Shohar

شوہر

شوہر – ایک ایسا چار لفظی حرف جو ہر مرد کی زندگی میں اکثر کبھی نه کبھی ضرور نازل ہوجاتا ہے اور وه دن اسکی زندگی میں امر ہوجاتا ہے. شوہر بننے کی خواہش ہر مرد کے دل میں سب سے پہلے اسکی ماں کی طرف سے آتی ہے جب که وه ابھی اپنی نیپی بدلنے په بھی قادر نهیں هوتا. ماں اسے لوریاں دیتے هوے آنے والے سخت وقت کے بارے میں تیار کرنا شروع کردیتی هے جو اسے شوہر بننے کے بعد دیکھنا ہوتا ہے- آخر ماں جو ہوئی.

ایک کنواره, جو اپنی زندگی کا خود مالک ہوتا هے جانتے بوجھتے دوسروں کی باتوں میں آکر شوہر بننے کو تیار ہوجاتا هے اور پھر ساری عمر پچھتاووں میں گزارتا هے- دنیا کی مظلوم تریں مخلوق مرد ہونا ہے, پیچاره پیدا ہوتا هے تو ماں کے زیر اثر آجاتا ہے, کچھ بڑا ہو تو بہنیں بھی ماں کے ساتھ ساتھ اس په حکمرانی شروع کردیتی ہیں اور جب یه گروپ یکسانیت سے اکتا جاتا هے تو دلکشی لانے کیلئیے اس په ایک عدد بیوی مسلط کر دی جاتی هے اور پھر گھر میں فٹ بال کا میچ شروع هوجاتا هے جس میں فٹبال کے فرائض بیچارے شوہر کو ہی ادا کرنے ہوتے ہیں

شوہر کی ہر چیز اور اسکا ہر رشته اسکی بیوی کو برا لگتا ہے, حتٰی که وه تمام یار دوست جنکے ساتھ اسکی اک عمر گزری هوتی هے وه بھی اسکی بیوی کو اک آنکھ نهیں بھاتے اور ہمیشه اسکی توپوں کی زد میں رہتے هیں- حالانکه بیچارا میاں اپنی بیوی کی تمام سہیلیوں کو محبت بھری نظر سے دیکھتا هے, پرکھتا هے اور ان تمام کو اپنے گھر میں اپنی بیوی کی مدد کے لئیے لانے کو تیار ہوتا هے ( بطور دوسری اور تیسری بیوی کے) لیکن اسکی اس قربانی په بھی اسکی بیوی شک ہی کرتی هے اور کبھی اس کے خلوص کا احساس نہیں کرتی, سچ هے بھلائی کا زمانه ہی نہیں.

المیه یه ہے که مرد خود کو اس مشکل میں خود ہی ڈالتا ہے, اور کچھ ایسے بھولے بادشاه بھی ہوتے ہیں جو اس جھنجھٹ میں خود ہی پڑتے ہیں, محبت کرکے, اور پھر ساری زندگی پچھتاتے ہی دیکھا هے انکو

زندگی میں شدید مشکل اس وقت پیش آتی ہے جب انسان تھکا هارا, سارا دن کام اور باس کی بکواس سن کے گھر آتا ہے تو اسے گھر بطور گھر نهیں پلاسی کا میدان ملتا ہے. پته چلتا ہے که روایتی جنگ جاری هے جسمیں روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کا استعمال بھی ہو چکا هے اور عارضی جنگ بندی ہے جو اسکے آتے ہی ٹوٹ جاتی هے اور پھر اسے دونوں کی سننی پڑتی ہے اور فریقین کو بهی چپ کرانا پڑتا ہے

کنواروں کو ایک ہی غم ہوتا هے که شادی نہیں ہوئی ورنه انکی زندگی اپنی ہوتی ہے, جیسے چاہیں, جدھر چاہیں آئیں جائیں کوئی روک ٹوک نهیں- حتی که بستر کے دونوں طرف سے نیچے اتر سکتے ہیں اور لڑھک کر گر بھی سکتے ہیں- انکے دن اور رات سب انکے اپنے ہوتے ہیں, ہر قسم کی روک ٹوک سے آزاد- اس لیے پیارے کنوارے بھائیو اس زندگی کو غنیمت جانو اور دوسروں کے تجربات سے فائده اٹھاتے ہوئے اس جنگ و جدل سے بھرپور زندگی میں کودنے سے گریز کرو

نوٹ:- جگ بیتی کو آپ بیتی نه سمجھا جائے, اگر کوئی سمجھے گا تو الله تعالی سے دعا ہے که اسکی زندگی میں اسکی عقل کو ٹھکانے لگانے کیلئیے اکٹھی کم از کم دو ہٹلر نما بیویاں آئیں, آمین

One thought on “Shohar

  • April 8, 2017 at 3:37 pm
    Permalink

    بیت ھی اعلی تحریر ھے۔شوہر – ایک ایسا چار لفظی حرف سے لے کر آخر تک

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *