Shakk ki Chhaap

شک کی چھاپ
ہمارے مُلک میں سرکاری ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی غرض سے گھر گھر دورہ کرنے والے مختلف اداروں کے لوگوں پر گزشتہ کئی برس سے حملے ہو رہے ہیں ۔ ان میں سب سے زیادہ حملے پولیو ویکسینیشن ٹیموں پر ہوئے جن میں بدقسمتی سے بڑی تعداد میں شہادتیں بھی ہوئی۔ اِن میں خواتین بھی شامل تھیں۔

مسیحائی کے علمبرداروں پر یہ حملے انتہائی غلط، قابلِ مذمت اور ہر حد تک جوابی کاروائی کے لائق ہیں۔ آج کل مُلک میں پانچویں مردم شماری کا کام جاری ہے ۔ جس میں لاکھوں کی تعداد میں سرکاری عملہ خدمات سرانجام دے رہا ہے ۔ چند اخباری اطلاعات کے مطابق مردم شماری کرنے والے عملے پر بھی کچھ جگہوں پر حملہ کیا گیا ہے۔ ابھی تو اس عمل کا پہلا مرحلہ ہی ہے ، ہم دعا گو ہیں کہ یہ سب کام خیر و عافیت سے نبٹ جائے اور ریاست کو متعلقہ معلوُمات میسر ہوں جن کی بنیاد پر ٹھوس منصوبہ بندی عمل میں آ سکے۔

پاکستان میں یہ حملے کیوں اور کب سے ہو رہے ہیں، اس بارے میں زیادہ تر لوگ جُون 2012 میں حافظ گُل بہادُر کی طرف سے کئے گئے اعلان کو اِن حملوں کا نقطہء آغاز کہتے ہیں۔ کیا حافظ گُل بہادُر لوگوں کی صحت کے خلاف تھا یا پولیو ویکسین پر اُسے کسی اور مقصد کی دوا ہونے کا گمان تھا؟ کئی لوگوں نے کہا کہ یہ تو لوگوں کے بچوں کے تولیدی نظام تو خراب کرنے کی مغرب کی چال ہے، کُچھ نے اس کو بیماری روکنے کی بجائے بیماری کےجراثیم پھیلانے کا ذریعہ قرار دے ڈالا،ایسی بے تُکی باتیں آئیوڈائز نمک کے بارے میں بھی مشہور تھیں۔ مگر حافظ گل بہادر نے مبینہ طور پر جو ابتدائی اعلان کیا اس کا تعلق صحت سے نہیں اپنے لوگوں پر حملوں سے تھا۔ اُس نے کہا کہ جب تک امریکی حملے بند نہیں ہوتے وزیرستان میں ویکسینیشن پر پابندی ہے اور اس اعلان کے ایک ماہ بعد ہی پولیو ورکرز پر پہلا حملہ رپورٹ ہوا۔ مگر بعد ازاں اُس نے ایک فتوٰی جاری کر کے اسے عالمِ اسلام کے خلاف مغرب کی ایک سازش بھی قرار دے ڈالا کیونکہ ممکنہ طور پر لوگوں میں پھیلتی کہانیوں کو بڑھاوا دے کر اُن کی ویکسین کے خلاف نفرت کو اِس حد تک بڑھا دینا مقصود تھا کہ وہ ہتھیار اُٹھا لیں۔ جو کہ لوگوں نے کیا۔

بات یہ ہے کہ 2012 سے پہلے 10 سال ہو گئے تھے اور امریکہ اُسامہ کو ڈھونڈ رہا تھا۔ کابل، قندھار ، پکتیکا، ننگرہار اور تورابورا، سب چھان مارا تھا پر اُسامہ ہر بار ایک قدم آگے ہی رہا۔ پاکستان کے دارالحکومت کے گرد و نواح میں الکویتی کی موجودگی نے اُسے چوکنا کر دیا، الکویتی کے پیچھیے بندے لگائے اور ایبٹ آباد کے ایک کمپاؤنڈ تک جا پہنچے جس میں ایک اندازے کی مطابق القاعدہ کا کوئی اہم رکن ہو سکتا تھا۔ زمینی تصدیق کے لیے مکمل چھان بین ضروری تھی تو ایک ویکسینشن پروگرام لانچ کیا تاکہ اس کمپاؤنڈ میں رہائش پذیر لوگوں کی درست پہچان ہو۔ خون کے نمونے اس طریقے سے مل گئے اور ٹیسٹ سے ہائی ویلیو ٹارگٹ کی تصدیق ہو گئی۔ 2 مئی 2011 کو امریکیوں کے مطابق وہ آئے، آپریشن کیا، اسامہ کو ہلاک کیا اور نعش لے جا کر سمندر بُرد کر دی۔

سُنا تھا جنگ اور محبت میں سب جائز ہوتا ہے، یہ جنگ تھی اور امریکیوں نے اپنے حریف کے خلاف جنگ میں اُسے ڈھونڈنے کے لئے “سب جائز ہے” کا طریقہ اپناتے ہوئے میڈیکل ٹیم کو بطور جاسوس استعمال کیا

امریکی چلے گئے، اور اپنے پیچھے ہر پاکستانی ویکسینیشن ورکر کے ماتھے پر “مبینہ جاسوس ” لکھ گئے۔ خیبر سے کراچی تک ہر پولیو ورکر کو مسیحا نہیں بلکہ گھر کی ٹوہ میں آنے والے ایک جاسوس کے طور پر لیا جانے لگا۔ جن علاقوں میں جرائم پیشہ یا دہشت گرد چھُپے تھے ان گلیوں میں جانے والی یہ خواتین اس لیے مار دی جاتی رہیں گی کہ کہیں وہ ہمارے لئے تو نہیں آئیں۔

اس کے علاوہ بھی جس مقصد کے لئے کوئی سرکاری ٹیم بھیجی جاتی، لوگ سمجھتے کہ شائد ان کا اصل مقصد کچھ اور ہے اور ظاہری مقصد کچھ اور۔

جنگی حکمتِ عملی میں اگر ڈھونڈنا ہی تھا تو میڈیکل ایڈ ٹیم کو استعمال نہ کرتے۔ کچھ دن اور مشاہدہ کر لیتے۔ شائد آنکھوں سے ہی دکھائی دے جاتا۔ میڈیکل ایڈ کو جنگجوؤں کی طرح استعمال کرنے کی نوبت ہی نہ آتی۔

ہر سرکاری اہلکار جو فرائضِ منصبی کی ادائیگی میں گلیوں میں شہید کیا گیا اس کی موت کی ذمہ داری اس نالائق پر ہے جس نے اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے سب کو مشکوک بنا ڈالا۔

مجرموں کو پکڑیں، ضرور پکڑیں، واجب سزا دیں مگر پکڑنے کے لیے ان ہی اداروں کو استعمال کریں جو اس مقصد کے لیے بنائے گئے ہیں۔ نہ کہ مسیحاؤں کو شکوک کے دائرے میں کھڑا کرا دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *