی اور انھی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے مشورے بھی دیے جائیں گے۔ افسوس کہ جو کام عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کو کرنا تھا اس کے لیے بھی انھیں اب عدالت سے ہدایات ملیں گی۔

پانامہ لیکس نے جہاں سیاستدانوں کے اندر چُھپے بچے جموروں کو ایک دفعہ پھر سے بے نقاب کیا ہے وہیں اس سے بھی کہیں زیادہ شدت کے ساتھ کئی سوالات ہماری اعلیٰ عدلیہ کی اہلیت پر بھی اُٹھا دیے ہیں۔ ان لیکس کے منظرعام پر آنے کے کچھ ہی عرصے کے بعد سے یہ بات بڑی حدتک واضح ہوچکی تھی کہ بعض سیاسی و غیرسیاسی قوتیں اس زحمت کو نعمت میں بدلنے کی بجائے اسے اقتدار کے بے رحم کھیل میں استعمال کرنے پر تُلی بیٹھی ہیں۔ عسکروں اداروں کی جانب سے دہشتگردی اور بدعنوانی کو جوڑنے جیسی نرالی منطق، سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی کو بذریعہ میڈیا ہوا دینا، جلسے جلوسوں کی ریل پیل اور اس ساری رام کتھا کے ساتھ جُڑی آرمی چیف کی توسیع بارے گردش کرتی کہانیوں کے بعد تو یہ معاملہ کسی طور بھی آئینی و قانونی نہیں رہ سکا تھا۔ شاید ایسی ہی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیرجمالی سمیت کئی سابق جج حضرات بھی اس معاملے کی تحقیقات کا بیڑہ اٹھانے سے کوسوں دور ہی بھاگتے رہے تو بعد میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے بھی پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے دائر ہونے والی درخواستوں کو بے کار اور غیرسنجیدہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ لیکن پھر ناجانے کیا ہوا کہ جیسے ہی اسلام آباد لاک ڈاون کی کہانی چلی تو چیف جسٹس صاحب نے وہی بے کار اور سنجیدگی سے عاری درخواستیں سماعت کے لیے منظور کرلیں اور یہیں سے اس خرابی کا بھی آغاز ہوا جس نے نااہلی کے اس طوفان کا رُخ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب بھی موڑ دیا۔

یکم نومبر 2016 کے دن تک یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ ناکام ترین سیاستدانوں کا ایک گروہ، جو کہ پانامہ لیکس کی آڑمیں اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوششوں میں تھا، ایک دفعہ پھر سے ناکامی کا مُنہ دیکھ چُکا ہے۔ مگر سپریم کورٹ کی جانب سے اس معاملے میں پھر بھی سمجھ میں نا آنے والے اقدامات کا سلسلہ جاری رہا۔ خاکسار قانونی معاملات سے یکسر نابلد ہے مگر مختلف ماہرینِ قانون کی رائے سننے کے بعد تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ سپریم کورٹ اس بات کی مجاز نہیں کہ وہ کسی بھی فریق سے براہ راست ثبوت جمع کر سکے۔ مگر پھر بھی ہم نے دیکھا کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے دونوں بینچ مختلف فریقین کی جانب سے دے گئے ثبوت جمع کرتے رہے۔ پھر چوری شدہ دستاویزات، مختلف کالمز،انٹریوز، تقاریر اور خودساختہ صحافیوں کی کتابوں پر مشتمل “ثبوتوں” کو تو معزز جج صاحبان خود ہی ردی قرار دے چُکے تھے۔ اب ایک عام آدمی کا یہ سوچنا تو بنتا ہے کہ ایسے ردی دستاویزات ، جو کہ قانونِ شہادت کے معیار پر کسی طور بھی پورا نہیں اترتے، کے بل بوتے پر کروڑوں براہ راست اور بالواسطہ ووٹوں سے منتخب ہوئے وزیراعظم کے سیاسی اور خالص خاندانی معاملات کا ٹرائل کرنا کیونکر جائز ٹھہرا؟ کم از کم خاکسار تو آخری دن تک یہی نہیں سجھ سکا کہ آخر یہ عدالتی کاروائی تھی کس نوعیت کی؟ یہ ٹرائل تھا یا انکوائری۔ فریقین کی جانب سےجمع کروائے گئی دستاویزات کیا مصدقہ تھیں؟ اگر نہیں تو ان کی تصدیق کیوں نہیں کروائی گئی؟ بیان حلفی دینے والے احباب کو عدالت مں بُلا کر ان کے بیانات کی تصدیق اور جرح کیوں نہیں کروائی گئی؟ آخر کیا وجہ ہوئی کہ اس مقدمے کے دوران جب وزیراعظم کی جانب سے اپنے جیسے ہی الزامات کا شکار مخالفین کا معاملہ بھی اسی سماعت کا حصہ بنانے کی درخواست دی گئی تو اسے توجہ کے قابل کیوں نا سمجھا گیا؟ اس مقدمے کے درخواست گزار عمران خان کے خلاف اسی نوعیت کی ہی ایک درخواست بھی سپریم کورٹ میں دائر ہوئی مگر اس معاملے میں اتنے جانفشانی دکھانا کیوں ضروری نا سمجھاگیا؟ اور پھر ایک خالص آئینی و قانونی کاروائی یکسر سیاسی رُخ کیسے اختیار کرگئی؟ سپریم کورٹ آف پاکستان کے دروازے پر ہر روز کئی پریس کانفرنسز ہوتی رہیں، اس مقدمے سے متعلق ہر روز ٹی وی سکرینوں پر قیامت خیز بحث و مباحثے چلتے رہے اور عدالت کے اندر نونہالان انقلاب سنی دیول کی مانند “ مجھے کچھ کہنا ہے ۔۔۔۔” کی صدائیں لگاتے رہے مگر معزز عدالت نے اس سارے تماشے کو روکنے کی کوئی کوشش کیوں نا کی؟ سوالات تو بہت ہیں اور ان کے جواب ندارد۔ بادی النظر میں تو یوں دکھائی دیکتا ہے کہ جیسے ایک منتخب وزیراعظم سے حساب لینے کی بجائے اس کی تذلیل کرنے پر ضرورت سے زیادہ توجہ دی گئی ہو۔معزز عدالت نے بچہ جمورہ گروپ کے ناکام ترین سیاستدانوں پر مشتمل درخواست گزاروں کو مطمئن کرنے کے لیے ضرورت سے کہیں زیادہ کوشش کرڈالی ہے اور انھی کوششوں کے دوران وہ اپنے پھنس جانے کا واویلا تو کرتے پائے گئے مگر شاید یہ سوچنا گوارہ نا کیا کہ انھیں اس کنویں میں دھکا دینے والا کوئی اور نہیں بلکہ ان کے اپنے ہی سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی تھے۔ جسٹس جمالی کی جانب سے ایسی بے کار اور غیرسنجیدہ درخواستوں کی منظوری کو اسلام آباد لاک ڈاون اور اس سے جُڑی کہانیوں نے ضرورت سے زیادہ ہی مشکوک بنا ڈالا خصوصاََ جب یہ سماعت اس سارے کھیل کے ہدایتکاروں اور اداکاروں کے لیے سیاسی ناکامی کے بعد فیس سیونگ کے کام بھی آئی۔ اگر اس تمام قصے کو 2014 کے دھرنوں اور ان سے جڑی جسٹس ناصرالملک سے متعلق کہانیوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ اگر پانامہ لیکس کی سماعت کے دنوں میں اسلام آباد یرغمال بنا ہوتا تو اس پوری عدالتی کاروائی اور اس سے جُڑے فیصلے کا رنگ ڈھنگ شاید بہت ہی مختلف ہوتا۔

جیسا عجیب و غریب معاملہ پانامہ لیکس کے ضمن میں عدالتی کاروائی کا تھا ویسا ہی درخواست گزاروں اور ان کے دلائل کا بھی تھا۔ الزامات لگانے والے ایک فریق کا اصلی وکیل تو “ثبوتوں” کی حالت دیکھنے کے بعد پتلی گلی سے ہی نکل لیا اور دلائل دینے کی ذمہ داری ‘سٹپنی’ وکیل نعیم بخاری کو نبھانی پڑی۔ بخاری صاحب نے مگر منی لانڈرنگ جیسے الزامات اور پانامہ پیپرز کے ساتھ نوازشریف کا تعلق جوڑنے کی بجائے اپنی پھیکی پھیکی جُگتوں کے سہارے سارا زور مختلف انٹرویوز اور تقاریر میں کی گئی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹا کر آئین کی شق نمبر باسٹھ تریسٹھ کا مقدمہ بنانے میں ہی عافیت جانی۔ دوسری طرف جماعت اسلامی کے وکیل آصف توفیق صاحب کے دلائل تو اتنے “جاندار” اور “مدلل” ثابت ہوئے کہ جج صاحبان بھی دہائیاں دیتے پائے گئے کہ وکیل صاحب کچھ تو پڑھ کر آیا کریں۔ اگرچہ فیصلہ تو عدالت کو کرنا ہے مگر قانونی معاملات سے یکسر نابلد میرے جیسا عام شخص بھی یہ سوچنے پر مجبور پر ہے کہ آخر وہ کونسے دلائل اور ثبوت معزز عدالت کے سامنے لائے گئے تھے جن کی بدولت وزیراعظم پر منی لانڈرنگ اور غیر قانونی اثاثوں کے الزامات ثابت ہوئے؟ زیربحث اثاثے تو وزیراعظم کی ملکیت میں تھے ہی نہیں۔ استغاثہ کے بقول وہ اثاثے وزیراعظم نےجانتے بوجھتے ہوئے اپنے بچوں کے نام پر رکھے ہوئے تھے۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا اس الزام کو ثابت کیا گیا؟ نظر بظاہر تو ایسا کوئی ایک ثبوت بھی سامنے نہیں لایا گیا جس کے بدولت یہ کہا جاسکے کہ نواز شریف نے پیسا ملک سے باہر بھیجا ہو اور اس پیسے کے بل بوتے پر وہاں اثاثے بنائے گئے ہوں۔ نا ہی ایسی کوئی بات ثابت کی جاسکی کہ ان تمام اثاثوں کے اصل مالک نوازشریف ہیں۔ اس پورے مقدمے کے دوران معاملہ کچھ عجیب یوں بھی رہا کہ درخواست گزاروں کے سرخیل عمران خان نے یہ کہتے ہوئے ہاتھ کھڑے کردیے کہ ہمارا کام صرف الزام لگانا تھا۔
اسی بیان کے بعد معزز عدالت کی تمام تر توجہ شریف خاندان کی جانب سے دائرکردہ جوابات پر ہی مرکوز رہی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر الزامات کو وزن دینے کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں تھے تو پھر یہ مقدمہ چلا ہی کیوں اور اگر شریف فیملی کے جوابات میں دراڑیں پائی گئی تھیں تو پھر اس ضمن میں مزید تحقیقات کا حکم کیوں نا دیا گیا؟ سب سے افسوسناک پہلو تو یہ تھا کہ وزیراعظم کا نام نا تو پانامہ پیپرز میں ملتا ہے اور نا ہی ان پر عائدالزامات کا تعلق ان کی حکومتی ذمہ داریوں سے متعلق تھا۔ اس پوری کاروائی کے دوران زیربحث آنے والے تمام الزامات کا تعلق ان کے خاندانی کاروبار سے تھا اور وہ بھی عشروں پرانے الزامات جن پر ایک نہیں کئی دفعہ احتساب ہوچُکا تھا۔ مگر پھر بھی ایک منتخب وزیراعظم کی تین نسلوں کا ٹرائل کرنا لازمی سمجھا گیا۔

لیکن سب سے اہم ترین سوال یہ ہے کہ نعیم بخاری،آصف توفیق اور “بیرسٹر” شیخ رشید احمد جیسے “جید” وکلا کے کھڑکی توڑ “دلائل” کے باجود بھی اگر بعض لوگوں کی جانب سے ایک منتخب وزیراعظم کی نااہلی کی امید یا خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے تو اس امید یا خدشے کی بنیادی وجہ آخر ہے کیا؟ شاید یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب سب سے آسان ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں عدلیہ کا کردار کچھ زیادہ قابل تعریف نہیں رہا۔ ماضی میں بھی ہماری عدالتوں سے آمروں کو نا صرف قبولیت کی اسناد ملتی رہی ہیں بلکہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان پی سی او کے تحت حلف بھی اٹھاتے رہے ہیں۔ جہاں منتخب وزیراعظموں کو کسی گھریلو مُلازم کی مانند نا صرف گھربھیجا جاتا رہا ہے وہیں انھیں پھانسی پر لٹکانے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کی گئی۔ اگر دوسرے سیاستدانوں کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف نوازشریف کی ہی مثال لے لی جائے تو وہ بھی عدلیہ کا نشانہ کوئی پہلی دفعہ نہیں بن رہے ۔ ماضی میں بھی ایک سابق چیف جسٹس نے ایوان صدر کی سازشوں کا حصہ بنتے ہوئے نوازشریف کو توہین عدالت کے تحت نااہل کرنے کا بیڑہ تو اٹھایا تھا مگر جواب ملتے ہی انھیں اپنا دفتر چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ پھر اسی اعلیٰ عدلیہ نے مزید ایک آمریت کو قبولیت کی سند بخشنے کے بعد نوازشریف کو ہی زمین پر موجود رہتے ہوئے فضا میں محوپرواز طیارہ اغوا کرنے کا مجرم گردانا اور دو دفعہ کی عمر قید بھی سنادی۔ پھر جسٹس ڈوگر نے بھی نوازشریف اور شہبازشریف کو نااہلی کی سزا سنائی۔ نوازشریف کے علاوہ محترمہ بینظر بھٹو بھی انھی عدالتوں سے سیاسی دباو کے تحت مجرم گردانی گئیں اور آصف علی زرداری تو کسی عدالتی فیصلے کے بغیر ہی عمر قید کے لگ بھگ کا عرصہ جیلوں میں ہی گزار چکے ہیں۔ مگر ایسے عدالتی فیصلوں کا انجام کیا ہوا؟ ان تمام عدالتی فیصلوں کے بعد بھی عوام نے ان سیاستدانوں کو ووٹ دیے۔ عدالتی قتل کا شکار ہونے والے ذوالفقارعلی بھٹو کے نام پر پڑنے والے ووٹ آج بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ بینظیر بھٹو کو زندگی موقع دیتی تو وہ ایک دفعہ پھر سے وزیراعظم بن جاتیں مگر انھی کی سیاسی میراث کے سہارے آصف علی زرداری پانچ برس کے لیے صدرپاکستان رہے۔ اب نوازشریف بھی عدالتی نااہلی بھگتنے کے باوجود ناصرف تیسری دفعہ کے وزیراعظم ہیں بلکہ چوتھی باری کے لیے بھی پول پوزیشن میں ہیں۔ آج کی تاریخ میں بھی پانامہ لیکس کے ضمن میں، عدالتی کاروائی چاہے جیسی بھی رہی ہو، نوازشریف کو نااہل کردینا ایک مشکل فیصلہ تو ضرور ہوسکتا ہے مگرناممکن بالکل بھی نہیں۔ مسئلہ مگر یہ بھی ہے کہ یہ فیصلہ صرف ایک وزیراعظم کی نااہلی کا نہیں بلکہ وزیراعظم کی نشست پر براجمان پاکستان کے مقبول ترین سیاستدان اور تین دفعہ کے وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی کا ہے۔ فرض کریں اگر نوازشریف کو نااہل قراد دے بھی دیا جائے تو کیا اب کی بار یہ قصہ یہیں اختتام پذیر ہوجائے گا؟ اس سوال کا سادہ جواب یہ ہے کہ بالکل بھی نہیں کیونکہ حقیقت تو یہی ہے کہ جماعت ان کی مقبول ترین ہے، جہاں قومی اسمبلی میں انھیں اکثریت حاصل ہے تو وہیں اپنی جماعت پر بھرپور گرفت بھی وہ رکھتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ انھیں اپنی جگہ باقی ماندہ مدت کے لیے نیا وزیراعظم لانا ہوگا۔ نوازشریف کی اکثریت اور باقی ماندہ مُدت کو مدنطر رکھتے ہوئے غالب امکان یہی ہے کہ وہ اپنے بعد سینئیر ترین ایم این اے چوہدری نثارعلی خان کا ہی انتخاب کریں گے۔ اس کے بعد کیا ہوگا؟ کیا نوازشریف رائیونڈ میں بیٹھ کر دیسی مرغیوں کا سوپ پینے پر ہی اکتفا کریں گے؟ ایسا سوچنا خوش فہمی تو ہوسکتا مگر حقیقت تو بالکل بھی نہیں۔ کیونکہ نوازشریف وزیراعظم نا ہونے کے باوجود بھی ہوں گے تو وہی نوازشریف ہی جن کے نام پر ملے ووٹوں کی بدولت پنجاب، بلوچستان اور وفاق میں حکومتیں قائم ہیں ۔ جہاں نوازشریف اپنی جماعت کے کل پُرزے درست کرتے ہوئے اگلے انتخابات کی تیاری پر توجہ دیں گے وہیں جلسے جلوسوں، پریس کانفرنسز اور انٹرویوز کے ذریعے ان کی خالص سیاسی لب و لہجے پر مبنی گفتگو اپنی نااہلی بارے اٹھائے گی۔ ناکام ترین سیاستدانوں پر مشتمل بچہ جمورہ گروہ تو ان کا رستہ روکنے میں پہلے بھی کبھی کامیاب نہیں ہوسکا تو اب کیا ہوگا۔ نوازشریف عدالتی فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ کا عہدہ تو چھوڑ دیں گے مگر ایسے کسی بھی فیصلے کو وہ اسی سپریم کورٹ کے اندر چلینج بھی ضرور کریں گے۔ چنانچہ کم از کم سات رکنی بنچ یا پھر فل کورٹ بنچ تشکیل دیتے ہوئے عدالت کی جانب سے ان نکات پر بحث دوبارہ سے کرنا ہی پڑے گی جن کو بنیاد بنا کر نوازشریف کی نااہلی کا فیصلہ کیا گیا ہوگا۔ یوں وہ بحث، جو کہ صرف پانچ جج صاحبان تک ہی محدود تھی اور جس سے معزز جج صاحبان اپنی اکتاہٹ ظاہر کرتے رہے ہیں، وہ شاید پوری سپریم کورٹ کو ہی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ نوازشریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے تو ہٹایا جاسکتا ہے مگر سیاسی منظرنامے سے نہیں۔

قصہ مختصر یہ کہ سیاسی معاملات کو سیاست کے میدان میں طے ہونے کے لیے چھوڑ دینا چاہئیے۔ سیاست کو اپنی منشا کے مطابق چلانے کے لیے ہونے والے کئی تجربات ماضی میں بھی کیے جا چکے ہیں مگر نا تو ایسی کوششوں کو کامیابی نصیب ہوئی اور نا ہی ان سے کوئی مثبت نتائج برآمد ہوسکے۔ پانامہ لیکس ہماری تاریخ کے اندر ایسی ہی کوششوں میں ایک مزید باب کا اضافہ کرچُکا ہے۔ چائے کی پیالی میں اٹھائے گئے اس طوفان سے جہاں ہمارے سیاستدانوں کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے وہیں ہمارے دوسرےاداروں بشمول عدلیہ کو بھی سیکھنے کی ضرورت ہے کہ انھیں سیاسی کھیل تماشوں کے الجھے ہوئے ریشم میں اپنے ہاتھ پھنسانے سے گریز ہی کرنا چاہئیے کیونکہ بار بار ایک ہی غلطی کو دہرانے سے نتائج بدلنے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ میڈیا کا کام تو چلتا ہی کھیل تماشے سے ہے۔ میڈیا کی چکاچُوند روشنیاں اور توصیفی کلمات آپ کو چند دنوں کے لیے ہیرو تو بناسکتے ہیں مگر تاریخ صرف چند دنوں یا مہینوں پر مبنی نہیں ہوتی۔ اور تاریخ کا سبق یہی ہے کہ اگر سیاستدانوں کو عوامی حمایت دستیاب ہو تو وہ اپنی واپسی کی راہ نکال ہی لیتے ہیں کیونکہ سیاسی حیثیتیں عدالتی فیصلوں کی نہیں بلکہ عوامی حمایت کی مُحتاج ہوتی ہیں۔

One thought on “Panama ka Hungama

  • April 24, 2017 at 6:55 am
    Permalink

    نہایت سلیقے سے موثوف نے نواز شریف کو بے گںاہ ثابت کر.نے کی ناکام کوشش کی ھے ایسے معصومیت سے تجزیۃ کیا ھےجس کی کوئ حد نھیں کاش. کے یہ صرف معصومیت ھی ھو

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *